آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, خام تیل کی قیمت تین فیصد اضافے کے بعد 107.51 ڈالر فی بیرل، سعودی وزیر خارجہ کی مارکو روبیو سے ملاقات آج متوقع

صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز میں دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں پیر کی صبح برینٹ خام تیل کی قیمت میں تین فیصد تک کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان امریکی حکام سے ملاقاتوں کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں، جہاں اُن کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

خلاصہ

  • عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً تین فیصد اضافے کے بعد 107.51 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے
  • یمن میں حوثی گروپ کا کہنا ہے کہ اتوار کو تعز میں ہونے والے متعدد سعودی فضائی حملوں میں تقریباً 30 جنگجوؤں سمیت 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں
  • آبنائے ہرمز میں 14 ستمبر کو پاسدارانِ انقلاب کے حملے میں امریکی بحریہ کے آٹھ اہلکار زخمی ہوئے تھے: این بی ایس
  • ہم نیویارک امن کی راہ ہموار کرنے آئے ہیں، لیکن ضرورت پڑی تو تباہ کن جنگ کے لیے بھی تیار ہیں: عباس عراقچی
  • ریاض میں سکول عارضی طور پر بند، ایک ہفتے تک آن لائن کلاسز ہوں گی: اے ایف پی

لائیو کوریج

  1. تیل کی قیمت 107 ڈالر سے تجاوز، سعودی وزیر خارجہ کی روبیو سے ملاقات متوقع

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں تقریباً تین فیصد اضافہ ہوا ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

    تیل کی قیمت میں یہ اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی آبنائے ہرمز کو سات روز میں دوبارہ کھولنے کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد ہوا۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

    تاہم اسی دوران سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان مذاکرات کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے۔

    سعودی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر بات چیت کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت آئی ہے۔

    روئٹرز کو ذرائع نے بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے رواں ماہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے امریکہ سے فوجی مدد طلب کی تھی، تاہم واشنگٹن نے فضائی حملے کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔

    ذرائع کے مطابق امریکہ نے سعودی عرب کو حملوں کے اہداف کے تعین سے متعلق معلومات اور معاونت فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے آج ایک بار پھر کہا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ’بہت جلد‘ ختم ہو جائے گی اور جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمت میں نمایاں کمی آئے گی۔

  2. سیالکوٹ ایئرپورٹ انتظامیہ کی قطر ایئرویز کی پرواز کے جموں میں اترنے کی تردید, احتشام شامی، صحافی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی انتظامیہ نے قطر ایئرویز کی پرواز کے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے جموں میں لینڈ کرنے سے متعلق خبروں کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے تردید کی ہے۔

    ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق دوحہ سے سیالکوٹ آنے والی قطر ایئرویز کی پرواز 27 ستمبر کو علی الصبح سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری اور اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق دوبارہ دوحہ کے لیے روانہ ہوئی۔

    سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ترجمان محمد عمیر خان نے کہا کہ نجی فلائٹ ٹریکنگ سافٹ ویئر ’فلائٹ ریڈار 24‘ میں تکنیکی خرابی اور جی پی ایس کی غلط معلومات کے باعث مذکورہ پرواز کو غلط مقام پر دکھایا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ قطر سے آنے والی پرواز نے جموں، انڈیا میں نہیں بلکہ سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ، پاکستان پر لینڈ کیا تھا، جس کی تصدیق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ریڈار سسٹم سے بھی کی جا سکتی ہے۔

    ترجمان کے مطابق فلائٹ ریڈار 24 میں موجود تکنیکی خرابی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جہاں طیارے کو بار بار ایک ہی علاقے میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

  3. آبنائے ہرمز میں 14 ستمبر کو پاسدارانِ انقلاب کے حملے میں امریکی بحریہ کے آٹھ اہلکار زخمی ہوئے تھے: این بی ایس

    امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نے تین امریکی سرکاری عہدیداروں کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر ایران کے میزائل حملے میں امریکی میرین کور کے آٹھ اہلکار ’زخمی‘ ہوئے ہیں۔

    ان تین ذرائع نے این بی سی کو بتایا کہ 14 ستمبر کو ایران کے حملے کے وقت امریکی فوجی اس بحری جہاز پر موجود تھے جسے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    ذرائع نے بحری جہاز کی نوعیت نہیں بتائی، تاہم کہا کہ یہ امریکی بحریہ کا جنگی جہاز نہیں تھا۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بعض حملوں کی وجہ ایران کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو قرار دیا تھا، تاہم اس نے کہا تھا کہ ان کوششوں کے دوران امریکی فوج کے کسی بھی بحری جہاز کو نقصان نہیں پہنچا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر نے بھی چند روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فوجی دستے پہلی بار ایک پروجیکٹائل کو امریکی جنگی جہاز کے اوپر دھماکے سے اڑانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    این بی سی کی رپورٹ میں زخمی ہونے والے آٹھ امریکی میرین اہلکاروں کی تفصیلات کچھ یوں دی گئی ہیں:

