آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, پی ٹی آئی احتجاج: پنجاب حکومت نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی خدمات طلب کر لیں

27 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف کے متوقع احتجاج اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پنجاب حکومت نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ کو خط لکھ دیا ہے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ بدھ (آج) کی رات سے ایم ون موٹر وے اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔

خلاصہ

  • پنجاب حکومت نے چار اضلاع میں رینجرز کی خدمات طلب کر لیں
  • جنوبی افریقہ میں گھر پر فائرنگ کر کے 11 افراد کو قتل کر دیا گیا
  • غزہ پر غیر فعال رہیں تو ہماری کیا ساکھ باقی رہ جاتی ہے: فرانسیسی صدر
  • قطری ثالثوں کے ذریعے ایران کی شرائط امریکہ تک پہنچا دیں: اسماعیل بقائی
  • امریکی اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان تین گھنٹے طویل ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز‘ بات چیت ہوئی ہے: صدر ٹرمپ، ایلچی سٹیو وٹکوف نے بھی مذاکرات کو ’تعمیری‘ قرار دیا
  • سعودی عرب میں پاکستانیوں کو سیاسی سرگرمیوں اور سیاسی نظریات کی تشہیر سے گریز کی ہدایت
  • دو صوبائی وزرا کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، رکنِ قومی اسمبلی زبیر خان کو گرفتار کر لیا گیا: تحریکِ انصاف کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ’پاکستان نے افغان طالبان کے آٹھ ڈرونز مار گرائے‘

    پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ بدھ کی صبح پاکستان نے اپنی فضائی حدود میں افغانستان سے داخل ہونے والے آٹھ ڈرونز مار گرائے ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان ڈرونز کا تعلق افغان طالبان رجیم سے تھا جن میں سے چار کو طورخم سرحد سے ملحقہ علاقوں میں مار گرایا گیا جبکہ دیگر چار کو کوہاٹ سے متصل سرحدی پہاڑی علاقوں میں نشانہ بنایا گیا۔

    اس سے قبل پیر کے روز پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ’مستند خفیہ اطلاعات‘ کی بنیاد پر افغانستان سے متصل سرحدی علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اُس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی ’خودکش بمباروں‘ سمیت 28 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    تاہم افغانستان میں طالبان کی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے افغان صوبوں کنٹر اور پکتیکا پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں خواتین سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  2. امریکہ کے ساتھ رابطہ قطری ثالث کے ذریعے ہوا: ایران

    نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والی بات چیت سے متعلق خبروں پر وضاحت کرتے ہوئے ایران نے کہا ہے کہ ’امریکی فریق کے ساتھ رابطہ قطری ثالث کے ذریعے ہوا تھا۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز، علاقائی سلامتی اور سفارتکاری سے متعلق ایران کا مؤقف اور شرائط واضح کی گئیں طور پر پیش کیے گئے۔

    بقائی نے مزید کہا کہ نیویارک میں ایرانی وفد کی موجودگی کو غنیمت جانتے ہوئے ان ہی نکات کو امریکی فریق تک نہایت واضح انداز میں پہنچایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے خطے کی سلامتی اور آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مؤقف کے ساتھ ساتھ سفارتی عمل کے لیے درکار شرائط سے بھی آگاہ کیا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراقچی اور وٹکوف کے درمیان مبینہ گفتگو کی رپورٹس کو ایران میں وسیع کوریج ملی اور اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ میں اپنی تقریر کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی حکام نے ایرانی وفد کے ساتھ تین گھنٹے پر محیط ایک ’انتہائی مثبت‘ ملاقات کی۔ تاہم بعد میں انھوں نے وضاحت کی کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے صرف ثالثوں سے ملاقات کی تھی۔

    خلیجی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی ملاقات کے آغاز پر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے نمائندوں نے ’آج ایرانی ثالثوں کے ساتھ ایک نہایت نتیجہ خیز ملاقات کی، لیکن یہ رابطہ صرف ثالثوں تک محدود تھا۔‘

    ادھر سٹیو وٹکوف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ثالثوں کے ذریعے ایرانی حکام کے ساتھ طویل گفتگو ہوئی۔

    وٹکوف کے مطابق مذاکرات کے دوران ثالث دونوں وفود کے درمیان مسلسل آتے جاتے رہے اور پیغامات کا تبادلہ کراتے رہے۔ انھوں نے ان مذاکرات کو ’امید افزا، تعمیری اور کامیاب‘ قرار دیا۔

  3. ایم ٹو، ایم تھری اور ایم فور موٹرویز کے مختلف حصوں پر مرمت کے کام کے باعث متعدد لینز بند رہیں گی

