لاہور میں 18 سالہ گھریلو ملازمہ کی موت: ملزمان کے خلاف مقدمے میں مبینہ گینگ ریپ اور اسقاط حمل کے بعد قتل کی دفعات شامل

    • مصنف, احتشام شامی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ گینگ ریپ کا نشانہ بننے اور اُس کے بعد مبینہ اسقاط حمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے علاج کے دوران ہلاک ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کے کیس میں قتل کی دفعات شامل کر لی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق اس کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے لے کر لاہور انویسٹیگیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے جبکہ اس کیس میں نامزد ایک ملزم کو گرفتار کرکے پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا چکا ہے۔

پولیس کے مطابق کیس میں نامزد اُن تمام ملزمان کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا گیا ہے جنھیں چند روز قبل ابتدائی تفتیش اور عدالت میں متاثرہ لڑکی کی جانب سے دیے گئے بیان کی بنیاد پر کلیئر قرار دیا گیا تھا اور اب اِن ملزمان کو قتل کی تفتیش میں شامل کیا جائے گا۔

ہلاک ہونے والی لڑکی عائشہ کے والد کا دعویٰ ہے کہ عدالت میں دیا گیا 164 کا وہ بیان دباؤ کے تحت دلوایا گیا تھا۔

لاہور پولیس کے مطابق عائشہ 26 مئی کو مبینہ طور پر اسقاطِ حمل کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے بعد ہلاک ہوئیں۔ تاہم اُن کا کیس اس وقت سامنے آیا جب اُن کی جانب سے موت سے قبل ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ تفصیلات سے آگاہ کر رہی ہیں۔ بی بی سی آزادانہ طور پر اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔

لاہور پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 18 سالہ لڑکی کا حمل مبینہ طور پر ضائع کرنے کےلیے اسے رائیونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا تھا اور پھر حالت بگڑنے کے بعد اسے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ چند روز زیرِعلاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی۔

مبینہ ریپ کی ایف آئی آر سے شروع ہونے والا معاملہ

اس واقعے کی ابتدا 28 اپریل کو اس وقت ہوئی جب ماڈل ٹاؤن پولیس نے متاثرہ لڑکی عائشہ کی درخواست پر مبینہ اجتماعی ریپ کی ایف آئی آر درج کی۔ اس مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 375 اے، 338 سی، 114، 201 اور 506 لگائی گئی تھیں۔

یاد رہے کہ 375 اے گینگ ریپ کے مبینہ الزام پر لگائی جاتی ہے، جس کی پاکستان کے قانون کے مطابق سزا موت یا عمرقید ہے۔ اسی طرح 338 سی کی دفعہ اسقاط حمل پر لگائی جاتی ہے، جس کی سزا تین سے دس سال تک قید ہوسکتی ہے جبکہ دفعہ 201 کسی جرم کے ثبوت کو مٹانے، شواہد چھپانے پر لگائی جاتی ہے جس کی سزا سات سال تک قید ہو سکتی ہے۔

مدعی مقدمہ نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا کہ وہ تقریباً گذشتہ ایک سال سے ماڈل ٹاؤن لاہور میں واقع ایک گھر میں بطور ملازمہ کام کر رہی تھیں۔

ایف آئی آر میں متاثرہ لڑکی نے دعویٰ کیا کہ نومبر 2025 میں مالک مکان کا بیٹا اپنی اہلیہ سے ناچاقی کے بعد اپنے والدین کے گھر آیا اور وہیں رہنا شروع کیا۔ لڑکی نے الزام عائد کیا کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران مالک مکان کا بیٹا اور اُس گھر کا ڈرائیور ساتھ مل کر مختلف اوقات پر اس کا ریپ کرتے رہے جس کے باعث وہ وہ حاملہ ہو گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ لڑکی نے مؤقف اختیار کیا کہ جب اسے ماہواری آنا بند ہوئی تو اس نے اس کا تذکرہ گھر کی مالکن سے کیا اور ٹیسٹ کرنے پر پتا چلا کہ وہ حاملہ ہے۔