    • آٹھ میرین اہلکاروں میں سات فوجی اور ایک افسر شامل تھے اور وہ ایک انفنٹری بٹالین کی جنگی ٹیم کے حصے کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
    • انھیں پہنچنے والے نقصانات میں دھوئیں کا سانس کے ذریعے اندر جانا۔
    • ان آٹھ میں سے کوئی بھی شدید زخمی نہیں ہوا اور واقعے کے کچھ ہی دیر بعد سب دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔
    • ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے 14 ستمبر کو ہونے والے اس حملے کے وقت عوامی طور پر اس بارے میں اطلاع نہیں دی تھی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بھی اس واقعے سے متعلق سوال کے جواب میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
    • ان آٹھ میرین اہلکاروں کے نام حملے کے تقریباً 10 روز بعد امریکی محکمہ دفاع کے ہلاکت و زخمی ہونے کے ریکارڈ کے ڈیٹا بیس میں درج کیے گئے۔
  4. امریکی صدر ٹرمپ کا ایک بار پھر جنگ کے جلد ختم ہونے اور ایران کے خلاف ’کامیابی‘ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔‘

    امریکی خبر رساں ادارے فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے خیال میں ہم یہ جنگ بہت جلد جیتنے والے ہیں اور جیسے ہی ہم جیتیں گے، تیل کی قیمت ڈرامائی طور پر کم ہو جائے گی اور جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ عسکری اعتبار سے یہ جنگ ’تقریباً جیت چکا ہے‘، تاہم فوجی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔

    امریکی صدر نے ایران کی معیشت اور کرنسی کو بھی تباہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران میں افراطِ زر کی شرح تقریباً 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے آج صبح 318 فیصد کا ہندسہ بھی سنا ہے۔‘

    ٹرمپ نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ ’ان کی کرنسی ختم ہو چکی ہے، ان کی معیشت ختم ہو چکی ہے اور ان کی فوج ختم ہو چکی ہے۔‘

    امریکی صدر اس سے قبل بھی ایران کے خلاف فیصلہ کن فوجی فتح اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول یا اسے کھلا رکھنے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔

    تاہم عالمی بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے مراکز کے اعداد و شمار کے مطابق خلیج فارس میں امریکی اور اسرائیلی جنگ سے پہلے اور بعد میں تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کی آمدورفت میں نمایاں فرق آیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی انٹیلیجنس اور فوجی ذرائع کی بعض رپورٹس ایران کی فوجی صلاحیت کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے دعوؤں سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتیں۔ بعض اندازوں کے مطابق ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں 50 فیصد تک برقرار ہیں۔

  5. تعز پر حملے کے بعد یمن کی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    تازہ اطلاعات کے مطابق یمن کے صوبے تعز میں یمن کی حکومتی افواج اور یمنی حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی نئی پیش قدمی روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    تعز ایک حساس صوبہ ہے جو ملک کے شمال میں یمنی حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں اور جنوب میں حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے درمیان واقع ہے۔

    حوثیوں نے سنیچر کے روز اعلان کیا تھا کہ صوبے کے ایک بازار پر حملے میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اس نے ’حوثیوں کے ایک فوجی مرکز‘ کو نشانہ بنایا۔

    گذشتہ ماہ سے ان جھڑپوں میں شدت آئی ہے، جب حوثی فورسز نے بندرگاہی شہر المخا پر قبضہ کیا تھا۔

  6. آر اے ایف فیئر فورڈ: دہشتگردی کی تیاری اور دھماکا خیز مواد کے الزامات میں پانچ افراد گرفتار

    پولیس کے مطابق تین ’مشتبہ گاڑیوں‘ کی برطانیہ کے ایک ہوائی اڈے کی جانب جانے کی اطلاع کے بعد دہشتگردی کی کارروائی کی کوشش، اس کی تیاری اور دھماکا خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    اتوار کو مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 12 بج کر 45 منٹ پر اطلاع ملنے کے بعد ایک بڑے ہنگامی واقعے کا اعلان کیا گیا اور گلاسٹر شائر میں رائل ائیر فورس (آر اے ایف) فیئر فورڈ کے قریب درجنوں گھروں کو خالی کرا لیا گیا۔

