لائیو, ٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایرانی تجاویز مسترد کردیں، تہران باضابطہ امریکی جواب کا منتظر
ایران نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز میں تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد وہ امریکی مذاکرات کاروں کے باضابطہ جواب کا انتظار کرے گا۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے امریکہ کو آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے خبردار کیا اور کہا ہے کہ ’امریکی افواج جتنی جلد خطے سے نکلیں گی، انھیں اتنا ہی کم نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘
خلاصہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز مسترد کر دی
ایران نے بعض اہم دفاعی تنصیبات اور صلاحیتوں کو زیرِ زمین منتقل کر دیا: وزارتِ دفاع
مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں، دو بار ملاقات کر چکا ہوں: مسعود پزشکیان
لائیو کوریج
آبنائے ہرمز سات روز میں کھولنے کی ایرانی پیشکش مسترد کر کے ٹرمپ نے درست فیصلہ کیا: نیٹو میں امریکی سفیر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشننیٹو میں امریکی نمائندے میتھیو وٹیکر
نیٹو میں امریکی نمائندے میتھیو وٹیکر نے کہا ہے کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز میں کھولنے کی پیشکش مسترد کر کے درست فیصلہ کیا۔‘
میتھیو وٹیکر نے کہا کہ ’ایران کسی معاہدے کے لیے ’بے چین‘ ہے اور ٹرمپ بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کے ذریعے بہت کامیاب رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے ایران کی جانب سے پیش کیے جانے والے یہ نامکمل اقدامات یا بظاہر معاہدے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔‘
امریکی سفارتکار نے تیل اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر عوامی تشویش کے بارے میں بھی بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بالآخر جب یہ صورتحال کامیابی سے حل ہو جائے گی، جب یہ جنگیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حق میں ختم ہوں گی تو ہمیں مارکیٹ میں تیل، گیس اور ڈیزل کی وافر فراہمی دیکھنے کو ملے گی اور یہ جتنی جلد ممکن ہو، ہونا چاہیے۔‘
عراقی کردستان کے سرحدی علاقوں میں جنگ دوبارہ پھیلنے کا خدشہ، شہری فکرمند: اے ایف پی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنعراقی کردستان (فائل فوٹو)
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایران کے قریب عراقی کردستان کے سرحدی شہر پنجوین سے رپورٹ کیا ہے کہ بعض مقامی شہریوں کو خدشہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات ایک بار پھر سرحدی شہروں کو میدانِ جنگ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
پنجوین کے رہائشی احمد فرج، جنھوں نے بچپن میں ایران عراق جنگ کے دوران شہر کی تباہی دیکھی تھی، نے تنازع دوبارہ شدت اختیار کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اے ایف پی سے کہا کہ ’جنگ میں پھر کوئی سرحد نہیں رہتی۔‘
گذشتہ چند ماہ کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے ساتھ ساتھ پنجوین کے اوپر ڈرونز اور میزائل بھی دیکھے گئے ہیں۔ اس دوران ایران اور اس کے اتحادی عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے اڈوں اور ایرانی کرد مخالف گروہوں پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد اگرچہ تشدد کی شدت میں کمی آئی ہے، تاہم سرحدی علاقوں میں اب بھی خدشات برقرار ہیں۔
57 سالہ احمد فرج نے کہا کہ انھیں ایران عراق جنگ کے دوران پنجوین کی تباہی آج بھی واضح طور پر یاد ہے۔ ان کے مطابق سنہ 1981 میں ایران کے شہر پر حملے میں ’درجنوں شہری ہلاک‘ ہوئے تھے۔
بعد ازاں شہر خالی کرا لیا گیا اور عراقی حکومت نے ایرانی افواج کو وہاں ٹھہرنے سے روکنے کے لیے دھماکا خیز مواد اور بلڈوزروں کے ذریعے پنجوین کو مسمار کر دیا تھا۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایرانی تجاویز مسترد کردیں، تہران باضابطہ امریکی جواب کا منتظر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ایران نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز میں تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد وہ امریکی مذاکرات کاروں کے باضابطہ جواب کا انتظار کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلیگرام پر ایک بیان میں ٹرمپ کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی صدر ماضی میں کئی متضاد بیانات دے چکے ہیں۔‘ ان کے بقول ایران ثالثوں کے ذریعے امریکہ کا حتمی مؤقف ملنے کا انتظار کرے گا اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی تجویز کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ بری طرح نقصان اٹھا رہے ہیں۔‘ سنیچر کو انھوں نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کا کنٹرول پہلے سے ہی امریکہ کے پاس ہے۔‘
