دو ملکوں میں تقسیم خاندان کی کہانی: ’مرنے سے پہلے ایک بار پاکستان جانا چاہتا ہوں‘

    • مصنف, منڈی بہاو الدین سے شمائلہ خان اور دہلی سے وندنا
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’پارٹیشن نے ہر اس فیملی کو تباہ کر دیا جس نے اپنا گھر چھوڑا۔ میری دادی کہتی تھیں کہ دونوں طرف کے سیاست دانوں نے پارٹیشن دیکھا نہیں، ورنہ شاید یہ نوبت نہ آتی۔ یہ ان سے پوچھیں جن کے گھرانے، جن کے خاندان رل گئے، جو جیتے جی مر گئے۔‘

یہ الفاظ سپنا کویتا اوبرائے کے ہیں، جن سے میری ملاقات ضلع منڈی بہاوالدین کے ایک گاؤں بوسال میں ہوئی۔ 54 سالہ سپنا بوسال کے واحد ہندو خاندان کی ایک فرد اور ایک زمیندار ہیں۔

برصغیر کی تقسیم کے ساتھ ہی سپنا کا خاندان بھی دو ٹکڑوں میں بٹ گیا، جس کا غم انھیں اپنے دادا، دادی اور والد سے ورثے میں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم کے 25 سال بعد پیدا ہونے کے باوجود نھی انھیں اپنے بزرگوں سے سنی باتیں بھی یاد ہیں۔

سنہ 1947 میں سپنا کے دادا دیوان چند اوبرائے پنجاب کے ضلع گجرات میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے بڑے تایا راجیندر ناتھ اوبرائے کی عمر 32 سال تھی، وہ کوئٹہ میں بطور انجینئر کام کررہے تھے، چھوٹے تایا درباری لال اوبرائے 21 سال کے تھے اور وہ انگلینڈ میں تعلیم حاصل کررہے تھے، جبکہ سپنا کے والد سرداری لال اوبرائے کی عمر صرف 9 سال تھی اور وہ اپنے والد کے ساتھ گجرات میں رہتے تھے۔

ہندوستان کی تقسیم کا وقت قریب آنے سے پہلے ان کے بڑے تایا کوئٹہ سے اپنی بیوی اور تین بچوں سمیت جبکہ چھوٹے تایا انگلینڈ سے دلی چلے گئے۔

ان کے دادا بھی ہجرت کی تیاری میں تھے، لیکن ٹرک پہنچنے سے پہلے ان پر حملہ ہوا اور انھیں گولی ماردی گئی۔ رینجرز انھیں ریسکیو کرکے گجرات کے ہسپتال لے گئی۔ حالت بہتر ہوئی تو وہ منڈی بہاالدین میں اپنے گاؤں بوسال کی حویلی چلے آئے۔ لیکن یہاں بھی ان پر حملہ ہوگیا اور حویلی کو آگ لگا دی گئی۔

سپنا بتاتی ہیں کہ اس وقت مسلمان پڑوسیوں نے ان کی زندگی بچائی۔

’دادا جی کو جب مردہ سمجھ کے چھوڑ دیا گیا تو یہاں پر پڑوس کے لوگوں نے دادا جی کو چارپائی پر ڈالا اور لے کر چلے گئے۔ پھر چھپ چھپا کے انہی لوگوں نے بچایا، انہی لوگوں نے علاج کرایا۔‘

تاہم سپنا کے مطابق ان کے دادا کے صحت یاب ہونے تک سرحدیں بند ہوگئیں اور انھوں نے انڈیا جانے کا فیصلہ بھی ترک کردیا۔

یوں سپنا کا خاندان دو ملکوں میں تقسیم گیا۔ دو تایا انڈیا منتقل ہوگئے جبکہ دادا، دادی اور والد پاکستان ہی میں رہ گئے۔

’ساری زندگی میں دیوالی، ہولی، راکھی، نواراتری کچھ بھی نہیں منائے‘

سپنا کی تین پھوپھیوں میں سے دو انڈیا میں بیاہی گئیں۔

سپنا کے بقول ایک پھوپھی رام پیاری اپنے والد کی عیادت کے لیے راجھستان سے بوسال آئیں، تاہم پارٹیشن کے دوران دنگوں کی وجہ سے انھیں واپس روانہ کیا گیا لیکن وہ سرحد پار نہ کرسکیں۔

ان کے مطابق انڈیا جانے والوں کے اگلے قافلے کے ساتھ سفر کے لیے ٹرک کا انتظار ہی ہورہا تھا کہ ان کی پھوپھی کیمپ میں ہی دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئیں اور ان کے خاندان کو آج تک معلوم نہیں کہ وہ کہاں دفن کی گئیں۔

’دادا کو یا ادھر ادھر کسی کو بھی پتا ہی نہیں چلا۔ میرے دادا کے لیے یہ بھی ایک بڑا صدمہ تھا کہ سارا خاندان، بھائی بہن سب کے ہوتے ہوئے میری ایک بیٹی لاوارث دفنائی گئی۔‘

