مکہ معاہدے میں بنگلہ دیش کی دلچسپی پر انڈیا کی ’نظر‘: ڈھاکہ کو اس میں شامل ہونے سے کیا ملے گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین میڈیا میں بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر کے ایک بیان پر کافی بحث ہو رہی ہے۔
جمعرات کی رات سے یہ خبر چل رہی ہے کہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کے قریبی ساتھی ہمایوں کبیر نے بنگلہ دیش سنگباد سنستھا (بی ایس ایس) سے کہا کہ بنگلہ دیش سعودی عرب، پاکستان اور ترکی سے متعلق کسی بھی معاشی یا دفاعی ڈھانچے میں شامل ہونے کے امکان کے بارے میں مثبت مؤقف رکھتا ہے۔
انڈین میڈیا میں ہمایوں کبیر کے اس تبصرے کو اس طرح دیکھا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان ہونے والے مکہ معاہدے میں شامل ہونے کا خواہش مند ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش کے اس مؤقف سے انڈیا کے ساتھ جاری کشیدگی میں ایک نیا پہلو شامل ہو گیا ہے۔
ہمایوں کبیر نے کہا کہ سعودی ولی عہد کی دعوت پر بنگلہ دیش کے وزیراعظم کا ریاض کا دورہ گرمیوں کے بعد حتمی شکل اختیار کرے گا۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے جمعے کو کہا کہ وہ مغربی ایشیا میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
جمعے کو انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے میں بنگلہ دیش کی شمولیت کی خواہش سے متعلق خبروں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ’ہم مغربی ایشیا میں ہونے والی پیش رفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ فی الحال میں صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا۔‘
کئی ماہرین ’مکہ معاہدے‘ کو انڈیا کے خلاف سمجھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ تینوں کے خلاف حملہ سمجھا جائے گا۔
یعنی اگر انڈیا پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ جیسی کوئی فوجی کارروائی کرتا ہے تو ترکی اور سعودی عرب اسے اپنے خلاف تصور کر سکتے ہیں۔
اگر بنگلہ دیش بھی اس میں شامل ہو جاتا ہے تو پاکستان کی موجودگی کے مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا مکہ معاہدہ بنگلہ دیش کے حق میں ہوگا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اگر بنگلہ دیش مکہ معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو کیا یہ اس کے حق میں ہو گا؟ بنگلہ دیش کے سابق وزیرِ خارجہ اے کے عبدالمومن نے ’نیوز 18‘ سے گفتگو میں کہا کہ کاغذ پر مکہ معاہدہ مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعاون کی ایک واضح تصویر پیش کر سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم زمینی حقائق دیکھیں تو بنگلہ دیش کو اس سے حقیقی اور ٹھوس فائدہ کیا ملے گا؟
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری قومی ترجیحات معاشی ترقی، تجارت، علاقائی استحکام اور غیر جانبداری کے ساتھ متوازن خارجہ تعلقات برقرار رکھنے پر مرکوز ہیں۔ اگر آپ کسی اجتماعی دفاعی ڈھانچے میں شامل ہوتے ہیں، خاص طور پر ایسے ڈھانچے میں جس میں دور دراز کے جغرافیائی سیاسی حالات اور فوجی وابستگیاں شامل ہوں، تو اس کے خطرات فوری اور واضح ہیں۔ بنگلہ دیش ایسے تنازعات میں کھنچا جا سکتا ہے جن میں لڑنا اس کا مقصد نہیں۔ً
مومن نے کہا کہ اس کے علاوہ ہماری جغرافیائی اور معاشی حقیقتیں طے کرتی ہیں کہ ہمارے پڑوسیوں، خاص طور پر انڈیا، کے ساتھ مضبوط، مستحکم اور تعاون پر مبنی تعلقات اہم ہیں۔
’ایسا کوئی بھی قدم جو اس توازن کو متاثر کرے یا ہمیں غیر ملکی فوجی بلاکس میں الجھا دے، بنگلہ دیش کے بنیادی قومی مفادات کے مطابق نہیں ہے۔‘
اے کے عبدالمومن کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملے میں جلد بازی کے بجائے محتاط اور جامع جائزے کی ضرورت ہے۔ ظاہری تاثر کو خارجہ پالیسی کی حقیقت کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش نے تاریخی طور پر ’سب سے دوستی، کسی سے دشمنی نہیں‘ کی پالیسی کے تحت فائدہ حاصل کیا ہے۔ ایسے فوجی اتحادوں یا دفاعی معاہدوں کی طرف بڑھنا جو علاقائی استحکام کو متاثر کر سکتے ہوں، الٹا اثر ڈال سکتا ہے۔
امریکہ، فرانس اور جنوبی کوریا میں بنگلہ دیش کے سفیر رہنے والے ایم شاہد الاسلام بھی سمجھتے ہیں کہ یہ بنگلہ دیش کے حق میں نہیں ہے۔
عبدالمومن نے ایکس پر لکھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ہمیں مکہ معاہدے میں شامل ہونے کی لاگت اور اس کے فوائد کا اندازہ لگانے کی ضرورت ہے۔ اس کی لاگت کافی واضح ہے۔ بنگلہ دیش ایسے تنازعات میں کھنچا جا سکتا ہے جو ضروری نہیں کہ اس کے اپنے قومی مفادات کے مطابق ہوں۔‘
