یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
17 مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
امریکی نائب صدر نے کہا ’ایرانی معاشرے کے کچھ عناصر اس معاہدے کو اپنے ملک کے عوام کے سامنے زیادہ سے زیادہ مثبت انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکی رقم کا ایک سینٹ بھی ایران کو نہیں جائے گا، نہ 300 ارب ڈالر، نہ 24 ارب ڈالر، نہ ہی کسی قسم کی کوئی اور رقم۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
17 مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے مرکزی قرارگاہ خاتم الانبیاء نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان پر اپنے حملے بند نہیں کرتا تو اسے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 84 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔‘
قرارگاہ خاتم الانبیاء نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل ’جنوبی لبنان میں اپنی شدت پسندانہ کارروائیوں کا سلسلہ ختم نہیں کرتا تو اسے ایران کی مسلح افواج کے سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ ’یہ تنازع اس وقت تک مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے واپس نہیں چلی جاتیں جن پر انھوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’اسرائیلی حکومت کی جانب سے لبنان پر کسی بھی نئی فوجی کارروائی اور لبنانی سرزمین پر قبضے کا تسلسل ہماری نظر میں معاہدے کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔‘
ایران کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی پہلی شق جنگ کے خاتمے سے متعلق ہے، جس کا اطلاق لبنان سمیت تمام متعلقہ محاذوں پر ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہIranian Parliament Speaker Office
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں۔
ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں باقر قالیباف نے بتایا کہ انھوں نے اپنے لبنانی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران زور دیا کہ ’جنگ کا خاتمہ تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بشمول لبنان۔‘
قالیباف، جنھوں نے اتوار کے روز ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کیے تھے، نے کہا کہ ’قابض قوتوں‘ یعنی اسرائیل کو زیرِ قبضہ علاقوں سے نکل جانا چاہیے تاکہ متاثرہ شہری ’عزت اور وقار کے ساتھ‘ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔‘
اس سے قبل ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا تھا کہ ’لبنان کسی بھی ایسے معاہدے کا ’لازم و ملزوم حصہ‘ ہے جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہو۔‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کے خیال میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ اس صورت میں بھی برقرار رہ سکتا ہے اگر اسرائیل لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے تحت عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی توقعات بڑھنے پر منگل کی دوپہر تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا اہم پیمانہ برینٹ خام تیل منگل کی شام 78 ڈالر فی بیرل تک گر گیا، کیونکہ تیل کی فراہمی پر عائد رکاوٹوں میں نرمی آنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت فوری طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت مل سکتی ہے، جس کے بعد قیمتوں میں کمی کا رجحان مزید مضبوط ہو گیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں توانائی کے بلوں، پیٹرول کی قیمتوں اور مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوا، جس سے شرحِ سود میں اضافے کے امکانات بھی بڑھ گئے تھے۔
تاہم، حالیہ معاہدے کے بعد یہ امکان بڑھ گیا ہے کہ امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو بدھ کے روز ہونے والے اپنے اجلاس میں شرحِ سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا۔
دوسری جانب بینک آف انگلینڈ سے بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہMinistry of Defence
