آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایرانی حکام سے کوئی ملاقات طے نہیں، لیکن ہم ملاقات کے لیے تیار ہیں: مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ اس وقت ایسی کوئی ملاقات طے شدہ ہے، لیکن ہم یقیناً ایسی ملاقات کے لیے تیار ہیں، خاص طور پر اگر اس کے مثبت نتیجے اور بالآخر بنیادی مقصد کے حصول کا امکان موجود ہو۔‘ روبیو نے کہا کہ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ ’ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھار نہیں ہونے چاہییں۔‘

خلاصہ

  • علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاج کیس کا فیصلہ محفوظ، جمعہ (25 ستمبر) کو سنایا جائے گا۔ حسان نیازی کی سزا کے خلاف اپیل اور علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی
  • ایران حوثی گروہ کو اسلحے کی فراہمی بند کرے: جی سیون ممالک کا مشترکہ بیان
  • توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے جنید حفیظ کی اپیل پر تقریباً چھ برس بعد پہلی مرتبہ سماعت، پراسیکیوشن کو نوٹس جاری
  • محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر اور وزیر داخلہ سے ملاقاتیں
  • ہم اپنی فوجی صلاحیتیں مضبوط کر رہے ہیں: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ
  • برطانیہ کا سعودی عرب کی درخواست پر یمنی حوثیوں کے خلاف ’دفاعی فوجی معاونت‘ فراہم کرنے کا اعلان
  • پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں چار روپے 61 پیسے فی لیٹر اضافہ

لائیو کوریج

  1. امریکہ اور پاکستان کی افغانستان سے منشیات کی سمگلنگ میں ملوث گروہ کے خلاف مشترکہ کارروائی، دو کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی میتھ ضبط کرنے کا دعویٰ

    اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 30 اگست کو ایک کارروائی کے نتیجے میں دو کروڑ دس لاکھ ڈالر مالیت کی تقریباً 463 کلوگرام کرسٹل میتھم فیٹامین (جسے آئس بھی کہا جاتا ہے) ضبط کی گئی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق 14 سے 29 اگست کے درمیان پاکستان کے انسدادِ منشیات کے ادارے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے کراچی بندرگاہ پر قائم کنٹرول یونٹ نے پاکستان سے سری لنکا کی جانب روانگی کے لیے لدے ہوئے کنٹینرز میں افغانستان میں تیار ہونے والی غیرقانونی منشیات کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا۔

    امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اے این ایف کی جانب سے بروقت اطلاع موصول ہونے پر امریکہ کے انسدادِ منشیات کے ادارے ڈرگ انفورسمینٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے) نے متعلقہ ممالک کے حکام کے ساتھ کام کرتے ہوئے منشیات کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس کارروائی کے دوران پاکستانیوں سمیت متعدد مشکوک افراد کی گرفتاری عمل میں آئی۔

  2. جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے تیار ہیں: امریکی وزیرِ خارجہ

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا: ’مجھے نہیں لگتا کہ اس وقت ایسی کوئی ملاقات طے شدہ ہے، لیکن ہم یقیناً ایسی ملاقات کے لیے تیار ہیں، خاص طور پر اگر اس کے مثبت نتیجے اور بالآخر بنیادی مقصد کے حصول کا امکان موجود ہو۔‘

    روبیو نے کہا کہ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ ’ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھار نہیں ہونے چاہییں۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر سے نیویارک میں موجود ہیں اور مسعود پزشکیان بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کے لیے نیویارک پہنچنے والے ہیں۔

    دو روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ وہ مسعود پزشکیان سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

  3. 24 گھنٹوں کے دوران سعودی فضائی حملوں میں 20 سے زیادہ شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں: حوثیوں کا دعویٰ

    حوثیوں اور اُن سے منسلک ذرائع ابلاغ ںے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی فضائی حملوں میں 20 سے زیادہ شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق حوثیوں کے ایک فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ کشیدگی میں حالیہ اضافے کے بعد سے سعودی عرب نے اُن کے ٹھکانوں پر 900 سے زیادہ فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔

    بین الاقوامی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ یمنی حکومت نے حوثیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے گروپ پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں صوبہ لحج کی ایک مارکیٹ پر حملہ کر کے شہریوں کو زخمی کیا۔

    اس کے برعکس، حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب اپنے حملوں میں یمنی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    حوثیوں کی حمایت کرنے والے ایران نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اُن کے ٹھکانوں پر حملے بند کرے۔

  4. توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے جنید حفیظ کی اپیل پر تقریباً چھ برس بعد پہلی مرتبہ سماعت، پراسیکیوشن کو نوٹس جاری

    توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے جنید حفیظ کی جانب سے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کیے جانے کے تقریباً چھ برس بالآخر لاہور ہائی کورٹ نے آج اپیل کی سماعت کی۔

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس صادق محمود خرم اور جسٹس جواد ظفر نے جنید حفیظ کی اپیل پر سماعت کی۔

    منگل کے روز ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے پراسکیوشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کر لیے۔

    یاد رہے کہ درخواست گزار نے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف 2020 سے اپیل دائر کر رکھی ہے۔

    اس سے قبل جنید حفیظ کے وکیل سیف الملوک نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پہلے بھی متعدد بار یہ اپیل سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی تاہم اس کو سنا ہی نہیں گیا۔

    جنید حفیظ کا کیس کیا ہے؟

    جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں پیدا ہونے والے جنید حفیظ ملتان کی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی میں بطور وزیٹنگ لیکچرار خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انھوں نے فل برائٹ سکالرشپ کے تحت امریکہ میں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔

    سنہ 2013 میں ان کے خلاف مذہبی دل آزاری والے کلمات ادا کرنے اور سوشل میڈیا پر مذہبی دل آزاری پر مبنی تبصرے کرنے کے الزام لگا کر توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    سکیورٹی خدشات کے باعث مقدمے کی سماعت ملتان سینٹرل جیل میں کی گئی۔ اس مقدمے کے دوران ان کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن راشد رحمان کو مئی 2014 میں ملتان میں ان کے دفتر میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

    دسمبر 2019 میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کاشف قیوم نے جنید حفیظ کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 295 اے، بی اور سی کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی، عمر قید، 10 سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

    جنید حفیظ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

  5. وفاقی حکومت کی جانب سے ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے لیے اقدامات، سینیٹ ملازمین کو جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کا حکم

    پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ بالا سینیٹ کے چیئرمین نے وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت سینیٹ کے ملازمین کو جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    منگل کے روز سینیٹ سیکریٹریٹ نے اس حوالے سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جن دنوں سینیٹ کا اجلاس نہیں ہو گا، ان دنوں پیر سے جمعرات تک دفتری حاضری کے دن ہوں گے، جبکہ جمعہ کے روز سینیٹ ملازمین گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کریں گے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام ملازمین جمعہ کے روز ٹیلی فون، ای میل، واٹس ایپ اور رابطے کے دیگر ذرائع کے ذریعے اپنی دستیابی یقینی بنائیں گے اور ضرورت پڑنے پر وہ اپنے متعلقہ رپورٹنگ افسران کی ہدایت پر ایک گھنٹے کے نوٹس پر دفتر حاضر ہوں گے۔

    تمام سینیٹ ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے وہ مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر اپنی جائے تعیناتی چھوڑیں گے۔

    اس کے علاوہ سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں تین ماہ کے لیے پچاس فیصد کمی کی جائے گی جبکہ ہر قسم کی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔

  6. ترکی، آذربائیجان اور عراق کی جانب سے پروازیں معطل کرنے کی سرکاری سطح پر کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی: ایران ایئر

    ایران کی سرکاری فضائی کمپنی ایران ایئر کا کہنا ہے کہ اسے اب تک ترکی، آذربائیجان اور عراق کی سول ایوی ایشن اداروں کی جانب سے استنبول، باکو اور نجف کے لیے پروازیں روکنے یا معطل کرنے کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی اطلاع یا ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے۔

