دھورندھر فلم، چوہدری اسلم اور داؤد ابراہیم: نورین اسلم نے بی بی سی کو کیا بتایا؟

NoreenAslam

،تصویر کا ذریعہNoreenAslam

    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, بی بی سی ہندی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’نہ چوہدری بکا، نہ غدار تھا۔۔۔ اگر بکتا اور غدار ہوتا تو آج سب کے بیچ میں ہوتا۔‘

یہ الفاظ سابق پاکستانی پولیس افسر چوہدری اسلم کی اہلیہ نورین اسلم کے ہیں جو بی بی سی سے بالی وڈ فلم دھورندھر 2 میں ان کے شوہر کی کردار کی عکاسی پر بات کر رہی تھیں۔

مارچ میں ریلیز ہونے والی بالی وڈ فلم ’دھورندر دی ریوینج‘ میں پاکستانی پولیس افسر چوہدری اسلم کا کردار اداکار سنجے دت نے ادا کیا ہے۔ اس سے پہلے دھورندھر نام سے ایک اور فلم بھی ریلیز ہو چکی ہے اور اس میں بھی سنجے دت ہی چوہدری اسلم کے روپ میں دکھائی دیے تھے۔

نورین اسلم نے بھی یہ فلم دیکھی اور انھیں سنجے دت کے گیٹ اپ نے چوہدری اسلم کی یاد دلا دی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مُجھے یہ فلم کسی نے یو ایس بی پر بھیجی تھی، مگر پرنٹ اچھا نہیں تھا۔‘

’گیٹ اپ اور سیٹ اپ بالکل اصل جیسا لگا، ایک پل کو تو میں بھی کھو گئی، کسی پرانی یاد میں، کسی پچھلی دُنیا میں، جب دھماکہ ہوا تو میں بھی ہل کر رہ گئی اور میں بس اُٹھ گئی تھی۔‘

ان کے مطابق ’فلم میں ان (چوہدری اسلم) کا منفی کردار دکھایا گیا جو مُجھے برا لگا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جہاں وہ فلم میں گالیاں دیتا ہے وہاں مجھے بڑی ہنسی آئی، جہاں وہ چائے کا کپ رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ’مُجھے چائے نہیں پینے دیتے۔‘

NoreenAslam

،تصویر کا ذریعہNoreenAslam

،تصویر کا کیپشنچوہدری محمد اسلم
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جب میں نے پوچھا کہ فلم میں چوہدری اسلم کو بلوچ طالبِ علموں کا انکاؤنٹر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، آپ کا اُس پر کیا کہنا ہے تو نورین اسلم کا کہنا تھا کہ ’فلم میں ایسا دکھا رہے ہیں کہ جیسے چوہدری اسلم اور بلوچ آپس میں جانی دشمن ہیں۔‘

ان کے مطابق چوہدری اسلم نے گینگ وار کے خلاف کام کیا، ’بچے چاہیے بلوچوں کے ہوں یا میرے وہ بچے ہی ہوتے ہیں۔‘

2012 میں شائع ہونے والی بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق چوہدری اسلم کی قیادت میں کراچی میں ہونے والے آپریشن کلین اپ کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے سینکڑوں کارکنوں (یا مقدمات میں مطلوب ملزمان) کی ایسی ہلاکتیں ہوئیں جنھیں حکام ’پولیس مقابلہ‘ قرار دیتے رہے اور سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی 'ماورائے عدالت ہلاکتیں' کہتی رہیں۔

9 جنوری 2014 کو چوہدری اسلم بم حملے میں اپنے قریبی ساتھی کامران اور محافظ سمیت ہلاک ہو گئے تھے۔

نورین کہتی ہیں کہ ’چوہدری اسلم کی زندگی میں یہ ریکارڈ ہے کہ انھوں نے کبھی معصوم بچوں کو نہیں مارا۔ اگر بچے پکڑے بھی گئے تو انھیں خود گھر چھوڑ کر آتے تھے۔‘

’کہتے تھے کہ بلاؤ ماں باپ کو، اُن کے سامنے دو تھپڑ مارتے تھے اور والدین کو یہ بتاتے تھے کہ آپ کے بچے نے یہ غلط کام کیا ہے۔‘

’وہ بند کر سکتے تھے، جیل بھیج سکتے تھے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ کہتے کہ یہ مستقبل ہے پاکستان کا اور یہ غلط ہاتھوں میں جا رہے ہیں۔‘

دھورندر

،تصویر کا ذریعہFacebook/ChaudhryAslam, Youtube/@B62studios

جب ان سے استفسار کیا کہ فلم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ چوہدری اسلم داؤد ابراہیم کے ساتھ رابطے میں تھے کیا ایسا تھا؟ کیا انھوں نے کبھی آپ کو کُچھ بتایا داؤد ابراہیم سے متعلق؟