عراقچی نے اس سے قبل اقوام متحدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان ’ضروری شرائط پوری‘ ہو جائیں تو معاہدہ ممکن ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے کی شرائط وہی ہیں جو جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت میں شامل تھیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والے مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور دشمنی ختم کرنے کا معاملہ اٹھایا تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی گیس اور تیل کی سپلائی عموماً آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، تاہم فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ اہم آبی گزرگاہ عملاً بند ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کرنے والے عمان نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ بحران کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھیں۔ عمانی وزیر خارجہ بدر بوسعیدی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے تمام فریقوں سے عمان کے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب نیٹو میں امریکی سفیر میتھیو وٹیکر نے ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کی حمایت کی۔
انھوں نے فوکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ’ادھورے اقدامات‘ اور ’خیالی معاہدے‘ پیش کیے ہیں تاکہ عالمی سطح پر خود کو بہتر ظاہر کر سکے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ادھر امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی معاشی دباؤ تہران کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ترکی، عمان اور متحدہ عرب امارات نے مختلف ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں روک دی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اور ترکی کے بعض بینکوں نے ایران کے ساتھ لین دین بھی معطل کیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف معاشی ناکہ بندی کو ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کا نام دیا ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے روکنے کے لیے تہران پر پابندیوں کے ذریعے دباؤ بڑھا رہی ہے۔
تاہم بعض ماہرینِ اقتصادیات نے ان پابندیوں کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اثر ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے ردعمل پر منحصر ہوگا، جن میں ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار چین بھی شامل ہے۔‘
ہم نے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے 50 سے زائد ممالک پر دباؤ ڈالا ہے: امریکی وزیر خزانہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ’ان کی ہدایت پر مختلف ممالک میں وفود بھیجے گئے تاکہ انھیں ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے پر آمادہ کیا جا سکے۔‘
انھوں نے ایکس پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں ایرانی ایئرلائنز اور بینکوں پر نئی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ان کوششوں کے نتائج سامنے آئے ہیں۔‘
سکاٹ بیسنٹ کے مطابق ترکی اور عمان نے ماہان ایئر کی پروازیں معطل کر دی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایرانی ایئرلائنز کی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔
انھوں نے بینکاری کے شعبے میں نئی پابندیوں کی جانب بھی اشارہ کیا۔ متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے بدھ کو ایران کے بینک ملی کی شاخوں میں لین دین معطل کر دیا اور بینک پر منی لانڈرنگ، دہشتگردی کی مالی معاونت اور اسلحے کے پھیلاؤ سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ترکی نے بھی گزشتہ ہفتے ایران کے بینک ملت کا آپریٹنگ لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔
امریکی وزیر خزانہ کی جانب سے دوبارہ شائع کی گئی ’وال سٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کے حکام گذشتہ دو ہفتوں کے دوران 50 سے زائد ممالک کے ساتھ تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کے منصوبے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
سکاٹ بیسنٹ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن کا مقصد دنیا بھر میں تمام ایرانی ایئرلائنز کو بند کرنا ہے۔ تاہم ایران کی بعض چھوٹی ایئرلائنز اب بھی بین الاقوامی پروازیں چلا رہی ہیں، خاص طور پر چین کے لیے۔