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) نے کہا ہے کہ ملک کی مختلف موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر مرمت کا کام جاری ہے، جس کے باعث بعض مقامات پر لینز بند کی گئی ہیں یا ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا ہے۔

    این ایچ ایم پی کی جانب سے 23 ستمبر 2026 کو جاری کردہ ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق ایم ٹو، ایم تھری اور ایم فور موٹرویز کے مختلف حصوں میں مرمت کا کام جاری ہے۔

    لاہور تا اسلام آباد ایم ٹو موٹروے پر بلکسر، کیپیٹل سمارٹ سٹی، نیلہ دلہا، کلر کہار اور شاديوال کے قریب بعض لینز عارضی طور پر بند ہیں جبکہ ہڈیالہ وکراں پر ٹریفک کو متبادل راستے پر منتقل کیا گیا ہے۔

    لاہور کو عبدالحکیم سے ملانے والی ایم تھری موٹروے پر ننکانہ صاحب، جڑانوالہ اور سمندری کے قریب مرمت کے باعث بعض لینز بند ہیں۔

    پنڈی بھٹیاں اور عبدالحکیم کے درمیان واقع ایم فور موٹروے پر فیصل آباد کے قریب مرمتی کام جاری ہے اور دو لینز بند کی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ این ایچ ایم پی نے آج (بدھ) رات سے ایم ون موٹروے اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رکھنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

    بیان کے مطابق اس موٹروے کے تمام پوائنٹس بشمول اسلام آباد ٹول پلازہ، فتح جنگ/ ترنول انٹرچینج، سنگجانی/اے ڈبلیو ٹی انٹرچینج، براہمہ باہتر انٹرچینج، برہان انٹرچینج، ہزارہ موٹروے انٹرچینج، غازی انٹرچینج اور چھچھ انٹرچینج بند رہیں گے۔

    موٹروے پولیس کا مزید کہنا ہے کہ موٹروے ایم 14 ’ہکلہ تا کنڈل دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔‘

    جبکہ جی ٹی روڈ این فائیو ’اٹک خورد کے مقام پر دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔‘

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی 23 ستمبر 2026 کو جاری کردہ ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق قومی شاہراہ این فائیو کے شمالی، وسطی، جنوبی اور مغربی زونز کے مختلف حصوں میں بھی تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث بعض مقامات پر ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا ہے۔

    کھاریاں تا لاہور جانے والی سڑک پر دو مقامات، اور میاں چنوں تا بہاولپور جانے والی سڑک پر تین مقامات پر ٹریفک کو متبادل راستے کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔

    اسی طرح کوٹ سبزل تا ہالانی، ہالانی تا ہالا، اور قلات تا کوئٹہ سڑکوں پر بھی کئی مقامات پر ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا ہے۔

  4. پنجاب حکومت نے چار اضلاع میں رینجرز کی خدمات طلب کر لیں

    پاکستان میں صوبہ پنجاب کی حکومت نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ کو خط لکھ دیا ہے۔

    حکومتِ پنجاب کے مراسلے کے مطابق رینجرز تعینات کرنے کی درخواست ’امن و امان کی متوقع صورتحال کے پیشِ نظر‘ کی گئی ہے۔

    ترجمان محکمۂ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ مراسلہ صوبائی پولیس کی درخواست پر ’سکیورٹی میں معاونت‘ کے لیے بھیجا گیا۔

    ترجمان کے بیان کے مطابق راولپنڈی میں رینجرز کی تین کمپنیوں، اٹک میں پانچ ونگز جبکہ جہلم اور میانوالی میں ایک، ایک کمپنی تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ چاروں اضلاع میں رینجرز کے دستے پانچ اکتوبر 2026 تک تعینات رہیں گے۔

    ترجمان کے مطابق رینجرز کی تعیناتی کی منظوری کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے 59ویں اجلاس میں دی گئی تھی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ رینجرز کی تعیناتی آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 245، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 اور پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 کی متعلقہ دفعات کے تحت کی جائے گی۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

  5. جنوبی افریقہ میں گھر پر فائرنگ، 11 افراد ہلاک

    جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن کے قریب ایک رہائشی عمارت میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق منگل کی رات کوا ماکھوتھا ٹاؤن شپ میں مسلح افراد ایک گھر میں داخل ہوئے اور وہاں موجود 14 افراد پر فائرنگ کر دی۔ 10 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ چار زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ بعض متاثرین غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق ان کی نگرانی میں تھے، تاہم جاری تحقیقات کے باعث مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

    فائرنگ کے محرکات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکے، تاہم پولیس نے کہا ہے کہ حریف گروہوں کے درمیان تنازع کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

    پولیس کے بیان کے مطابق ایک حاملہ خاتون سمیت 13 مرد اور ایک خاتون گھر میں ایک تقریب میں موجود تھے کہ تین مسلح افراد وہاں پہنچے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ ہلاک ہونے والوں میں مذکورہ خاتون بھی شامل ہیں۔

