راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت
نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 26 نومبر 2024 کے احتجاج سے متعلق مقدمے
میں علیمہ خان کے خلاف فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو 25 ستمبر (جمعہ) کو سنایا جائے گا۔
پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کی بہن علیمہ
خان کے خلاف مقدمے کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کی، جس
دوران سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے اپنے حتمی دلائل مکمل کیے۔
پراسیکیوشن کے مطابق علیمہ خان پر 26
نومبر کے پُر تشدد احتجاج کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار
کیا کہ علیمہ خان نے 22 نومبر 2024 کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے
دوران احتجاج کی منصوبہ بندی کی اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کے ذریعے عوام کو
احتجاج میں شرکت کے لیے اُکسایا۔
پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ علیمہ خان
نے 21 نومبر 2024 کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی اور پارٹی
کارکنوں کو حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے متحرک کیا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق حکومت کو پُر
تشدد کارروائیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوشش سنگین جرم اور دہشت گردی کے زمرے
میں آتی ہے۔
پراسیکیوشن نے علیمہ خان کی ویڈیوز،
بیانات، ملاقاتوں سے متعلق ریکارڈ اور ان کا فرانزک تجزیہ عدالت میں پیش کیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق 26 نومبر کے
مظاہروں کے دوران ایک پولیس اہلکار جان سے گیا جبکہ سرکاری اور نجی املاک کو نقصان
پہنچایا گیا اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔
پراسیکیوشن کا مؤقف تھا کہ اظہارِ
رائے کی آزادی کے نام پر عوام کو پرتشدد کارروائیوں پر نہیں اکسایا جا سکتا اور 26
نومبر کے احتجاج سے معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔
پراسیکیوٹر کے دلائل کے بعد عدالت نے
فیصلہ محفوظ کر لیا، جو کل سنایا جائے گا۔
دوسری جانب علیمہ خان کے وکیل محمد
فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئے اور فیصلہ محفوظ کیے جانے پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا
کہنا تھا کہ علیمہ خان کی عدم موجودگی میں پراسیکیوٹر کے دلائل سن کر فیصلہ محفوظ
کرنا مناسب نہیں۔
وکیلِ صفائی نے علیمہ خان کو عدالت
میں پیش کرنے کے لیے پروڈکشن آرڈر کی درخواست بھی دائر کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان
کی مؤکلہ کی عدم موجودگی کے باوجود سماعت یکطرفہ انداز میں آگے بڑھائی گئی، جسے
وہ چیلنج کر رہے ہیں۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ علیمہ خان کو پیش کرنے کے
بعد باقی کارروائی مکمل کی جائے اور پھر فیصلہ محفوظ کیا جائے۔
حسان نیازی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ملتوی
اُدھر لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت بھی ہوئی۔
بی بی سی اردو کی لاہور میں نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق سپیشل پراسیکیوٹر منیر بھٹی ایڈووکیٹ نے عدالت سے دلائل کی تیاری کے لیے مہلت طلب کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی حال ہی میں تعیناتی ہوئی ہے۔
دو رکنی بینچ نے اپیل اور متعلقہ درخواستوں پر دلائل دینے کا آخری موقع دیتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت جمعے تک ملتوی
لاہور ہائی کورٹ میں علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔
ترہب اصغر نے رپورٹ کیا ہے کہ علیمہ خان کے وکیل رانا مدثر عمر کی استدعا پر عدالت نے معاملے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی نقل پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت جمعے تک ملتوی کر دی۔