’برطانیہ کا یورپی یونین سے نکلنا عالمی معیشت کےلیے دھچکا ہوگا‘

وقت اشاعت

معاشی اعتبار سے بڑے ممالک کے وزرائے خزانہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر برطانیہ یورپی یونین سے نکل جاتا ہے تو یہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا ’دھچکا‘ ہوگا۔

وزرا نے اپنے خیال کا اظہار چین میں جی 20 ممالک کے درمیان دو روزہ مذاکرات کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا ہے۔

اس موقع پر وہاں موجود برطانوی وزیر خزانہ جارج اوسبورن نے بی بی سی کو بتایا کہ ریفرنڈم کا مسئلہ ’بہت سنجیدہ‘ ہے۔

تاہم یو کے انڈپینڈنس پارٹی کے نائجل فراج نے کہا کہ ’جی20 ممالک کی جانب سے یہ اعلان حیران کن نہیں ہے کیونکہ یہ ایسا ہی ہے جیسے ساتھی ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے حیرانی نہیں ہوئی کہ بڑی حکومتیں ڈیوڈ کیمرون کی حمایت کرنے کے لیے ایک ہو گئی ہیں۔‘

’بڑے بینک، بڑے کاروبار، بڑی حکومت سب ایک دوسرے کی پشت کچھا رہے ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ یہ سب وٹروں کو متاثر کر سکے گا۔‘

برطانیہ، چین اور امریکہ کے حکام اور آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ نے شنگھائی میں جی 20 اجلاس کے دوران عالمی معیشت کے حوالے سے اہم نکات پر بات کی۔

بی بی سی کو ملنے والے مسودے کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا نہ رہنے کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کا عالمی معیشت کو درپیش خطرات کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور یہ سب حتمی میں اعلامیے میں شامل ہونے والا ہے۔

شنگھائی میں بی بی سی کے نامہ نگار رابن برانٹ کا کہنا ہے کہ مسودے میں تبدیلی کا امکان نہیں تھا۔

جارج اوسبورن کے ساتھ سفر کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے ریفرنڈم کا حتمی اعلامیے میں واضح ذکر غیر معمولی ہے۔تاہم انھوں نے اس بات کو مسترد کیا کہ ان کی جانب سے اس پر زور دیا گیا تھا۔

ان کے علاوہ دیگر 19 رہنماؤں نے بھی جی 20 اجلاس کے موقع پر برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کی صورت میں عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا ’دھچکا‘ قرار دیا۔