چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے رہنما شی جن پنگ تقریباً سات سال بعد پہلی بار اپنے دیرینہ اتحادی شمالی کوریا کا دورہ کر رہے ہیں۔
شی 8 سے 9 جون تک شمالی کوریا میں اپنے ہم منصب کم جونگ اُن کی دعوت پر موجود ہوں گے۔ شی نے آخری بار 2019 میں پیانگ یانگ کا دورہ کیا تھا۔
یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب چند ہفتے قبل شی نے بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی میزبانی کی تھی، یہ دونوں ممالک شمالی کوریا کی خارجہ پالیسی پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔
چین شمالی کوریا کا ایک اہم اقتصادی اور سیاسی شراکت دار ہے، جو اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث سخت بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
پیانگ یانگ امریکہ کو اپنا بنیادی سیاسی دشمن سمجھتا ہے، جبکہ روس کو ایک بڑھتا ہوا دوست قرار دیتا ہے جس کے لیے کم نے غیر متزلزل حمایت کا وعدہ کیا ہے۔
بیجنگ کے پیانگ یانگ اور ماسکو کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود، شی کم اور پوتن کے درمیان بڑھتے ہوئے اتحاد سے محتاط ہیں۔
چین اور شمالی کوریا کے درمیان 1400 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے اور دونوں کے درمیان ایک دفاعی معاہدے بھی ہے۔ یہ واحد معاہدہ ہے جو چین نے کسی بھی ملک کے ساتھ کر رکھا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک پر حملہ ہو تو باہمی حمایت کی ضمانت دی گئی ہے۔
اس سال اس معاہدے کی 65ویں سالگرہ بھی ہے۔
بیجنگ ایک طویل عرصے سے کم کی عالمی سطح پر تنہا حکومت اور دنیا کے دیگر ممالک کے درمیان اہم ثالث کا کردار بھی ادا کرتا رہا ہے۔
کم کے لیے شی کے اس دورے کی تشہیری اہمیت واضح ہے۔ شمالی کوریا نے وبا کا مقابلہ کرنے اور یوکرین کی جنگ میں روس کے ساتھ شامل ہونے کے بعد عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو بہتر بنایا ہے۔
کورین رہنما کِم اپنے جوہری اور میزائل ہتھیاروں کے ذخیرے کو فخر سے ظاہر کر رہے ہیں۔ انھوں نے دارالحکومت پیانگ یانگ کو بھی غیر ملکی مہمانوں کے لیے ترقی دی ہے۔ اور وہ دنیا کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ یہ سب انھوں نے امریکہ کے سامنے جھکے بغیر یا جنوبی کوریا سے مذاکرات کیے بغیر حاصل کیا ہے۔
اب پیانگ یانگ کے پاس چین سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کی پوزیشن موجود ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کم زمینی سرحد کے ذریعے زیادہ تجارت اور نئے بنائے گئے ساحلی اور سکی ریزورٹس کے لیے زیادہ چینی سیاحوں کا مطالبہ کریں گے۔
سیول کو امید ہے کہ شی اس دورے میں ثالث کا کردار ادا کریں گے اور پیانگ یانگ کو جنوبی کوریا اور واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ کریں گے۔
جب سے کم نے دسمبر 2024 میں جنوبی کوریا کے ساتھ اتحاد کی کوششوں کے خاتمے کا اعلان کیا، انہوں نے جنوبی کوریائیوں کو کھلا دشمن قرار دیا اور سیول کے ساتھ ہر سطح پر رابطہ منقطع کر دیا ہے۔
گذشتہ ماہ جب شمالی کوریا کی خواتین کی پیشہ ور فٹبال ٹیم جنوبی کوریا کی ٹیم کے خلاف کھیلنے کے لیے وہاں گئی، تو اس کشیدگی اور سرد مہری کا کھل کر اظہار ہوا۔