لائیو, ٹرمپ کا ایران کی بحری ناکہ بندی کا اعلان، پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو تیل و گیس کی فراہمی ’خطرے میں ڈالنے‘ کا ذمہ دار قرار دے دیا

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی کا مقصد ایران کے جہازوں اور اس کے گاہکوں کو آنے جانے سے روکنا ہے تاہم ’دیگر تمام ممالک آبنائے ہرمز کا منصفانہ اور آزادانہ استعمال کر سکیں گے۔‘ دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور ’غیر ملکی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کو ایرانی عوام کی مرضی کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے گا۔‘

خلاصہ

  • سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا
  • ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس نے اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا
  • مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے
  • اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے امریکہ اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ بند کریں اور ان کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں
  • ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب میں سیریک کے قریب اور قشم و جاسک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا

    امریکی صدر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا: ’آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایران کی موجودگی یا عدم موجودگی میں بھی کھلی رہے گی۔‘

    ’ہم ایران کے خلاف ناکہ بندی دوبارہ بحال کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس ناکہ بندی کا مقصد ایران کے جہازوں اور اس کے گاہکوں کو آنے جانے سے روکنا ہے، تاہم ’دیگر تمام ممالک آبنائے ہرمز کا منصفانہ اور آزادانہ استعمال کر سکیں گے۔‘

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’آج کے بعد امریکہ کو ’آبنائے ہرمز کا محافظ‘ کے نام سے جانا جائے گا۔‘

    تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایک ’انتہائی غیر مستحکم حصے میں سلامتی اور تحفظ‘ فراہم کرنے کے تمام اخراجات کو پورا کرنے کے لیے امریکہ کو تمام کارگو پر ’20 فیصد‘ ادائیگی کی جائے گی۔

    ’اس عمل اور اس کے نظام کی تشکیل فوری طور پر شروع کی جائے گی۔‘

  2. آبنائے ہرمز میں ’امریکی مداخلت‘ نے عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کو خطرات سے دوچار کر دیا: پاسداران انقلاب

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے ذریعے جاری ایک اور بیان میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں مداخلت کر کے ’عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور ’غیر ملکی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کو ایرانی عوام کی مرضی کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے گا۔‘

    پاسداران انقلاب نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ: ’ہم امریکہ کو اس کی نئی جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں مزید ذلت اور مایوسی سے دوچار کریں گے۔‘

    آج صبح امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد تجارتی سرگرمیوں کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم وہ اب بھی اس سطح سے نمایاں طور پر کم ہیں جو تنازع کے عروج کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔

  3. امریکہ کو آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے کی اجازت نہیں دیں گے: ایرانی فوج

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہTasnim

    ایران کے عسکری ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کے حوالے سے ایک بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ تہران آبی گزرگاہ کے انتظامی امور میں کسی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کچھ دیر پہلے کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر ’کنٹرول سنبھال رہا ہے۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کی ’بار بار کی مہم جوئیوں‘ نے ’خطے کی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا: ’ہم امریکہ کو اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی نہ اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی دیں گے۔‘

    ایرانی فوج کے مطابق اس کی مسلح افواج امریکی ’غاصب فوج‘ کی جانب سے پیدا کی جانے والی کسی بھی کشیدگی یا خلل سے نمٹ رہی ہیں۔

    بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون ایران کی خودمختاری کے خلاف ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا۔

    اس میں مزید کہا گیا ہے: ’اگر تنازع مزید پھیلتا ہے تو جنگ کے شعلے خطے کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔‘

  4. صنعا ایئرپورٹ پر حملہ: ایرانی حمایت یافتہ حوثی اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت ایک بار پھر آمنے سامنے, سیبسٹین اُشر، نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور

    صنعا ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یمن کے صنعا ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، لیکن بظاہر یہ کئی برسوں سے نسبتاً کمزور سے پڑ جانے والے تنازع میں سب سے بڑی کشیدگی معلوم ہوتی ہے، جو بین الاقوامی حمایت یافتہ یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان جاری ہے۔

    دونوں فریقوں کو خطے کی حریف طاقتوں کی حمایت حاصل ہے، یمنی حکومت کو سعودی عرب کی جبکہ حوثیوں کو ایران کی۔