اُن کے بقول اس کے فوائد ابھی اتنے واضح نہیں ہیں، چونکہ اس معاہدے میں سعودی عرب کا مرکزی کردار ہے، اس لیے بنگلہ دیش کی فطری توقع ہونی چاہیے کہ اسے بیرونِ ملک زیادہ روزگار کے مواقع، زیادہ سرمایہ کاری اور بہتر توانائی تحفظ حاصل ہوگا۔
اُنھوں نے سوال اُٹھایا کہ کیا ہم نے اپنی یہ توقعات سعودی عرب کے سامنے رکھی ہیں؟
جیوپولیٹکس اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار زوراور دولت سنگھ نے بنگلہ دیش کی مکہ معاہدے میں شامل ہونے کی خواہش پر رندھیر جیسوال کی رائے کو ری پوسٹ کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’ان حکومتوں، یعنی سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور بنگلہ دیش، کو امریکی جغرافیائی سیاسی مفادات کے تحفظ کرنے والی بفر حکومتوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘
اُن کے بقول ’اس نقطۂ نظر کے مطابق اسرائیل امریکی طاقت کے پھیلاؤ اور فوجی اثر و رسوخ کا اہم مرکز ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ خلیج فارس میں امریکی اگلے مورچوں کے فوجی اڈوں کی تباہی کے بعد اسرائیل مستقبل میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ہیڈکوارٹر کے لیے ممکنہ مقام بن سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@DrSJaishankar
انڈیا کے بارے میں طارق رحمان کا ایسا مؤقف کیوں؟
عالمی امور کے تجزیہ کار برہما چیلانی کا ماننا ہے کہ طارق رحمان دوہرا رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
چیلانی نے ایکس پر لکھا کہ ’تین جانب سے انڈیا سے گھرے ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش کی جغرافیائی پوزیشن اسے ضروری درآمدات کے لیے اپنے بڑے پڑوسی پر کافی حد تک انحصار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ان میں ضروری غذائی اشیا، ریفائن شدہ پیٹرولیم اور بجلی شامل ہیں۔ اس لیے بنگلہ دیش کی معاشی سلامتی اور خوشحالی کے لیے انڈیا کے ساتھ مستحکم تعلقات انتہائی اہم ہیں۔‘
اُن کے بقول ’اس کے باوجود بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم طارق رحمان گزشتہ چھ ماہ سے وزیراعظم نریندر مودی کی نئی دہلی کے سرکاری دورے کی دعوت قبول کرنے میں ٹال مٹول کر رہے ہیں، گویا انڈیا کا دورہ کرنا انڈیا پر کوئی احسان ہو۔‘
’اس سے بھی آگے بڑھ کر رحمان نے ایسی کسی بھی ملاقات کے لیے شرائط بھی رکھی ہیں۔ گزشتہ پیر کو ڈھاکا میں بھارتی سفیر سے انھوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے سے پہلے بھارت کو 'موافق ماحول' پیدا کرنا ہوگا۔ ان کے مشیروں نے بھی زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات برابری کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔‘
’ستم ظریفی یہ ہے کہ رحمان کو چین کے ساتھ واضح طور پر غیر مساوی تعلقات آگے بڑھانے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ جون میں انہوں نے بیجنگ کا دورہ کیا، چین کے سامنے انتہائی نرم رویہ اختیار کیا اور ایسے کئی معاہدوں پر دستخط کیے جنہیں زیادہ تر یک طرفہ قرار دیا جا سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@ihcdhaka
’انڈیا کو اپنی پالیسی پر غور کرنا چاہیے‘
انڈیا نے آئندہ برکس سربراہی اجلاس کے آؤٹ ریچ سیشن میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کو دعوت دی ہے۔
تاہم بنگلہ دیش نے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی کہ طارق رحمان یہ دورہ کریں گے یا نہیں۔
برکس سربراہی اجلاس 12 سے 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونا ہے۔
آر ایس ایس کے ترجمان سمجھے جانے والے انگریزی جریدے آرگنائزر کے سابق مدیر شیشادری چاری نے دی پرنٹ میں لکھا کہ کوئی بھی عملی رہنما اس موقع سے فائدہ اٹھاتا اور اپنے ملک کے مفاد میں انڈیا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کی پوری کوشش کرتا۔
اُن کے بقول یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم نئی دہلی آنے کی انڈین دعوت کا مثبت جواب دینے میں ہچکچا رہے ہیں۔ غالباً ان کے مشیر انھیں ایسا کرنے سے روک رہے ہیں، جن کی داخلی اور خارجی پالیسیاں انڈیا مخالف بیانیہ تشکیل دینے پر مبنی ہیں۔
اُنھوں نے مزید لکھا کہ ’جہاں تک نریندر مودی حکومت کی ’پڑوسی پہلے‘ پالیسی کا تعلق ہے، وہاں حقیقت پسندی کی جگہ آئیڈیلزم نے لے لی۔ اس کے تحت پڑوسی ممالک کی جانب سے باہمی تعاون کے فقدان کے باوجود انھیں مراعات دینے کی پالیسی اپنائی گئی۔ نیپال کے چین کی جانب جھکاؤ اور بنگلہ دیش کے چین کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جانب جھکاؤ کے باوجود انڈیا نے ان کے مطالبات تسلیم کرنے میں آمادگی دکھائی۔‘



