اسرائیلی انتخابات کے نتائج سے فلسطینیوں کے حالات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا: خلیل الحیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنحماس کے رہنما خلیل الحیہ (فائل فوٹو)
حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے قطر کے ٹی وی چینل ’العربی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل میں آئندہ انتخابات کے بعد ملکی پالیسی میں کسی بنیادی تبدیلی کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’فلسطینیوں کو تمام اسرائیلی جماعتوں سے نقصان پہنچا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حماس اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ فلسطینیوں کے ’خون اور مصائب‘ کو اسرائیل کی انتخابی مہمات کے لیے ایک آلہ بنایا جائے۔‘ ان کے بقول تنظیم کے لیے اہم بات فلسطینیوں کے ’جائز مقاصد اور حقوق‘ کا حصول ہے۔
اسرائیل میں انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے والے ہیں اور وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کو اقتدار برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
انتخابات سے قبل انھوں نے کہا ہے کہ ’اسرائیلی افواج غزہ سے واپس نہیں جائیں گی۔‘ انھوں نے امریکہ کی قیادت میں پیش کیے گئے امن اقدام کو بھی مسترد کر دیا ہے، جس کے تحت حماس کا کہنا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہے۔
یہ سات اکتوبر 2023 کو حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں کے حملے کے بعد اسرائیل میں ہونے والے پہلے انتخابات ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مسقط ثالثی کو تیار ہے: عمانی وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنعمان کے وزیر خارجہ بدر بوسعیدی
عمان کے وزیر خارجہ بدر بوسعیدی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’تحمل‘ کا مظاہرہ کریں اور کہا ہے کہ مسقط ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’فریقین کو اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور سیاسی حل اور پائیدار معاہدوں تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘
عمانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی سکیورٹی برقرار رکھنے کی کوششوں کے لیے اپنے ملک کے عزم پر بھی زور دیا اور تمام فریقوں سے اس سلسلے میں مسقط کے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی ایک ڈیل مسترد کر دی ہے۔ تہران کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
دنیا میں توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں میں شامل آبنائے ہرمز امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے اہم مراکز میں سے ایک بن گئی ہے۔
آبنائے ہرمز میں غیر منظور شدہ راستے کا استعمال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے: پرشیئن گلف واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پرشیئن گلف واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی نے آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے مال بردار اور تیل بردار بحری جہازوں کے مالکان کو خبردار کیا ہے کہ بعض چارٹر کمپنیاں بحری جہازوں کو ایسے راستوں سے گزرنے پر مجبور کر رہی ہیں جنھیں اتھارٹی ’غیر منظور شدہ راستہ‘ قرار دیتی ہے۔
ادارے نے کہا ہے کہ ’اس اقدام سے جہاز، اس کے مالک، کپتان اور عملے کو مالی اور جانی نقصان کا خطرہ لاحق ہونے کے علاوہ آئندہ اس جہاز کے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔‘
اتھارٹی نے خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’اگر چارٹر کمپنیوں کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ان کے نام ’خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کی فہرست‘ میں شامل کر دیے جائیں گے اور ان سے وابستہ تمام بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
خلیج فارس واٹر ویز اتھارٹی نے ایک خط کا سکرین شاٹ بھی جاری کیا ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ ایک جہاز کے مالکان کی جانب سے بھیجا گیا تھا۔
خط میں جہاز کے مالکان نے آبنائے ہرمز میں ’غیر منظور شدہ راستے‘ سے گزرنے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفر چارٹر کمپنی کی براہِ راست ہدایت پر کیا گیا اور اس کے لیے خلیج فارس واٹر ویز اتھارٹی کی جانب سے درکار رسمی کارروائیاں مکمل نہیں کی گئی تھیں۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ جہاز کا نام ان کمپنیوں اور بحری جہازوں کی فہرست سے نکال دیا جائے جنھوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
