ایران پر حملے کے معاملے پر اسرائیلی سیاسی و فوجی قیادت میں اختلافات کی تردید، ’انتخابات سے قبل حملے کا ارادہ نہیں تھا‘: اسرائیلی وزیر دفاع
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیر کو ایران کے ساتھ جنگ میں نئی فوجی کارروائی کے معاملے پر ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات کی اطلاعات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کا انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے اتوار کو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر کے درمیان ایک نئے حکم پر اختلاف ہوا تھا۔ تاہم اس حکم کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
نیتن یاہو اس سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں اس رپورٹ کو غلط قرار دے چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ’اس رپورٹ کی اشاعت کا مقصد انتخابات سے عین قبل بنیامن نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کی فیصلہ سازی اور فیصلوں پر شکوک پیدا کرنا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ انتخابات میں مقابلہ انتہائی سخت ہے۔
چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق ایال ضمیر نے متعلقہ حکم پر عمل درآمد سے پہلے اس معاملے پر تفصیلی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا اور سیاسی حکام سے قانونی ضمانتیں اور دستخط بھی حاصل کیے تھے۔
چینل نے اس حکم کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ فوج کے اندر یہ خدشات موجود تھے کہ جنگ کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