    مقامی ٹی وی چینل ای این سی اے کے مطابق حملہ آور فرار ہونے سے قبل متاثرین میں سے ایک کی گاڑی کو بھی آگ لگا گئے۔

    جنوبی افریقہ کا شمار دنیا میں قتل کی بلند ترین شرح رکھنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اوسطاً روزانہ 60 سے زیادہ افراد قتل کیے جاتے ہیں۔

    حالیہ ہفتوں میں کم از کم نو خواتین کی لاشیں ملنے کے واقعات نے بھی ملک میں جرائم سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ گذشتہ سال جوہانسبرگ کے ایک شراب خانے میں فائرنگ کے واقعے میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  6. جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار مسئلہ کشمیر کے حل پر ہے: او آئی سی رابطہ گروپ

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار مسئلہ کشمیر کے حل پر ہے۔

    وزارتِ خارجہ پاکستان کی پریس ریلیز کے مطابق او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور سینیئر حکام نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیو یارک میں ملاقات کی۔

    پاکستان، آذربائیجان، ترکی، سعودی عرب اور نائیجر پر مشتمل رابطہ گروپ کی ملاقات کی صدارت او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے کی۔

    ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد ’سکیورٹی کریک ڈاؤن کیا گیا، تقریباً 2800 افراد گرفتار اور درجنوں گھر مسمار کیے گئے۔‘

    اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا کہ 2019 کے بعد سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 34 لاکھ سے زائد ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس جاری کیے گئے۔

    وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، اعلامیہ میں درج ہے کہ رابطہ گروپ نے کشمیری رہنماؤں یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور شبیر احمد شاہ کی ’مسلسل حراست‘ پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ شبیر احمد شاہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس کے اختتام پر او آئی سی رابطہ گروپ نے ’انڈیا پر زور دیا کہ وہ اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنائے، تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، پابندیوں کا خاتمہ کرے اور جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرے۔‘

  7. وزیراعظم شہباز شریف کی بل گیٹس سے ملاقات، پولیو کے خاتمے اور زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیو یارک میں گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس سے ملاقات کی ہے۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف نے پولیو کے خاتمے، ماں اور بچے کی صحت، غذائیت، حفاظتی ٹیکہ جات، ڈیجیٹلائزیشن اور مالی شمولیت کے شعبوں میں گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون کو سراہا۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پُر عزم ہے۔ بیان کے مطابق بل گیٹس نے کہا کہ آئندہ نسلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے پولیو کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں گیٹس فاؤنڈیشن کو ایک قابل اعتماد شراکت دار قرار دیتے ہوئے صحت عامہ، زراعت، ڈیجیٹل جدت اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی۔

    وزیر اعظم آفس کے بیان کے مطابق ملاقات کے دوران بہتر بیجوں، مویشیوں کی جینیاتی بہتری اور نئی زرعی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

  8. پاکستان نیوی اور کوسٹ گارڈز نے سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی: آئی ایس پی آر

    پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نیوی اور کوسٹ گارڈز نے بلوچستان کے علاقے پشوکان میں مشترکہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے سمگلنگ کی ایک کوشش ناکام بنا دی ہے۔

    میڈیا کو جاری کردہ بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر (جے ایم آئی سی سی) کے تعاون سے کی گئی۔

    بیان کے مطابق کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں شراب اور غیر قانونی ادویات برآمد کی گئیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ سامان مزید قانونی کارروائی کے لیے پاکستان کوسٹ گارڈز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  9. غزہ پر غیر فعال رہیں تو ہماری کیا ساکھ باقی رہ جاتی ہے: فرانسیسی صدر

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ کچھ لوگ غزہ میں ’ایک مبینہ امن کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، لیکن اس امن کے باوجود ایک لمحے کے لیے بھی انسانی امداد کی فراہمی بحال نہیں ہوئی۔‘

    انھوں نے سوال کیا کہ اگر ’ہم غزہ کے معاملے پر غیر فعال رہیں تو ہماری کیا ساکھ باقی رہ جاتی ہے۔‘

    اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرانسیسی صدر کا مزید کہنا تھا: ’کیا ہم محض کھڑے ہو کر وہ تماشا دیکھتے رہیں، جس پر ہم سب کو شرمندہ ہونا چاہیے؟‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانس کے صدر کی حیثیت سے یہ ایمانویل میکخواں کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے آخری خطاب تھا، کیوں کہ اگلے سال مئی میں ان کی مدت صدارت ختم ہو رہی ہے۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی غیر قانونی بستیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے میکخواں کا کہنا تھا کہ وہاں ہونے والے واقعات مسئلہ فلسطین کے ایسے حل کے امکانات کو کمزور کر رہے ہیں ’جس کی بنیاد فلسطینی عوام کے وجود کے جائز حق کے احترام پر ہونی چاہیے۔‘

