لائیو, امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے، توانائی ڈھانچے پر حملے 10 دن کے لیے ’مؤخر‘ کیے: کیرولین لیویٹ

امریکہ کے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران میں امریکی آپریشن ’کامیابی سے جاری‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر طے شدہ حملوں کو 10 روز کے لیے ’مؤخر‘ کر دیا ہے اور ’یہ ایسا موقع ہے کہ ایرانی حکومت امریکہ کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرے۔‘

خلاصہ

  • ٹرمپ نے ایران میں واقع جزیرے خارگ پر قبضے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایرانی تیل حاصل کر سکتے ہیں
  • ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
  • ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ جوابی حملوں کا دائرہ وسیع کرے گا جس میں یونیورسٹیوں اور امریکی و اسرائیلی حکام کے گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
  • تہران کا کہنا ہے کہ وسطی شہر اسفہان کی ایک یونیورسٹی پر اس ہفتے کے آخر میں دوسری بار حملہ کیا گیا ہے۔
  • ایرانی حکومت کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد تہران کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں ایک صنعتی مقام پر ایرانی حملے سے لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
  • پاکستان کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک آئندہ چند دنوں میں امن مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران یا امریکہ نے شرکت کی منظوری دی ہے یا نہیں۔

لائیو کوریج

  1. اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو نکالا جائے: عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو نکالا جائے۔‘

    ایکس پر ایک پوسٹ میں عراقچی نے کہا کہ ایران سعودی عرب کا ’احترام‘ کرتا ہے اور اسے ایک ’برادر ملک‘ سمجھتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کی کارروائیاں ’دشمن جارحوں کے خلاف ہیں جو نہ عربوں کا احترام کرتے ہیں اور نہ ایرانیوں کا۔‘

    عراقچی نے اپنی باتوں کے ساتھ ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے جو بظاہر ایک تباہ شدہ طیارے کی ہے جس پر امریکی فضائیہ کے نشانات ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ ’بس دیکھو ہم نے ان کے فضائی کمانڈ کے ساتھ کیا کیا۔‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ابھی تک اس واقعے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بی بی سی نے تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

  2. ’امریکہ کے ساتھ ہمارے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے‘: ایرانی حکام کی پھر تردید

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل نیٹ ورک پر ایک پیغام پوسٹ کیا اور لکھا کہ ’ان اکتیس دنوں میں ہم نے امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔‘

    انھوں نے وضاحت کی کہ ’امریکہ کی طرف سے تجاویز کے کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کی گئی ہے، جو پاکستان سمیت کچھ ثالثوں کے ذریعے ہمیں پہنچائی گئی ہیں۔‘

    یہ پیغام وائٹ ہاؤس کے ترجمان اور ان سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بات کے بعد جاری کیا گیا۔

    بقائی نے لکھا کہ ’ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ اب ایسی صورت حال میں جب امریکی فوجی جارحیت اور جارحیت شدت کے ساتھ جاری ہے، ہم ایرانی قوم کے دفاع کے لیے اپنی تمام تر کوششیں اور توانائیاں وقف کر رہے ہیں۔۔۔ ہم نے سابقہ ​​تجربات کو اپنے گوشت اور خون کے ساتھ محسوس کیا ہے، اور ہم سفارت کاری کی دھوکہ دہی کو نہیں بھولیں گے جو دو سال سے بھی کم عرصے میں کی گئی۔‘

    یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے آج کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اچھی طرح سے آگے بڑھ رہے ہیں اور جاری ہیں۔

    لیویٹ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے حکام جن کے ساتھ امریکہ بات کر رہا ہے وہ پچھلے لیڈروں کے مقابلے میں ’پردے کے پیچھے زیادہ معقول‘ لگتے ہیں۔

  3. بریکنگ, لبنانی دیہات کے رہائشیوں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کا حکم

    اسرائیلی دفاعی افواج نے بقا وادی کے علاقے میں کئی لبنانی دیہات کے لوگوں کے لیے نئے انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    ان دیہات میں زالایا، لبیا، یحمور، سحمَر، قَلایا اور دلافی شامل ہیں۔

    اپڈیٹ میں، آئی ڈی ایف کے ترجمان اویخائے ادرعی نے کہا کہ رہائشیوں کو فوراً قَرعون قصبے کے شمال کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جنوب کی طرف کسی بھی قسم کی نقل و حرکت ’آپ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔‘

