ناروے کے وزیر خارجہ کی اپنا سامان خود اٹھائے پاکستان آمد: ’ہمارے حکمران پروٹوکول پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’ایک مختصر مگر مؤثر منظرنامہ: ناروے کے وزیرِ خارجہ پاکستان ایک کمرشل پرواز کے ذریعے پہنچے ہیں اور اپنا سامان خود اٹھائے ہوئے ہیں۔ نہ استحقاق، نہ فضول خرچی، بلکہ صرف عوامی خدمت۔ یہ اُس ملک کی سیاسی ثقافت کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے جہاں عوامی عہدہ ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، حق نہیں۔‘

کراچی سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر رضا ہارون نے اپنا یہ تبصرہ ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایرڈے کی پاکستان آمد کے موقع پر لی گئی تصاویر اور ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے 'ایکس' پر شیئر کیا۔

ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایرڈے جمعرات کی صبح دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔ اُن کی آمد کے موقع پر لی گئی تصاویر اور ویڈیوز پاکستان کی وزارت خارجہ کے آفیشل 'ایکس' اکاؤنٹ سے جاری کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان کی ایڈیشنل فارن سیکرٹری (یورپ) عائشہ علی نے ایئرپورٹ پر اُن کا استقبال کیا۔

اُن کی آمد کے حوالے سے پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ناروے کے وزیر خارجہ نہ تو کسی خصوصی فلائٹ کے ذریعے پاکستان پہنچے جبکہ وہ اپنا بیگ بھی خود اٹھائے ہوئے ہیں۔

پاکستان، جہاں پروٹوکول عوامی اور سرکاری عہدوں کے ساتھ لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے، میں بیشتر ’ایکس‘ صارفین کو بظاہر ایسپن بارتھ کی آمد کے یہ مناظر بہت بھائے، اور اِسی لیے سوشل میڈیا پر اُن کی تصاویر پر تبصروں اور بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

اپنے دو روزہ دورے، جس کا اختتام آج ہو رہا ہے، کے دوران ناروے کی وزیر خارجہ کی پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئی ہیں اور اس ضمن میں جاری ہونے والے سرکاری اعلامیوں کے مطابق اِن ملاقاتوں میں مختلف اُمور زیر بحث آئے۔

ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ کی پاکستان آمد صرف پاکستان ہی میں زیر بحث نہیں ہے بلکہ انڈیا میں بھی 'ایکس' صارفین اس پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم اُن کی نوعیت انتہائی مختلف ہے۔

انڈیا میں پاکستانی وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ایسپن بارتھ کی جوائنٹ پریس کانفرنس کا وہ کِلپ شیئر کیا جا رہا جس میں بارتھ یہ کہتے ہیں کہ ’مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ مجھے جموں و کشمیر سے لے کر افغانستان تک کے علاقائی اور عالمی مسائل پر گفتگو کا یہ موقع ملا۔۔۔‘

چند انڈین صارفین یہ گلا کرتے پائے گئے کہ ناروے کے وزیر خارجہ ’جموں و کشمیر‘ پر پاکستان سے کیوں بات کر رہے ہیں۔ تاہم انڈیا میں ہونے والی تنقید کا تذکرہ بعد میں پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ پاکستان میں کیا بحث جاری ہے۔

’یہی وجہ ہے کہ ناروے ایک فلاحی ریاست ہے‘

تو ذکر ہو رہا تھا کمرشل فلائٹ سے ناروے کے وزیر خارجہ کی آمد اور اپنا سامان خود اٹھانے کا۔

اِسی تناظر میں پاکستان میں بہت سے صارفین پاکستانی سیاسی رہنماؤں اور سرکاری افسران کی ایسی تصاویر شیئر کر رہے ہیں جن میں اُن کے موبائل فون اور چھتریاں بھی اُن کے بغل میں موجود سٹاف نے اٹھا رکھی ہیں۔

صحافی اجمل جامی نے لکھا کہ ’اور ہمارے وزرا اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کس انداز میں سفر کرتی ہیں؟ انھیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ عوام غیر ملکی عہدیداروں کے اس طرزِ عمل کو کس قدر اپنے قریب محسوس کرتے ہیں، کہ جب وہ کمرشل پروازوں میں سفر کرتے ہیں، اپنا سامان خود اٹھاتے ہیں اور کم سے کم پروٹوکول میں چلتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ یہ وہ تصاویر ہیں جو پاکستان کے عوام میں بڑھتی ہوئی پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ’جمہوری ریاستوں اور آمرانہ ممالک کے رہنماؤں کے درمیان فرق بہت نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناروے خوشی کے عالمی انڈیکس میں اتنا اُوپر ہے۔‘

