آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں ’20 فیصد ری ایمبرسمنٹ فیس‘ ختم کرنے کا فیصلہ، ایرانی حملوں میں دو ملاحوں کی ہلاکت کی تصدیق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے ’20 فیصد امریکی ری ایمبرسمنٹ فیس‘ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے بدلے میں خلیجی امریکہ کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کریں گی۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں گذشتہ رات ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ’انھوں نے پہلے گولی چلائی:‘ صدر ٹرمپ کا ایران پر حملوں میں پہل کرنے کا الزام

    جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا انھیں ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر افسوس ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت عملاً ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے، تو انھوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔

    امریکی صدر نے کہا کہ انھیں اپنے فیصلے پر افسوس نہیں ہے۔ انھوں نے ایرانیوں کو ’مشکل لوگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی قیادت کو ایک موقع دینا چاہتے تھے۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں معاہدے کی بعض شقوں پر تہران کے اختلافات ہی حملوں کے دوبارہ آغاز کا سبب بنے اور ان کا دعویٰ تھا کہ ’پہل ایران نے کی تھی۔‘

    انہوں نے کہا: ’انھوں نے پہلے گولی چلائی تھی۔‘

  2. ’فیس کے تصور سے اتفاق نہیں‘: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو پر مجوزہ 20 فیصد فیس واپس لینے کا فیصلہ, برنڈ ڈیبسمین، بی بی سی نیوز

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اب آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے نئے منصوبے کے بارے میں کچھ مزید تفصیلات فراہم کی ہیں، جس کے تحت وہ وہاں سے گزرنے والے کارگو پر مجوزہ 20 فیصد فیس واپس لینے کے بدلے میں خلیجی ممالک کی جانب سے امریکہ میں سرمایہ کاری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خلیجی ممالک کی جانب سے فیس کے اعلان کے بعد ہونے والی رابطہ کاری اور گفتگو کے نتیجے میں کیا گیا۔

    قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس معاملے پر اب ٹرمپ کا مؤقف وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مؤقف سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔ روبیو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ یہ نہیں سمجھتا کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی پر محصول عائد کرنے کا حق ہونا چاہیے۔

    ٹرمپ کہتے ہیں کہ: ’مجھے فیس کے تصور سے اتفاق نہیں ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی منصفانہ نہیں کہ ہم پوری دنیا کے لیے آبنائے کی حفاظت کریں۔‘

    ٹرمپ بارہا یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ عالمی سلامتی کے معاملات کا سب سے بڑا بوجھ امریکہ اٹھا رہا ہے، ، خاص طور پر آبنائے ہرمز اور نیٹو جیسے معاملات میں۔

  3. اپنی فضائی حدود میں ’دشمن اہداف‘ کا مقابلہ کر رہے ہیں: کویتی فوجی

    کویت کی فوج نے کہا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود میں ’دشمن فضائی اہداف‘ کا مقابلہ کر رہی ہے۔

    کویت کی فوج نے ایکس پر جاری بیان میں کہا: ’اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو ناکام بنانے کے نتیجے میں ہوں گی۔‘

    امریکہ کا قریبی اتحادی کویت مشرق وسطی میں جاری تنازع کے دوران متعدد مرتبہ ایرانی حملوں یا ان کے خطرات کا سامنا کر چکا ہے۔

  4. گذشتہ رات ایران کے آبنائے ہرمز میں حملوں سے دو ملاح ہلاک ہوئے: میری ٹائم ادارہ

    اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں گذشتہ رات ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل متحدہ عرب امارات اور انڈیا نے کہا تھا کہ تہران کے حملوں کے نتیجے میں ایک انڈین ملاح ہلاک ہو گیا ہے۔

    اب آئی ایم او کا کہنا ہے کہ اسی جہاز الباحیہ پر موجود ایک دوسرا ملاح بھی جان کی بازی ہار گیا ہے۔ یہ جہاز عمان کے ساحل سے 13 سمندری میل کے فاصلے پر موجود تھا۔

    ایک اور جہاز ممباسا بی بھی ایرانی حملوں سے متاثر ہوا۔ گذشتہ رات کے حملے میں اس جہاز پر سوار 14 ملاح زخمی ہوئے تھے۔

    بی بی سی کو جاری ایک بیان میں آئی ایم او کا کہنا ہے کہ وہ حکام کے ساتھ مل کر ’واقعے کے تمام حالات کی تصدیق‘ کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور ’کشیدگی کے سلسلے‘ کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔

    آئی ایم او کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور حملوں کے نتیجے میں 17 ملاح ہلاک ہو چکے ہیں۔

