کویت ایئرپورٹ: انڈین شہری کی ہلاکت اور ایران کی تردید لیکن حملے کی فوٹیج میں کیا دکھائی دے رہا ہے؟

کویت ایئرپورٹ پر حملے کا منظر

،تصویر کا ذریعہx.com/Kuwait_DGCA

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

کویت ایئرپورٹ پر ہونے والے فضائی حملے میں ایک انڈین شہری ہلاک ہوا ہے، جبکہ اس واقعے کے بعد کویت، ایران اور امریکہ کی جانب سے متضاد دعوے اور بیانات سامنے آئے ہیں۔

کویت کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں میں اس کے بین الاقوامی ایئرپورٹ سمیت دیگر شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی اڈوں کو تو نشانہ بنایا لیکن ایئرپورٹ پر حملہ اس کی جانب سے نہیں کیا گیا بلکہ کوئی امریکی میزائل ہی وہاں جا گرا۔

ایران کے اس دعوے پر کویت نے کیمرے پر ریکارڈ ہونے والے حملے کے مناظر بھی جاری کر دیے ہیں اور کہا ہے حملہ ایک ایرانی ڈرون سے کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی تازہ لہر دیکھنے میں آئی تھی، دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے اور دنوں جانب سے انھیں ’اپنے دفاع میں کیے گئے‘ حملے قرار دیا گیا تھا۔

ایران نے کہا تھا کہ اس نے خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کے مطابق ایران نے کویت پر دو اور بحرین پر تین میزائل داغے، جنھیں اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی فضا میں تباہ کر دیا گیا۔

جبکہ سینٹکام کی جانب سے ایران کے قشم جزیرے پر ایک فوجی گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔

امریکہ ایران کشیدگی کی اس حالیہ لہر کا آغاز اس وقت ہوا جب منگل اور بدھ کی درمیانی شب امریکہ نے ایران کی جانب جانے والے ایک خالی آئل ٹینکر کو نشانہ بنا کر ’غیر فعال‘ کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ کارروائی اس بحری ناکہ بندی کے تحت کی گئی جو امریکہ نے ایران پر نافذ کر رکھی ہے۔

سینٹکام نے اس حملے کی ویڈیو بھی جاری کی تھی۔

سینٹکام نے آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کی فوٹیج جاری کی۔

،تصویر کا ذریعہX/US Central Command

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس کے بعد دونوں ممالک میں جھڑپیں ہوئیں، امریکہ نے ایران کے قشم جزیرے پر حملے، جبکہ ایران کی پاسداران انقلاب نے امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ’براہِ راست اور ناقابلِ تردید ذمہ داری‘ کویت اور بحرین کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔

ایران نے کویت اور بحرین پر حملوں کے جواز میں کہا کہ جوابی کارروائی کے طور پر دونوں ممالک میں موجود ’امریکی اڈوں اور ہیلی کاپٹروں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔‘

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ان مقامات پر حملے کر رہی ہیں جہاں سے امریکہ کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ سویلین بحری جہازوں پر حملے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرے۔

تاہم کویت کا مؤقف سامنے آیا کہ ایرانی حملے میں اس کے بین الاقوامی ایئرپورٹ اور دیگر شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم 63 زخمی ہوئے۔ بعد میں انڈیا کی وزارت خارجہ نے آگاہ کیا کہ ہلاک ہونے والے شہری کا تعلق انڈیا سے ہے۔

کویت میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم 63 زخمی ہوئے جبکہ بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکویت میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم 63 زخمی ہوئے جبکہ بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا

ان حملوں کے بعد کویت نے ایرانی سفارت خانے کے دو ارکان کو ’نا پسندیدہ‘ قرار دیتے ہوئے انھیں 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے۔

کویت کی جانب سے اس الزام کی بھی تردید کی گئی کہ امریکہ اس کی سر زمین کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

کویتی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق: ’ایران کے دعوے غلط اور بے بنیاد ہیں‘ اور اس کے پاس اپنے دعووں کے لیے ’کوئی بھی معتبر ثبوت یا دستاویزات موجود نہیں۔‘

کویت حکومت نے حملے سے ایئرپورٹ کو پہنچنے والے نقصانات کی تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کیں اور نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شیخ فہد یوسف نے وہاں جا کر صورتحال کا جائزہ بھی لیا۔

کویت ایئر پورٹ پر حملے کے بعد آگ اور دھویں کا بادل

،تصویر کا ذریعہx.com/Kuwait_DGCA

،تصویر کا کیپشنکویت کے سول ایوی ایشن ادارے کی جاری کردہ ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ آسمان سے ایک ڈرون آ کر ایئرپورٹ سے ٹکراتا ہے اور آگ اور دھویں کا بادل بلند ہوتا ہے

تاہم پاسداران انقلاب نے کہا کہ ایئرپورٹ پر حملہ انھوں نے نہیں کیا۔

ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پاسداران انقلاب کے ترجمان کا بیان رپورٹ کیا۔ اس بیان کے مطابق پاسداران انقلاب کا یہ مؤقف ہے کہ کویت ایئرپورٹ پر حملہ ایران نے نہیں کیا بلکہ امریکہ کے پیٹریاٹ میزائل نظام میں کوئی خرابی پیدا ہوئی اور وہی کویتی ایئرپورٹ پر جا گرا۔

تسنیم کے مطابق ترجمان نے کہا: ’پاسداران انقلاب کی فضائی فورس نے اس ہدف کی جانب کوئی فائرنگ نہیں کی۔‘

بی بی سی فارسی کے مطابق ترجمان حسین محبی نے کہا کہ پاسداران انقلاب کی تحقیقات کے مطابق ’کویت ایئرپورٹ کے مسافر ٹرمینل کی تباہی امریکی پیٹریاٹ نظام کی خرابی کے باعث ہوئی، جو ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکامی کے بعد اسی ٹرمینل پر آ گرے۔‘

اس بیان کے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے بعد کویت کے سول ایوی ایشن کے ادارے نے ایکس پر ویڈیو جاری کر دی جس میں ایک شے آسمان سے آتی اور ایئرپورٹ کی عمارت پر گرتی دکھائی دیتی ہے، جس کے بعد آگ اور دھوئیں کا بادل اٹھتا ہے۔

ڈرون کویت ایئرپورٹ کی عمارت سے ٹکراتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہx.com/Kuwait_DGCA

،تصویر کا کیپشنقریب کے مناظر میں حملہ آور ڈرون کی ساخت واضح دکھائی دیتی ہے

ایئرپورٹ پر گرنے والی شے کی ویڈیو مختلف زاویوں سے جاری کی گئی ہے۔

ایک زاویہ قریب کا منظر دکھاتا ہے جس سے عمارت پر گرنے والی شے نسبتاً واضح دکھائی دیتی ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی ساخت میزائل نہیں بلکہ ڈرون جیسی ہے۔

سینٹکام نے بھی ایئرپورٹ پر حملہ نہ کرنے کے ایرانی دعوے کو جھٹلاتے ہوئے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ایران نے ڈرونز کے ذریعے یہ حملہ ’دانستہ طور پر اور منصوبہ بندی کے تحت‘ کیا۔

ایران ماضی میں متعدد بار بحرین اور کویت میں اہداف پر حملے کر چکا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