آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کراچی میں ’سیکس سے انکار‘ پر اہلیہ کے مبینہ قتل کا ملزم ریمانڈ پر پولیس کے حوالے: ’ویڈیو افسران کو بھیجی، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی‘
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 3 منٹ
صوبائی دارالحکومت کراچی کے ’پاکستان بازار چوک‘ تھانے کے سب انسپکٹر احمد علی چانڈیو کہتے ہیں کہ جب ایک 64 سالہ شخص نے تھانے پہنچ کر اُن کے سامنے اپنی اہلیہ کے مبینہ قتل کا اعتراف کیا تو ابتدا میں وہ اسے ’مذاق‘ سمجھے تھے۔
پولیس کے سامنے ’اعتراف جرم‘ کرنے والے یہ 64 سالہ ملزم وہی ہیں جن کی ویڈیو گذشتہ روز سے پاکستان کے سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ انھوں نے اپنی 58 سالہ اہلیہ کو مبینہ طور لوہے کے راڈ مار کر اِس لیے قتل کیا کیونکہ انھوں نے سیکس کرنے سے انکار کیا تھا۔
ملزم کو جمعہ کی دوپہر مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج نے انھیں دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ اس موقع پر احاطہ عدالت میں موجود کئی وکلا نے انھیں اس کیس میں مدد کی پیشکش کی تاہم وہ یہی کہتے دکھائی دیے کہ ’میں ہی قاتل ہوں۔‘
سب انسپیکٹر احمد علی چانڈیو کے مطابق ملزم کی تھانے میں ویڈیو انھوں نے ہی بنائی تھی اور اسے اپنے افسران کے ساتھ شیئر کیا تھا کیونکہ بزرگ کی جانب سے کیا گیا مبینہ اعتراف جرم اور تھانے آ کر خود گرفتاری پیش کرنا انھیں مذاق لگ رہا تھا۔
احمد علی چانڈیو کے مطابق افسران کو اُن کی جانب سے بھیجی گئی یہ ویڈیو بعدازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
’مجھے لگا کہ کہیں یہ مذاق تو نہیں ہو رہا۔ ایسا کون کرتا ہے کہ قتل کرکے تھانے آئے اور کہے کہ میں نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا؟‘
اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے سب انسپیکٹر نے بتایا کہ وہ صبح سوا آٹھ بجے کے لگ بھگ تھانے میں موجود تھے جب یہ شخص وہاں آیا۔ اُن کے مطابق ملزم کی جانب سے کیے گئے دعوے پر وہ حیران ہوئے اور تذبذب کا شکار بھی۔
’میں نے اپنے موبائل سے اُس کی ویڈیو بنائی اور سوال و جواب ہوئے جس میں اس نے کہا کہ بیوی نے ہمبستری سے انکار کر دیا تھا، اس وجہ سے اس کے سر پر راڈ مار کر اسے قتل کر دیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سب انسپیکٹر احمد علی چانڈیو کے مطابق اس کے بعد وہ ملزم کو لے کر اُس کی جانب سے بتائے گئے ایڈریس پر گئے۔
’ہم اورنگی کے علاقے غازی آباد پہنچے جہاں اُن کے گھر کے باہر تالا لگا ہوا تھا۔ انھوں نے وہ تالا ملزم سے کھلوایا اور اندر جا کر دیکھا تو بیڈ پر واقعی لاش موجود تھی جس پر کپڑا پڑا ہوا تھا۔‘
چانڈیو کے مطابق ’ملزم کے گھر میں اُس وقت اور کوئی موجود نہیں تھا۔ 100 یا 120 گز پر مکان بنا ہوا تھا، جس کی چھت ٹین کی تھی۔ ملزم نے بتایا کہ وہ مشرقی پاکستان میں فوج میں رہا تھا اور وہاں سے ریٹائرمنٹ کے بعد کام نہیں کرتا تھا۔‘
ایف آئی آر میں کیا بتایا گیا؟
پولیس نے 58 سالہ خاتون کے قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا کیونکہ مقامی پولیس کے مطابق ملزم کے بیٹوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کے خلاف مقدمہ درج نہیں کروائیں گے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ گذشتہ شب ایک بج کر سولہ منٹ پر اس نے اپنی اہلیہ کو سیکس کے لیے کہا جس پر اس نے انکار کیا اور اس نے غصے میں آ کر لوہے کی راڈ اور کٹر سے اس کو ہلاک کر دیا اور گھر کو تالا لگا کر تھانے پہنچا اور اعتراف جرم کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس ملزم کو لے کر جائے وقوعہ پہنچی اور خاتون کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید ہسپتال منتقل کی گئی۔
مقدمے کے تفتیشی افسر دوست خان نے بتایا کہ ملزم گذشتہ روز مبینہ آلہ قتل کے ساتھ ہی تھانے پیش ہوا تھا۔
اُن کے مطابق ابتدائی تفتیش ظاہر کرتی ہے کہ گذشتہ تین برس سے میاں، بیوی کے تعلقات ناخوشگوار تھے تاہم اُنھوں نے واضح کیا کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