    روئٹرز کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران فرانس اور اسرائیل کے تعلقات میں خاصی کشیدگی رہی ہے۔

    اقوام متحدہ سے خطاب میں میکخواں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کی جانب سے تمام ہمسایہ ممالک کی خود مختاری کی خلاف ورزی اس کی سلامتی کو یقینی بنا سکتی ہے، وہ غلطی پر ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’وہ اسرائیل کی سلامتی کو کمزور کر رہے ہیں، نہ صرف آج بلکہ مستقبل میں بھی۔‘

    دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں میکخواں کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’ایمانویل میکخواں کے بیان کی مضحکہ خیزی حیران کن ہے۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق یومِ کپور سے ایک روز قبل، اتوار کے روز، چھ بچوں کے والد اور فرانسیسی شہری نیتانیل شوکرون کو یہودیہ و سامریہ میں حماس کے ایک حملہ آور نے ان کی گاڑی میں قتل کر دیا تھا۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حماس کے جنگجو تقریباً روزانہ یہودیوں پر حملے کرتے ہیں اور یہودیہ و سامریہ میں متعدد اسرائیلی شہریوں کو قتل کر چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی حکومت اپنے سرکاری بیانات میں مغربی کنارے کے لیے ’یہودیہ اور سامریہ‘ کا نام استعمال کرتی ہے۔

    ایکس پوسٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے مزید کہا کہ ’ان لوگوں کے خون کو نظر انداز کرنے کے لیے لا علمی کوئی عذر نہیں ہے۔‘

  10. قطری ثالثوں کے ذریعے ایران کی شرائط امریکہ تک پہنچا دیں: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ منگل کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ایرانی نمائندوں اور امریکی وفد کے درمیان ہونے والا رابطہ قطری ثالثوں کے ذریعے ہوا اور اس دوران ایران کی شرائط پہنچائی گئیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اسماعیل بقائی نے بدھ کی صبح کہا کہ اس رابطے کا مقصد ایران کی شرائط سے آگاہ کرنا تھا، جن میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، امریکہ کے جارحانہ اقدامات، بحری محاصرے اور معاشی جنگ کا خاتمہ، اور ایران کے اثاثوں کو غیر منجمد کرنا شامل ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو بتایا تھا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ثالثوں اور ایرانی نمائندوں سے ملاقات کی ہے، جسے انھوں نے مثبت قرار دیا تھا۔

    بعد ازاں سٹیو وٹکوف نے بھی ان مذاکرات کو تعمیری قرار دیا، جبکہ ایرانی حکام نے عباس عراقچی اور مشرق وسطیٰ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے کے درمیان رابطے کی تصدیق کی۔

  11. سعودی عرب میں پاکستانیوں کو سیاسی سرگرمیوں اور سیاسی نظریات کی تشہیر سے گریز کی ہدایت

    سعودی عرب میں پاکستان کے سفارت خانے نے وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں انھیں سیاسی سرگرمیوں، مظاہروں اور سیاسی نظریات کی تشہیر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    سفارت خانے نے سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال، غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کے پھیلاؤ سے اجتناب پر بھی زور دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ پاکستانی سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے قوانین کے مطابق وہاں کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی میں ملوث ہونا ممنوع ہے، لہٰذا پاکستانی شہری سیاسی اجتماعات، مظاہروں، سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں اور سیاسی نظریات کی تشہیر سے مکمل اجتناب کریں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے بھی سعودی قوانین کی پاسداری کی جائے اور ’مقامی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید یا اشتعال انگیزی پھیلانے سے گریز‘ کیا جائے۔

    سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے نے پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کے پھیلاؤ سے اجتناب کریں اور سیاسی یا فرقہ وارانہ مباحث، تکرار اور اشتعال انگیز مواد شیئر نہ کریں۔

    بیان کے مطابق خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرنے سے بھی گریز کیا جائے۔

    پاکستانی سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ مقامی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں گرفتاری، جرمانے، قید، ملک بدری اور سعودی عرب میں دوبارہ داخلے پر پابندی جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  12. دو صوبائی وزرا کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، رکنِ قومی اسمبلی زبیر خان کو گرفتار کر لیا گیا: تحریکِ انصاف کا دعویٰ

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے دو صوبائی وزرا کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور رکنِ قومی اسمبلی محمد زبیر خان وزیر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ رات وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہاں کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا۔ ایک الگ کارروائی میں پولیس کی بھاری نفری نے بونیر میں وزیر آبپاشی ریاض خان کے گھر پر بھی چھاپہ مارا۔

