کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت کم از کم 5 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ضلع جھل مگسی میں ایک پولیس تھانے پر کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے حملے کو ناکام بنادیا گیا۔
کوئٹہ میں پیر کی شب ایگل فورس سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بتایا کہ کوئٹہ میں مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ایگل فورس سے تعلق رکھنے والے اہلکار معمول کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا ان اہلکاروں نے تین مشکوک افراد کو تلاشی کے لیے روکنے کی کوشش کی جس پر اُن افراد نے ایگل فورس کے اہلکاروں پر فائر کھول دیا جس میں دو اہلکار مارے گئے۔
انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ادھر سندھ سے متصل بلوچستان کے ضلع کچھی میں مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے کوٹھڑہ کے علاقے میں پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی رحمت اللہ شاہ فون پر بتایا کہ یہ حملہ علی الصبح 6 بجے کے قریب کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے تھانے پر قبضے کی کوشش کی لیکن پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا۔
انھوں نے بتایا کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک راہگیر بچہ ہلاک ہو گیا جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے ڈیڑھ گھنٹے سے دو گھنٹے تک ان کا مقابلہ جس کے بعد سیکورٹی فورسز کے اہلکار ان کی مدد کے لیے پہنچے جس پر حملہ آور پسپا ہوکر چلے گئے۔
درایں اثناء ضلع کے ایک پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ جب مسلح افراد پسپائی کے بعد چلے گئے تو پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کا پیچھا کیا۔
انھوں نے بتایا کہ اس دوران فرار ہونے والے مسلح افراد کے دوسرے ساتھیوں نے پیچھا کرنے والے اہلکاروں پر گھات لگاکر حملہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار مارا گیا جبکہ تین زخمی ہوگئے۔ حملے میں سکیورٹی فورسز کی دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
اس واقعے کے حوالے سے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ جھل مگسی میں کوٹھڑا کے علاقے میں پولیس اہلکاروں نے مسلح افراد کے حملے کو ناکام بنادیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جوابی کاروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔
انھوں نے بتایا کہ ملک کے خلاف بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے ان عناصر کے گذشتہ شب کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی حملوں کو ناکام بنادیا گیا۔
درایں اثناء بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی صدارت میں پیر کے روز کوئٹہ میں امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ۔ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق بلوچستان میں قیام امن کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