تاہم جب سرحدیں کھلیں تو سپنا کے دادا دیوان چند اوبرائے نے بیٹوں کے اصرار کے باوجود انڈیا منتقل ہونے سے انکار کردیا۔

’جب دادا نہیں مانے تو بڑے تایا جی نے کہا کہ میں بھی پھر ساری زندگی پاکستان نہیں آؤں گا، تو جب دادا جی کی موت ہوئی، وہ تب بھی نہیں آئے۔‘

البتہ انڈیا میں ان کے بیٹوں نے جائیداد کا کلیم واپس پاکستان بھجوادیا۔

سپنا کے بقول ان کی دادی اپنے بچوں سے جدائی کا غم کبھی نہ بھلا سکیں۔ بوسال میں انھوں نے مجھے اپنا پانچ ایکٹر پر آموں کا باغ دکھایا، جو ان کی دادی نے بہت شوق سے لگوایا تھا لیکن پارٹیشن کے بعد انھوں نے اس باغ کا پھل نہیں کھایا۔

’دادی ماں نے پھرکبھی آم نہیں کھائے، حالانکہ اپنا باغ تھا۔ گرمیوں میں جب بچے آتے تھے تو ان پہ لٹکے ہوتے تھے۔ پاپا کہتے تھے کہ وہ رو پڑتی تھیں کہ یہ جن کے لیے تھے، وہی نہیں رہے۔ دادی کہتی تھیں کہ میں یہاں آم کھاؤں، پتا نہیں میرے بیٹوں اور بچوں کو وہاں ملتے بھی ہوں گے کہ نہیں۔‘

بہن بھائیوں سے بچھڑنے اور والدین کےغم نے ان کے والد سرداری لال اوبرائے کو بھی بہت متاثر کیا۔ سپنا بتاتی ہیں کہ وہ الگ تھلگ رہتے اور کوئی خوشی نہیں مناتے تھے۔

’میرے بچے وہاں ذلیل و خوار ہورہے ہیں‘

دہائیوں بعد بھی، پاکستان میں موجود سپنا اور انڈیا میں ان کا خاندان تقسیم کے صدمے کو اپنے سینوں میں سنبھالے ہوئے ہی۔

بھلے ہی دونوں خاندانوں میں میلوں اور ایک عدد ویزا کی دوریاں ہیں، پر دلوں میں نہیں۔

منڈی بہاؤالدین سے تقریباً 560 سے 600 کلومیٹر دور اویناش اوبرائے شمال مغربی دہلی کے علاقے شالیمار باغ میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جو پاکستان سے آنے والے کئی بے گھر افراد کا مسکن بنا۔

اویناش سپنا کے بڑے تایا کے بیٹے ہیں، جنہوں نے چار یا پانچ سال کی عمر میں پاکستان چھوڑا تھا۔

دہلی میں میری ساتھی وندنا نے ان سے ملاقات کی۔ انھوں نے بتایا کہ دہائیاں گزر جانے کے باوجود بھی اویناش کے دل میں کوئٹہ میں گزرے اپنے بچپن کی حسین یادیں تر و تازہ ہیں۔

اویناش نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے کوئٹہ اچھی طرح یاد ہے۔ ہم طاہر خان روڈ پر رہتے تھے، ہمارا گھر مین روڈ پر تھا، بالکل ایک گردوارے کے سامنے۔ گردوارے میں لوگ پہلوانی اور کشتی کیا کرتے تھے۔ میں چھوٹا تھا، اس لیے میں بھی وہاں چلا جاتا۔ میں ان کی کشتی کے داؤ پیچ کی نقل کرتا تھا، جس پر لوگ مجھے گود میں اٹھا لیتے تھے۔ وہ بہت خوبصورت یادیں تھیں۔‘

تقسیم کے بعد اویناش ابتدا میں اپنے والدین اور خاندان کے ساتھ میرٹھ منتقل ہو گئے تھے۔

زمینداروں کے ایک امیر اور آسودہ حال خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود اس خاندان کو اپنی زندگی کا سفر بالکل نئے سرے سے شروع کرنا پڑا۔ ان کے والد نے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا جبکہ ان کی والدہ نے خاندان کی کفالت اور روٹی روزی کے لیے خواتین کو سلائی سکھانے کی کلاسز شروع کر دیں۔

اویناش بتاتے ہیں کہ پیسے بہت کم تھے اور تمام بھائیوں کو کپڑے بھی ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ کر پہننے پڑتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم آسمان سے زمین پر آ گرے تھے۔ مجھے یہ بتانے میں کوئی شرم نہیں کہ ہمارے گھر میں ہم تین بھائی تھے اور چوتھے ہمارے چچا تھے جو بھائیوں کی طرح ہی تھے۔ چھوٹا بھائی بڑے کے کپڑے پہنتا، اس سے چھوٹا اپنے سے بڑے کے... بس اسی طرح سلسلہ چلتا رہا۔‘

’تقسیم کے بعد ایک بار میرے دادا دادی پاکستان سے میرٹھ ہم سے ملنے آئے۔ انہوں نے ایک تانگا لیا اور تانگے والے سے کہا کہ انہیں ہمارے گھر لے جائے۔ جب تانگا ہمارے چھوٹے سے خستہ حال گھر کے سامنے رکا، تو انہوں نے نیچے اترنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے تانگے والے سے کہا کہ یہ ضرور غلط پتہ ہے۔ آخر کار جب انہیں اندازہ ہوا کہ وہ چھوٹا سا، ٹوٹا ہوا گھر ہی واقعی ان کا پتہ ہے، تو انھیں سخت صدمہ اور تکلیف ہوئی۔‘

اویناش بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ان کے پاس ایکڑ کے حساب سے زمینیں تھیں۔

میرے دادا نے کہا تھا: ’میں ایسی زمین کو آگ لگا دوں، میرے بچے وہاں ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔‘

اویناش کہتے ہیں کہ تمام بے گھر خاندانوں نے سخت محنت کی، ایک دوسرے کی مدد کی اور اپنے بڑوں کی دعاؤں اور خدا کے کرم سے آج ہر کوئی اچھی طرح سیٹ ہو چکا ہے۔

ان تمام مشکلات کے باوجود ان کے لہجے میں ذرا برابر بھی تلخی نہیں ہے۔

تاہم جب ان سے پاکستان میں موجود ان کے خاندان کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے کیونکہ وہ اپنے جذبات کو الفاظ کا روپ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

’ہمارے بہت سے رشتے دار وہاں ہم سے بچھڑ گئے۔ آج تک ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں گئے۔ تو یہ درد تو ہمیشہ رہا۔ پھر ہم یہاں بس گئے، کیونکہ ہر کسی کو اپنا مستقبل یہاں نظر آیا۔ یہ بات بہت دکھ دیتی ہے، خاص طور پر مجھے۔ میرے دادا کا انتقال ہوا، میں نہیں جا سکا۔ میری دادی گزر گئیں، میں نہیں جا سکا۔ میرے چچا کی وفات ہوئی، میں نہیں جا سکا۔ صرف اس بیچ میں موجود سرحد کی وجہ سے۔‘

’کیا جنازے بھی اپنوں کے کندھوں کو ترستے ہیں؟‘

اویناش اس بات پر افسوس ظاہر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے خاندان کی نئی نسل کو صرف تصویروں یا ویڈیو کالز پر ہی دیکھا ہے۔

’فوٹو دیکھ کر وہ بات نہیں بنتی جو احساس مل کر، پاس بیٹھ کر ہوتا ہے۔‘

انڈیا اور پاکستان کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات کے باعث عام شہریوں کو معمول کے مطابق اپنے خاندانوں سے ملنے کے لیے ویزے نہیں ملتے۔

اگر آپ اویناش اوبرائے کے گھر میں ارد گرد دیکھیں، تو یہ کسی بھی عام گھر جیسا ہی نظر آئے گا۔ البتہ آپ اگر پرانی تصویروں یا پرانی دستاویزات پر نظر ڈالیں تو وہ الگ ہی کہانی بتاتے ہیں: جیسے ان کے والد کا یونائیٹڈ انڈیا (غیر تقسیم شدہ انڈیا) کے زمانے کا پرانا پاسپورٹ، جو اویناش نے سنبھال کر رکھا ہوا ہے یا ریڈیو کی وہ رسید جو ان کے خاندان نے پاکستان میں رہتے ہوئے خریدا تھا۔

بات چیت ختم ہونے لگی تو 80 برس سے زیادہ عمر کے اویناش نے کہا کہ ان کی ایک آخری خواہش ہے.

’مرنے سے پہلے میں ایک بار پاکستان جانا چاہتا ہوں۔ کوئٹہ جانا چاہتا ہوں جہاں میں نے اپنا بچپن گزارا۔ میں اس جگہ جانا چاہتا ہوں جہاں میری بہن رہتی ہیں۔ میں ان آم کے باغات اور اس کنویں کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ بس میں صرف یہی چاہتا ہوں۔‘

سپنا نے بھی اپنے انٹرویو میں دونوں ملکوں کی حکومتوں سے درخواست کی کہ دونوں ملکوں کے درمیان بٹ جانے اور بچھڑ جانے والے خاندانوں کے لئے کچھ ایسا کیا جانا چاہئے کہ ان کے ویزے ریجیکٹ نہ ہوں۔

’میرے پاپا اپنے دو بھائی، ایک بہن کسی کے جنازے میں نہیں جا سکے۔ میرے وہاں مقیم پھوپھو، میرے تایا جی اور وہاں مقیم کوئی بھی خاندان کا فرد یہاں کسی کے جنازے میں نہیں آ سکا شادیاں تو دور کی بات ہے۔‘

’تو یہ کتنا بڑا المیہ ہے؟ کیا جنازے بھی اپنوں کے کندھوں کو ترستے ہیں؟‘