امریکہ کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر منہ کی کھانی پڑے گی: ایرانی مسلح افواج کے ترجمان کی تنبیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان ابوالفضل شکارچی نے امریکہ کو آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اس آبی گزرگاہ میں مداخلت کی تو اسے ’منہ کی کھانی پڑے گی۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’امریکہ کے پاس مغربی ایشیا سے انخلا کے سوا کوئی راستہ نہیں اور دعویٰ کیا کہ امریکی افواج جتنی جلد خطے سے نکلیں گی، انھیں اتنا ہی کم نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘
شکارچی نے اسلامی جمہوریہ ایران کو ’عالمی طاقت‘ بھی قرار دیا اور کہا کہ تہران ’نئے عالمی نظام‘ میں امریکہ کو اس کی سابقہ حیثیت پر واپس آنے کی اجازت نہیں دے گا۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ’ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے یہ خبر بھی دی ہے کہ ’امریکی مذاکرات کاروں نے رواں ہفتے ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں ایرانی فریق کو بھی یہی مؤقف پہنچایا اور کہا کہ تہران آبی گزرگاہ کے حوالے سے شرائط عائد نہیں کر سکتا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ’امریکہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے اور ایران کی جانب سے اسے فوری طور پر دوبارہ کھولنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔‘
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مؤقف کا واضح طور پر دفاع کرنے کی کوشش کی: ایرانی صدر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نیویارک سے وطن واپسی پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان کی تقریر کے اندازِ بیان کو متاثر کیا تھا۔‘
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’نیویارک پہنچنے اور امریکی صدر کے بیانات کو سُننے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہماری تقریر کا انداز ان بیانات سے متاثر ہوا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی بنیاد پر انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مؤقف کا ’واضح طور پر‘ دفاع کرنے کی کوشش کی۔‘
ایرانی صدر جو نیویارک کے پانچ روزہ دورے کے بعد تہران واپس پہنچے، نے کہا کہ اس دورے کے دوران انھوں نے مختلف ممالک کے متعدد رہنماؤں اور حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں سوئٹزرلینڈ اور بنگلہ دیش کے صدور، لبنان، پاکستان اور قطر کے وزرائے اعظم اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل شامل ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ انٹرویوز اور ملاقاتوں کے دوران انھوں نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بارے میں ایران کے مؤقف کی وضاحت کرنے کی کوشش کی اور دونوں ممالک پر ایرانی عوام، بنیادی ڈھانچے اور سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ نیویارک میں ایرانی وفد نے ’امریکی امداد‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ تقسیم کیا، جس میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
انھوں نے علاقائی اور اسلامی ممالک کے درمیان مزید تعاون پر بھی زور دیا اور کہا کہ ان ممالک کو ایسے تنازعات میں نہیں الجھنا چاہیے جو، ان کے بقول، ’دوسروں کی جانب سے پیدا کیے جاتے ہیں۔‘
روس آبنائے ہرمز میں استحکام کے لیے مدد فراہم کرنے کو تیار ہے، سرگئی لاروف کا اقوام متحدہ میں بیان
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں استحکام کے لیے مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ سنیچر کے روز امریکی صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے ایران کی جانب سے سات روز میں آبنائے پرمز کھولنے کی تجویز رد کر دی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق تقریر کے دوران لاروف کا کہنا تھا کہ ہمیں خلیجی ممالک، عرب ریاستوں اور ایران کے درمیان تعلقات میں اعتماد پیدا کی ضرورت ہے۔ ’ہمیں ایک مستحکم علاقائی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’روس، دیگر ذمہ دار ممالک کے ساتھ مل کر، اس تزویراتی اہمیت کے حامل خطے میں استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔‘
ایران نے جنوبی کوریائی الیکٹرونک آلات کی درآمد پر عائد پابندی ختم کر دی
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کی وزارت صنعت، کان کنی اور تجارت نے جنوبی کوریائی گھریلو الیکٹرونک آلات کی ملک میں درآمد پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔
ایران کی تجارتی ترقیاتی تنظیم کے دفتر برائے برآمدات و درآمدات کے ڈائریکٹر جنرل نے کسٹمز حکام کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ سرحدی تعاون پر مبنی اداروں کے ذریعے جنوبی کوریا کے گھریلو آلات کی درآمد اب کسی پابندی کے دائرے میں نہیں آتی۔