  5. امریکی صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں ’20 فیصد ری ایمبرسمنٹ فیس‘ ختم کرنے کا فیصلہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے ’20 فیصد امریکی ری ایمبرسمنٹ فیس‘ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے بدلے میں خلیجی امریکہ کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کریں گی۔‘

    انھوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ 20 فیصد امریکی ری ایمبرسمنٹ فیس کو ان تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں سے تبدیل کر دیا جائے جو مختلف خلیجی ممالک امریکہ میں کریں گے۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا: ’یہ سرمایہ کاری بہت بڑی ہوگی، لیکن ساتھ ہی یہ اُن ممالک اور ان کے مستقبل کے لیے بھی غیر معمولی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگی۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید لکھا کہ کہ آبنائے ہرمز ’ایران کے علاوہ تمام جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہے‘ اور ’اس کی وجہ ایران کی جھوٹی، پُرتشدد اور بدنیت قیادت ہے، جو اپنے ملک کو مکمل تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف ’مکمل ناکہ بندی‘ نافذ کی جائے گی، لیکن یہ صرف اُن جہازوں پر لاگو ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں یا وہاں سے آ رہے ہوں یا وہ ایسا کوئی سامان لے جا رہے ہوں، جس کا تعلق ایران سے ہو۔

  6. ایران نے حملہ کیا تو اس بار جواب کہیں زیادہ سخت ہوگا: نیتن یاہو

    اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اس کا جواب پہلے کے مقابلے میں ’کہیں زیادہ طاقتور‘ ہوگا۔‘

    اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں نیتن یاہو نے کہا کہ ’میں ایران کے رہنماؤں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ ہم پر حملہ کریں گے تو یہ نہ سمجھیں کہ حالات پُرسکون رہیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس بار اسرائیل کا ردعمل گزشتہ ایرانی حملے کے جواب جیسا نہیں ہوگا، حالانکہ ان کے بقول وہ جواب ’پہلے ہی کافی شدید تھا۔‘

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’وہ وقت گزر چکا ہے جب کوئی ہم پر حملہ کرے اور ہم اس کا دوگنا جواب نہ دے سکیں۔‘

    نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے یہ کارروائیاں ایران کے ’مزاحمت کے محور‘ کے خلاف کی تھیں اور ’جس نے بھی ہمیں نقصان پہنچایا، ہم اس کے خلاف یہ جاری رکھیں گے۔‘

  7. عمان کے ساحل کے قریب پروجیکٹائل کا نشانہ بننے والے آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اُٹھی

    عمان کے ساحل کے قریب ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ کا نشانہ بننے والے ایک آئل ٹینکر کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ دھماکے کے بعد جہاز کے انجن روم میں آگ بھڑک اُٹھی ہے، تاہم واقعے میں کوئی بھی فرد زخمی نہیں ہوا ہے۔

    شپنگ کمپنی سٹولٹ ٹینکرز کے مطابق ’سٹولٹ میگنیشیم‘ نامی آئل ٹینکر بحرہ عرب سے گزر رہا تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا۔

    کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’سٹولٹ میگنیشیم پر موجود تمام بحری عملہ محفوظ ہے۔ واقعے کے فوراً بعد کپتان نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جہاز کا ایمرجنسی رسپانس پلان نافذ کیا، جس کے بعد عملے نے آگ بجھانے کی کارروائی شروع کر دی۔‘

    سٹولٹ ٹینکرز کے مطابق ’جہاز کے عملے کے اہلِ خانہ سے رابطہ کر لیا گیا ہے، جبکہ تمام متعلقہ حکام اور فریقین کو بھی واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

    کمپنی نے تصدیق کی کہ یہی وہ جہاز ہے جس کا ذکر برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کی رپورٹ میں کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ رات عمان کے علاقے قلحات کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ کی زد میں آیا تھا۔

  8. محدود فوجی طاقت کے باوجود ایرانی حکمت عملی نے کیسے امریکہ پر دباؤ ڈالا؟, بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا تجزیہ

    اگرچہ فوجی طاقت کے لحاظ سے ایران امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا، لیکن موجودہ صورتحال میں وہ اپنے حریف پر کچھ سٹریٹیجک برتری حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

    ایران ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے خطرناک بنا کر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ جہازوں کو اس کے نئے ضوابط پر عمل کرتے ہوئے شمالی راستے سے گزرنا ہوگا، جہاں ان کا معائنہ کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر ان سے فیس بھی وصول کی جا سکتی ہے۔