    تاہم عراق اور جارجیا نے امریکی پابندیوں کی تعمیل کے لیے ایرانی طیاروں کے لینڈنگ پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    اس کے علاوہ ترکش ایئرلائنز، کم لاگت ایئرلائن ای جیٹ اور ترک پیگاسس نے بھی 21 ستمبر سے ایران کے لیے جانے والی اور وہاں سے اڑان بھرنے والی اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

    ان کمپنیوں کی ویب سائٹس پر ایران کے لیے ٹکٹ خریدنا ممکن نہیں ہے۔

  7. بلوچستان میں انسدادِ پولیو ٹیم پر حملہ، سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار ہلاک

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد نے انسدادِ پولیو ٹیم پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار مارے گئے۔

    نوشکی پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان اہلکاروں کو نوشکی شہر کے نواحی علاقے ظہر آباد کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔

    اہلکار نے بتایا کہ حملے میں تاہم خواتین پر مشتمل پولیو ٹیم محفوظ رہی جبکہ حملہ آور دونوں اہلکاروں کا اسلحہ بھی لے گئے۔

    نوشکی پولیس کے ایس پی سلیم شاہوانی کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔

    وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں فائرنگ ہلاک ہونے والے کانسٹیبلز کی شناخت محمد یاسر اور عبدالروف کے نام سے کی ہے۔

    نوشکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مغرب میں اندازا 135 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    نوشکی کا شمار بلوچستان کے شورش سے متاثرہ علاقوں میں ہوتا ہے۔

    اگرچہ نوشکی میں طویل عرصے سے سنگین بدامنی کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آرہے ہیں لیکن کسی پولیو ٹیم پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور بلوچستان کے کی نوشکی کے علاقے میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کی پرزور مذمت

    وفاقی وزیرِداخلہ محسن نقوی اور بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے پولیو ٹیم پر حملے کی مذمت کی ہے۔

    ضیا اللہ لانگو نے آئی جی پولیس اور ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سے نوشکی واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

  8. جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر احتجاج مؤخر کرنے کا اعلان: ’ریلیف نہ ملا تو اکتوبر میں دوبارہ احتجاج کریں گے‘

    جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر فیصلہ کیا ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت اُن (وزیر اعظم) کی وطن واپسی پر اُن سے ملاقات کرے گی اور اگر اس ملاقات کے دوران بھی پیٹرولیم لیوی پر ریلیف نہیں دیا گیا تو اکتوبر میں دوبارہ لانگ مارچ ہو گا۔

    ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم احتجاج اور لانگ مارچ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ دھرنے اور احتجاجی کیمپ جاری رہیں گے۔ ہمارے کارکن میدان میں موجود رہیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مشاروت کے بعد طے کیا ہے کہ وزیر اعظم کی درخواست پر اُن سے ملاقات کریں گے۔ ہم وزیر اعظم سے بات کریں گے اور اگر اس دن ملاقات میں ریلیف دیا گیا تو ٹھیک ورنہ اکتوبر کا پہلا ہفتہ اور عشرہ بھی ہے، جس میں ہم اس احتجاج کو دوبارہ شروع کریں گے۔‘

    دوسری جانب وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امیر جماعت اسلامی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ان سے اسلام آباد میں دھرنا مؤخر کرنے کا کہا.

    بیان کے مطابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کو ان مشکل حالات میں پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف فراہم کر رہی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے وزیرِ اعظم کے دورے کے بعد ملاقات کرنے اور اس امر پر مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    خیال رہے کہ وزیرِ اعظم اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک میں موجود ہیں۔

  9. برطانیہ کا حوثیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے والے سعودی لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے میں مدد کا اعلان