    پی ٹی آئی کے مطابق نا معلوم افراد نے حلقہ این اے 42 جنوبی وزیرستان سے رکنِ قومی اسمبلی محمد زبیر خان وزیر کے گھر کا کئی گھنٹوں تک محاصرہ کیے رکھا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گھر میں موجود اہلِ خانہ کو یرغمال بنایا گیا۔

    بیان کے مطابق بعد ازاں زبیر خان وزیر کی رہائش گاہ پر ایک اور چھاپہ مارا پولیس کی بھاری نفری نے مارا اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد انھیں گرفتار کر لیا۔

    ایکس پر پوسٹ میں پاکستان تحریکِ انصاف نے مطالبہ کیا ہے کہ ’ان چھاپوں میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کی فوری نشاندہی کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔‘

    پارٹی نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ حقائق جاننے، ذمہ دار افراد کا تعین کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے غیر جانب دار تحقیقات کرائی جائیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’متعلقہ حکام متاثرہ نمائندوں کے اہلِ خانہ کی سلامتی، وقار اور فلاح و بہبود کو فوری طور پر یقینی بنائیں۔‘

  13. بلوچستان کے ضلع قلات میں شورپارود کے مکینوں کو 28 ستمبر تک علاقہ خالی کرنے کا نوٹس, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان میں ضلع قلات کے علاقے شورپارود کے مکینوں کو انتظامیہ کی جانب سے 28 ستمبر تک علاقہ خالی کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

    سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ نوٹس اسسٹنٹ کمشنر قلات کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی کے ایک حالیہ اجلاس میں کہا تھا کہ شورپارود میں آپریشن کیا جائے گا، جس سے قبل علاقے کی آبادی کو عارضی طور پر دوسرے مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔

    شورپارود کہاں واقع ہے؟

    شورپارود انتظامی طور پر ضلع قلات کا حصہ ہے اور قلات شہر کے مغرب میں واقع ہے۔

    اس علاقے کی سرحدیں ضلع خاران سے بھی ملتی ہیں جبکہ یہاں مختلف بلوچ قبائل آباد ہیں۔

    یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق شورپارود کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کا ایک مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر قلات کے نوٹیفکیشن میں کیا کہا گیا ہے؟

    بلوچستان حکومت کے ایک سویلین اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر قلات نے 20 ستمبر کو شورپارود اور اس سے ملحقہ علاقوں کے مکینوں کے لیے انخلا کا نوٹس جاری کیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر قلات کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے کلی پارود شمالی، پارود جنوبی، خلیلی، خلخطی اور شوکی کے مکینوں کے عارضی انخلا کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    علاقہ مکینوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی سلامتی کے پیش نظر 28 ستمبر 2026 تک محفوظ مقامات پر منتقلی کے انتظامات مکمل کریں۔

    نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے امن و سلامتی کے لیے کوشاں ہیں اور اس عمل کو پُر امن طریقے سے مکمل کرنے کے لیے ان کے تعاون کے منتظر ہیں۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق شورپارود کے مکینوں کو جولائی میں بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا، تاہم اس وقت اس معاملے کو میڈیا میں زیادہ توجہ نہیں ملی۔

    ان کا کہنا تھا کہ قلات کے علاوہ مستونگ اور کچھی کے بعض علاقوں میں بھی عسکریت پسندوں کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے باعث آبادی کے انخلا کا پروگرام زیر غور ہے۔

    تاہم پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پہلے مرحلے میں شورپارود کے مکینوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں بعد ازاں مرحلہ وار نوٹس جاری کیے جائیں گے۔

    شورپارود میں آپریشن سے متعلق وزیراعلیٰ بلوچستان نے کیا کہا؟

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ماضی میں خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور دیگر علاقوں سے آبادیوں کو عارضی طور پر منتقل کیا گیا تھا۔

    ان کے مطابق لوگوں نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں نقل مکانی کی، تاہم بلوچستان میں آج تک ایک گاؤں بھی خالی نہیں کرایا گیا۔

    انھوں نے واضح کیا کہ موجودہ منصوبے میں مستونگ شامل نہیں ہے اور نہ ہی بلوچستان کے دوسرے علاقوں کی آبادی کو نقل مکانی کا سامنا ہو گا۔

    میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شورپارود ایک پہاڑی سلسلہ ہے جہاں 1970 کی دہائی سے مختلف ادوار میں مسلح افراد کے ٹھکانے اور فراری کیمپ موجود رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ بلوچستان میں امن کے ادوار کے دوران مسئلہ مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا، بلکہ ان ادوار میں بھی بعض عناصر جنگ کی تیاری کرتے رہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ شورپارود میں تقریباً ایک ہزار افراد آباد ہیں اور حکومتی سروے کے مطابق ان میں اکثریت خانہ بدوش آبادی پر مشتمل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور انھیں عارضی طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا: ’حکومت ان کی مکمل دیکھ بھال کرے گی، ان کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جائیں گے اور ان کی عزت و احترام، بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھا جائے گا۔‘