    برطانوی فوج کی دھماکا خیز مواد سے نمٹنے والی ٹیم نے اس ہوائی اڈے کے قریب گاڑیوں کا معائنہ شروع کر دیا ہے۔ یہ اڈہ امریکی فضائیہ (یو ایس اے ایف) کے زیرِ استعمال ہے، جبکہ انسدادِ دہشتگردی پولیس اس واقعے کی تحقیقات کی قیادت کر رہی ہے۔

    قریبی گاؤں ویلفورڈ سے نکالے گئے رہائشیوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ رات کے دوران اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکیں گے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں صورتحال قابو میں ہے۔

    فضا سے لی جانے والی تصاویر میں ایک ریموٹ کنٹرول روبوٹ کو جنگل میں کھڑی سفید وینز کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم پولیس نے اس کے استعمال کی تصدیق نہیں کی۔

    علاقے کے گرد 400 میٹر کا حفاظتی حصار قائم کر دیا گیا، جہاں بڑے پیمانے پر ہنگامی کارروائی کے تحت ایک خصوصی ٹیم بھی تعینات کی گئی۔

    اس مقام کا امریکی فوج کے ساتھ طویل عرصے سے تعلق ہے اور حالیہ عرصے میں اسے ایران پر دفاعی حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کے عارضی اڈے کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گرفتار افراد ’بڑا نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کافی عرصے سے ان پر نظر رکھے ہوئے تھے اور ہم نے انھیں پکڑ لیا۔‘

    برطانوی وزیر دفاع ویس سٹریٹنگ نے کہا کہ انھوں نے اپنے امریکی ہم منصب پیٹ ہیگسیتھ سے رابطہ کیا ہے۔

    امریکی فضائیہ کے ترجمان نے کہا کہ اس کے اہلکار چوکس ہیں، تاہم انھوں نے فورس کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے مخصوص اقدامات پر بات کرنے سے گریز کیا۔

    ادھر امریکی محکمہ دفاع نے سفوک میں واقع آر اے ایف لیکین ہیتھ کا سکیورٹی خطرے کا درجہ بڑھا کر دوسری بلند ترین سطح کر دیا ہے۔ اس اڈے پر امریکی فضائیہ کی 48ویں فائٹر ونگ تعینات ہے۔

    انسدادِ دہشتگردی پولیس اور گلاسٹر شائر پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور اتوار کی شام تک پانچوں افراد زیرِ حراست تھے۔

    بی بی سی کے مطابق یہ کارروائی کسی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر شروع نہیں کی گئی تھی۔ پانچوں افراد کو ابتدا میں گلاسٹر شائر پولیس نے گرفتار کیا اور دھماکا خیز مواد سے متعلق قانون کے تحت جرائم کے شبے میں حراست میں لیا، جس کے بعد انھیں دہشتگردی کی کارروائی کی تیاری کے شبے میں بھی گرفتار کیا گیا۔

  7. یمنی حوثیوں کا تعز میں سعودی افواج کے فضائی حملے میں 30 جنگجوؤں سمیت آٹھ شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    یمن میں حوثی گروپ کے متعدد ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کو تعز کے علاقے میں ہونے والے متعدد فضائی حملوں میں گروپ کے تقریباً 30 جنگجو اور آٹھ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے علاقے میں حوثیوں کے ایک فوجی کیمپ اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ایک فضائی حملے میں سات افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے، جس کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ یہ حملہ سعودی عرب نے کیا اور ایک بازار کو نشانہ بنایا۔

    تاہم بعدازاں چینل نے حوثیوں کی وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا کہ زخمیوں میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

    حوثیوں کی وزارتِ صحت نے کہا کہ حملے میں تعز صوبے کے مویہ چوراہے پر واقع ایک بازار اور متعدد دکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے کہا کہ اس کی فورسز نے اسی چوراہے پر حوثیوں کے ایک کیمپ اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔

    حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر تعز کے مضافات میں ایک بازار کو نشانہ بنانے والے دو فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں سمیت تقریباً 50 افراد متاثر ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ اس حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

    بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے اعلان کیا کہ مسلح افواج نے 72 گھنٹوں کے دوران 756 درست اور مؤثر کارروائیاں کیں اور حوثیوں کے 2,316 جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا جن میں چار ایرانی شہری بھی شامل ہیں۔

  8. ہم نیویارک امن کی راہ ہموار کرنے آئے ہیں، لیکن ضرورت پڑی تو تباہ کن جنگ کے لیے بھی تیار ہیں: عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’ایرانی اعلیٰ سطحی وفد نیویارک ’امن کی راہ ہموار کرنے‘ کے لیے آیا ہے، لیکن ’ایران کسی بھی جارحیت کے خلاف ثابت قدم رہے گا، چاہے اس کے نتیجے میں تباہ کن جنگ ہی کیوں نہ چھڑ جائے۔‘

    انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ’اس کے ساتھ ساتھ ایران حقیقی سفارت کاری اور حالات میں مثبت پیش رفت کے لیے بھی تیار ہے۔‘

    واضح رہے کہ عباق عراقچی ، جو صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچے تھے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان اب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز کو نا صرف ’مسترد‘ کر دیا تھا بلکہ انھیں ناقابلِ قبول بھی قرار دیا تھا۔

    تاہم کُچھ ہی وقت کے بعد امریکی صدر کی جانب سے ایک اور بیان بھی سامنے آیا تھا کہ جس میں انھوں نے کہا کہ تھا کہ ’آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ مزید مذاکرات ہوں گے۔‘

    عباس عراقچی نے گذشتہ جمعرات کو کہا تھا کہ اگر امریکہ ایران کی تجویز کردہ منصوبے سے اتفاق کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر کھول دیا جائے گا۔

  9. ریاض میں سکول عارضی طور پر بند، ایک ہفتے تک آن لائن کلاسز ہوں گی: اے ایف پی

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کئی سکولوں نے والدین کو اطلاع دی ہے کہ کلاسیں ایک ہفتے کے لیے آن لائن منعقد کی جائیں گی۔ والدین کو اتوار کے روز موصول ہونے والے پیغامات میں بتایا گیا کہ سعودی حکام کی ہدایت پر سکول عارضی طور پر بند رہیں گے اور طلبہ گھر سے تعلیم حاصل کریں گے۔

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سکول انتظامیہ نے بندش کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی۔ تاہم یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق ریاض میں رہنے والے بعض والدین نے اچانک فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی فیصلہ پورے ہفتے کے لیے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کرتا ہے تو اس کی وجوہات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ ایک والد نے کہا کہ خاندان شفافیت اور واضح معلومات کے حق دار ہیں، جبکہ ایک لبنانی شہری نے اسے آخری وقت میں کیا جانے والا غیر متوقع فیصلہ قرار دیا۔

    ابھی تک سعودی حکام نے سکولوں کی بندش یا دوبارہ معمول کے مطابق کلاسوں کے آغاز کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب سعودی قیادت والے اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب کی جانب آنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا ہے۔

    دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ یمن کے جنوب مغربی علاقے تعز کے نواح میں سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ علاقے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول ہیں۔

  10. آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے امریکی دعوے کھوکھلے ہیں: ایرانی سپیکر

    ایران کے پارلیمنٹ کے سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی عالمی قیمتیں خود اس بیانیے کی تردید کر رہی ہیں۔

    باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’امریکی پراپیگنڈا مشین کہتی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا، لیکن تیل کی قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں اور فی بیرل تقریباً 35 ڈالر زیادہ پر ٹریڈ ہو رہی ہیں۔‘

    انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’یا تو مارکیٹ اندھیر نگری کا شکار ہے یا پھر امریکی بیانیہ بنانے والی مشین حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔‘

    باقر قالیباف نے مزید کہا کہ اگر امریکی مؤقف درست ہے تو ’آبنائے ہرمز میں یقین رکھنے والوں کے لیے مفت ڈالر بانٹنے والی مشین موجود ہے، جا کر اسے حاصل کر لیں۔‘

  11. گذشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آئیے آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں

    • امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں ایران کے پاس تجارت یا بارٹر کے لیے تقریباً کچھ نہیں بچے گا۔ امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی معیشت پر امریکی دباؤ کے اثرات پر بات کرتے ہوئے سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اس وقت سمندر میں صرف ڈیڑھ کروڑ بیرل ایرانی تیل موجود ہے۔
    • سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے اہلِ خانہ نے ان کی ہمشیرہ نورین نیازی اور عمران خان کے درمیان ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں اور منسوب بیانات کی تردید کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
    • مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی سلامتی مراکش کی اپنی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ مراکش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ بیان سعودی عرب کے 26 ستمبر کو ریاض اور خمیس مشیط کی جانب داغے گئے حوثی ڈرونز اور میزائلوں کو تباہ کرنے کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے۔
    • ایران کی فوج نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے خطے میں کسی قسم کی فوجی کارروائی کی تو ایرانی افواج اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمنیہ نے کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی پوزیشن ’اچھی نہیں‘ اور اسی وجہ سے وہ فوجی جارحیت کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
  12. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