برطانیہ کی وزارتِ دفاع اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ مبینہ طور پر ایک روسی جنگی جہاز نے انگلش چینل میں برطانیہ کی ایک رجسٹرڈ کشتی کے قریب وارننگ فائر کیے۔
یہ واقعہ منگل کو برطانوی وقت کے مطاب صبح تقریباً 11:40 پر آئل آف وائٹ اور نورمنڈی کے درمیان پیش آیا، جس میں روسی فریگیٹ ایڈمرل گریگورووچ ملوث تھی۔
سمجھا جاتا ہے کہ اس واقعے میں یاٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا: ’ہم چینل میں پیش آنے والے اس واقعے کی رپورٹس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘
برطانوی حکام کو ایک برطانوی رجسٹرڈ کشتی کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ روسی جہاز نے تقریباً 500 گز کے فاصلے سے وارننگ فائر کیے، جو سمندری سفر کے معیار کے لحاظ سے کافی کم فاصلہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ واقعہ مبینہ طور پر آئل آف وائٹ سے تقریباً 20 سمندری میل جنوب میں، برطانوی علاقائی پانیوں سے باہر پیش آیا۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چند دن قبل رائل میرین کمانڈوز نے اتوار کے روز چینل میں پابندیوں کے باوجود آنے والے تیل بردار روسی ’شیڈو فلیٹ‘ ٹینکر کو روکا تھا، جو اس نوعیت کی برطانوی فوج کی پہلی کارروائی تھی۔
تاہم، برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اس حالیہ واقعے کو اتوار کی کارروائی سے متعلق نہیں سمجھا جا رہا۔
روسی جنگی جہاز باقاعدگی سے انگلش چینل سے گزرتے ہیں اور معمول کے مطابق رائل نیوی کے جہازوں کی جانب سے ان کی نگرانی کی جاتی ہے۔
سمجھا جاتا ہے کہ منگل کے واقعے میں ملوث فریگیٹ کی نگرانی ایچ ایم ایس مرسی کر رہی تھی۔
پیر کے روز بحریہ نے بتایا تھا کہ ایڈمرل گریگورووچ کی ہفتے کے اختتام پر ایچ ایم ایس ٹائن اور ایچ ایم ایس مرسی کی جانب سے نشاندہی کی جا رہی تھی، جسے اس نے ’معمول کی کارروائی‘ قرار دیا، جب اسے فرانس کے شہر بریسٹ کے ساحل کے قریب دیکھا گیا۔
گذشتہ ہفتے نیٹو کے ایک ذریعے نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا تھا کہ ماسکو نے ایڈمرل گریگورووچ کو انگلش چینل میں ’شیڈو فلیٹ‘ کے جہازوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ یہ فریگیٹ کئی مہینوں سے اس علاقے میں سرگرم ہے اور اسے بار بار ایک مرمتی جہاز کے ذریعے رسد فراہم کی جا رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے تحت ایران کو ’امریکہ کا ایک پیسہ بھی‘ نہیں دیا جائے گا۔
فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے وینس نے ٹرمپ انتظامیہ کا موازنہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کی حکومت سے کیا اور کہا کہ اوباما نے ایران کو ’ایک ارب ڈالر سے زائد نقدی کی شکل میں دیے تھے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا قطر سے 300 ارب ڈالر کی واپسی اور ’24 ارب ڈالر کے غیر منجمد اثاثے‘ ایران کو منتقل کیے جا رہے ہیں، تو وینس نے کہا کہ یہ ’بنیادی طور پر ایرانی پروپیگنڈا‘ ہے۔
انہوں نے چینل کو بتایا: ’جو ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے معاشرے کے کچھ عناصر اس معاہدے کو اپنے ملک کے عوام کے سامنے زیادہ سے زیادہ مثبت انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’امریکی رقم کا ایک سینٹ بھی ایران کو نہیں جائے گا، نہ 300 ارب ڈالر، نہ 24 ارب ڈالر، نہ ہی کسی قسم کی کوئی رقم۔‘
تاہم وینس نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اسے کچھ ’فوائد‘ حاصل ہو سکتے ہیں اور قطر، متحدہ عرب امارات یا سعودی عرب ایران میں سرمایہ کاری کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسے ایران کی جانب سے یہ یقین دہانی موصول ہوئی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ کرے گا۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اس معاملے پر ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کا ’شکریہ‘ بھی ادا کیا ہے۔
حزب اللہ سے وابستہ المنار ٹی وی کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں نعیم قاسم نے لبنان کے حوالے سے قالیباف کے ’مضبوط اور حمایتی‘ مؤقف پر ان کا شکریہ ادا کیا، جس میں اسرائیل کو فوجی کارروائیاں روکنے پر ’مجبور کرنا‘ بھی شامل ہے۔ اسے ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کی ایک ’بنیادی شق‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے شویز ہیوٹ اخبار کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ سوئس ریزورٹ برگن سٹاک میں باضابطہ طور پر معاہدے پر دستخط کریں گے۔
امکان ہے کہ دونوں وفود جمعہ کے روز ملاقات کریں گے۔ سوئس میڈیا کے مطابق مذاکراتی ثالث پاکستان اور قطر نے اس مقام کی تجویز دی تھی۔
یہ گذشتہ دو برسوں میں دوسرا موقع ہے، جب اس ریزورٹ کو سفارتی مذاکرات کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اس سے قبل جون 2024 میں یوکرین میں امن سے متعلق سربراہی اجلاس کے لیے عالمی رہنما یہاں جمع ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں طالبان کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک کے صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ’دہشتگردی‘ افغانستان سے ہو رہی ہے۔
منگل کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیں اور شاید اسلام آباد براہ راست کابُل سے بات نہیں کر رہا۔
’میں دو مرتبہ خود کابل گیا ہوں تین سال پرانی بات ہے، میرے ساتھ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی بھی تھے۔ وہ (طالبان حکام) ہر بات مانتے تھے لیکن اصرار کر تے تھے کہ ہم لکھ کر کچھ نہیں دے سکتے۔‘
خواجہ آصف کے مطابق اس کے علاوہ پاکستان نے ترکی اور قطر میں بھی افغان طالبان سے مذاکرات کیے۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ افغان طالبان حکام نے ان سے جنگجوؤں کی نقل مکانی کے لیے 10 ارب روپے مانگے تھے، جو پاکستان دینے کے لیے تیار تھا۔
’لیکن ہم ضمانت چاہتے تھے کہ یہ لوگ اگر کہیں دور دراز علاقوں میں لے جائے بھی جاتے ہیں، تو کہیں یہ دوبارہ ہماری سرحد کے قریب آ کر تو نہیں بیٹھ جائیں گے۔‘
اپنی تقریر میں خواجہ آصف نے یہ بھی بتایا کہ ’سنہ 2022 سے اب تک دہشتگردی کی جنگ کے دوران 4317 جوان شہید ہو چکے ہیں، جن میں ہمارے فوجی اہلکار بھی شامل ہیں اور سویلین بھی۔‘
پاکستانی وزیرِ دفاع نے مزید کہا: ’یہ بہت بڑی قربانی ہے۔ یہ کن کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں؟ وہ لوگ جو 45 سال ہمارے مہمان رہے۔ انھوں نے میری، آپ کی اور سب کی مٹی کا نمک کھایا ہے۔ یہ گلے کاٹتے ہیں مسجدوں میں، امام بارگاہوں میں۔‘
خیال رہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات گذشتہ برس سے شدید تناؤ کا شکار ہیں اور دونوں کے درمیان سرحد پر جھڑپیں متعدد جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔
اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغانستان نے اپنی سرزمین پر پاکستان مخالف گروہوں کو پناہ دی ہوئی ہے، جبکہ افغان طالبان ان دعوؤں کی تردید کرتے آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس میں جی سیون کے اجلاس کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زايد آل نہيان سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ صرف ایک چیز کے بارے میں ہے اور وہ یہ کہ تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
’باقی تمام باتیں واضح طور پر غیر اہم ہیں۔‘
انھوں نے اس معاہدے کو ’جوہری ہتھیار کے خلاف ایک دیوار‘ قرار دیا، اور اس کا موازنہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں کیے گئے معاہدے سے کیا، جس کے بارے میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ’مشرقِ وسطیٰ کو تباہ کر سکتا تھا۔‘
ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم واپس لینے کے حوالے سے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اسے ضبط کرنے کے وقت کے بارے میں انھیں کوئی جلدی نہیں ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس معاہدے کو منظوری کے لیے امریکی کانگریس کے پاس بھیجا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے پنجاب میں سال 2026 تا 2027 کا بجٹ پیش کر دیا گیا، تاہم اس سال بجٹ اجلاس گذشتہ برسوں کے مقابلے میں کچھ مختلف تھا۔
گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی بجٹ سیشن تاخر کا شکار رہا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد وزیرِ اعلیٰ مریم نواز پنجاب اسمبلی ہال میں داخلی ہوئیں اور ان کے آتے ہی اسمبلی کے دیگر اراکین بھی ہال میں داخل ہوگئے۔
وزیرِ اعلیٰ نے اپنے پیچھے بیٹھے اراکین کے سلام کا ہاتھ ہلا کر جواب دیا۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ اس مرتبہ مریم نواز کے ہال میں داخل ہونے پر کسی قسم کی نعرے بازی نہیں ہوئی: نہ تو ان کے حق میں اور نہ ہی ان کے خلاف جو گذشتہ برسوں میں خاصے جوش وخروش سے کی جاتی تھی۔
قران کی تلاوت کے بعد وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان کی جانب سے بجٹ تقریر شروع کر دی گئی۔ اس سے پہلے ماضی میں بجٹ اجلاسوں میں اپوزیشن کے طرف سے شور شرابہ کیا جاتا تھا کہوزیر خزانہ کو کانوں میں شور روکنے والا آلہ لگانا پڑتا تھا، لیکن اس مرتبہ انھیں اس آلے کی ضرورت نہیں محسوس ہوئی۔
ایسا نہیں ہے کہ اپوزیشن نے شور نہیں مچایا، اپوزیشن کے چند اراکین نے اس بار بھی عمران خان کے پوسٹرز اٹھا کر احتجاج ریکاڈ کروایا۔
حکومت کی سرکاری طور پر ڈیجیٹلائز ہونے کے کوشش آج اسمبلی میں بھی نظر آئی کیونکہ اپوزیشن اراکین سمیت کسی کو بھی بجٹ کی کاپیاں نہیں دی گئیں۔
گذشتہ برسوں میں اپوزیشن اراکین کو ملنے والی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیی جاتی تھیں۔
بجٹ تقریر کے دوران ہی وزیر اعلی پنجاب مریم نواز، مریم اورنگزیب کے ہاتھ کا سہارا لیتے ہوئے کھڑی ہوئیں اور اسمبلی ہال سے روانہ ہوگئیں۔ ان کے جاتے ہی ستر فیصد اراکین بھی روانہ ہوگئے۔ تاہم بجٹ تقریر جاری رہی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم نے پہلے ذکر کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے اعلان سے آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی امیدوں کے باعث تیل کی قیمت میں مزید کمی آئی ہے۔
اب برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے، جو مارچ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔ اس کی موجودہ قیمت 79.90 ڈالر تک گر گئی ہے۔
جنگ کے دوران برینٹ تیل کی قیمت تقریباً 120 فی بیرل تک بھی پہنچی تھی۔
تنازع شروع ہونے سے پہلے برینٹ تیل کی فی بیرل قیمت تقریباً 70 ڈالر کے قریب تھی۔

،تصویر کا ذریعہX
خلیجی خطے سے نکلنے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمدورفت اتوار کو تنازع کے خاتمے کے معاہدے کے اعلان کے بعد اب بھی کم سطح پر ہی ہے اور میرین ٹریفک کے شپ ٹریکنگ ڈیٹا سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔
بی بی سی ویریفائی نے اس وقت کے دوران صرف سات جہازوں، تین آئل ٹینکرز اور چار کارگو جہازوں، کی نشاندہی کی ہے، جو اس آبی گزرگاہ سے گزر کر خلیجِ عمان میں داخل ہوئے۔
میری ٹائم انٹیلی جنس فرم ونڈورڈ کے مطابق ایل این جی کا ایک ٹینکر آبنائے ہرمز سے اپنی لوکیشن نشر کیے بغیر گزرا، جبکہ دیگر چھ جہازوں نے اپنے ٹریکرز فعال رکھتے ہوئے سفر کیا۔
ایل این جی ٹینکر ’ڈشہ‘ مبینہ طور پر پہلا جہاز تھا، جس نے اپنا لوکیشن ٹرانسپونڈرز فعال رکھتے ہوئے آبنائے سے سفر کیا۔ انڈین حکام کے مطابق یہ جہاز اب بحیرۂ عرب میں داخل ہو چکا ہے اور فی الحال انڈیا کی ریاست گجرات میں داہیج بندرگاہ کی طرف جا رہا ہے۔
بی بی سی ویریفائی نے ایک ویڈیو بھی دیکھی ہے، جس میں ٹینکر کی اس گزرگاہ سے آمدورفت دکھائی گئی ہے، جو کل سب سے پہلے آن لائن شیئر کی گئی اور بظاہر کسی قریبی جہاز سے بنائی گئی تھی۔
آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت مارچ کے اوائل سے معمول سے کہیں کم سطح پر رہی ہے۔ گذشتہ ہفتے کے دوران روزانہ اوسطاً پانچ سے چھ جہاز یہاں سے گزرے، جبکہ تنازع سے پہلے روزانہ 100 سے زائد جہاز اس گزرگاہ سے گزرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی کوششوں میں شامل قطر کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی لا سکتا ہے۔
منگل کو وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ اس معاہدے کے بارے میں ’محتاط طور پر پُرامید‘ ہے اور یہ کہ ’جوہری پروگرام اور دیگر امور پر ہونے والے مذاکرات اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط خطے کو سلامتی کے اگلے مرحلے کی طرف لے جائیں گے۔‘
انہوں نے تصدیق کی کہ ان کا ملک ’پاکستان کی قیادت میں ثالثی ٹیم کے حصے کے طور پر‘ مذاکرات میں شامل تھا اور کہا کہ یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا، جس سے ’قطر جیسے ممالک کو دوبارہ دنیا کو توانائی فراہم کرنے کی اجازت ملے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کا جوہری پروگرام دہائیوں سے سفارتی مذاکرات، پابندیوں اور بین الاقوامی معائنوں کا مرکز رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اکثر اسے وہ وجہ قرار دیتے رہے ہیں جس کی بنا پر امریکہ نے رواں برس فروری کے آخر میں ایران پر اسرائیلی حملوں میں شمولیت اختیار کی۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے مسلسل اس دعوے کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کی طرف سے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔
سنہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی کی سطح 3.67 فیصد تک محدود کر دی تھی، جو جوہری بجلی گھروں کے لیے ایندھن تیار کرنے میں استعمال ہو سکتی ہے۔ ہتھیاروں کے درجے کا یورینیم 90 فیصد یا اس سے زیادہ افزودہ ہوتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2018 میں سابقہ معاہدے سے دستبرداری کے بعد ایران نے کھلے عام یورینیم کی افزودگی میں اضافہ شروع کر دیا۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق گذشتہ سال جون تک ایران 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا تھا اور اس کے پاس 400 کلوگرام کا ذخیرہ موجود تھا۔
آئی اے ای اے نے گذشتہ ہفتے کہا کہ اسے حال ہی میں بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ایک ’معمول کا معائنہ‘ کرنے کا موقع ملا، تاہم دیگر جوہری تنصیبات تک معائنہ کاروں کو تقریباً ایک سال گزر رسائی نہیں ملی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات ابھی باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے کچھ معلومات سامنے آ رہی ہیں۔
اتوار کو معاہدے کے اعلان کے بعد سے واشنگٹن اور تہران کے حکام کی جانب سے اس ممکنہ معاہدے کی نوعیت کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے ہیں:
ایران نے کیا کہا؟
معاشی وعدے
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمانِ خارجہ اسماعیل بقائی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کی تعمیرِ نو کے لیے اقدامات کرنے اور معاشی پابندیاں اٹھانے کا وعدہ کیا ہے۔
آبنائے ہرمز بقائی نے یہ بھی کہا کہ عمان اور ایران اس اہم آبی گزرگاہ سے جہازوں کے ’بحفاظت گزرنے‘ کو یقینی بنانے کے لیے ’ضروری اقدامات‘ کریں گے۔
لبنان بقائی نے مزید کہا: ’لبنان اور لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس معاہدے کا لازمی حصہ ہے، جو جنگ کے خاتمے کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو ’یقینی بنانا ہوگا‘ کہ اسرائیل بھی اس پر عمل کرے۔
امریکہ نے کیا کہا؟
معاشی وعدے
ٹرمپ نے ایران میں سرمایہ کاری کے امکان کو ’احمقانہ‘ قرار دیا۔ یہ بیان ان خبروں کے بعد آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ تہران کی جانب سے حتمی تصفیے پر اتفاق کے بدلے ایران کے لیے سرمایہ کاری فنڈ کی اجازت دینے پر تیار تھا۔
آبنائے ہرمز ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ابتدائی معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس پر کنٹرول کس کے پاس ہوگا۔