    برطانیہ نے یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف جاری تنازع میں سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے میں مدد کے لیے ایک فوجی طیارہ تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    برطانوی وزیرِ دفاع لیوک پولارڈ نے کہا کہ قبرص میں برطانیہ کے ایک اڈے سے کام کرنے والا رائل ایئر فورس کا وائجر طیارہ سعودی عرب کی درخواست پر برطانوی منظوری کے بعد آئندہ دنوں میں فضا میں ہی ایندھن فراہم کرنے (ایئر ٹو ایئر ری فیولنگ) کی کارروائیاں شروع کرے گا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ معاونت سعودی عرب کے ’خالصتاً دفاعی‘ مشنز کے لیے ہو گی اور یہ محدود مدت کے لیے ہو گی۔

    حوثی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف خانہ جنگی میں مصروف ہیں، جس کی حمایت سعودی عرب کرتا ہے۔

    حوثیوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں انھوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے ساتھ ساتھ ملک کے بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع توانائی تنصیبات پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملے کیے ہیں۔

  10. چین کی ایرانی ایئر لائنز پر پابندیوں کی مخالفت

    چین کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے جو بین الاقوامی قانون کی بنیاد یا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر عائد کی جائیں۔

    چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے یہ بیان اس سوال کے جواب میں دیا کہ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے تحت ایرانی ایئرلائنز کو عالمی سطح پر آپریشنز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جنپنگ کی ملاقات طے ہے۔

    ساکٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ان کی حالیہ دنوں میں ایران پر پابندیوں کے حوالے سے چینی نائب وزیرِ اعظم سے بات ہوئی ہے اور ٹرمپ اور شی جنپنگ کی ملاقات میں اس موضوع پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

  11. پاکستان اور ترکی حوثیوں کے خلاف سعودی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کریں: عبدالملک الحوثی, بی بی سی مانیٹرنگ

    یمن کے حوثی گروہ کے رہنما عبدالملک الحوثی نے پاکستان اور ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کریں۔

    21 ستمبر کو حوثیوں کے زیرِ انتظام ’المسیرہ‘ ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں عبدالملک الحوثی نے یہ اپیل کی ہے۔

    اُن کا خطاب یمن کے دارالحکومت صنعا پر حوثیوں کے قبضے کے 12 سال (جسے حوثی ’21 ستمبر کا انقلاب‘ قرار دیتے ہیں) مکمل ہونے پر نشر کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے ’مکہ دفاعی معاہدے‘ کے نام سے ایک مشترکہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    اپنی تقریر میں عبدالملک الحوثی نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا کہ وہ یمن کے خلاف اپنی فوجی مہم کے لیے ترکی اور پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اُن کے بقول سعودی کارروائیاں یمنی عوام کے خلاف ’زیادتی اور جارحیت‘ پر مبنی ہیں۔

    انھوں نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ 20 ستمبر تک حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر سعودی فضائی حملوں کی تعداد 760 تک پہنچ چکی ہے، تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ حملے کس مدت کے دوران کیے گئے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان یا ترکی کو اتنی ہی تعداد میں فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا تو یہ اُن کے لیے ایک ’بڑا مسئلہ‘ بن جاتا۔

    حوثی رہنما نے ایک بار پھر جنگ کے خاتمے اور ان کے بقول ’سعودی محاصرے‘ کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور الزام عائد کیا کہ ریاض یمن کو تیل اور گیس کی آمدنی سے محروم کر رہا ہے اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    عبدالملک الحوثی نے سوال اٹھایا کہ آیا ترکی اور پاکستان کے عوام ایسی ہی معاشی پابندیوں یا ’سعودی حکومت‘ کی جانب سے سیاسی مداخلت کو قبول کریں گے یا نہیں۔

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان سے حمایت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ شام سے ’جنگجوؤں‘ کو بھی لا رہا ہے۔ انھوں نے انقرہ و اسلام آباد پر زور دیا کہ وہ ریاض کی جانب سے پیش کیے جانے والے کسی بھی ’سیاسی یا مالی فائدے‘ کو نظر انداز کریں۔

