اسرائیلی فوجی کمپنی معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے غرب اردن میں جمعرات کو فلسطین کے ایک غیر مسلح شخص پر فائرنگ کے واقعے کے بعد اپنی ایک کمپنی کو معطل کردیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ یہ فوجی ہبرون کے قریب پیدل گشت پر تھے کہ اس دوران انہوں نے ایک ٹیکسی کو قبضے میں لیتے ہوئے قریب آنے والے شخص کو گولی مار دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعد ازاں انہوں نے اس زخمی شخص کو فوری طبی امداد فراہم نہیں کی اور اس واقعے کی اطلاع بھی نہیں دی۔ اسرائیلی فوجیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں مذکورہ شخص مشکوک ایک رپورٹ کے مطابق فوجیوں نے غلط فہمی کی بناء پر اس شخص کے ہاتھوں میں موجود پھاوڑے کو بندوق سمجھ لیا۔ اسرائیل کی ملٹری پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ بعدازاں اسرائیلی فوج اس شخص کو وہاں سے لے گئی اور اسرائیل میں ہی اس کے زخموں کا علاج کیا۔ اسرائیل کی ڈیفنس فورس کے سینٹرل کمانڈ میجر جنرل جادي شامنی کا اس واقعے کی ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے پر کہنا تھا:’ پلاٹون کمانڈر کا عمل خلاف معیار تھا‘۔ انہوں نے اس واقعے کے حوالے سے کمپنی کی رجمنٹ کے عمومی برتاؤ کے بارے میں مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اسرائیل نے 1967 میں غرب اردن پر قبضہ کر لیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے بشمول یروشلم غرب اردن میں اب تک تقریبا چار لاکھ تیس ہزار افراد کو بسایا جا چکا ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ہیبرون اور آس پاس کا علاقہ عام طور پر تناؤ اور کشیدگی کا سبب بننے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ یہ غرب اردن کا وہ واحد علاقہ ہے جہاں یہودیوں کی ایک چھوٹی سی تعداد کسی فلسطینی شہر کے وسط میں آباد ہے۔ |
اسی بارے میں اسرائیل سے فلسطینی قیدی رہا20 July, 2007 | آس پاس فلسطینی قیدیوں کی رہائی کامعاہدہ08 July, 2007 | آس پاس غزہ: اسرائیلی حملوں میں ہلاکتیں30 June, 2007 | آس پاس اسرائیلی فائرنگ، فلسطینی ہلاک03 June, 2007 | آس پاس اسرائیلی حملوں میں چھ ہلاک17 May, 2007 | آس پاس اسرائیلی حملے میں فلسطینی ہلاک25 December, 2004 | آس پاس اسرائیلی فوج کو سختی کا حکم16 January, 2005 | آس پاس اسرائیلی فائرنگ: تین لڑکے ہلاک09 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||