نورین اسلم کا کہنا تھا کہ ’فلم میں بڑے صاحب، بڑے صاحب کر رہے تھے، میں سمجھی کہ بڑے صاحب زرداری صاحب کو کہہ رہے ہیں۔ مگر جب نقشہ پیش کیا تو پتا چلا کہ فلم میں تو بڑے صاحب سے مراد داؤد ابراہیم تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ’ یہ کہتے ہیں کہ داؤد ابراہیم کا طوطی بولتا ہے، کہاں بولتا ہے مُجھے بھی تو وہ جگہ دکھاؤ میں بھی تو سامنا کروں، یہ تو انڈیا والوں کو پتا ہوگا، جب انھیں نام کا پتا ہے تو انھیں جگہ کا بھی پتا ہوگا۔ ہمارے پاس جو ڈان تھا وہ تھا شعیب خان جس کو چوہدری اسلم نے گرفتار کیا تھا۔‘

جب میں نے ان سے پوچھا کہ فلم میں یہ بھی دکھایا گیا کہ چوہدری اسلم کو ایک بلوچ سردار کی مدد سے انڈین ایجنٹ نے قتل کروایا، اصل میں ہوا کیا تھا؟ اس پر نورین اسلم نے کہا کہ ’وہ ایک شیر تھا شیر، اب شیر کو مروانے کے بعد ہرکوئی اس بات کا کریڈٹ لینا چاہتا ہے کہ میں نے کیا، میں نے کیا۔‘

NoreenAslam

،تصویر کا ذریعہNoreenAslam

جب نے میں نے استفسار کیا کہ آپ کے خیال میں انھیں (چوہدری اسلم کو) کس نے مارا؟ تو نورین اسلم بولیں کہ ’چوہدری اسلم کو مارنے کی ذمہ داری تو تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی۔‘

اس سوال پر کہ چوہدری اسلم پر کئی جان لیوا حملے ہوئے تو نورین اسلم نے کہا کہ ’وہ تو کہتے تھے کُچھ ہوا ہی نہیں۔ دھمکیاں تو اُن کو ملتی رہتی تھیں اور میں انھیں کہتی تھی کہ اسلم بتا دیں، کیا ہوا ہے اور یہ خط کیا ہے تو بس آگے سے مُجھے کہتے تھے ’او چل۔۔۔ یہ لو لیٹر تھا،‘ اور بس یہ کہہ کہ وہ کاغذ پھاڑ کر کوڑے دان میں پھینک دیتے تھے اور ساتھ کہتے تھے کہ ’خدا پر بھروسہ رکھو۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں فلم بنانے والوں کی طرف سے اصل نام اور اصل کردار کو استعمال کرنا درست تھا؟

نورین اسلم نے کہا کہ ’نہیں یہ بالکل بھی درست نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’دیکھیں نام چوہدری اسلم استعمال کیا، کردار میں اداکار کو ڈھالنے کی کوشش کی مگر کردار کے اندر مکمل حقائق شامل نہیں کر سکے، بس جو انھیں یو ٹیوب سے ملا انھوں نے اُس کو استعمال کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نہ ہم سے اجازت لی، نہ ہمیں کسی بات کا پتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم نے چوہدری اسلم کو بین الاقوامی دنیا میں خبروں میں پہنچا دیا۔ میں کہتی ہوں کہ اگر یہ سب آپ نے کیا تو چوہدری کو تو دُنیا پہلے سے جانتی ہے۔ چوہدری کو ’ڈیڈلی کاپ‘ اور ’ڈرٹی ہیری‘ کا خطاب امریکہ نے دیا۔‘

’میں پوچھتی ہوں کہ اگر چوہدری کا نام نہیں تھا تو آپ نے یہ کردار لکھا کیسے، ڈھونڈا کہاں سے، جسے کوئی نہیں جانتا اُسے ڈھونڈا کہاں سے؟‘

انھوں نے کہا کہ ’گوگل وکی پیڈیا سب پر چوہدری اسلم کے بارے میں مواد موجود ہے مگر کم ہے، آپ کو چوہدری اسلم کے قریبی لوگوں اُن کے دوستوں سے پوچھنا چاہیے تھا۔‘

چوہدری اسلم

،تصویر کا ذریعہFacebook/ChaudhryAslam

،تصویر کا کیپشنچوپدری اسلم

قانونی چارہ جوئی سے متعلق سوال کے جواب میں نورین اسلم نے کہا کہ ’میں سوچ ضرور رہی ہوں مگر ابھی اس پر زیادہ کُچھ نہیں کہنا چاہتی، مُجھ سے اجازت نہیں لی گئی۔‘

نورین اسلم نے کہا کہ ’میری بیٹی کی 18نومبر کو سالگرہ تھی تو اُس نے مُجھے بتایا کہ ماں ایک ٹیزر آیا ہے جس میں پاپا کے بارے میں ذکر شامل ہے۔ پھر جب فلم ریلیز ہوئی تو پہلی میں بھی نام تھا اور دوسری میں بھی نام تھا۔‘

نورین اسلم نے فلم پر اپنے بچوں کے ردعمل سے متعلق بتایا کہ ’میرا بڑا بیٹا بہت اُداس تھا، اُس نے کہا کہ ماں کسی بھی چینل کو بیان نہ دیں آپ، جو آپ کو کارروائی کرنی ہے وہ کریں۔‘

’انھوں نے ہمارے باپ کو کیا دکھایا ہے؟ ہمارے باپ کی قربانیاں ہیں۔ انھوں نے جان قربان کی ہے، جان بچا کر بھاگے نہیں۔ بچوں کو دکھ تو ہوتا ہے۔‘