    حوثی رہنما کے مطابق امریکہ نے سعودی فضائی حدود میں میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کی ہیں اور وہ یمن میں سعودی عرب کی جانب سے ممکنہ ’کشیدگی میں اضافے‘ کی حمایت کے لیے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔

  12. لانگ مارچ کے پیشِ نظر ہوٹلوں کی بندش کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    راولپنڈی میں جماعتِ اسلامی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کے پیشِ نظر شہر بھر کے ہوٹلوں، موٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کیے جانے کے خلاف دائر درخواست کو لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    درخواست مرکزی انجمن تاجران کے رہنما احتشام الحق کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس تحریری احکامات کے بغیر زبانی ہدایات کے ذریعے ہوٹل بند کروا رہی ہے۔

    درخواست کے مطابق ہوٹلوں، موٹلوں اور ریسٹ ہاؤسز کی غیر معینہ مدت تک بندش غیر قانونی ہے اور اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ تاجروں کے کاروبار پہلے ہی شدید متاثر ہیں اور غیر معینہ مدت کے لیے ہوٹلوں کی بندش نا قابلِ قبول ہے۔

    ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس صداقت علی خان نے درخواست کی سماعت کی اور ہوم ڈیپارٹمنٹ، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر اور سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

    عدالت نے درخواست ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرنے کے بعد مزید کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

  13. علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر 2024 کے احتجاج کا کیس کا فیصلہ محفوظ، جمعہ کو سُنایا جائے گا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 26 نومبر 2024 کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں علیمہ خان کے خلاف فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو 25 ستمبر (جمعہ) کو سنایا جائے گا۔

    پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف مقدمے کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کی، جس دوران سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے اپنے حتمی دلائل مکمل کیے۔

    پراسیکیوشن کے مطابق علیمہ خان پر 26 نومبر کے پُر تشدد احتجاج کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ خان نے 22 نومبر 2024 کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے دوران احتجاج کی منصوبہ بندی کی اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کے ذریعے عوام کو احتجاج میں شرکت کے لیے اُکسایا۔

    پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ علیمہ خان نے 21 نومبر 2024 کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی اور پارٹی کارکنوں کو حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے متحرک کیا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق حکومت کو پُر تشدد کارروائیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوشش سنگین جرم اور دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔

    پراسیکیوشن نے علیمہ خان کی ویڈیوز، بیانات، ملاقاتوں سے متعلق ریکارڈ اور ان کا فرانزک تجزیہ عدالت میں پیش کیا۔

    پراسیکیوشن کے مطابق 26 نومبر کے مظاہروں کے دوران ایک پولیس اہلکار جان سے گیا جبکہ سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔

    پراسیکیوشن کا مؤقف تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر عوام کو پرتشدد کارروائیوں پر نہیں اکسایا جا سکتا اور 26 نومبر کے احتجاج سے معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

    پراسیکیوٹر کے دلائل کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا، جو کل سنایا جائے گا۔

    دوسری جانب علیمہ خان کے وکیل محمد فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئے اور فیصلہ محفوظ کیے جانے پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کی عدم موجودگی میں پراسیکیوٹر کے دلائل سن کر فیصلہ محفوظ کرنا مناسب نہیں۔

    وکیلِ صفائی نے علیمہ خان کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے پروڈکشن آرڈر کی درخواست بھی دائر کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان کی مؤکلہ کی عدم موجودگی کے باوجود سماعت یکطرفہ انداز میں آگے بڑھائی گئی، جسے وہ چیلنج کر رہے ہیں۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ علیمہ خان کو پیش کرنے کے بعد باقی کارروائی مکمل کی جائے اور پھر فیصلہ محفوظ کیا جائے۔

    حسان نیازی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ملتوی

    اُدھر لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت بھی ہوئی۔

    بی بی سی اردو کی لاہور میں نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق سپیشل پراسیکیوٹر منیر بھٹی ایڈووکیٹ نے عدالت سے دلائل کی تیاری کے لیے مہلت طلب کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی حال ہی میں تعیناتی ہوئی ہے۔