کئی دہائیوں تک جنوبی کوریا کی کمپنیوں ایل جی اور سام سنگ کا ایرانی مارکیٹ میں نمایاں حصہ تھا۔ 2018 میں امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے دستبرداری اور بعد ازاں پابندیوں کی بحالی کے بعد ان کمپنیوں نے بھاری جرمانوں سے بچنے کے لیے اپنے ایرانی شراکت داروں کے ساتھ کاروبار منقطع کر دیے تھے اور ایران میں اپنی براہِ راست موجودگی ختم کر دی تھی۔
سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی حکومت نے جنوبی کوریا کے گھریلو برقی آلات کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت بعض ایرانی خبر رساں اداروں نے خبر دی تھی کہ ’یہ اقدام ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی درخواست پر کیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ ان مصنوعات کی درآمد مقامی صنعت کاروں کو شدید نقصان پہنچائے گی، لہٰذا اسے روکنا چاہیے۔‘
عالمی برادری کو جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، سعودی وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
،تصویر کا کیپشنشہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے سنیچر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’عالمی برادری بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب ’تمام بین الاقوامی آبی گذرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز، باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں۔‘
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر رہی ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے بعد سے باب المندب میں بحری نقل و حمل بھی متاثر ہوئی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو بھی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے پہلے والی حالت میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز مسترد کر دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کی جانب سے سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے اور
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بند کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے
دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکہ
کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک ’سات روزہ منصوبہ‘ پیش کیا گیا تھا۔
جمعے کو نیویارک
میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے نئی تجاویز پر مشتمل یہ سات
روزہ منصوبہ پیش کیا جسے اُنھوں نے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا تسلسل قرار
دیا تھا۔
ایرانی وزیرِ
خارجہ نے کہا کہ اگر واشنگٹن اس منصوبے میں طے شدہ شرائط کو قبول کر کے ان پر عمل
کرے تو سات روزہ مدت کے اختتام پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
عباس عراقچی نے
کہا کہ ان تجاویز میں بیشتر نکات وہی ہیں جو جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان
طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت میں شامل تھیں۔
تاہم سنیچر کے روز
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں نے ان کی
تجویز مسترد کردی ہے۔۔۔ میں نے ان کی ڈیل رد کر دی ہے۔‘
بین الاقوامی خبر
رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’وہ فوری طور پر
آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ بہت بری طرح سے
ہار رہے ہیں۔‘
’وہ معاہدہ کرنا
چاہتے ہیں اور میرے خیال میں ٹھیک بھی ہے، میں بھی ڈیل کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن وہ
فوراً آبنائے ہرمز کھولنا چاہتے ہیں۔۔۔ کیونکہ ان کے پاس پیسے نہیں آ رہے، کیونکہ
ان کی ساری کمائی آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔‘
’چین سے مشاورت کے بعد‘
آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کے لیے دیا گیا ایران کا سات روزہ
منصوبہ کیا ہے؟ جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ایتھنز میں عمارت دھماکے سے تباہ، برطانوی شہری سمیت چھ افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یونان کے دارالحکومت ایتھنز کے تاریخی علاقے پلاکا میں ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی، جس سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک برطانوی شہری، چار امریکی سیاح اور ایک یونانی شہری شامل ہیں۔
یہ دھماکہ جمعے کے روز ایتھنز کے سیاحتی علاقے پلاکا میں پیش آیا، جو اکروپولس اور ٹیمپل آف اولمپیئن زیوس جیسے مشہور تاریخی مقامات کے قریب واقع ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے چار امریکی سیاح اس عمارت میں قائم ایک ہالیڈے رینٹل پراپرٹی میں مقیم تھے، جبکہ یونانی شہری اور برطانوی شہری ایک بزرگ جوڑا تھا جو اسی عمارت میں رہائش پذیر تھا۔