ایف آئی آر میں لڑکی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ اسے اس موقع پر اسقاط حمل کی ادویات دی گئیں، جس کے بعد طبیعت خراب ہونے پر 20 دن کی چھٹیوں پر فیصل آباد اس کے گھر بھیج دیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق جب لڑکی کی طبعیت زیادہ خراب ہوئی تو گھر والے اسے مقامی کلینک لے گئے جہاں اس کے والدین کو ڈاکٹر سے معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق متاثرہ لڑکی کے والدین نے اس پر مالک مکان سے رابطہ کیا جنھوں نے اسے فی الفور لاہور لانے کا مشورہ دیا۔

لڑکی نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا کہ لاہور آنے کے بعد گھر کی مالکن، اُن کی بہن سمیت ایک اور شخص نے انھیں ڈرایا دھمکایا اور آپریشن کروانے لے گئے جہاں پتا چلا کہ ’میرے پیٹ میں موجود پانچ ماہ کا بچہ مر چکا ہے۔‘

متاثرہ لڑکی نے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا کہ بعدازاں اس کی طبعیت مزید خراب ہونے پر اسے سول ہسپتال داخل کروایا گیا۔

لڑکی نے پولیس سے استدعا کی تھی کہ ملزمان نے ان کے ساتھ مبینہ اجتماعی ریپ، اسقاط حمل اور ڈرا دھمکا کر سخت زیادتی کی ہے چنانچہ اسے انصاف دیا جائے۔

اس کیس کی تفتیش سے منسلک پولیس اہلکار کے مطابق بعدازاں اسی نوعیت کی طبی پیچیدگیوں کے باعث لڑکی کی بلاآخر وفات ہو گئی۔

’بیان میں تبدیلی دباؤ کے تحت کی‘

پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی نے اپنے ابتدائی تحریری بیان اور ریکارڈڈ ویڈیو میں مکان مالکن کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی ریپ کا الزام عائد کیا تھا، لیکن بعدازاں عدالت میں دیے گئے دفعہ 164 کے بیان میں متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور صرف ڈرائیور کو ہی ریپ کا ملزم نامزد کیا۔

لاہور پولیس کے مطابق لڑکی کے 164 کے بیان کی روشنی میں عدالت نے مکان مالکن کے بیٹے کی درخواست ضمانت منظور کر لی تھی۔

دوسری جانب لڑکی کے والد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اُن کی بیٹی نے اپنے بیان میں تبدیلی ’دباؤ‘ کے سبب کی تھی۔

والد نے دعویٰ کیا کہ اُن کو اپنی بیٹی سے عدالت کے روبرو یہ بیان دینے کے لیے ملزمان کی جانب سے انتہائی مجبور کیا گیا تھا۔

تاہم اب پولیس کا کہنا ہے کہ ’لڑکی کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیان کا دوبارہ قانونی لحاظ سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی حتمی وجہ تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد واضح ہو گی۔‘

پولیس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملزمان کا مؤقف ہے کہ وہ بےقصور ہیں اور فی الحال اُن کی لیگل ٹیم معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور جب انھیں تفتیش کے لیے بلایا جائےگا تو وہ شامل تفتیش ہو جائیں گے۔

’اس بات سے لاعلم تھے کہ بیٹی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے‘

لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی بیٹی کو گھریلو کام کاج کے لیے لاہور بھجوایا تھا لیکن وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ اُن کی بیٹی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

اُن کے مطابق ’ہمارا اپنی بیٹی کے ساتھ فون پر رابطہ تھا اور اس نے ابتدا میں کبھی کوئی ایسی بات نہ بتائی تھی جس سے ہمیں لگا ہو کہ اس کے ساتھ ریپ کیا جاتا ہے۔‘

والد کے مطابق چند روز بعد لڑکی کی والدہ نے شکایت کی اُن کی بیٹی چپ چپ رہنے لگی ہے۔ ’اور جب وہ فیصل آباد آئی اور اس کی طبعیت خراب ہوئی تو کلینک پر ڈاکٹر نے بتایا کہ ہماری بیٹی حاملہ ہے۔ یہ بات سن کر تو میری ٹانگیں کانپ گئیں، یوں لگا جیسے ابھی آسمان میرے سر پر آ گرے گا۔‘

جاوید نے مزید کہا اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ایف آئی ار میں درج ہے اور پولیس کے سامنے سارا کیس موجود ہے۔ ’ہم کمزور لوگ ہیں، مقابلہ نہیں کر سکتے۔ بس حکومت سے اپیل ہے وہ ہمارے ساتھ انصاف کروائیں۔‘