    دوسری جانب ایران خطے میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کو، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، رات کے وقت حملوں کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے۔ بظاہر ایران کے پاس ڈرونز اور میزائلوں کی کمی نہیں، جنھیں وہ ان حملوں میں استعمال کر رہا ہے۔

    اگر امریکہ دوبارہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کرتا ہے تو اس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار ایرانی معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    تاہم ایران یہ بھی جانتا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، چار ماہ سے بھی کم عرصے میں ہونے والے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ صورتحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی سیاسی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

  9. خلیجی ممالک کی فضائی حدود میں پروازوں کو خطرات لاحق ہیں: ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی

    یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے ایئرلائنز کو بحرین، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود اور خلیجِ عمان کے اوپر سے گزرنے والی پروازوں سے متعلق انتباہ جاری کیا گیا ہے۔

    ایجنسی کا کہنا ہے کہ خطے میں ’غیر متوقع فوجی پیش رفت، میزائلوں، ڈرونز، جنگی طیاروں اور فضائی دفاعی نظام کے ممکنہ استعمال کے باعث پروازوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔‘

    ای اے ایس اے کے مطابق موجودہ صورتحال میں خطے کی فضائی حدود میں پروازوں کو ’زیادہ خطرہ‘ لاحق ہے۔

    ایجنسی نے بتایا کہ یہ تازہ ہدایت نامہ 29 جولائی تک نافذ العمل رہے گا، جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

  10. جنوب مغربی ایران میں مزید دھماکوں کی آوازیں سُنی گئی ہیں: سرکاری میڈیا

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوب مغربی ایران میں واقع شہروں ماہشہر اور آبادان کے قریب دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    خبر رساں ادارے فارس نیوز نے صوبہ خوزستان کے نائب سکیورٹی گورنر ولی اللہ حیاتی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اطلاع دی۔

    اس سے قبل مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی حملوں میں بوشہر کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایران کا واحد سویلین جوہری بجلی گھر واقع ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صوبائی نائب گورنر احسان جہانیاں نے بتایا کہ شہر میں چار مقامات کو ’پروجیکٹائلز‘ سے نشانہ بنایا گیا۔

    احسان جہانیاں کے مطابق یہ حملے شہر کے مختلف علاقوں میں کیے گئے۔

  11. انڈیا کی سپریم کورٹ نے تمل ناڈو میں گائے ذبح کرنے پر پابندی کے حکم پر عملدرآمد روک دیا

    انڈیا کی سپریم کورٹ نے پیر کے روز مدراس ہائیکورٹ کے اس حکم پر عمل درآمد روک دیا جس میں تمل ناڈو حکومت کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ریاست میں کہیں بھی گائے یا بچھڑے کے ذبح کرنے کو یقینی طور پر روکے۔

    سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ تمل ناڈو حکومت کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کی سماعت کے دوران سنایا۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے ریاستی حکومت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے اس حصے پر حکمِ امتناع جاری کیا جس میں ریاست بھر میں گائے ذبح کرنے پر مکمل پابندی کی ہدایت دی گئی تھی۔

    تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ مدراس ہائیکورٹ کا فیصلہ ’عدالتی قانون سازی‘ کے مترادف ہے اور اس میں داخلی تضادات موجود ہیں۔

    ریاستی حکومت نے تمل ناڈو اینیمل پریزرویشن ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت 10 سال سے زائد عمر کی گائے کو، اگر انھیں کام یا افزائشِ نسل کے لیے ناکارہ قرار دیا جائے، تو مخصوص شرائط کے تحت ذبح کرنے کی اجازت ہے۔

    حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ مدراس ہائیکورٹ نے ایک طرف قرار دیا تھا کہ جانوروں کا ذبح صرف منظور شدہ مذبح خانوں میں کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب مکمل پابندی کا حکم جاری کر دیا جو ایک دوسرے سے متصادم ہے۔

    واضح رہے کہ مدراس ہائیکورٹ کے جسٹس جی آر سوامی ناتھن اور جسٹس وی لکشمی نارائنن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کوئمبٹور کے رہائشی کے سوریا کی درخواست پر ریاست بھر میں گائے ذبح کرنے پر پابندی کا حکم دیا تھا۔

    درخواست گزار نے الزام عائد کیا تھا کہ مقامی حکام نے عیدالاضحیٰ سے قبل غیر مقررہ مقامات پر گائے ذبح کرنے کی اجازت دی تھی۔

    بعد ازاں ہائیکورٹ نے تمل ناڈو کے چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریاست میں کسی بھی مقام پر گائے یا بچھڑے کو ذبح نہ کیا جائے۔