    یہی وجہ ہے کہ حوثیوں نے فوری طور پر سعودی عرب پر صنعا ایئرپورٹ پر فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    حوثی تحریک کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس کارروائی کا ’ردعمل دیا جائے گا اور اور سزا دی جائے گی۔‘

    اس بیان نے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست تنازع دوبارہ بھڑکنے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

    یمن کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کے پاس متعدد چھوٹی کشتیوں کے پہنچنے کی اطلاعات نے بھی تشویش پیدا کر دی ہے کہ ممکنہ طور پر حوثی ایک بار پھر بحری جہاز رانی کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں شروع کر سکتے ہیں۔

  5. ایران نے معاہدہ ’توڑا‘، آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں: امریکی صدر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ’ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کو چلائے گا‘ اور دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

    فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، ان کے پاس اب کچھ نہیں بچا۔‘

    انھوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے رات بھر ایران میں فوجی اہداف پر کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ نے گزشتہ رات ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہم نے انھیں قابو کر لیا ہے۔ وہ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ان کا زیادہ تر سامان ختم ہو چکا ہے۔ ان کا فضائی دفاعی نظام بھی ختم ہو چکا ہے۔‘

    اس سے قبل پیر کے روز برطانیہ میں ایرانی سفارت خانے نے کہا تھا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک عارضی محفوظ بحری راہداری قائم کی ہے جو ’تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں سے پاک‘ ہے۔ تاہم سفارت خانے کے مطابق امریکی فوجی کارروائیوں کے باعث یہ آبی گزرگاہ ’انتہائی خطرناک علاقے‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

  6. مبینہ رن وے حملے کے باوجود ایرانی طیارہ یمن پہنچ گیا: حوثیوں کا دعویٰ

    یمن کی فوج کی جانب سے صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کو ایرانی طیارے کی لینڈنگ روکنے کے لیے نشانہ بنانے کی اطلاعات کے بعد تازہ صورتحال سامنے آئی ہے۔

    حوثی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی طیارہ صنعا ایئرپورٹ پر بحفاظت اتر گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نواز حوثی گروپ یمن کے دارالحکومت صنعا پر قابض ہے، جبکہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت ملک کے جنوبی شہر عدن میں قائم ہے۔

  7. برطانوی حکومت کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ حکومت، ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو کالعدم قرار دینے جا رہی ہے۔ یہ اقدام غیر ملکی ریاستوں کی حمایت یافتہ سرگرمیوں کے خلاف ہنگامی قانون سازی کے تحت کیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ ’اسلامک موومنٹ آف کمپینینز آف دی رائٹ‘ اور روس کی ’جی آر یو والنٹیئر کور‘ کو بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    اگر رواں ہفتے کے آخر میں پارلیمنٹ نے اس اقدام کی منظوری دے دی تو ان گروہوں کی جانب سے تخریب کاری، بشمول آتش زنی، میں ملوث افراد کو عمر قید کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ ’ہم برطانیہ کو کبھی بھی ایسے ممالک کے لیے آزاد ماحول فراہم نہیں کریں گے جو ہماری سڑکوں پر خوف، تقسیم اور تشدد پھیلانا چاہتے ہیں۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنبرطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود

    برطانوی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ’اس اقدام سے حکومت کی غیر ملکی طاقتوں سے منسلک ریاستی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، جبکہ پولیس کو ان تینوں گروہوں کی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے ’زیادہ اختیارات‘ حاصل ہوں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ان تنظیموں کی حمایت یا معاونت کرنے سے متعلق نئے جرائم کے تحت ملوث افراد کو 14 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔‘

    حکومت کا کہنا ہے کہ ’اب ان افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا آسان ہوگا جو ان گروہوں کے ساتھ کام کرتے پائے جائیں گے اور انھیں زیادہ طویل عرصے کے لیے جیل بھیجا جا سکے گا۔‘

    برطانوی حکومت نے مزید کہا کہ ’وہ ایران کے خلاف پہلے ہی ’سخت اقدامات‘ کر چکی ہے، جن میں پاسدارانِ انقلاب پر مکمل پابندیاں عائد کرنا اور ایران سے منسلک 550 سے زائد افراد اور اداروں پر پابندیاں شامل ہیں۔

    وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ ’ان تینوں تنظیموں کے لیے کام کرنے والے افراد کو ’تلاش کر کے جیل بھیجا جائے گا‘ اور انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے ’ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔‘

    برطانوی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے کہا کہ ’برطانیہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے، ملک کے اندر اور بیرونِ ملک، تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘

  8. صنعا ایئرپورٹ پر بمباری: حوثیوں کا سعودی عرب پر الزام، یمنی حکومت کا حملے کے ذریعے ایرانی جہاز کو روکنے کا دعویٰ

    Al-Masirah

    ،تصویر کا ذریعہAl-Masirah

    حوثی تحریک ’انصار اللہ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو سعودی عرب کے متعدد فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا تاکہ ایک ایرانی طیارے کو وہاں اترنے سے روکا جا سکے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق حوثیوں کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے کہا کہ ’سعودی فضائی حملوں میں صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا،‘ جسے انھوں نے ’ناجائز اور کھلی جارحیت‘ قرار دیا۔

    یحییٰ سریع نے مزید کہا کہ ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا ’کشیدگی میں کمی کے مرحلے کے خاتمے‘ کے مترادف ہے۔ انھوں نے سعودی عرب کو ’جارحیت کے نتائج‘ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔‘

    حوثیوں کے زیرِِ انتظام سیٹلائٹ چینل المسیرہ نے بھی رپورٹ کیا کہ صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سعودی فضائی حملے کیے گئے، تاہم اس نے حملوں سے ہونے والے نقصانات یا جانی نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ ٹرانسپورٹ نے سعودی عرب پر متعدد فضائی حملوں کے ذریعے صنعا ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’خطرناک کشیدگی‘ اور یمن کے محاصرے کے تسلسل کا قرار دیا۔

  9. بحرین کی فوج کا ایران پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بحرین کی فوج نے ایک بار پھر ایران پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

    بحرین کی فوج کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے آج صبح ایران کی جانب سے کیے گئے متعدد حملوں کو فضا ہی میں ناکام بنا دیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے مسلح افواج مکمل تیاری اور ہائی الرٹ پر ہیں۔

    یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان رات بھر جاری رہنے والی جوابی حملوں کی تازہ لہر کے بعد سامنے آیا، جس کے دوران بحرین بھی حملوں کی زد میں آیا تھا۔

    ایران نے تاحال بحرین کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل جاری نہیں کیا ہے۔

  10. مُلک کے مختلف علاقوں میں تازہ حملے، متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں تازہ حملے کیے گئے ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صوبہ اصفہان کے سکیورٹی امور کے نائب گورنر نے بتایا کہ شہر نائین میں ایک فوجی اڈے پر حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ادھر جنوب مغربی ایران کے شہر آبادان میں بھی حملے کی اطلاعات ہیں۔ صوبہ خوزستان کے نائب گورنر کے مطابق اس واقعے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

    تاہم امریکہ نے ان اطلاعات کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے گزشتہ شب کیے گئے حملوں میں ایران کی درجنوں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

  11. بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے 51 افراد ہلاک، 10 لاکھ سے زائد متاثر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں ہونے والی موسلا دھار بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کم از کم 51 افراد ہلاک جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    شدید بارشوں کے نتیجے میں دارالحکومت ڈھاکہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

    سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع کوکس بازار ہے، جہاں اب تک 28 افراد ہلاک ہو چُکے ہیں۔ گذشتہ ہفتے اسی ضلع میں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر ایک سکول کے کئی طلبہ اور ایک استاد بھی ہلاک ہوئے تھے۔

    کوکس بازار وہ جگہ ہے کہ جہاں 10 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین مقیم ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش ایک نشیبی ملک ہے جہاں بے شمار دریا موجود ہیں اور ہر سال مون سون کے موسم میں شدید بارشیں اور سیلاب معمول کا حصہ ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کی شدت اور ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    شدید بارشوں کا سلسلہ ایک ہفتے سے زائد وقت سے جاری ہے۔ بارشوں میں اضافے کے بعد حکام نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے پیش نظر وارننگ جاری کی، حساس علاقوں سے خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور طلبہ کے امتحانات بھی ملتوی کر دیے۔