  4. بلوچستان: تشدد کے واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 5 افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت کم از کم 5 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ضلع جھل مگسی میں ایک پولیس تھانے پر کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے حملے کو ناکام بنادیا گیا۔

    کوئٹہ میں پیر کی شب ایگل فورس سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بتایا کہ کوئٹہ میں مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ایگل فورس سے تعلق رکھنے والے اہلکار معمول کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا ان اہلکاروں نے تین مشکوک افراد کو تلاشی کے لیے روکنے کی کوشش کی جس پر اُن افراد نے ایگل فورس کے اہلکاروں پر فائر کھول دیا جس میں دو اہلکار مارے گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    ادھر سندھ سے متصل بلوچستان کے ضلع کچھی میں مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے کوٹھڑہ کے علاقے میں پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی رحمت اللہ شاہ فون پر بتایا کہ یہ حملہ علی الصبح 6 بجے کے قریب کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے تھانے پر قبضے کی کوشش کی لیکن پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک راہگیر بچہ ہلاک ہو گیا جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے ڈیڑھ گھنٹے سے دو گھنٹے تک ان کا مقابلہ جس کے بعد سیکورٹی فورسز کے اہلکار ان کی مدد کے لیے پہنچے جس پر حملہ آور پسپا ہوکر چلے گئے۔

    درایں اثناء ضلع کے ایک پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ جب مسلح افراد پسپائی کے بعد چلے گئے تو پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کا پیچھا کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس دوران فرار ہونے والے مسلح افراد کے دوسرے ساتھیوں نے پیچھا کرنے والے اہلکاروں پر گھات لگاکر حملہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار مارا گیا جبکہ تین زخمی ہوگئے۔ حملے میں سکیورٹی فورسز کی دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    اس واقعے کے حوالے سے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ جھل مگسی میں کوٹھڑا کے علاقے میں پولیس اہلکاروں نے مسلح افراد کے حملے کو ناکام بنادیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جوابی کاروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ملک کے خلاف بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے ان عناصر کے گذشتہ شب کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی حملوں کو ناکام بنادیا گیا۔

    درایں اثناء بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی صدارت میں پیر کے روز کوئٹہ میں امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ۔ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق بلوچستان میں قیام امن کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔

  5. امریکہ ایران میں ’کام ختم کرنے کے لیے پرعزم‘ ہے: امریکی وزیرِ خارجہ

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے الجزیرہ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز ’کسی نہ کسی طرح‘ کھل جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ اب بھی اپنے جنگی مقاصد پر مرکوز ہے، جنہیں وہ ’مہینوں میں نہیں بلکہ ہفتوں میں‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    ان مقاصد میں ڈرون صلاحیتوں کو تباہ کرنا، ساتھ ہی ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کرنا شامل ہے۔

    انھوں نے نیوز چینل کو بتایا کہ ’اب امریکہ اس کام کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے‘۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کام ابھی کرنا ضروری تھا‘ کیونکہ اگر ایران مزید ہتھیار بنا لیتا تو مستقبل میں یہ زیادہ خطرناک ہو سکتا تھا۔

  6. بریکنگ, تہران میں دیر رات تازہ حملوں کی اطلاعات, غنچے حبیبی آزاد، سینئر رپورٹر، بی بی سی فارسی

    ایران کے دارالحکومت تہران میں شہر میں موجود پانچ ذرائع کے مطابق میں حملے ہو رہے ہیں۔

    تین ذرائع نے مغربی تہران سے بتایا کہ حملے شدید ہیں۔

    ایک ذریعے مجھے بتایا ہے کہ ’پانچ، چھ حملے ایک کے بعد ایک کافی قریب میں ہوئے‘۔

    دو دیگر ذرائع بھی ہمسایہ شہر کرج میں حملوں کی اطلاع دے رہے ہیں۔

    ایرانی ذرائع نے بھی تہران کے کچھ حصوں میں دھماکوں کی خبر دی ہے ۔

  7. امریکی وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ کا خلاصہ

    امریکی وائٹ ہاؤں کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا اصرار ہے کہ امن مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ ایرانی حکام اس سے انکار کرتے ہیں۔

    کیرولین لیویٹ نے کہا:

    فوجی کارروائی پر:

    • امریکہ اب تک 11,000 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور بحریہ کو ’تباہ‘ کر دیا ہے، 150 سے زیادہ جہازوں کو تباہ کیا گیآگ رتے ہوئے
    • لیویٹ نے کہا کہ ٹرمپ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم سفارت کاری اب بھی ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہے

    امن مذاکرات پر:

    • لیویٹ نے زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اچھی طرح جاری ہیں اور ابھی بھی چل رہے ہیں
    • انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران اس ’موقعے‘ کو مسترد کرتا ہے تو فوج تیار ہے کہ ٹرمپ کو ’ہر آپشن‘ فراہم کیا جائے گا تاکہ ایران کو ’سنگین قیمت‘ چکانی پڑے
    • انھوں نے کہا کہ جن ایرانیوں سے امریکہ بات کر رہا ہے وہ پسِ پردہ پچھلے رہنماؤں کے مقابلے میں ’زیادہ معقول‘ نظر آتے ہیں
    • ایک طرف ایرانی حکام مسلسل کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے، لیویٹ نے اصرار کیا کہ ایاس ہو رہا ہے اور ’امریکی عوام اتنے سمجھدار ہیں کہ دہشت گرد حکومت کے الفاظ پر یقین نہ کریں‘۔
  8. ’صدر طے شدہ مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تاہم سفارت کاری اب پہلی ترجیح ہے‘

    ایران میں ممکنہ زمینی افواج بھیجے جانے سے متعلق سوال پرلیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ’ظاہر ہے کہ اس امکان کو رد نہیں کیا ہے۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ پینٹاگون کا مقصد صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرنا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھوں نے کوئی فیصلہ کر لیا ہے۔

    اس بارے میں کہ آیا صدر ایران میں فوج بھیجنے سے پہلے کانگریس کی منظوری حاصل کریں گے، وہ کہتی ہیں کہ انتظامیہ ہمیشہ قانون کی پاسداری کرے گی اور ٹرمپ کو کانگریس کا بہت احترام ہے۔

    لیویٹ سے آج صبح صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ ایران کے ’تمام ڈی سیلینائزیشن پلانٹس‘ کو ’ممکنہ طور پر‘ تباہ کر سکتے ہیں، اور صدر ایسا اقدام کیوں کریں گے جو غالباً جنگی جرم سمجھا جائے گا۔

    ڈی سیلینائزیشن پلانٹس، جو نمکین پانی کو پینے کے قابل پانی میں تبدیل کرتے ہیں، خطے میں شہری پانی کی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    لیویٹ نے جواب دیا کہ ’یقیناً انتظامیہ اور امریکی مسلح افواج ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر عمل کریں گی۔‘

    جب دوبارہ پوچھا گیا کہ ڈی سیلینائزیشن پلانٹ پر بمباری سے کیا مقصد حاصل ہوگا تو لیویٹ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

    ایک رپورٹر نے پریس سیکرٹری سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے بارے میں پوچا کہ آیا ٹرمپ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں یا کارروائیوں میں اضافہ؟

    لیویٹ نے کہا کہ ’صدر وہ مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں جو انھوں نے طے کیے ہیں، اور پینٹاگون کا کام زیادہ سے زیادہ طاقت فراہم کرنا ہے۔‘

    تاہم انھوں نے زور دیا کہ ’سفارت کاری اب بھی ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہے۔‘

  9. امریکہ جن سے بات کررہا ہے وہ پچھلے رہنماؤں کے مقابلے ’زیادہ معقول‘ نظر آتے ہیں: کیرولین لیویٹ

    امریکہ کے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ سے میڈیا بریفنگ کے دوران ایک رپورٹر کی جانب سے سوا ل کیا گیا کہ صدر نے پہلے کہا تھا کہ وہ ایک نئی اور نسبتاً ’معقول‘ حکومت سے بات کر رہے ہیں، تو امریکہ کو کس حد تک یقین ہے کہ جن لوگوں سے وہ بات کر رہا ہے وہ جائز نمائندے ہیں اور واقعی اقتدار میں ہیں؟

    پریس سیکرٹری نے جواب دیا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ شامل افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں سے وہ بات کررہے ہیں وہ پچھلے رہنماؤں کے مقابلے میں ’زیادہ معقول‘ نظر آتے ہیں۔

    لیویٹ سے پوچھا گیا کہ صدر موجودہ ایران جنگ کے ٹائم لائن کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

    انھوں نے جواب دیا کہ ’صدر ٹرمپ نے ابتدا ہی سے کہا تھا کہ ایران میں آپریشن تقریباً چار سے چھ ہفتے تک جاری رہے گا، اور اب بھی ان کا یہی خیال ہے۔ آج 30 واں دن ہے۔‘