سنیچر کے روز جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی تصاویر میں امدادی کارکنوں کو ملبے میں تلاشی لیتے دیکھا گیا۔ حکام کو شبہ ہے کہ دھماکا گیس لیکج کے باعث ہوا۔
تمام چھ لاشیں ہفتے کی دوپہر تک ملبے سے نکال لی گئی تھیں۔ ایتھنز کے میئر ہیرس دوکاس نے واقعے کو ’ناقابلِ یقین سانحہ‘ قرار دیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس کو اس وقت خدشہ ہوا کہ سیاح لاپتا ہیں جب وہ جمعہ کو ایتھنز ایئرپورٹ سے اپنی پرواز پر سوار ہونے کے لیے نہیں پہنچے۔
دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ تین منزلہ عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی، جبکہ آس پاس کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا اور ملبہ سڑک پر دور تک بکھر گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق اڑتے ہوئے ملبے سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت قریبی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔
ریسکیو ٹیموں نے ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے کھدائی کی مشینوں اور تھرمل امیجنگ کیمروں کا استعمال کیا۔
برطانیہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم ایتھنز میں ہونے والے مشتبہ دھماکے سے آگاہ ہیں اور مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘
ایران نے بعض اہم دفاعی تنصیبات اور صلاحیتوں کو زیرِ زمین منتقل کر دیا: وزارتِ دفاع
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں اور ہتھیاروں کی تیاری کی استعداد کو مکمل طور پر آشکار ہونے سے بچانے کے لیے اپنی بعض اہم دفاعی تنصیبات اور صلاحیتوں کو زیرِ زمین ڈھانچے میں منتقل کر دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک کی دفاعی صلاحیتوں اور اسلحہ سازی کی استعداد کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا دشمن کے لیے مشکل بنانا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق رضا طلائی نیک نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ اپنے کسی بھی تزویراتی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا، جن میں خطے میں ایران کی سٹریٹجک پوزیشن کو نقصان پہنچانا بھی شامل تھا۔
ان کے بقول، اس کے برعکس ایران نے ’دشمن پر قیمت عائد کی‘ اور اسے نقصان پہنچایا۔
ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے مزید کہا کہ ملک کی دفاعی طاقت میں اضافے کے ساتھ ساتھ داخلی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔
جنگ کی کامیابی صرف حملہ پسپا کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے: سابق ایرانی صدر حسن روحانی
،تصویر کا ذریعہIran
ایران کے سابق صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ جنگ میں کامیابی کو صرف حملے کا مؤثر جواب دینے یا اسے پسپا کرنے تک محدود نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ اس کا مقصد پائیدار سلامتی کا قیام، مستقبل میں جارحیت کے امکانات کو کم کرنا اور ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہونا چاہیے۔
حسن روحانی کا یہ بیان اس تنقید اور احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے جو ان کے حالیہ ریمارکس کے ردِعمل میں کیے گئے تھے۔
سابق ایرانی صدر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گفتگو کا مقصد قومی اہداف کے حصول کے لیے عوامی حمایت کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا، نہ کہ جارحیت کے خلاف دفاع کے لیے کسی ریفرنڈم یا عوامی رائے شماری کی تجویز دینا۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ ان کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کے بقول، ’میں نے نہ ریفرنڈم کا ذکر کیا اور نہ ہی رائے شماری کی بات کی۔‘
حسن روحانی نے کہا کہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا اور جب ملک پر حملہ کیا جائے تو اس کا دفاع کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، ’یہ ہمارے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔‘
سابق صدر نے مزید کہا کہ وہ دراصل اس نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہتے تھے کہ طویل المدتی قومی اہداف، جن میں ایران کی طاقت، خوشحالی، امن، قومی یکجہتی اور بین الاقوامی مقام کا استحکام شامل ہے، وسیع عوامی حمایت کے بغیر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
حسن روحانی نے حال ہی میں ’باعزت طریقے سے جنگ کے خاتمے‘ پر بھی زور دیا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’بظاہر کچھ لوگ مذاکرات سے نفرت کرتے ہیں۔‘
ان کے مطابق، ’ہمیں عوام کی بھاری اکثریت کی خواہشات کے مطابق وقار کے ساتھ جنگ کا خاتمہ کرنا چاہیے تاکہ ملک کی تعمیرِ نو کی جا سکے اور ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔‘
ان بیانات کے بعد حکومت کے حامی حلقوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ حالیہ دنوں میں بعض مظاہرین سابق صدر کے گھر کے باہر جمع ہوئے اور ان کے خلاف کارروائی اور ’مقدمہ چلانے‘ کا مطالبہ بھی کیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں، دو بار ملاقات کر چکا ہوں: مسعود پزشکیان
،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اب تک رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے دو بار ملاقات کر چکے ہیں۔ مسعود پزشکیان نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد گذشتہ سات ماہ کے دوران وہ دو مرتبہ ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کر چکے ہیں۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’میں نے رہبر اعلیٰ کے ساتھ کئی گھنٹے گزارے ہیں اور اس دوران ان میں کسی قسم کی جسمانی کمزوری یا تکلیف کے آثار نہیں دیکھے۔ ہم فرش پر بیٹھ کر گفتگو کرتے رہے۔ چونکہ ہمیں اس انداز کی عادت نہیں تھی، اس لیے ہم وقفے وقفے سے اپنی نشست بدلتے رہے، لیکن وہ تمام وقت ایک ہی جگہ بیٹھے رہے اور جسمانی طور پر مکمل طور پر توانا دکھائی دیے۔‘
اس انٹرویو کا متن ایرانی ایوانِ صدر کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی شائع کیا گیا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ’طبی اعتبار سے بالکل صحت مند ہیں‘۔ ان کے بقول، ’یہ بات آپ مجھ سے سن رہے ہیں، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر بھی ہوں، لہٰذا اسے قبول کیجیے کہ انھیں کوئی صحت کا مسئلہ درپیش نہیں۔‘
یاد رہے کہ 29 مارچ کو اپنے والد کی اسرائیلی اور امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد جانشین مقرر کیے جانے کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں اور نہ ہی انھوں نے کوئی ویڈیو یا آڈیو پیغام جاری کیا ہے۔
سی بی ایس کے ایک سوال کے جواب میں کہ ’کیا آپ نے مجتبیٰ خامنہ ای سے امریکہ کے دورے کی اجازت طلب کی تھی؟‘، مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’امریکہ آنے کے لیے ہمیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انھیں صرف اپنے دورے کے بارے میں آگاہ کیا تھا، تاہم ہمارے سرکاری دوروں کا فیصلہ حکومت خود کرتی ہے۔‘
مسعود پزشکیان اس سے قبل فاکس نیوز کو بھی بتا چکے ہیں کہ ایران کے رہنما ’مکمل صحت مند‘ ہیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
’سات دن ہیں، افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کر لیں‘، سہیل آفریدی کا وفاق کو پیغام, بلال احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام۔ پشاور
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت مسائل کا حل چاہتی ہے تو آئندہ سات دنوں کے دوران افہام و تفہیم کے ذریعے راستہ نکالا جا سکتا ہے، تاہم پاکستان تحریک انصاف کا چار اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ اٹل ہے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف نے لانگ مارچ کی کال دینے سے پہلے ہی مذاکرات کی بات کی تھی، لیکن اس وقت حکومت نے کوئی پیش رفت نہیں کی۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ اب احتجاج کے قریب آ کر مذاکرات کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چار اکتوبر صرف شروعات ہے اور اگر عوام سڑکوں پر نکل آئے تو حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’اس دفعہ نکلے تو واپس نہیں آئیں گے‘ اور واپسی کا فیصلہ حکومت کے مستقبل سے جڑا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی کمیٹی نے لانگ مارچ کے آغاز میں تاخیر کا فیصلہ حکمت عملی کے تحت کیا تھا تاکہ حکومت کو معاملات حل کرنے کا موقع دیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف اب بھی مسائل کے سیاسی حل کی خواہاں ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور سہولیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ گذشتہ نو ماہ کے دوران انھوں نے تمام قانونی راستے اختیار کیے، عدالتوں سے رجوع کیا اور کوشش کی کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں اور اہل خانہ کی موجودگی میں ہو، لیکن ان کی کوئی بات نہیں سنی گئی۔
انھوں نے کہا کہ اب حکومت کی جانب سے رابطے کر کے احتجاج ملتوی کرنے کا کہا جا رہا ہے، حالانکہ گذشتہ نو ماہ کے دوران ان کے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے لیے گاڑیوں اور بڑی تعداد میں موٹرسائیکلوں کا انتظام کر لیا گیا ہے اور اگر کسی قسم کی ’مہم جوئی‘ کی گئی تو عوام 24 گھنٹوں کی کال پر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