    دو رکنی بینچ نے اپیل اور متعلقہ درخواستوں پر دلائل دینے کا آخری موقع دیتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

    علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت جمعے تک ملتوی

    لاہور ہائی کورٹ میں علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔

    ترہب اصغر نے رپورٹ کیا ہے کہ علیمہ خان کے وکیل رانا مدثر عمر کی استدعا پر عدالت نے معاملے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی نقل پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت جمعے تک ملتوی کر دی۔

  14. اسحاق ڈار کا فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ’قابلِ اعتماد‘ سیاسی عمل پر زور

    نیو یارک میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی کمیٹی برائے فلسطین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال فوری اور سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حالیہ سفارتی کوششوں نے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کا ایک موقع پیدا کیا ہے، تاہم اب بھی سنگین چیلنجز موجود ہیں۔ ان کے مطابق انسانی صورتحال بدستور تشویشناک ہے جبکہ سکیورٹی کا ماحول انتہائی غیر مستحکم ہے۔

    پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کی تقریباً روزانہ خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ انھوں نے امریکہ، مصر، قطر اور ترکی سمیت ثالثی کرنے والے ممالک کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ یہ ممالک غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، میں اسرائیل کی غیر قانونی آباد کاری، آباد کاروں کے تشدد، الحاق کی پالیسیوں اور دیگر اقدامات سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی سالمیت اور تسلسل کو خطرات لاحق ہیں اور یہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    انھوں نے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کی بار بار دراندازی اور دیگر کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی خلاف ورزی ہیں۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال او آئی سی اور اس کے رکن ممالک کی جانب سے نئے اور مربوط سفارتی اقدامات کی متقاضی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ او آئی سی کو بین الاقوامی کوششوں کے فروغ کے لیے کام جاری رکھنا چاہیے تاکہ ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے ذریعے ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آ سکے۔

  15. نیویارک پہنچنے پر عباس عراقچی کی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ٹیلیفونک گفتگو

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سفارتی وفد کے ہمراہ نیو یارک پہنچ چکے ہیں۔

    یہاں پہنچنے کے بعد انھوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق عراقچی نے ایرانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ہمارا سب سے اہم مقصد ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم سے ایران کے عوام کے جائز حقوق، مفادات اور مؤقف کا دفاع کرنا ہے۔‘

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرنے والے ہیں۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عراقچی کی نیو یارک آمد کے موقع پر انھیں جنرل اسمبلی میں ایران کے ’سفارتی وفد کے سربراہ‘ کے طور پر متعارف کرایا۔

    بقائی کے مطابق عراقچی اجلاس میں شریک مختلف ممالک کے متعدد حکام اور وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں اور مشاورت کریں گے۔

  16. ایران یمن میں حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنا بند کرے: جی 7 ممالک کا مشترکہ بیان

    جی 7 ممالک (دنیا کی سات بڑی ترقی یافتہ معیشتوں والے ملک) کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایران یمن میں حوثیوں کو ’اسلحہ فراہم کرنا اور ان کی حمایت کرنا‘ بند کرے۔

    جی 7 نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی ’شدید ترین الفاظ میں‘ مذمت بھی کی اور کہا کہ یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی میں حالیہ شدت خطے اور عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے خطرہ ہے۔

    حالیہ دنوں میں ہزاروں پناہ گزین یمن سے فرار ہو چکے ہیں، جب ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں مزید علاقہ اپنے قبضے میں لیے۔ ان میں آبنائے باب المندب کے قریب کے علاقے بھی شامل ہیں، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔

    یہ بیان نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سالانہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے، جہاں ایران کے اعلیٰ حکام کی تقاریر متوقع ہیں۔

    برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے کہا: ’ہم حوثیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں، شہری جہاز رانی کے خلاف تمام دھمکیاں اور حملے بند کریں اور نیک نیتی کے ساتھ سیاسی عمل کی جانب واپس آئیں۔‘

