ایران نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم نہیں کیا
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دیے جانے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’یورپ خود مسئلے کا ایک حصہ بن چکا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یورپی ممالک نے گذشتہ دو برس کے دوران کوئی تعمیری کردار ادا نہیں کیا۔‘
بقائی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے دوران بھی یورپی ممالک نے ان حملوں کی مذمت نہیں کی، بلکہ ان کے بقول ایسے بیانات جاری کیے جو ’امریکی فوجی جارحیت کی توثیق‘ کے مترادف تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’سنیپ بیک میکانزم‘ کو فعال کرنے کی کوشش بھی تین یورپی ممالک کے اسی طرزِ عمل کی ایک اور مثال ہے۔ یہ وہی ممالک ہیں جو کئی سال تک ایران کے جوہری مذاکرات میں مرکزی فریق رہے ہیں۔
یاد رہے کہ جرمنی کے وزیرِ خارجہ یوہان واڈیفول نے 23 اکتوبر کو استنبول میں یورپی اور علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