اپنی ممکنہ نااہلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر انھیں عہدے سے ہٹایا گیا یا نااہل قرار دیا گیا تو ان کا متبادل عمران خان خود طے کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’نااہلی کی صورت میں میں مزید خطرناک ہو جاؤں گا‘ اور اگر انھیں ہٹایا گیا تو لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اگر وہ تحریک انصاف کے مؤقف کے قریب آتے ہیں تو ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمان بالآخر ان کی ’پچ‘ پر آئیں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ یہ بیان منصوبہ بندی کے تحت دیا گیا اور اس سے ملک میں نفرت کے ماحول کو فروغ مل رہا ہے۔
انھوں نے وفاقی حکومت کی معاشی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے دور میں کئی بجٹ پیش کیے جا چکے ہیں لیکن قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر وزارتِ اعلیٰ کی کرسی ان کے مقصد اور نظریے کی راہ میں رکاوٹ بنی تو وہ یہ عہدہ چھوڑنے میں دیر نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا، ’میں ٹیپو سلطان بننا پسند کروں گا۔‘
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں دھماکہ، 11 ہلاک، 30 زخمی
،تصویر کا ذریعہRescue 1122
،تصویر کا کیپشنریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 30 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ کے قریب ہونے والے دھماکے میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملتے ہی درازندہ سٹیشن کی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد عارف خان کی ہدایت پر ڈیرہ اسماعیل خان سے مزید چار ایمبولینسز اور اضافی عملہ بھی روانہ کیا گیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 30 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ 11 افراد کی لاشیں بھی جائے وقوعہ سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق امدادی ٹیمیں بدستور موقع پر موجود ہیں اور زخمیوں کو نکالنے اور طبی امداد کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ دھماکے کی نوعیت اور اسباب کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
اگر کوئی رکنِ اسمبلی قتل بھی کر دے تو کیا گرفتاری کے لیے سپیکر کی اجازت درکار ہوگی؟ محسن نقوی کا خیبر پختونخوا حکومت کے مراسلے پر سوال
،تصویر کا ذریعہEPA
خیبر پختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے صوبائی اسمبلی کے ارکان کی گرفتاری، حراست یا تحویل میں لینے کے طریقۂ کار سے متعلق انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا کو باضابطہ مراسلہ جاری کر دیا ہے، جس میں قانون کے تحت مقررہ طریقہ کار پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی اجازت لازمی قرار دینے کے نوٹیفکیشن پر تنقید کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اب اگر کسی رکنِ صوبائی اسمبلی پر کسی فوجداری جرم کا الزام بھی ہو تو پولیس اس کی گرفتاری سے پہلے سپیکر کی اجازت لینے کی پابند ہوگی۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’اگلا قدم کیا ہوگا؟ اگر کوئی رکنِ اسمبلی کسی شخص کو قتل کر دے تو کیا پولیس اس کی گرفتاری کے لیے بھی پہلے سپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی؟‘
محسن نقوی نے مزید کہا کہ یہ ’قانون کے سامنے برابری‘ کے اصول کی ایک غیر معمولی تشریح ہے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’شاباش، اسی طرح جاری رکھیں۔ کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے؟‘
25 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 2026 کی دفعہ 11 کے مطابق کسی رکنِ صوبائی اسمبلی کو کسی فوجداری الزام یا جرم کے تحت گرفتار کرنے یا انتظامی حکم کے تحت حراست میں لینے سے پہلے سپیکر اسمبلی سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہو گی۔
مراسلے کے مطابق متعلقہ مجسٹریٹ یا انتظامی اتھارٹی کو گرفتاری یا حراست کی وجوہات تحریری طور پر سپیکر کو فراہم کرنا ہوں گی۔ قانون کے تحت سپیکر اگر اسے عوامی مفاد میں ضروری سمجھیں تو متعلقہ پولیس افسر سے پولیس رپورٹ یا چالان طلب کر سکتے ہیں تاکہ معاملے کے حقائق کا جائزہ لیا جا سکے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ سپیکر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے عدالت میں چالان جمع کرانے سے پہلے مزید انکوائری کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔
صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ نے آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ کسی بھی رکنِ صوبائی اسمبلی کی گرفتاری یا حراست کی صورت میں مذکورہ قانونی تقاضوں اور طریقہ کار کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے۔