ہولوکاسٹ کے متاثرین کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں آباد دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے قتل عام (ہولوکاسٹ) کے دوران متاثر ہونے والے افراد کو اضافی امداد جاری رکھنے کے معاملے پر احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ اسرائیل میں نئی حکومت کی طرف سے ان متاثرہ افراد کو بیس ڈالر ماہانہ کی امداد مہیا کرنے کی تجویز کو شدید تنقید کا سامنا بنایا گیا ہے۔ وزیر اعظمم ایہود اولمرت کی حکومت اس تجویز پر نظر ثانی کر رہی ہے۔ ہولوکاسٹ کے متاثرہ افراد پر مشتمل گروہ اتوار کو یروشلم میں ایہود اولمرت کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ ہولوکاسٹ کے متاثرہ لوگوں نے ایہود اولمرٹ کی حکومت کی اس تجویز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امداد بہت کام ہے اور بہت تاخیر سے دی جا رہی ہے۔ یہ متاثرہ افراد پہلے ہی مختلف ذرائع سے امداد حاصل کر رہے ہیں جن میں جرمنی اور اسرائیل کی حکومتیں شامل ہیں۔ لیکن یہ متاثرہ افراد جو کہ ڈھائی لاکھ کے قریب اسرائیل میں آباد ہیں، کافی عرصے سے اسرائیلی حکومت کو انہیں نظر انداز کرنے کی شکایت کرتے رہے ہیں۔ بہت سے عمر رسیدہ افراد کا کہنا ہے کہ ان کے پاس علاج و معالجہ اور کبھی کبھی خوارک کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔ اسرائیل کی بقا کے لیے دیئے جانے والے دلائل میں ہولوکاسٹ کوبھی ایک دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں اسرائیلی فوجی کمپنی معطل28 July, 2007 | آس پاس فوجی امداد بڑھنے پر اسرائیل خوش29 July, 2007 | آس پاس ونونو کو چھ ماہ قید کی سزا02 July, 2007 | آس پاس ’یروشلم کا جغرافیہ بدلا جا رہا ہے‘ 15 May, 2007 | آس پاس راکٹ حملے میں اسرائیلی ہلاک27 May, 2007 | آس پاس فلسطینی قیدیوں کی رہائی کامعاہدہ08 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||