لبنان ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے گذشتہ روز کہا تھا کہ لبنان سے اسرائیل کا انخلا اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ’تانے بانے ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کے پاس برطانوی شہریت ہے‘ یا انھیں انڈیا کی حمایت حاصل ہے۔
منگل کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’اس بات پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔‘
پاکستانی وزیرِ دفاع نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر حکومت کو ’بلیک میل‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ’ہجوم کو، کسی جلسے جلوس کو اس بات کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔‘
خیال رہے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ آٹھ دنوں سے ہڑتال جاری ہے اور کالعدم تنظیم کا مطالبہ ہے کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستیں ختم کی جائیں اور ان پر سے پابندی ہٹائی جائے۔
پاکستانی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’مہاجروں نے خون کے ساتھ قیمت ادا کی ہے، جب انھوں نے سرحد پار کی تو وہ سجدے میں چلے گئے اور کہا جا رہا ہے کہ ان کی نشستیں ختم کر دو۔‘
’آپ لوگ کیسے ان لوگوں کے حقوق سلب کر سکتے ہیں جنھوں نے آزادی کے لیے اتنی بڑی قیمت ادا کی ہے؟ آپ ایسا نہیں کر سکتے وہ بھی صرف اس لیے کہ ایک بیرونی فنڈنگ سے چلنے والی تنظیم کہہ رہی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات ہونے دیے جائیں اور لوگوں کو فیصلہ کرنے دیا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
پاکستانی وزیرِ دفاع کے بیان پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’کامیاب ہونا چاہیے‘ اور ان کو توقع ہے کہ اس معاہدے کا دوسرا مرحلہ ’نسبتاً آسان ہوگا۔‘
فرانس میں جی سیون اجلاس کے دوران قطر کے امیر شیخ تميم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ ’ایران میں سرمایہ‘ نہیں لگائے گا اور یہ کہ ایسے دعوے ’مضحکہ خیز‘ ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے میں قطر کی مدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’قطر نے جس طرح سے چیزوں کو ہینڈل کیا ہے اس سے ہم بہت متاثر ہوئے ہیں۔‘
’قطر اور قطر کے لوگوں کے ساتھ کام کر کے بہت اچھا لگا۔ آپ کو معلوم ہے یہ ایران سے بہت قریب واقع ہے۔‘
اس موقع پر قطر کے امیر کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے معاہدے کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔
’مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم وقت پر میں آپ کی قیادت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک اہم معاہدہ ہے، اس پر اب بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ لیکن جس طرح ہم کام کر رہے ہیں اگر اسی طرح سے کرتے رہے تو میرے خیال میں ہم خطے میں بہت سی عظیم چیزیں حاصل کر سکتے ہیں۔‘
خیال رہے امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اس نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹلی دستخط کر دیے ہیں اور دستخط کی باضابطہ تقریب جنیوا میں 19 جون کو ہوگی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اس معاہدے کا اعلان پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی کیا تھا اور ایران بھی اس کی تصدیق کر چکا ہے۔
لیکن گذشتہ ہفتے بھی امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے تھے۔ اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں ایران پر گذشتہ ہفتے حملہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔‘
ایران کو دھمکی
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایران کے پاس اب ’سمجھدا قیادت‘ ہے کیونکہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں متعدد ایرانی حکام ہلاک ہو گئے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ ایرانی رہنما جو ’نا سمجھ‘ تھے وہ ’اب موجود نہیں رہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے تحت وہ ’جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکتا‘ اور اگر ایسا کیا تو ’اُڑا دیا جائے گا۔‘