    حکام کے مطابق ہزاروں افراد اس وقت سرکاری پناہ گاہوں میں مقیم ہیں، جبکہ اتوار تک بارشوں سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی بنگلہ کے مطابق ڈھاکہ میں متعدد سڑکیں زیرِ آب آ چکی ہیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ بعض علاقوں میں پانی گھٹنوں تک پہنچ گیا ہے۔

    دوسری جانب فلڈ فورکاسٹنگ اینڈ وارننگ سینٹر کے عہدیدار سردار اُدے رائے ہان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں صورتحال جلد بہتر ہونے کا امکان ہے، تاہم مون سون کے باعث شمال مشرقی اور شمالی علاقوں میں مزید سیلاب کا خدشہ برقرار ہے۔‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  12. ایران نے صدر ٹرمپ کے جوہری معاہدے کے دعوے کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دے دیا

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے پر راضی ہو گیا ہے۔‘

    ’انھوں نے کل ایک معاہدے پر اتفاق کر لیا، جو ہمارے لیے ایک بہترین معاہدہ ہے۔ نہ جوہری پروگرام، نہ یہ، نہ وہ، کچھ بھی نہیں۔ انھوں نے ہر چیز سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔‘

    تاہم پیر کے روز ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ کے ان بیانات کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دے دیا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز عمان میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی ملاقات میں آبنائے ہرمز کے علاوہ کسی اور موضوع پر بات چیت نہیں ہوئی۔

    تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالث اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  13. برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی ایران کے مبینہ حملوں کی مذمت، جہاز رانی کی فوری بحالی کا مطالبہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز، بحرین، عمان اور اردن میں بحری جہازوں پر ایران کے مبینہ ’حملوں‘ کی مذمت کی ہے۔

    تینوں ممالک، جنھیں اجتماعی طور پر ای تھری کہا جاتا ہے، نے گزشتہ رات جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں جو رات بھر کے حملوں سے قبل جاری کیا گیا، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی ’فوری اور مکمل‘ بحالی کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جس میں پاسدارانِ انقلاب کی متعدد تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    ادھر ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت، اردن اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

  14. ہم نے خطے کے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا اور نہ کریں گے: اسماعیل بقائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’ایران نے خطے کے کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران کی دفاعی کارروائیاں صرف اُن امریکی اڈوں، تنصیبات اور ٹھکانوں کے خلاف ہوتی ہیں جنھیں امریکہ ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے زور دیا کہ ایران نے بارہا خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو اپنی سرزمین، تنصیبات اور فضائی حدود ایران کے خلاف منصوبہ بندی، تیاری یا کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔‘

    اب سے چند گھنٹے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے خلیج فارس کے ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر انھوں نے ایران کے خلاف کسی ’فوجی جارحیت‘ میں تعاون کیا تو وہ ایرانی مسلح افواج کے لیے جائز ہدف بن سکتے ہیں۔

  15. وزیرِ اعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نواز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے

    ،تصویر کا ذریعہPrime Minister's Office

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کے ہمراہ قطر کے ایک روزہ دورے پر دار الحکومت دوحہ پہنچ گئے ہیں۔

    وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دوحہ ایئرپورٹ پر قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن بن علی آل ثانی نے پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔

    وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اپنے دورے کے دوران قصرِ لوسیل جائیں گے جہاں وہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کریں گے۔

    شبہاز شریف اس ملاقات میں قطر کے سابق امیر، شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کریں گے۔

    وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود ہیں۔

  16. امریکی دباؤ کے باعث مسقط میں معاہدہ نہ ہو سکا: اسماعیل بقائی

    اسماعیل بقائی

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی دباؤ کے باعث ایران عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے انتظامات پر اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکا۔