    یہ بیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی ایک سائیڈ لائن ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یمن کے اہم شہر مخا پر سعودی حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ اطلاع حوثیوں سے منسلک ذرائع ابلاغ کے حوالے سے دی گئی ہے۔

    حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو بچے اور ایک خاتون شامل ہیں جبکہ آٹھ دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حوثیوں نے اس ماہ کے آغاز میں حکومت نواز فورسز سے لڑائی کے بعد مخا شہر پر قبضہ کیا تھا۔

    یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی عرب نے ان مبینہ حملوں پر تا حال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں لڑائی میں اچانک اضافے کے باعث مجموعی طور پر ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ یمنی بے گھر ہو چکے ہیں۔

  17. توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے جنید حفیظ کی اپیل کی آج لاہور ہائی کورٹ میں سماعت

    توہینِ مذہب کے مقدمے میں جنید حفیظ کو سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت آج لاہور ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے۔

    جنید حفیظ کے وکیل سیف الملوک نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے قبل بھی متعدد بار یہ اپیل سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی تاہم اس کو سنا ہی نہیں گیا۔

    ان کے مطابق جسٹس صادق محمود خرم اور جسٹس جواد ظفر پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ اپیل کی سماعت کرے گا۔

    جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں پیدا ہونے والے جنید حفیظ ملتان کی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی میں بطور وزیٹنگ لیکچرار خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انھوں نے فل برائٹ سکالرشپ کے تحت امریکہ میں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔

    سنہ 2013 میں ان کے خلاف مذہبی دل آزاری والے کلمات ادا کرنے اور سوشل میڈیا پر مذہبی دل آزاری پر مبنی تبصرے کرنے کے الزام لگا کر توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    سکیورٹی خدشات کے باعث مقدمے کی سماعت ملتان سینٹرل جیل میں کی گئی۔ اس مقدمے کے دوران ان کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن راشد رحمان کو مئی 2014 میں ملتان میں ان کے دفتر میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

    دسمبر 2019 میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کاشف قیوم نے جنید حفیظ کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 295 اے، بی اور سی کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی، عمر قید، 10 سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

    جنید حفیظ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے، جس کی سماعت آج مقرر ہے۔

  18. محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر اور وزیر داخلہ سے ملاقاتیں: ایران اور پاکستان علاقائی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں، مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان ’مل کر کام کریں تو اپنی بہت سی ضروریات اندرونی اور علاقائی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے پوری کر سکتے ہیں۔‘

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پزشکیان نے یہ بات پیر کے روز دورے پر آئے ہوئے پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران کہی۔

    انھوں نے ایران اور پاکستان کو خطے کے دو ’طاقت ور ممالک‘ قرار دیا ہے جو ’بے پناہ انسانی صلاحیتوں اور وافر وسائل‘ کے حامل ہیں۔

    ارنا کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران ایرانی اور پاکستانی حکومتوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان مسلسل ہونے والی ملاقاتیں اس بات کی واضح علامت ہیں کہ خطے میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلتوں کے باوجود مسلم ممالک کے درمیان روابط کا سلسلہ جاری ہے۔

    ایرانی صدر نے مشترکہ سرمایہ کاری اور دونوں ممالک کے مختلف شعبوں کے درمیان مزید قریبی تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی تعاون کو آسان بنانا اور باہمی روابط کو وسعت دینا تہران اور اسلام آباد کے تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

    ارنا کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات کبھی بھی اس قدر مضبوط سطح پر نہیں رہے، جس سطح پر آج ہیں، اور اسلام آباد تہران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات اور تعاون کو مزید فروغ دینے اور مستحکم بنانے کے لیے پُر عزم ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے بھی ملاقات کی۔

    پیر کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران سکندر مومنی اورمحسن نقوی نے دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے معاہدوں کو حتمی شکل دینے پر زور دیا۔

    سکندر مومنی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات وسیع ہیں اور دونوں ممالک کے حکام ہر شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے پُر عزم ہیں۔