    لیویٹ سے پوچھا گیا کہ اگر امریکہ جنگ کے مقاصد حاصل کر لے لیکن آبنائے ہرمز سے گزرنا مشکل رہے تو کیا صدر فوجی کارروائی ختم کر دیں گے؟

    انھوں نے کہا کہ بنیادی مقاصد وہی ہیں، ایرانی بحریہ اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنا، ان ہتھیاروں کو بنانے والے دفاعی ڈھانچے کو ختم کرنا، اور ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آبنائے کو دوبارہ کھولنا وہ چیز ہے جس پر امریکہ کام کر رہا ہے، لیکن بنیادی مقاصد واضح طور پر متعین ہیں۔‘

  10. امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے، توانائی ڈھانچے پر حملے 10 دن کے لیے ’مؤخر‘ کیے: وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران میں امریکی آپریشن ’کامیابی سے جاری‘ ہے۔

    بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’اب تک 11,000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ’زیادہ دباؤ ڈالنے کی صلاحیت‘ ملی ہے اور ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیتیں مفلوج ہو گئی ہیں۔‘

    انھوں نے دعوی کیا کہ ’ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے تقریباً 90 فیصد کم ہو گئے ہیں۔ امریکی کارروائی نے ایران کی بحریہ کو بھی ’تباہ‘ کر دیا ہے، جس میں 150 سے زیادہ جہاز تباہ کیے گئے، جن میں ان کے سب سے بڑے جہازوں کا 92 فیصد شامل ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر طے شدہ حملوں کو 10 روز کے لیے ’مؤخر‘ کر دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ایسا موقع ہے کہ ایرانی حکومت امریکہ کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرے۔‘

    لیویٹ نے مزید کہا کہ اگر ایران اس موقع کو رد کرتا ہے تو امریکی فوج ’تیار ہے‘۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ امریکہ ’ہر ممکنہ آپشن‘ اختیار کررے گا اور ’ایرانی حکومت سنگین قیمت ادا کرے گی۔‘

    لیویٹ نے ان رپورٹس پر بات کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایرانی حکام امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق، ایرانی حکومت کی ’عوامی دکھاوا‘ اور میڈیا کی ’غلط رپورٹنگ‘ کے باوجود، امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور اچھی طرح آگے بڑھ رہی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’نجی سطح پر ہونے والی بات چیت عوامی سطح پر دکھائی جانے والی صورتحال سے مختلف ہوتی ہے۔‘

  11. جنوبی لبنان میں امن فوج کے دو اہلکار ہلاک

    اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ پیر کے روز جنوبی لبنان میں امن فوج کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

    یونیفیل (UNIFIL) جو لبنان میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج ہے نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اہلکار اس وقت مارے گئے جب ’ایک نامعلوم دھماکے سے بنی حیّان کے قریب ان کی ایک گاڑی تباہ ہوگئی۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ایک تیسرے امن فوجی کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ایک اور اہلکار بھی زخمی ہوا۔‘

    یونیفیل کے مطابق یہ 24 گھنٹوں میں دوسرا مہلک واقعہ ہے اور انھوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا۔

    اس سے پہلے اتوار کی رات ایک الگ واقعے میں جنوبی لبنان میں ایک امن فوجی ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا تھا، جس کی اطلاع یونیفیل نے پیر کی صبح دی تھی۔

  12. امریکہ کو دیکھنا ہو گا کہ ایران میں جن سے بات ہو رہی ہے، کیا وہی اقتدار میں آتے ہیں: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد کہ امریکہ ’زیادہ معقول‘ ایرانی حکومت سے بات کر رہا ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ انتظامیہ کو اس ’امکان‘ کے لیے تیار رہنا ہوگا کہ مذاکرات ناکام بھی ہو سکتے ہیں۔

    امریکی ٹیلی وژن چینل اے بی سی کے پروگرام گڈ مارننگ امریکہ سے گفتگو میں روبیو نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ ایران میں بات کر کس سے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ان کے نام بتا دیے گئے تو شاید ایران میں دوسرے گروہوں سے انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’آخر میں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا واقعی یہی لوگ اقتدار سنبھالتے ہیں یا نہیں۔‘

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ امریکہ ایران میں اپنی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے ’ایک نئی اور زیادہ معقول حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات‘ کر رہا ہے۔