    پیر کے روز پریس کانفرنس میں اسماعیل بقائی نے سنیچر کے روز ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات پر بات کی۔ انھوں نے کہا: ’سنیچر کے روز مسقط میں ہونے والے مذاکرات صرف آبنائے ہرمز پر مرکوز تھے، خاص طور پر مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ پر۔ ہمیں افسوس ہے کہ عمان پر امریکہ کے اعلانیہ اور خفیہ دباؤ کے باعث وہ پیش رفت نہ ہو سکی جو مسقط میں ہونی چاہیے تھی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکیوں نے مفاہمتی یادداشت کی 14 شقوں کو مسخ کر دیا‘ اور ’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دستاویز بحران کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران نے کبھی بھی اپنے وعدوں کی خلاف ورزی میں پہل نہیں کی۔ مسلسل عہد شکنی کرنے والا فریق امریکہ ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’وہ (امریکہ) وعدہ خلافی کے لیے اس قدر جلدی میں تھے کہ انھوں نے مفاہمتی یادداشت کی شق پانچ میں درج ایک ماہ کی مدت بھی مکمل نہیں ہونے دی۔‘

    اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جوہری تنصیبات تک رسائی کی درخواست سے اتفاق نہیں کرے گا۔

  17. جوہری تنصیبات پر کسی بھی قسم کا حملہ ’جرم اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی‘ ہو گا: روس

    بوشہر

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں کے لیے روس کے مستقل نمائندے میخائل اولیانوف نے خبردار کیا ہے کہ جوہری تنصیبات پر کسی بھی قسم کا حملہ ’جرم اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی‘ ہو گا۔

    ایکس پر جاری ایک پیغام میں میخائل اولیانوف کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی جوہری تنصیب پر حملہ ایک جرم اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بوشہر جوہری بجلی گھر پر حملوں کے خلیجی ریاستوں کے لیے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ انھیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔‘

    وہ سوشل میڈیا چلنے والی ان اطلاعات پر ردِعمل دے رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ حالیہ حملوں میں بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    تاہم ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایران کی ایٹمی توانائی کی ایجنسی نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ بوشہر تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔

  18. ایران کا بندر عباس میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    پیر کے روز ایران نے اپنی فضائی حدود میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی افواج نے ایک امریکی ڈرون کا پتا لگا کر اسے مار گرایا ہے۔

    یاد رہے کہ امریکی سینٹکام نے کہا تھا کہ اس نے 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں کی ہیں جن کا مقصد اس ایرانی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز پر بحری جہازوں پر حملے کرتا ہے۔

    اس کے جواب میں ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف ایک آپریشن شروع کیا ہے جس میں جس میں اس کے بقول اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  19. امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے: سابق سینٹکام سربراہ

    سینٹرل کمانڈ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق کمانڈر جنرل ریٹائرڈ فرینک میکینزی کا کہنا ہے کہ ’اگر صدر (کمانڈر اِن چیف) یہ حکم دیں تو امریکی افواج آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘

    سی بی ایس کو دیے ایک انٹرویو میں جنرل میکینزی نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے جزیرہ خارگ پر قبضے کا ایک منصوبہ بھی بیان کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اس آبی گزرگاہ میں امریکی جہازوں کی تعیناتی درکار ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی بحریہ ایسا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ لیکن اس کے پاس ایسا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔‘

    سابق سینٹکام کمانڈر نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی حل کے خواہاں ہیں لیکن تہران کی قیادت عموماً ’فوجی دباؤ کا جواب دیتی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ ایران سے رعایتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو براہِ راست حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوگا اور یہ دباؤ اس نوعیت کا ہونا چاہیے کہ ان کے نقطۂ نظر سے یہ ایک اہم اور وجودی مسئلہ بن جائے۔‘

  20. وزیر اعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر روانہ

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کے ہمراہ ایک روزہ دورۂ قطر پر روانہ ہوئے ہیں۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف اس دورے پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آلثانی سے ملاقات کریں گے اور سابق قطری امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی وفات پر اظہار تعزیت کریں گے۔

    اس دورے پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کے ہمراہ ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان نے سابق قطری امیر کی وفات پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    گذشتہ روز قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کی وفات وئی تھی۔ وہ 1995 سے 2013 تک قطر کے امیر رہے۔ اُن کی عمر 74 برس تھی۔ شیخ حمد بن خلیفہ الثانی جدید کے اہم معماروں میں سے ایک تھے اور ان کے دورِ حکومت میں ملک نے تیز رفتار اقتصادی ترقی دیکھی۔

    ان کے دورِ حکومت میں، ان کے حکم پر 1996 میں ’الجزیرہ انٹرنیشنل نیٹ ورک‘ کا آغاز کیا گیا تھا۔