ٹرمپ کا ’اقتصادی ڈی ڈے‘ کیا ہے اور کیا برسوں سے پابندیاں جھیلنے والا ایران اس سے جھک جائے گا؟

trump

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, برنڈ ڈیبسمان جونیئر
    • عہدہ, وائٹ ہاؤس رپورٹر
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں فوری فتح ملے گی۔ اس دعوے کو چھ ماہ گزر چکے ہیں اور تنازع تاحال تعطل کا شکار ہے، جبکہ فوجی کامیابی یا مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے امکانات بھی مزید مدھم ہوتے جا رہے ہیں۔

اس تعطل کو توڑنے کے لیے ٹرمپ نے ایک ’اقتصادی ڈی ڈے‘ کا وعدہ کیا ہے، جس کے تحت ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک کو ’سخت‘ معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تاہم ایران طویل عرصے سے پابندیوں کا سامنا کرتا آ رہا ہے اور اب تک اس نے مشکلات برداشت کرنے اور تنازع طول پکڑنے کے ساتھ ساتھ شدید اقتصادی اور فوجی دباؤ کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

لہٰذا امریکہ کے لیے بنیادی سوال یہ بنتا ہے کہ جہاں دیگر حکمت عملیاں ناکام رہی ہیں، کیا مزید پابندیاں وہاں کامیاب ہو سکتی ہیں؟

امریکی اقتصادی دباؤ کا طریقہ کار کیا ہو گا، اس کی نوعیت ابھی واضح نہیں، تاہم وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 24 اگست کو ایک نیوز کانفرنس میں اس کی تفصیلات پیش کریں گے۔

لیکن سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بیسنٹ نے واضح کیا کہ امریکہ کسی بھی ایسے ملک کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے، خواہ وہ دوست ہو یا دشمن، جس کے بارے میں اس کا خیال ہو کہ وہ ایران کو سہارا فراہم کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا: ’یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔ اگر آپ [ایران] کے ساتھ کاروبار کرنے پر مصر ہیں، چاہے رقم منتقل کر کے، ان کا تیل خرید کر یا سمندری راستے سے منتقلی کر کے، تو امریکی محکمۂ خزانہ اور امریکی حکومت۔۔۔ آپ کے خلاف پابندیوں کے لیے اپنی پوری طاقت اور قوت استعمال کریں گے۔‘

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ

،تصویر کا ذریعہAlex Wong/Getty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی وزیر خزانہ ایران کے خلاف نئی معاشی حکمت عملی کی تفصیلات پیش کریں گے

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ان پابندیوں کو تنازع کے ’نئے مرحلے‘ سے تعبیر کیا ہے، جس میں اقتصادی دباؤ کو امریکہ کے لیے دستیاب ’سب سے مؤثر‘ ہتھیار قرار دیا گیا ہے۔

کلے ٹریوس اور بَک سیکسٹن کے پروگرام میں وینس نے کہا: ’وہ ہم پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے، لیکن گذشتہ چند ہفتوں میں حقیقت یہ رہی ہے کہ انھوں نے ہمارے مقابلے میں کہیں زیادہ دباؤ محسوس کیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے کیونکہ ہمارا خیال ہے کہ بالآخر حتمی مقصد حاصل کرنے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔‘

ایران کو 1979 میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے تقریباً آغاز ہی سے امریکہ کی اہم پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔

اقتصادی دباؤ کی مہم اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ نے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن سے دستبرداری اختیار کی، یہ 2015 میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے طے پانے والا معاہدہ تھا۔

موجودہ تنازع میں امریکی حکومت پہلے ہی آپریشن اکنامک فیوری کا اعلان کر چکی ہے، یہ ایک دو رخی امریکی اقتصادی مہم ہے جس میں امریکی محکمۂ خزانہ کے تعاون سے ایرانی سرمایے کے بہاؤ کے خلاف پابندیاں اور ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی شامل ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

واشنگٹن ڈی سی میں اٹلانٹک کونسل سے وابستہ جیو سٹریٹیجی کے ماہر اور محکمۂ دفاع کے سابق پالیسی مشیر عمران بیومی نے بی بی سی کو بتایا کہ تازہ اعلان غالباً اس بڑھتی ہوئی مایوسی کا نتیجہ ہے کہ دیگر آپشنز ٹرمپ کو مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کر سکے۔

انھوں نے کہا: ’یہ درحقیقت اس بات کا اعتراف ہے کہ امریکہ اس جنگ میں تقریباً پھنس چکا ہے۔ یہ اقتصادی دباؤ کی ایک اور کوشش ہے۔‘

بیومی نے مزید کہا: ’یہ صرف ایک اور ہتھیار ہے جسے امریکہ استعمال کر رہا ہے۔ ہم نے انتظامیہ کی جانب سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں دیکھی، نہ ہی فوجی اور نہ ہی عسکری حوالے سے۔ امریکہ کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، اس سوال کا جواب اب بھی نہیں ملا۔‘

آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول میں آٹھ برس تک خدمات انجام دینے والے اور اقتصادی پابندیوں کے ماہر مائیکل پارکر نے کہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت ممکنہ طور پر پہلے سے نافذ اقتصادی پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور ان ممالک کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو اب بھی ایران کے ساتھ لین دین کرتے ہیں اور ان کی معیشتیں ڈالر پر انحصار کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’اب تک امریکہ نے بڑی حد تک ان ثانوی پابندیوں کے خطرے کو غیر ملکی مالیاتی اداروں کے خلاف استعمال کیا ہے تاکہ پابندیوں کی پالیسی پر عملدرآمد کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔‘

پارکر نے مزید کہا: ’لیکن ابھی تک کسی ایسی چیز کو نشانہ بنانے پر کام کم ہوا ہے جو امریکی ڈالر سے بھی منسلک ہو اور ایران سے بھی۔‘

پارکر نے ان غیر ملکی مالیاتی اداروں کی مثال دی جو ایران کو پابندیوں سے بچ نکلنے میں مدد دیتے ہیں یا ایرانی خزانے کی طرف رقوم منتقل کرتے ہیں۔

ڈالر

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق امریکہ نئی حکمتِ عملی کے تحت ایران کے ساتھ لین دین کرنے والے ایسے ممالک اور مالیاتی اداروں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جن کا انحصار امریکی ڈالر پر ہے

ایران ان اقدامات کا کیا جواب دے گا، یہ ابھی واضح نہیں، لیکن پابندیوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اب تک غیر روایتی ذرائع استعمال کر کے پابندیوں کو ناکام بنانے میں مہارت دکھا چکا ہے، جیسے تیل کی نقل و حمل کرنے والے ’شیڈو‘ جہاز استعمال کرنا یا ایسے تجارتی راستوں کو استعمال کرنا جہاں امریکی پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوا۔

لندن سٹاک ایکسچینج میں ایکسپورٹ کنٹرول اور پابندیوں کے مینیجر محمد حمودہ نے کہا: ’آپ مسلسل نئے نام سامنے آتے دیکھتے ہیں، کیونکہ ایران بہت تیزی سے خود کو ڈھال رہا ہے۔ کوئی بھی پابندی عائد کی جائے، وہ [اس سے نکلنے کے لیے] ایک نیا راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں پر ایران کے خلاف پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری ہوتی ہے، وہ ایران کی جوابی تدابیر کا توڑ ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔

حمودہ نے کہا: ’پابندیاں کاغذی ہیں، لیکن اصل کام پردے کے پیچھے ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ٹیمیں پابندیاں نافذ کرنے اور متعلقہ فریقوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اسی لیے ایران کو بھی خود کو بدلتے حالات کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔‘

یہ پابندیاں کتنی مؤثر ثابت ہوں گی، اس کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہو گا کہ ان کا نشانہ بننے والے ممالک، جن میں ترکی اور عراق جیسے امریکی اتحادیوں کے ساتھ ساتھ چین بھی شامل ہو سکتا ہے، کس طرح ردعمل دیتے ہیں۔

پارکر نے کہا: ’اس کا کچھ حصہ ایران کے اختیار سے باہر ہے۔ پابندیوں سے بچنے یا انھیں نظرانداز کرنے کی ایران کی صلاحیت بڑی حد تک دوسرے ممالک اور مالیاتی اداروں کی اس آمادگی پر منحصر ہے کہ وہ [ایران] کو باضابطہ بینکاری نظام تک رسائی دیتے ہیں یا نہیں۔‘

پارکر کے مطابق ان اقدامات کے مؤثر ہونے کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہدف بننے والے ممالک امریکی خارجہ پالیسی کے اہداف کے ساتھ کس حد تک تعاون کرتے ہیں، یا پھر امریکی ڈالر سے وابستہ تجارت پر ممکنہ سخت اقتصادی نتائج برداشت کرنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔

کچھ ماہرین اس بات پر بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا اس وقت ایسی آمادگی موجود بھی ہے یا نہیں۔

بیومی نے کہا: ’مثال کے طور پر مجھے نہیں لگتا کہ چین اس پر راضی ہو جائے گا۔ یہ تمام ریاستیں اپنے مفادات کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ راستہ نکالنے میں کامیاب رہی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’بنیادی نکتہ یہ ہے کہ یہ صرف ایک اور ہتھیار ہے۔ لیکن وسیع تر سوال حکمت عملی کا ہے، اور اس کے بغیر مجھے یقین نہیں کہ یہ طویل مدت میں کسی چیز کو تبدیل کر سکے گا۔‘