یاد رہے کہ سنہ 2018 میں بطور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے وزیر اعظم آفس اور بنی گالہ میں اُن کی ذاتی رہائش گاہ کے درمیان محض 15 کلومیٹر یا آٹھ ناٹیکل میل کا سفر طے کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا ’ہیلی کاپٹر کا خرچ 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر ہوتا ہے۔‘

صحافی طاہر خان نے لکھا کہ ’سوشل میڈیا پر ناروے کے وزیر خارجہ کے دورے سے متعلق بحث جاری ہے کہ وہ کمرشل فلائٹ سے آئے ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو یہ ایک لحاظ سے طعنہ دیا گیا کہ ایک غریب ملک ہوتے ہوئے وہ خصوصی طیاروں میں سفر کرتے ہیں۔ لوگوں کی سوچ بلکل ٹھیک ہے لیکن میرے خیال میں ہمارے حکمران کبھی بھی پروٹوکول پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘

صارف صائمہ ہاشم نے پاکستانی رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ ’میں یہ دیکھنا پسند کروں گی کہ ہمارے نمائندے خود کو ایک ایسے ترقی پذیر ملک کے رہنما کے طور پر پیش کریں جو معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، نہ کہ دولت اور مراعات کی علامت کے طور پر۔ عوامی رہنما کی پہچان اس کے منصب یا پروٹوکول سے نہیں بلکہ خدمت کے جذبے سے ہونی چاہیے۔ اُن کا طرزِ زندگی اُن لوگوں کی حقیقتوں کا عکاس ہونا چاہیے جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔‘

پاکستانی حکام سے ملاقاتیں

اپنے دو روزہ دورے کے دوران ناروے کی وزیر خارجہ کی پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئی ہیں اور اس ضمن میں جاری ہونے والے سرکاری اعلامیوں کے مطابق اِن ملاقاتوں میں مختلف اُمور زیر بحث آئے۔

اپنے دورے کے پہلے روز ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایرڈے نے پاکستانی وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے پاکستان کے ساتھ ناروے کے دوطرفہ تعاون بالخصوص تعلیم، ہنرمند افرادی قوت، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو سراہا۔

وزیر اعظم نے ناروے کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے نارویجن کمپنیوں کو پاکستان میں تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

جمعرات کو ہی ناروے کے وزیر خارجہ نے جنرل ہیڈکوارٹرزراولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے اُمور، علاقائی سکیورٹی اور پاکستان اور ناروے کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی آیس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عالمی امن اور علاقائی استحکام کے حوالے سے پاکستان کے نقطہ نظر کو اجاگر کیا اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون اور باہمی کاوشوں کی اہمیت پر زور دیا۔

اسی طرح نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ناروے کے وزیر خارجہ نے ملاقات کی، اور وفود کی سطح پر ملاقات میں ’باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔‘

ناروے کے وزیر خارجہ کا دورہ انڈیا میں بھی زیر بحث

انڈیا میں بھی ناروے کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان زیر بحث ہے اور اُس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ جوائنٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایسپن بارتھ ایرڈے نے بتایا کہ اُن کی اپنے پاکستانی ہم منصب سے ’جموں کشمیر‘ پر بھی گفتگو ہوئی۔

سدھانت سبل نے اس گفتگو کا مختصر کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ناروے کے وزیر خارجہ کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ جموں و کشمیر پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘

یاد رہے کہ انڈیا روایتی طور پر جموں و کشمیر کے تنازع کو مکمل طور پر اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے اور اس معاملے پر کسی بھی تیسرے فریق یا عالمی طاقت کی ثالثی کو یکسر مسترد کرتا ہے۔

کوشال نامی صارف نے لکھا کہ ناروے کو کسی دوسرے ملک کے اندرونی مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے بجائے اپنے داخلی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے ساتھ انھوں نے ناروے کے شاہی خاندان اور ایپسٹین فائلز کا حوالہ دیا۔

اسی طرح رجنیش یادو نامی صارف نے ناروے کے وزیر خارجہ کو ایکس پر ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’جموں کشمیر انڈیا کا حصہ ہے۔ اور اگر اس حوالے سے کوئی مسئلہ ہے تو وہ انڈین حکومت ہی دیکھے گی، کسی غیرملکی کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔‘