آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, مستونگ میں بلوچستان کے وزیر داخلہ کے قافلے پر حملہ، سکواڈ کے چھ اہلکار زخمی

سرکاری ذرائع کے مطابق میر ضیاء اللہ لانگو قلات میں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد کوئٹہ واپس آرہے تھے کہ مستونگ کے علاقے کنڈ عمرانی کے قریب ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر مستونگ کے شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد بعض زخمیوں کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ روانہ کردیا گیا۔

خلاصہ

  • طالبان مخالف نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا افغانستان کے شہر فیض آباد کے میئر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
  • ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتے ہیں: امریکی وزیرِ دفاع
  • ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے ایسے اقدامات کرنے جا رہے ہیں 'جو پہلے کسی نے نہیں دیکھے': امریکی وزیرِ خزانہ کی دھمکی
  • ایرانی بعض اوقات ایسے وعدے کرتے ہیں جنھیں وہ پورا نہیں کرتے: امریکی نائب صدر کا الزام
  • پانی پاکستان کی ریڈلائن، انڈیا راہِ راست پر نہ آیا تو براہِ راست جواب دیں گے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

لائیو کوریج

  1. مستونگ میں بلوچستان کے وزیر داخلہ کے قافلے پر حملہ، سکواڈ کے چھ اہلکار زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کے قافلے پر ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ان کے سکواڈ کے چھ اہلکار زخمی ہوگئے، تاہم وزیر داخلہ حملے میں محفوظ رہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق میر ضیاء اللہ لانگو قلات میں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد کوئٹہ واپس آرہے تھے کہ مستونگ کے علاقے کنڈ عمرانی کے قریب ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر مستونگ کے شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد بعض زخمیوں کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ روانہ کردیا گیا۔

    وزیر داخلہ ایک روز قبل قلات پہنچے تھے، جہاں انھوں نے پاکستان کے 79ویں یوم آزادی کے موقع پر ڈی سی کمپلیکس میں منعقدہ تقریب میں پرچم کشائی کی تھی۔ تقریب کے اختتام پر وہ اپنے قافلے کے ہمراہ کوئٹہ واپس آرہے تھے کہ راستے میں یہ حملہ پیش آیا۔

    بی بی سی سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے میر ضیاء اللہ لانگو نے بتایا کہ حملہ آور سڑک کے دونوں اطراف موجود باغات میں چھپے ہوئے تھے اور قافلے کے علاقے میں پہنچتے ہی انھوں نے شدید فائرنگ شروع کردی۔

    انھوں نے کہا کہ ’حملہ آور باغوں کے اندر موجود تھے اور دونوں جانب سے ہماری گاڑیوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔‘

    وزیر داخلہ کے مطابق ان کے سکواڈ نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں تقریباً 20 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے اور حملے کے دوران ان کی بلٹ پروف گاڑی کے ڈرائیور سائیڈ کے شیشے پر پانچ گولیاں لگیں۔

    میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ اللہ کے فضل سے وہ محفوظ رہے، تاہم سکواڈ کے اہلکاروں کے زخمی ہونے پر افسوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے انھیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا اور حکومت، پولیس اور سکیورٹی ادارے امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ریاست مخالف عناصر اور ان کے مبینہ بیرونی سرپرست اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

    دریں اثنا، محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا کہ قافلے کے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا کردیا۔ ان کے بقول حملے کا مقصد علاقے میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا تھا، تاہم سکیورٹی فورسز ایسے عناصر کے عزائم ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

  2. بلوچستان بھرمیں موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل، ٹرین سروس بھی دو دن کے لیے بند

    کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس آج دوسرے روز بھی معطل رہی جبکہ کوئٹہ سے ٹرین سروس کو بھی دو روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس گذشتہ روز دوپہر معطل کی گئی تھی جو کہ آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔

    موبائل فون انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    اگرچہ سرکاری سطح پر انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم گذشتہ اتوار کو جب کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی تو وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے اس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائی تھی۔

    دریں اثنا آج سے دو روز کے لیے کوئٹہ اور پاکستان کے دیگر صوبوں کے درمیان ٹرین سروس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    محکمہ ریلویز کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرین سروس سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر بند کء گئی ہے۔

    اہلکار کے مطابق اس فیصلے کے باعث جعفر ایکسپریس آج کوئٹہ سے روانہ نہیں ہوسکی جبکہ 15اگست کو بھی جعفر ایکسپریس کی آمد ورفت معطل رہے گی۔

  3. ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے ایسے اقدامات کرنے جا رہے ہیں ’جو پہلے کسی نے نہیں دیکھے‘: امریکی وزیرِ خزانہ کی دھمکی

    امریکہ کے وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ کہ واشنگٹن تہران کے خلاف ایسے اقدامات کرنے جا رہا ہے ’جو پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھے۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، جمعرات کے روز نیوز میکس کے پروگرام ’روب شمٹ ٹونائٹ‘ میں انٹرویو دیتے ہوئے بیسنٹ نے کہا تھا کہ اگلے ہفتے تک مزید اعلانات کا انتظار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسے اقدامات نافذ کرنے جا رہے ہیں جو کسی ملک کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ معاشی دباؤ اور کسی ملک کو تنہا کرنے کا ایسا مجموعہ ہو گا جو دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، اور آبنائے ہرمز میں جاری ناکہ بندی بھی برقرار رہے گی، جس کے نتیجے میں ایران کی بندرگاہوں کی جانب کسی چیز کا آنا یا وہاں سے جانا ممکن نہیں رہے گا۔‘

    یاد رہے کہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے جمعرات کے روز کہا تھا کہ امریکی فوج کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے۔

  4. متحدہ عرب امارات کا ایران پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو آئل ٹینکروں پر حملے کا الزام

    متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو آئل ٹینکروں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بحری قزاقی کی کارروائی قرار دیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی سے وابستہ دو جہازوں کو نشانہ بنایا۔

    تاحال ان جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم ان حملوں کے نتیجے میں کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ ہے۔

  5. طالبان مخالف نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا افغانستان کے شہر فیض آباد کے میئر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ایک عہدیدار نے بی بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ صوبائی دارالحکومت فیض آباد کے میئر حبیب الرحمٰن منصور ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اہلکار کے مطابق جمعرات کے روز مقامی وقت کے مطابق تقریباً دو بجے حبیب الرحمٰن کی گاڑی میں ایک مقناطیسی بم نصب کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں میئر ہلاک جبکہ ان کے ایک ساتھی زخمی ہو گئے۔

    افغانستان میں طالبان مخالف ’نیشنل ریزسٹنس فرنٹ‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس محاذ کی قیادت احمد مسعود کر رہے ہیں جو کہ نارتھرن الائنس کے احمد شاہ مسعود کے بیٹے ہیں۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ اس نے صوبائی گورنر ہاؤس کی عمارت سے ’100 میٹر کے فاصلے کے اندر‘ فیض آباد کے میئر کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

  6. ایرانی بعض اوقات ایسے وعدے کرتے ہیں جنھیں وہ پورا نہیں کرتے: امریکی نائب صدر کا الزام

    ایران سے متعلق صورتِ حال میں پائی جانے والی غیر یقینی کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ںے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی بعض اوقات ایسے وعدے کرتے ہیں جنھیں وہ پورا نہیں کرتے۔

    جمعرات کے روز فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس معاملے کا اختتام اس طرح ہو گا کہ امریکہ زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہو گا، ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال دوبارہ ایسی ہو جائے گی جہاں تیل اور گیس کی قیمتیں امریکی عوام کے لیے مستحکم رہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اصل ’مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی بعض اوقات ایسے وعدے کرتے ہیں جنھیں وہ پورا نہیں کرتے۔ وہ معاہدے کرتے ہیں لیکن پھر ان پر عمل نہیں کرتے۔‘

    ایران کے معاملے میں اتار چڑھاؤ کے متعلق سوال پر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے پاس اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے بہت سے ذرائع موجود ہیں۔ ’بعض اوقات ہم توانائی کے پہلو پر توجہ دیتے ہیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ تیل اور گیس کی قیمتیں امریکی عوام کی پہنچ میں ہوں۔ بعض اوقات ہماری توجہ اس کے عسکری پہلو پر ہوتی ہے اور بعض اوقات ایران کے جوہری پروگرام پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔‘

    جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ہم اپنے وسائل کو بہت سوچ سمجھ کر اور حکمتِ عملی کے تحت استعمال کر رہے ہیں تاکہ وہ نتائج حاصل کیے جا سکیں جو امریکی صدر امریکی عوام کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    وینس کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے دو اہداف ہیں: تیل اور گیس کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا۔ ’میرے خیال میں ہم ان دونوں مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو رہے ہیں۔‘

  7. امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے، پیٹ ہیگستھ

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت کے مطابق بحری جہازوں کو خطے میں بھیجا اور واپس بلایا جا سکتا ہے۔

    خبر رساں ادار روئٹرز کے مطابق ہیگستھ نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اپنے بحری جہازوں کی باری باری تعیناتی کر کے ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

    وہ پاناما میں گفتگو کر رہے تھے، جہاں انھوں نے اس سے قبل یو ایس ایس گرڈلی کے عملے سے خطاب کیا تھا۔ یہ ایک گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر ہے جو ماضی میں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات رہ چکا ہے۔

    اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔ ’میرا خیال ہے کہ ہم اسے برقرار رکھیں گے۔ ہماری بحری ناکہ بندی کو ہر کوئی ’فولادی دیوار‘ قرار دے رہا ہے، اور ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔‘

    ہیگستھ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لِنکن‘ پر گذشتہ 250 روز سے زائد عرصے سے تعینات ہزاروں امریکی فوجی اہلکاروں کے مبینہ طور پر خوراک کی قلت، ذہنی صحت اور شدید تھکن جیسے مسائل کا سامنا کرنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ اس حوالے سے امریکی قانون سازوں نے پینٹاگون سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

  8. پانی پاکستان کی ریڈلائن، انڈیا راہِ راست پر نہ آیا تو براہِ راست جواب دیں گے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انڈیا کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی ’یکطرفہ معطلی‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے پانی کو اپنی ’ریڈ لائن‘ قرار دیا ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد میں ’یادگارِ فتح‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا ہے تھا کہ ’پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے۔ اگر انڈیا راہ است پر نہیں آیا تو اسے براہ راست جواب دیا جائے گا۔‘

    یاد رہے انڈیا کی حکومت نے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے ایک جوابی قدم اٹھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔

    پاکستانی وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع اور سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا بھی ذکر کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کو تمام تنازعات سے پاک دیکھنا چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دنیا نئے تنازعات سے دور رہے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ اسی سبب پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ’ذمہ دار ثالث‘ کا کردار ادا کیا۔

    اپنی تقریر میں جہاں انھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ’تاریخی کردار‘ کو سراہا، وہیں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ معاہدے سے متعلق معاملات پر نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی بہت محنت کی ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنھوں نے، پاکستانی وزیرِ اعظم کے مطابق، گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کر کے لاکھوں جانیں بچائیں۔

    پاکستان کے گذشتہ کئی مہینوں سے افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات بھی کشیدگی کا شکار ہیں اور اسلام آباد کابل پر شدت پسندوں کو پناہ دینے کے الزامات بھی عائد کرتا رہا ہے۔

    اس حوالے سے پاکستانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم افغانستان میں بھی امن اور استحکام چاہتے ہیں، لیکن افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا ناقابلِ برداشت ہے۔‘

  9. آبنائے ہرمز کی بندش سے ہمیں 60 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا: جرمن شپنگ کمپنی

    دنیا کی بڑی کنٹینر شپنگ کمپنیوں میں شامل جرمن کمپنی ہاپاگ لوئیڈ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش سے 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران اب تک کمپنی کو 60 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

    اس جرمن شپنگ کمپنی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس کے خالص منافع میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

    کمپنی نے گذشتہ سال تقریباً 30 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا خالص منافع ریکارڈ کیا تھا، تاہم اس سال آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یہ رقم کم ہو کر آٹھ کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہ گئی ہے۔

    کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایشیا سے برآمدات امریکہ میں طلب میں اضافے نے مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے ہونے والے نقصانات کا جزوی طور پر ازالہ کیا ہے۔

  10. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینیئر عہدے دار رسول سنائی راد نے کہا ہے کہ اگر کوئی نئی جنگ ہوتی ہے تو ایران ’زیادہ مضبوطی سے اور زیادہ جارحانہ انداز‘ میں کارروائی کرے گا۔
    • ترکی کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر جنگی مشقیں کی جائیں گی۔
    • خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ کویت نے عالمی شدت پسند تنظیم داعش کے تین ارکان کو اہل تشیع کی ایک مسجد اور ملک کی ’اہم تنصیبات‘ پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
    • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جعلی خبروں سے بھی زیادہ بری چیز جعلی انٹیلی جنس معلومات ہیں، انھوں نے امریکہ کو ’محتاط رہنے‘ کا مشورہ دیا۔
    • ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی سے فائدہ اٹھانے والے ہر فریق پر ’خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘
    • پاکستان میں سپریم کورٹ ججز کی تنخواہ میں چار لاکھ، ہائیکورٹ ججز کی تنخواہ میں ایک لاکھ 10 ہزار روپے اضافہ کت دیا گیا۔
  11. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