  12. راولا کوٹ میں رینجرز اہلکار کی ہلاکت

    ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرین کے حملے میں ایک رینجرز اہلکار ہلاک ہوا ہے۔

    ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ’کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم ’جوائنٹ ایکشن کمیٹی‘ کے مسلح گروہوں نے منگل کی صبح سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں رینجرز اہلکار نائک امتیاز علی ہلاک ہوئے۔‘

    ریڈیو پاکستان پر موجود تفصیلات کے مطابق ’کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد نے راولا کوٹ میں بس ٹرمینل کے قریب شہری علاقے میں فائرنگ کی۔‘

    ’حملے کے بعد مسلح گروہوں نے جدید ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے وہاں موجود پولیس اہلکاروں اور ان کی مدد کے لیے پہنچنے والے رینجرز اہلکاروں کو براہِ راست نشانہ بنایا۔‘

    ریڈیو پاکستان کی جانب سے مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ’حملہ آوروں کی فائرنگ سے رینجرز کا ایک اہلکار شدید زخمی ہوا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔‘

    واضح رہے کہ راولاکوٹ میں کالعدم قرار دی جانے والی ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں 15 جولائی یعنی کل بروز بدھ راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

    تنظیم نے اس سے قبل نو جون کو بھمبر سے لانگ مارچ شروع کیا تھا، تاہم راولاکوٹ پہنچنے پر انتظامیہ نے شرکا کو آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔ اس کے بعد سے لانگ مارچ کے شرکا راولاکوٹ کے نواحی علاقے دریک عیدگاہ میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری مظاہروں اور حکومتی کریک ڈاؤن میں اب تک حکام نے کم از کم 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

  13. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان، انڈیکس میں 6400 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔ مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر انڈیکس میں 6408 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انڈیکس 173518 پوائنٹس کی سطح تک گر گیا۔

    منگل کے روز مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا اور حصص کی فروخت کے رجحان نے مارکیٹ انڈیکس کو دباؤ میں رکھا جس کے بعد انڈیکس 6408 پوائنٹس کمی کے بعد بند ہوا۔

    سٹاک ایکسچینج تجزیہ کاروں کے مطابق جیو پولیٹیکل کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مارکیٹ میں منفی رجحان کو فروغ دیا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے گھبراہٹ میں حصص کی فروخت کی گئی۔

    تجزیہ کار نوید ندیم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں کو 85 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچا دیا ہے جس کا منفی اثر سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر مرتب ہوا اور حصص کاروبار دباؤ کا شکار ہوا۔

    انھوں نے جیو پولیٹیکل کشیدگی کی وجہ سے مارکیٹ کے آنے والے دنوں میں بھی دباؤ میں رہنے کا امکان ہے۔

  14. شہباز شریف کا سعودی عرب پر حملے کے بعد ریاض سے اظہار یکجہتی

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘

    ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’گزشتہ رات سعودی عرب کے خلاف کیے گئے کھلے حملوں کی پاکستان سخت مذمت کرتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایسے قابلِ مذمت اقدامات سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں، جو خطے میں امن اور استحکام کو مزید نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔‘

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’پاکستان خطے میں امن، استحکام، سلامتی اور باہمی مفاہمت کے فروغ کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔‘

    یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے آج یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’اس نے سعودی عرب کے ابھا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔‘

    حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ ’یہ کارروائی سعودی جارحیت، جس نے صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا کے جواب میں کی گئی ہے۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہدہ‘ ہوا تھا جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘

  15. آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر ایرانی حملوں میں انڈین شہری کی ہلاکت پر دلی میں ایرانی سفیر کی طلبی

    انڈیا کی وزارت خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں جہاز کے عملے میں شامل ایک انڈین شہری ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

    وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دو آئل ٹینکرز ’ال بہیہ‘ اور ’مومباسا‘ کو رات کے وقت عمان کے ساحل کے قریب ایرانی کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ان دونوں جہازوں پر مجموعی طور پر 46 افراد موجود تھے۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ ’ال بہیہ پر سوار 12 انڈین شہریوں میں سے ایک حملے میں ہلاک ہو گیا جبکہ ایک زخمی ہوا۔

    بیان کے مطابق مومباسا پر 18 انڈین شہری سوار تھے، جن میں سے نو افراد زخمی ہوئے، جبکہ ان میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایرانی ناظم الامور کو طلب کر کے ان حملوں کے خلاف ’سخت احتجاج‘ ریکارڈ کرایا ہے۔

    وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم ان حملوں اور سمندری راستوں سے گزرنے والے افراد کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی آبی راستوں میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی کو متاثر کرنے والے پرتشدد اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘

  16. ایران میں کئی مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، سرکاری میڈیا

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بندر عباس کے قریب کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے بتایا ہے کہ شہر بوشہر میں چار مقامات کو مختلف سمت سے پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا۔

    خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق مقامی رہائشیوں نے بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

    اس معاملے پر اب تک امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

  17. ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 20 فیصد ٹول وصول کرنے کا اعلان, بی بی سی نیوز کی چیف انٹرنیشنل کارسپانڈنٹ لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    صدر ٹرمپ نے ایک اور غیر متوقع اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اب آبنائے ہرمز میں 20 فیصد ٹول فیس وصول کرے گا۔

    بین الاقوامی آبی نقل و حمل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اس فیصلے سے پہلے ہی مہنگے سمندری راستے میں اخراجات دگنے ہو سکتے ہیں۔ یہ اعلان اس پالیسی کے بھی خلاف ہے جسے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بار بار امریکی مؤقف کے طور پر بیان کرتے رہے ہیں، یعنی یہ کہ بین الاقوامی پانیوں میں کوئی بھی ملک ٹول فیس نہیں لے سکتا۔‘

    یہ واضح نہیں کہ یہ اقدام قانونی، سیاسی یا عملی طور پر ممکن بھی ہے یا نہیں۔ ایران نے فوری طور پر صدر ٹرمپ کے بیان کو اپنے اس مؤقف کے حق میں استعمال کیا ہے کہ انھیں اس اہم سمندری راستے پر کسی نہ کسی شکل میں فیس عائد کرنے کا حق حاصل ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’20 فیصد یقیناً بہت زیادہ ہے، ہم منصفانہ رویہ اختیار کریں گے۔‘ تہران کے لیے اس اہم آبنائے میں اپنی موجودگی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

    گزشتہ روز ایرانی پارلیمنٹ نے اس سمندری گزرگاہ کے انتظام کے لیے ایک ’سٹریٹجک ایکشن‘ نامی منصوبہ پیش کیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے سخت گیر سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ’ہم اپنی سرخ لکیروں کے دفاع کے لیے ثابت قدم ہیں۔‘

  18. ایران میں امریکی حملوں میں تین افراد ہلاک، ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پیر اور منگل کی درمیابی شب ایران میں ہونے والے امریکی حملوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق یہ حملہ ملک کے جنوبی حصے میں واقع صوبہ ہرمزگان میں کیا گیا۔

    سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ ’حملے میں ایک ماحولیاتی ماہر کے خاندان کے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘

  19. ایران اور امریکہ میں بڑھتی کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت 85 ڈالر سے تجاوز کر گئی

    ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار ہے اور منگل کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 85 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

    منگل کو تیل کی قیمتیں تقریباً تین فیصد اضافے کے بعد چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    یہ اضافہ صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرے گا۔

    اسی دوران آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے حملوں نے توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔

    حالیہ مہینوں میں عالمی تھوک منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

    رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے فوراً بعد تہران نے عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس سے عام طور پر دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل گزرتی ہے۔

  20. ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ گھنٹوں میں کیا ہوا؟

    • امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف اپنے حملوں کی موجودہ لہر کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ سینٹکام نے دعویٰ کیا کہ پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن میں، امریکی افواج نے بوشہر، چابہار، جسک، کونارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس میں فوجی اہداف پر حملہ کیا تاکہ ایران کی تجارتی جہازوں کی آمدورفت پر حملے کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔
    • پاسداران انقلاب نے منگل کی صبح امریکی حملوں کے جواب میں کارروائی کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں الجفیر بیس پر سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز اور امریکی افواج کی رہائش گاہ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔
    • اردن کی فوج نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائل مار گرائے ہیں۔
    • خلیج فارس میں دو بحری جہازوں پر ایران کے حملوں میں ایک انڈین شہری ہلاک، آٹھ زخمی ہو گئے۔ یو اے ای کے مطابق حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر مومباسا کے عملے کا ایک رکن، جو انڈین شہری تھا، ہلاک ہو گیا جبکہ مزید آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ زخمی ہونے والے چھ افراد کا تعلق انڈیا اور دو کا یوکرین سے ہے۔
    • ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت تقریباً 84 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
    • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ سے آبنائے ہرمز کا محافظ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران (ٹول لینے میں) منصفانہ رویہ اختیار کرے گا۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کریں گے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تمام کھیپوں پر 20 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