    ایرانی وزیرِ داخلہ نے مزید کہا کہ پاکستان میں طے پانے والے بعض ’بہترین معاہدوں‘ پر پہلے ہی عمل درآمد ہو چکا ہے۔

    ارنا کے مطابق سکندر مومنی نے نشاندہی کی کہ تجارتی حجم کو تین ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک پہنچانا ہمارا قلیل اور درمیانی مدت کا ہدف ہے، جسے ’ہم حاصل کریں گے۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق سکندر مومنی نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کی سرحد 24 گھنٹے کھلی رہے گی۔

    ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ محسن نقوی نے اپنے ایرانی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔

    پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی اپنی کوششوں کے آغاز کے بعد سے محسن نقوی نے تہران کے کئی دورے کیے ہیں۔

  19. ہم اپنی فوجی صلاحیتیں مضبوط کر رہے ہیں: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    پاسدارانِ انقلاب کے نائب کمانڈر مصطفیٰ ایزدی نے کہا ہے کہ ’ایران کی مسلح افواج اپنی فوجی صلاحیتیں مضبوط کر رہی ہیں۔‘

    بی بی سی فارسی کی جانب سے دی جانے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے نائب کمانڈر مصطفیٰ ایزدی نے رات کے اوقات میں حکومت کے حامیوں کی سڑکوں پر موجودگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر عوام کی میدان میں موجودگی جاری رہی تو دشمن کی بہت سی سازشیں ناکام بنا دی جائیں گی۔‘

    پاسدارانِ انقلاب کے نائب کمانڈر نے مزید کہا کہ ’آج ہم میزائلوں، ڈرونز، کروز میزائلوں، سائبر نظام، الیکٹرانک جنگ اور فضائی دفاع کے شعبوں میں اپنی صلاحیتیں مضبوط کر رہے ہیں۔‘

  20. برطانیہ کا سعودی عرب کی درخواست پر یمنی حوثیوں کے خلاف ’دفاعی فوجی معاونت‘ فراہم کرنے کا اعلان

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ ’برطانیہ سعودی عرب کو دفاعی فضائی ایندھن بھرنے کی معاونت فراہم کرے گا۔‘ یہ فیصلہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے گئے حملوں کے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔

    برطانیہ کی جانب سے سعودی عرب کی معاونت کے اعلان پر آئندہ چند روز میں عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا اور اس میں ایک برطانوی طیارہ ’وائجر‘ شامل ہوگا، جو قبرص میں واقع آر اے ایف اکروتیری سے آپریٹ کرے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ’یہ فیصلہ سعودی عرب کی جانب سے ’فوجی معاونت‘ کی درخواست کے بعد کیا گیا، جسے انھوں نے وزیرِ دفاع ویس سٹریٹنگ اور وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے مشورے پر منظور کیا۔

    حکام نے کہا ہے کہ یہ پیشکش ’محدود مدت‘ کے لیے ہے اور ابتدائی طور پر اس کا دورانیہ ’چند ہفتوں‘ کا ہو سکتا ہے۔

    حوثی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف خانہ جنگی میں مصروف ہیں، جسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔

    حالیہ دنوں میں یمن کے حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان[وں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے علاوہ بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ملک کی توانائی کی تنصیبات پر بھی ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملے کیے ہیں۔

    برطانوی حکام کے مطابق ’دفاعی معاونت‘ میں سعودی فضائیہ کے طیاروں کو آنے والے حوثی میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرانے میں مدد فراہم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

    سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے حملوں سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جن کے پاس بظاہر ڈرونز اور میزائلوں کی مسلسل فراہمی موجود ہے اور وہ اپنے شمالی ہمسائے سعودی عرب کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    تاہم یمن میں سنہ 2014 سے وقفے وقفے سے جنگ جاری ہے اور لڑائی میں حالیہ شدت اس لیے مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کہ حوثیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے، جبکہ ایران خود بھی امریکہ کے ساتھ وقفے وقفے سے جاری جنگ میں مصروف ہے۔