آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات: ’کسی نتیجے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے‘
یہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد پہلا موقع ہے کہ ایرانی اور امریکی وفود اعلیٰ سطح پر آمنے سامنے بات چیت کر رہے ہیں۔ پاکستان کو اس تاریخی لمحے کی میزبانی کا موقع ملا ہے۔
سنیچر کی صبح پہلے محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد اور پھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد کے پہنچنے تک یہ واضح نہیں تھا کہ آیا فریقین دیرپا امن کے لیے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔
مگر اب پاکستانی اور وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سنیچر کو پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں دونوں فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے ہیں۔
سنیچر کو دونوں وفود کی پہلے پاکستانی حکام سے علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، جس کے بعد پاکستان کی ثالثی میں امریکی اور ایرانی نمائندے اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں آمنے سامنے بیٹھے اور متنازع امور پر بات چیت شروع کی۔
ان مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں تکنیکی ماہرین بھی اس عمل کا حصہ بن گئے ہیں اور پیچیدہ امور پر بات چیت جاری ہے۔
مگر مبصرین کے بقول اب بھی امریکی اور ایرانی قیادت کے درمیان اعتماد کا فقدان اور جنگ کی تلخیاں موجود ہیں اور اس کے امکان کم ہیں کہ اچانک کوئی بڑی پیشرفت ہو جائے۔
جہاں ایران نے لبنان میں جنگ بندی سمیت امریکہ پر حالیہ سیزفائر کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے تو وہیں امریکہ کو یہ اعتراض ہے کہ تاحال ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو پوری طرح کھولا نہیں گیا۔
یہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والا ایک تاریخی واقعہ ہے کیونکہ یہ 1979 کے ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے سب سے اعلیٰ سطح کے براہِ راست مذاکرات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالیہ جنگ عالمی تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا سبب بنی ہے، مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ اگر ایک طویل جنگ بندی اور بالآخر امن معاہدہ طے پا جائے تو بہت سے لوگ سکھ کا سانس لیں گے۔
’اس وقت بہت کچھ داؤ پر ہے‘
آج کے مذاکرات سے اچھی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں، جس پر پاکستانی حکام ہی نہیں بلکہ خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی خوش نظر آتے ہیں، جنھوں نے اپنے سوشل میڈیا پر مذاکرات کرنے والے وفود کی ویڈیو شیئر کی اور جلد براہ راست مذاکرات کے امکان پر بات کی۔
اسلام آباد کو ان مذاکرات کی میزبانی ملنے پر سوشل میڈیا پر بھی خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور بہت سے لوگ آج کسی ممکنہ ڈیل کے منتظر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ صحافیوں نے بھی ذرائع سے بریک تھرو سے متعلق خبریں دیں۔
سینیئر صحافی طلعت حسین نے لکھا کہ ’اسلام آباد ٹاکس—مشترکہ اور علیحدہ دونوں سیشن منعقد ہوئے۔ ’پیش رفت‘ جاری ہے۔ بظاہر صورتحال ’اب تک سب ٹھیک‘ والی لگ رہی ہے۔‘
سینیئر صحافی عباس ناصر نے لکھا کہ ’اس وقت بہت کچھ داؤ پر ہے۔‘ انھوں نے مشورہ دیا کہ ’چند گھنٹے انتظار کر لیں، تب ہی اندازہ ہو سکے گا کہ یہ عمل کس سمت جا رہا ہے۔‘
ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے وقت درکار ہوگا، اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات طویل عرصے سے منقطع ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حل طلب امور پر کئی ادوار کی بات چیت کے بعد ہی کوئی نتیجہ سامنے آ سکے گا۔
تجزیہ کار زاہد حسین نے بی بی سی کو اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران طویل عرصے سے ایک دوسرے سے براہِ راست بات چیت نہیں کر رہے اور جن امور پر بات چیت ہونی ہے وہ تکنیکی نوعیت کے بھی ہیں، اس لیے کسی نتیجے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
’پاکستان ان مذاکرات میں فریق بن چکا ہے‘
امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں جلدبازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ عمل ابھی تو شروع ہی ہوا ہے۔‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’سفارت کاری ایک عمل ہے، کوئی ایک واقعہ نہیں۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس عمل سے فوراً کوئی نتیجہ نکل آئے گا، وہ غلط فہمی میں ہیں۔ اسے کسی بریک تھرو یا بریک ڈاؤن کے پیمانے پر دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔‘
امریکہ کے لیے پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمان نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’پوری دنیا سانسیں روک کر یہ سب دیکھ رہی ہے، جبکہ اسلام آباد ایک ایسے لمحے کی میزبانی کر رہا ہے جو تاریخ بن سکتا ہے'۔ ان کے مطابق 'آج پورا پاکستان ایک صفحے پر کھڑا ہے اور امن کو ایک موقع دیا جا رہا ہے۔‘
شیری رحمان نے مزید کہا کہ ’ہر شہری کو اس بات پر فخر ہے کہ ہم جانتے ہیں جنگیں کیسے جیتی جاتی ہیں جب وہ ہمارے دروازے تک آ پہنچیں، لیکن ہمیں اس بات پر بھی اتنا ہی فخر ہے کہ ہم نے دنیا کو یاد دلایا کہ امن جیتنا ہمیشہ جنگ جیتنے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔‘
امریکی سیاسی اور سکیورٹی تجزیہ کار مائیکل کگلمین نے ایکس پر اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان کا کردار سہولت کار اور رابطہ کار سے بڑھ کر اب براہِ راست ثالث اور سہ فریقی امن مذاکرات کار تک پہنچ گیا ہے۔۔۔ کم از کم فی الحال، امریکہ اور ایران کو کسی ممکنہ باہر نکلنے کے رستے تک لانے کی اس مشکل اور نازک کوشش میں پاکستان ڈرائیور کی سیٹ پر دکھائی دیتا ہے۔‘