    وزیر اعلیٰ کے مطابق یہ مستقل نقل مکانی نہیں بلکہ ایک عارضی انتظام ہو گا تاکہ علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

    انھوں نے کہا کہ ان پناہ گاہوں میں شدت پسند منصوبہ بندی کرتے، اپنے دیگر انتظامات مکمل کرتے اور انسانی ڈھال استعمال کرتے ہوئے ریاستی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں۔

    میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ ’وہ شہدا کے بچوں، بیواؤں اور ان بوڑھے والدین کو کیا جواب دیں جن کے بچے روزانہ اس جنگ میں جانیں قربان کر رہے ہیں؟ کہیں نہ کہیں ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔‘

  14. ایرانی وفد کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے طویل بات چیت، مذاکرات کا دور مکمل: سٹیو وٹکوف

    امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ثالثوں کے ذریعے ایرانی وفد کے ساتھ طویل بات چیت کی گئی۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ ثالث پورے دن دونوں فریقوں کے درمیان پیغام رسانی کرتے رہے۔

    سٹیو وٹکوف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا ایک دور کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا اور انھیں توقع ہے کہ وہ ’تعمیری اور امید افزا‘ ثابت ہو گا۔

    امریکہ کے خصوصی ایلچی نے مزید کہا کہ ثالث اپنا کام جاری رکھیں گے۔

    اس سے قبل نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ منگل کے روز امریکی اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان تین گھنٹے طویل بات چیت ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک بہت اچھی اور نتیجہ خیز ملاقات تھی۔‘

    تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ بات چیت کرنے والے امریکی اور ایرانی رہنماؤں میں کون کون شامل تھا۔

  15. امریکی اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان تین گھنٹے طویل ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز‘ بات چیت ہوئی ہے: صدر ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ منگل کو امریکی اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان تین گھنٹے طویل بات چیت ہوئی ہے جس میں خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔

    نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک بہت اچھی اور انتہائی نتیجہ خیز ملاقات تھی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ کمرے میں کون سے ایرانی رہنما موجود تھے۔‘

    خیال رہے کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نیو یارک میں موجود ہیں جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

    ملاقات میں شریک سٹیو وٹکوف نے بتایا کہ ’وہ اس وقت بہت اچھا محسوس کر رہے ہیں۔‘ لیکن اُنھوں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔

    صدر ٹرمپ نے بعدازاں کہا کہ ’دیکھتے ہیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی خصوصی نمائندوں سٹیو وائٹیکر اور جیرڈ کشنر نے ایران کے ساتھ جنگ ​​کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے حوالے سے ثالثوں سے ملاقات کی ہے۔

    ثالث ممالک کے سربراہان اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں، جس کا آغاز آج ہوا ہے۔

    پاکستان اور قطر ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دو ثالث ہیں۔

    پاکستان کے وزیر داخلہ گذشتہ روز تہران گئے تھے، اور قطر کا کہنا ہے کہ اس کے نمائندے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات پہنچا رہے ہیں۔

  16. آج رات سے پشاور-اسلام آباد موٹروے ’ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی‘

    پاکستان میں نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ آج (بدھ) رات سے پشاور اور اسلام آباد کو ملانے والی شاہراہ ایم ون موٹروے ’دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔‘

    ایک بیان میں ترجمان موٹروے پولیس نے بتایا ہے کہ بدھ کی رات سے ’ایم ون موٹروے اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔‘

    بیان کے مطابق اس موٹروے کے تمام پوائنٹس بشمول اسلام آباد ٹول پلازہ، فتح جنگ/ ترنول انٹرچینج، سنگجانی/اے ڈبلیو ٹی انٹرچینج، براہمہ باہتر انٹرچینج، برہان انٹرچینج، ہزارہ موٹروے انٹرچینج، غازی انٹرچینج اور چھچھ انٹرچینج بند رہیں گے۔

    جبکہ موٹروے پولیس کا مزید کہنا ہے کہ موٹروے ایم 14 ’ہکلہ تا کنڈل دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔‘

    جبکہ جی ٹی روڈ این فائیو ’اٹک خورد کے مقام پر دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔‘

    دوسری جانب ایک پیغام میں اسلام آباد ٹریفک پولیس نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ بدھ کی رات سے تمام شہری ’جڑواں شہروں اسلام آباد و راولپنڈی سمیت دیگر اضلاع سے پشاور موٹروے ایم ون پر سفر کرنے سے گریز کریں اور غیر ضروری سفر مؤخر کریں۔‘

