محدود فوجی طاقت کے باوجود ایرانی حکمت عملی نے کیسے امریکہ پر دباؤ ڈالا؟, بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا تجزیہ
اگرچہ فوجی طاقت کے لحاظ سے ایران امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا، لیکن موجودہ صورتحال میں وہ اپنے حریف پر کچھ سٹریٹیجک برتری حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایران ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے خطرناک بنا کر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ جہازوں کو اس کے نئے ضوابط پر عمل کرتے ہوئے شمالی راستے سے گزرنا ہوگا، جہاں ان کا معائنہ کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر ان سے فیس بھی وصول کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران خطے میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کو، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، رات کے وقت حملوں کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے۔ بظاہر ایران کے پاس ڈرونز اور میزائلوں کی کمی نہیں، جنھیں وہ ان حملوں میں استعمال کر رہا ہے۔
اگر امریکہ دوبارہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کرتا ہے تو اس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار ایرانی معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
تاہم ایران یہ بھی جانتا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، چار ماہ سے بھی کم عرصے میں ہونے والے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ صورتحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی سیاسی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