’یہ معاہدہ جوہری ہتھیار کے خلاف ایک دیوار ہے۔‘
’میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اور یہ معاہدہ اس بات کو واضح کرتا ہے۔‘
اسرائیل پر تنقید
قطر کے امیر سے ملاقات کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر نے اسرائیل پر بھی تنقید کی۔
امریکی صدر کا کہا تھا کہ معاہدے پر دستخط سے ’دو گھنٹے‘ قبل اسرائیل کا بیروت پر حملہ انھیں ’پسند نہیں آیا۔‘
’میں نے انھیں یہ بتا دیا تھا۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل کے لبنان پر کسی حملے کی صورت میں ایران کے ساتھ معاہدہ برقرار رہ پائے گا، تو ان کا کہنا تھا کہ: ’بالکل رہ سکتا ہے۔‘
’میں اسے ایک چھوٹی جنگ سمجھتا ہوں۔ ایران بڑی چیز تھی، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹا سے کانٹا بھی ہے جو بار بار اپنا سر اُٹھاتا ہے اور وہ حزب اللہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر نے کہا امریکہ کے بغیر ’اسرائیل بھی نہیں ہوتا۔‘
’میرے بغیر اسرائیل بھی نہیں ہوتا کیونکہ کسی اور امریکی صدر نے وہ نہیں کیا جو میں نے کہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کا نیتن یاہو کے ساتھ ’اچھا تعلق‘ ہے لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو ’لبنان کے حوالے سے مزید ذمہ داری دکھانی ہو گی۔‘
صدر ٹرمپ کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ ’لمبے عرصے سے لڑ رہا ہے اور بہت سارے لوگ مارے جا چکے ہیں۔‘
’آپ ہر دفعہ کسی شخص کو ڈھونڈنے کے لیے پوری رہائشی عمارت نہیں گِرا سکتے کیونکہ عمارت میں بہت سارے لوگ ہوتے ہیں اور ان سب کا تعلق حزب اللہ سے نہیں ہوتا۔‘
’میں نے اسرائیل کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شام کو حزب اللہ سے نمٹنے دیں کیونکہ میں ایمانداری سے کہوں کہ وہ یہ کام زیادہ بہتر طریقے سے کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران کے نقطۂ نظر سے اس معاہدے کا ایک فریق ایران اور حزب اللہ، جبکہ دوسرا فریق امریکہ اور اسرائیل ہیں۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اب سے لبنان پر کوئی بھی اسرائیلی حملہ اور لبنانی علاقوں پر جاری قبضہ ایران کی نظر میں معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں اپنے فوجیوں کے قریب آنے والے ’شدت پسندوں‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب لبنان کی حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی افواج پر میزائل اور ڈرون سے حملے کیے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے پانے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے کہا تھا کہ لبنان میں قائم ’سکیورٹی زونز‘ میں اس کی افواج تعینات رہے گی۔

،تصویر کا ذریعہThe India Today Group via Getty Images
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے آغاز ہو گا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں یہ بات تہران میں مقیم سفیروں، ناظم الامور اور غیر ملکی و بین الاقوامی مشنز کے سربراہان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔
خیال رہے کہ 15 جون کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’اب معاہدہ طے پانے کے بعد ثالثی ٹیمیں آئندہ ہفتے کے دوران متعدد اجلاسوں کا انعقاد کریں گی۔‘
عراقچی کا کہنا ہے کہ ’حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعے سے شروع ہوگا۔ تین ماہ کے مذاکرات کے بعد ہم پہلے مرحلے کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔~
ایران وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں سب سے اہم معاملہ جنگ کے خاتمے کے اعلان کا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ابتدائی معاہدے کے تحت پیر کی صبح جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ آغاز جمعے کو ہوگا۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں ہو گی۔