    اس کا مزید کہنا ہے کہ لاہور کو اسلام آباد سے ملانے والی موٹروے ایم 2 ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھلی رہے گی۔

    خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی، جو خیبر پختونخوا میں برسرِ اقتدار ہے، نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

  17. آٹھ مختلف مقامات سے روانہ ہوں گے، پانچ سے چھ روز میں اسلام آباد پہنچیں گے: صوبائی وزیر شفیع جان, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو، پشاور

    پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ سے قبل جماعت کے رہنماؤں کے مبینہ اغوا اور گرفتاریوں کے واقعات کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے وزرا، ارکان اسمبلی اور دیگر رہنماؤں کو اپنی سکیورٹی بڑھانے اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چارسدہ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی فضل محمد خان کو منگل کی دوپہر مسلح افراد مبینہ طور پر زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے خوفزدہ ہے اور اسی لیے ’اس طرح کے حربے‘ استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    شفیع جان سے جب پوچھا گیا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت پی ٹی آئی کی ہے اور اس کے وزرا اور ارکان اسمبلی کو مبینہ طور پر اٹھایا جا رہا ہے تو صوبائی حکومت کیا کر رہی ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب کچھ پولیس نہیں کر رہی بلکہ سب کو معلوم ہے کہ یہ کون کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اب اپنی سکیورٹی بڑھا دی ہے اور تمام ارکان اسمبلی، وزرا اور رہنماؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ بھی اپنی سکیورٹی بڑھائیں اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔

    فضل محمد خان کے مبینہ اغوا کا واقعہ

    چارسدہ سے رکن قومی اسمبلی فضل محمد خان کو مبینہ طور پر مردان رنگ روڈ سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے۔

    ان کے پرسنل سیکریٹری وقار خان نے بتایا کہ فضل محمد خان اسلام آباد سے چارسدہ جا رہے تھے اور ان کے ساتھ سرکاری سکیورٹی کا کوئی قافلہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک نجی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔

    وقار خان کے مطابق جب فضل محمد خان مردان رنگ روڈ پر پہنچے تو وہاں تقریباً 10 سے 12 افراد موجود تھے جنھوں نے ان کی گاڑی روکی اور انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سے فضل محمد خان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔

    فضل محمد خان کے بھتیجے حمزہ نصیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد فضل محمد خان کافی احتیاط کر رہے تھے۔

    ان کے مطابق وہ اپنی گاڑی میں سفر نہیں کر رہے تھے اور ان کے ساتھ سکیورٹی اہلکار بھی نہیں تھے بلکہ صرف ڈرائیور اور ان کے پرسنل سیکریٹری وقار خان موجود تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ رشکئی انٹرچینج سے مردان رنگ روڈ کے راستے ان کے علاقے تک پہنچنا نسبتاً مختصر راستہ ہے اور اسی راستے پر وہ جا رہے تھے کہ آگے ’نقاب پوش مسلح افراد‘ موجود تھے۔

    حمزہ نصیر خان کے مطابق ان افراد نے گاڑی روکی، فضل محمد خان کو گاڑی سے نکال کر اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ڈرائیور اور پرسنل سیکریٹری کو ایک دوسری گاڑی میں بٹھا کر مخالف سمت میں لے جایا گیا اور تقریباً ایک کلومیٹر دور چھوڑ دیا گیا۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ فضل محمد خان کی گاڑی کے ٹائروں پر بھی فائرنگ کی گئی۔

    حمزہ نصیر خان نے بتایا کہ واقعے کے حوالے سے مردان کے شیخ ملتون تھانے میں درخواست جمع کرا دی گئی اور ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بدھ کو پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جائے گی۔

    اس سے قبل صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ فضل شکور خان کو بھی مبینہ طور پر اٹھائے جانے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد ایف آئی آر درج ہونے پر پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔

    ابھی تک پولیس یا وفاقی حکومت کی جانب سے ایسا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا جس میں یہ واضح کیا گیا ہو کہ فضل محمد خان کو کس ادارے یا افراد نے حراست میں لیا یا انھیں کہاں منتقل کیا گیا ہے۔

    فضل محمد خان این اے 25 چارسدہ-2 سے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ وہ 2024 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے تھے۔

    واقعے کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے فضل محمد خان کے مبینہ لاپتا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے صوبے کے عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہو گا۔