    جب روبیو سے اس پوسٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ’یہ اچھی خبر ہو گی اگر نئے لوگ اقتدار میں ہوں جن کی مستقبل کے بارے میں زیادہ معقول سوچ ہو۔ لیکن ہمیں اس امکان کے لیے بھی تیار رہنا ہو گا کہ شاید ایسا نہ ہو۔‘

    ایران نے بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کی امریکہ سے کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان امریکی تجاویز کو ’حد سے زیادہ اور نامعقول‘ قرار دے چکے ہیں۔

  13. جنگ پر ابتدائی نیوز بریفنگز کے بعد پینٹاگون خاموش ہو گیا, ٹام بیٹ مین، نامہ نگار امریکی محکمۂ خارجہ

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    گذشتہ 48 گھنٹوں سے امریکی میڈیا پر ایران کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائیوں کی خبریں بھری پڑی ہیں، جو ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کی جانب سے گمنام بریفنگز پر مبنی ہیں۔

    تاہم سرکاری طور پر پینٹاگون کچھ بھی نہیں کہہ رہا۔

    در حقیقت انتظامیہ کی جانب سے جنگ سے متعلق پیغام رسانی کا طریقۂ کار تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔

    جنگ کے پہلے 15 دنوں میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ ہر چند دن بعد پریس بریفنگ دیتے تھے۔ ان کے ساتھ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈین کین بھی ہوتے تھے۔اگرچہ ان بریفنگز تک رسائی سخت کنٹرول کے ساتھ ہوتی تھی لیکن پھر بھی امریکی فوج سے کچھ مشکل سوال آن ریکارڈ پوچھنے کا ایک موقع ضرور مل جاتا تھا۔

    اب 11 دن گزر چکے ہیں اور ایسی کوئی بریفنگ نہیں دی گئی۔

  14. امریکہ ایران مذاکرات میں ’نمایاں پیش رفت‘ کا کوئی ثبوت نہیں, لیز ڈوسے، بین الاقوامی نامہ نگار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہMandel NGAN / AFP via Getty Images

    جنگ میں کچھ بھی غیر متوقع ہو سکتا ہے مگر ابھی تک ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی تائید کرے کہ امریکہ اور تہران میں ’بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔‘

    دونوں ملک ابھی تک بالواسطہ طور پر ہی ایک دوسرے کو پیغامات بھجوا رہے ہیں۔

    پاکستان نے جو 15 نکاتی منصوبہ پہنچایا تھا، ایران نے اب تک اس کا باضابطہ جواب بھی نہیں دیا ہے۔ تاہم ان نکات کی جو معلومات لیک ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عملاً ہتھیار ڈالنے کی دستاویز ہے۔

    فروری اور گذشتہ سال جون میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے دو دور امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں سبوتاژ ہوئے، اس کے بعد سے اعتماد کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔

    ایران واضح کر رہا ہے کہ وہ اب اس سابقہ چینل کے ذریعے کام نہیں کرنا چاہتا، وہ چینل جو ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کی سربراہی میں تھا اور جسے تہران اب چال بازی سمجھتا ہے۔

    اسی وجہ سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس معاملے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    خطے کے سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک کسی قسم کے براہ راست مذاکرات پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا اور نہ ہی فاصلے کم کرنے پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔

    ٹرمپ کا یہ کہنا بھی زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا کہ ایران میں ایک ’نئی اور زیادہ معقول‘ حکومت ہے، کیونکہ وہاں کا نظام اس وقت عسکریت زدہ ہے اور قتل کی گئی ایرانی قیادت کی جگہ سخت گیر عناصر غالب آ گئے ہیں۔

    جیسے جیسے امریکا ممکنہ کشیدگی میں اضافے کی طرف بڑھ رہا ہے، ایران کی بنیادی ترجیح بھی یہی ہے۔

  15. ترکی کا ایران کی جانب سے داغا گیا ایک اور (جنگ کے آغاز سے اب تک چوتھا) میزائل روکنے کا دعویٰ

    ترکی نے دعویٰ کیا ہے کہ نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے ایک بیلسٹک میزائل کو ’غیر مؤثر‘ بنا دیا ہے جو ترک فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔

    ایکس پر جاری بیان میں ترک وزارت دفاع نے کہا: ’اس بات کا تعین ہوا کہ میزائل ایران سے داغا گیا تھا۔‘

    جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک یہ چوتھی بار ہے جب ترکی نے میزائل روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اس سے قبل چار، نو اور 13 مارچ کو یہ دعوے کیے جا چکے ہیں۔

  16. توانائی کی بڑھتی لاگت، اردن کی سرکاری عمارات میں ایئر کنڈیشنر کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی

    توانائی کی بڑھتی لاگت، اردن کی سرکاری عمارات میں ایئر کنڈیشنر کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے خلیجی ممالک پر معاشی دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی کے پیش نظر اردن نے سرکاری عمارات میں ایئر کنڈیشنر کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔

    اردن کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملک کے وزیر اعظم جعفر حسن نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا جس کے تحت سرکاری گاڑیوں کا استعمال بھی محدود کیا جا رہا ہے اور دو ماہ تک سرکاری وفود اور کمیٹیوں کے بین الاقوامی دوروں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔

    اردن کی حکومت پہلے ہی اعتراف کر چکی ہے کہ ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ملک کی اقتصادی صورت حال کو متاثر کر رہی ہیں۔

  17. جنگ کے آغاز سے اب تک چھ ہزار سے زیادہ افراد کو ہسپتال لایا گیا: اسرائیل کا دعویٰ

    ایرانی حملوں سے اسرائیل میں ہونے والی تباہی کی ایک تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسرائیل کی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے اب تک اسرائیل میں چھ ہزار سے زیادہ افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے۔

    وزارت کے مطابق 121 مریض اب بھی زیر علاج ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک جبکہ 16 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

    وزارت نے مزید کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر کے ہسپتالوں میں 232 زخمی لائے گئے۔

  18. سپین نے ایران جنگ میں شامل امریکی طیاروں پر اپنی فضائی حدود بند کر دی

    سپین کے وزیر اعظم

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    سپین کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ایران پر حملوں میں شامل امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے۔

    وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت نے ’جنگ سے متعلق کسی بھی کارروائی کے لیے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی فضائی حدود کے استعمال کی۔‘

    فوجی اڈوں کے استعمال پر پابندی کا اعلان مارچ کے آغاز میں ہی کر دیا گیا تھا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید رد عمل دیتے ہوئے سپین کے خلاف تجارتی اقدامات کی دھمکی دی تھی۔

    سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کو غير ذمہ دارانہ اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔

  19. متحدہ عرب امارات کا 24 گھنٹوں میں 40 کے قریب میزائل اور ڈرون حملے روکنے کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات

    ،تصویر کا ذریعہChristopher Pike/Getty Images

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے 24 گھنٹوں کے دوران 11 میزائل اور 27 ڈرون روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    وزارت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک وہ 1941 ڈرونز اور 440 میزائلوں سے نمٹ چکی ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں مزید بتایا گیا کہ اب تک ہوئے حملوں میں 178 افراد زخمی اور آٹھ ہلاک ہوئے۔

    دوسری جانب، بحرین کی دفاعی فورس نے کہا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران اس نے آٹھ میزائل اور سات ڈرون روکے اور اب تک وہ 182 میزائل اور 398 ڈرون روک چکی ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران ان پڑوسی ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں امریکہ کی موجودگی ہے۔

  20. جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی مطالبات ’حد سے زیادہ اور نامعقول‘ ہیں: ایران

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بغائی

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    اب سے کچھ دیر پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ امریکہ ’ایران میں ایک نئی اور زیادہ مناسب حکومت‘ کے ساتھ ’سنجیدہ مذاکرات‘ کر رہا ہے۔

    آج اس سے پہلے ایران کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے ایران کو پہنچائے گئے مطالبات ’حد سے زیادہ اور نامعقول‘ ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق اسماعیل بغائی نے کہا کہ تہران کی امریکہ کے ساتھ ’براہ راست کوئی بات چیت نہیں ہوئی‘ اور اب تک جو بھی گفتگو ہوئی وہ ’ثالثوں کے ذریعے پیغامات تھے کہ امریکہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو ملاقاتیں ہو رہی ہیں وہ ایسے فریم ورک کے تحت ہیں جو ’انھوں نے خود بنایا ہے‘ اور ایران اس میں ’شامل نہیں ہوا۔‘

    بغائی نے امریکہ پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ اپنا مؤقف ’مسلسل‘ تبدیل کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا: ’مجھے نہیں معلوم کہ امریکہ میں کتنے لوگ امریکی سفارت کاری کے دعوے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