    27 ستمبر کا لانگ مارچ

    شفیع جان نے بی بی سی کو بتایا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ جماعت کے بانی عمران خان کے علاج، ان کے مقدمات کی باقاعدہ سماعت اور انھیں ’تمام جائز حقوق‘ دینے کے مطالبات کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    ان کے مطابق لانگ مارچ 27 ستمبر کو شروع ہو گا اور اس مرتبہ حکمت عملی پہلے سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکن اسلام آباد کے لیے آٹھ مختلف مقامات سے روانہ ہوں گے اور تقریباً پانچ سے چھ دن میں اسلام آباد پہنچنے کی منصوبہ بندی ہے۔

    شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اس لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ’پرامن طریقے‘ سے اسلام آباد جائے گی اور ضرورت پڑنے پر پیدل، موٹر سائیکلوں یا گاڑیوں سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔

    حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ بعض ٹرانسپورٹرز نے لانگ مارچ کے لیے گاڑیاں فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔

    اس بارے میں شفیع جان کا کہنا تھا کہ انھیں بھی یہ اطلاع ملی ہے کہ بس اڈوں پر ٹرانسپورٹرز کو گاڑیاں فراہم کرنے سے منع کیا گیا ہے، تاہم ان کے بقول اس طرح کے اقدامات سے لانگ مارچ نہیں رکے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کو دو صورتوں میں روکا جا سکتا ہے: ’ایک یہ کہ ہمارے مطالبات تسلیم کر لیے جائیں تو اس پر بات چیت ہو سکتی ہے اور دوسرا یہ کہ عمران خان خود لانگ مارچ روکنے یا ختم کرنے کا اعلان کریں۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔‘

    جب شفیع جان سے پوچھا گیا کہ اسلام آباد میں لانگ مارچ روکنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور ماضی میں 26 نومبر کے احتجاج کے دوران فائرنگ بھی ہوئی تھی، تو اس مرتبہ طاقت کے استعمال کی صورت میں جانی نقصان کے خدشے کے بارے میں ان کا کیا کہنا ہے، تو انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پرامن رہے گی۔

    انھوں نے کہا کہ 'ایسا نہیں ہوگا کہ وہ گولی چلائیں۔ ہم نے 26 نومبر کو بھی گولی نہیں چلائی تھی۔ ہماری طاقت ہمارے ساتھ ہماری عوام ہو گی۔ اتنی تعداد میں لوگ نکلیں گے کہ سامنے والے کو گولی چلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔'

  18. سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کی کوششیں جاری رکھیں گے: ترک صدر کا اقوام متحدہ میں خطاب

    ترکی کے صدر جب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کا جاری رہنما کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

    صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی صاحبِ ضمیر شخص غزہ میں پیش آنے والے واقعات سے آنکھیں نہیں چرا سکتا۔‘

    اُنھوں نے غزہ کو ’سب سے بڑا قبرستان‘ قرار دیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اقوامِِ متحدہ امن قائم کرنے کی اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ اُنھوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔

    اپنی تقریر کے آغاز پر ترک صدر کا کہنا تھا کہ اُنھیں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی عدم موجودگی پر افسوس ہے۔

  19. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روس اور یوکرین اب اس جنگ سے ’تنگ آ چکے ہیں‘ اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا خاتمہ قریب ہے۔
    • سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے دوبارہ فعال ہونے کی اطلاعات کے بیچ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔ منگل کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت دو ڈالر کی کمی کے بعد 98 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کی گئی۔
    • سری لنکا کی ہائی کورٹ نے 2019 کے ایسٹر سنڈے بم حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار 15 افراد کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ ان حملوں میں 270 افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
    • حوثیوں اور اُن سے منسلک ذرائع ابلاغ ںے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی فضائی حملوں میں 20 سے زیادہ شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔
    • اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 30 اگست کو ایک کارروائی کے نتیجے میں دو کروڑ 10 لاکھ ڈالر مالیت کی تقریباً 463 کلوگرام کرسٹل میتھم فیٹامین (جسے آئس بھی کہا جاتا ہے) ضبط کی گئی ہے۔
    • پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ بالا سینیٹ کے چیئرمین نے وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت سینیٹ کے ملازمین کو جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کرنے کا حکم دیا ہے۔
    • جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر احتجاج مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر فیصلہ کیا ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت اُن (وزیر اعظم) کی وطن واپسی پر اُن سے ملاقات کرے گی اور اگر اس ملاقات کے دوران بھی پیٹرولیم لیوی پر ریلیف نہیں دیا گیا تو اکتوبر میں دوبارہ لانگ مارچ ہو گا۔
    • بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ کی ایک عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی ایک اور خاتون رہنما گلزادی بلوچ کو قتل کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ مقدمہ ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں ایک خاندانی تنازع کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا، جس میں محمد اعظم نامی شخص ہلاک ہوئے تھے۔ وہ گلزادی بلوچ کے بہنوئی تھے۔
  20. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