امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے: وینس

ایک انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے بتایا کہ اس انتظام کے تحت ایرانی اور امریکی فوجی حکام دوحہ میں ملاقاتیں کریں گے جہاں وہ باہمی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

خلاصہ

  • وینزویلا میں دو شدید زلزلوں کے بعد ایمرجنسی نافذ، ہزاروں افراد کی ہلاکت کا خدشہ
  • زلزلے سے شدید نقصان کے باعث وینزویلا کا مرکزی ایئرپورٹ بند
  • ٹرمپ کا کانگریس سے 87 ارب ڈالر جاری کرنے کا مطالبہ: اس فنڈنگ کا بیشتر حصہ ایران جنگ سے جڑی 'ہنگامی ضروریات' کے لیے ہے، وائٹ ہاؤس
  • ایران نے وعدے پورے نہ کیے تو ٹرمپ کے پاس کئی آپشنز ہیں: مارکو روبیو
  • امریکہ نے اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے واپس بلانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا: وزیر دفاع اسرائیل کاٹز
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تحریک انصاف کو انتخابات میں حصہ لینے کی عبوری اجازت

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    26 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. آبنائے ہرمز کے قریب جہاز پر حملہ: اقوام متحدہ نے ملاحوں کے انخلا کا آپریشن روک دیا, وکی وونگ اور ایما پینگلی، بی بی سی نیوز

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11,000 سے زائد ملاحوں کے انخلا کا منصوبہ اس آبی گزرگاہ کے قریب ایک کارگو جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    آئی ایم او کے سربراہ ارسینیو ڈومنگیز کا کہنا ہے کہ کئی جہازوں کو پہلے ہی نکالا جا چکا ہے، تاہم ادارہ یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ’ضروری حفاظتی ضمانتیں‘ برقرار رہیں۔

    برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ ایک جہاز کو عمان کی بندرگاہ دہیت سے جنوب مشرق میں 7.5 سمندری میل کے فاصلے پر ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    سمندری خطرات کے حوالے سے کام کرنے والی کمپنی وین گارڈ کے مطابق کہ سنگاپور کے جھنڈے تلے چلنے والا جہاز ایور لَوَلی حملے کے باوجود آبنائے سے گزر گیا۔

    فروری سے امریکہ،اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث خلیج میں سینکڑوں جہاز اور ہزاروں ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔

    آبنائے ہرمز سے جہازوں اور ملاحوں کے انخلا کے لیے اقوامِ متحدہ کے آپریشن کا اعلان منگل کو اس وقت کیا گیا تھا جب آبنائے دوبارہ کھولی گئی تھی۔

    ڈومنگیز کے مطابق اس ’بڑے پیمانے کے آپریشن‘ میں ایران، عمان، امریکہ اور خطے کے دیگر ساحلی ممالک اور میری ٹائم انڈسٹری کا تعاون حاصل تھا۔

    ڈومنگیز نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ جس جہاز پر حملہ ہوا وہ ’آئی ایم او کے انخلا فریم ورک کے تحت سفر نہیں کر رہا تھا۔‘

    انہوں نے مزید کہا: ’میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ ملاحوں کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ اسی لیے مربوط حکمتِ عملی اور بحری حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انخلا کے منصوبے کو اس وقت تک روکا جائے گا جب تک مزید وضاحت حاصل نہیں ہو جاتی۔‘

    جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق ایور لاولی نامی کارگو جہاز جمعرات کی صبح آبنائے میں جنوبی راستے سے داخل ہوا تھا اور مقامی وقت کے مطابق تقریباً 3:30 بجے مشرق کی جانب سے باہر باہر نکا۔

    وین گارڈ کے مطابق اس دوران اس جہاز کو کسی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

    گذشتہ ہفتے امریکہ اور ایران نے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کے کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق کیا تھا، جس میں یہ بھی شامل تھا کہ ایران 60 دن تک ’بغیر کسی فیس کے تجارتی جہازوں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے کوششیں کرے گا۔‘

    تاہم تہران بار بار کہتا رہا ہے کہ وہ آبنائے سے گزرنے کے لیے ٹول کے بجائے ’بحری خدمات کی فیس‘ وصول کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

  3. آبنائے ہرمز کے قریب کارگو جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: برطانوی ایجنسی

    عمان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے میریٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ اسے عمان کے شمال میں آبنائے ہرمز کے قریب ایک واقعے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

    یو کے ایم ٹی او کے مطابق ایک کارگو جہاز کے سٹار بورڈ (دائیں حصے) کو نامعلوم نوعیت کے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے جہاز کے برج کو نقصان پہنچا ہے۔

    جہاز کے کپتان کے مطابق اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ہے۔

    یو کے ایم ٹی او کے مطابق حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور علاقے میں موجود جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

  4. بریکنگ, امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے: جے ڈی وینس

    جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ایک براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    برطانوی دائیں بازو کی ویب سائٹ ’ان ہرڈ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے بتایا کہ اس انتظام کے تحت ایرانی اور امریکی فوجی حکام دوحہ میں ملاقاتیں کریں گے جہاں وہ باہمی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

    انھوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ٹھیک ہے، ہم پاسداران انقلاب کا ایک نمائندہ دوحہ بھیج دیتے ہیں، جو امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک اہلکار کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرے گا اور اسی طرح ہم بہت سے تنازعات حل کریں گے۔‘

    جے ڈی وینس نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کے ساتھ ایسے رابطے قائم کیے ہیں، جو اس سے پہلے موجود نہیں تھے، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست بات چیت بھی شامل ہے۔

    ان کے مطابق ’متحدہ عرب امارات ایرانی حکام کے ساتھ ایسے مذاکرات کر رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوئے، جن میں آئی آر جی سی کے ساتھ مختلف نوعیت کی معاشی مراعات پر بات چیت بھی شامل ہے۔‘

  5. آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک نئے راستے کا اعلان ’ناقابل قبول‘ اور ’انتہائی خطرناک‘ ہے: پاسداران انقلاب

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق سخت بیان کے چند گھنٹوں بعد ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفون پر اہم رابطہ ہوا ہے۔

    پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک نئے راستے کا اعلان ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی معلومات یا رابطہ کاری کے بغیر کیا گیا، جسے ایران نے ’ناقابل قبول‘ اور ’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی نے گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک کی تازہ صورتحال اور 60 روزہ عبوری انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔

    واضح رہے کہ عمان نے حالیہ دنوں میں بحری جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے عمان کے دورے کے بعد سامنے آیا، جہاں انھوں نے عباس عراقچی کے ہمراہ سلطانِ عمان سے آبنائے ہرمز کی صورتحال سمیت دیگر امور پر بات چیت کی تھی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق پاسداران انقلاب کا حالیہ سخت ردعمل دراصل عمان کی جانب سے اس نئے راستے کے یکطرفہ اعلان کے خلاف ہے۔

    آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے، عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی توانائی کی ایک بڑی مقدار بحری راستے سے گزرتی ہے۔

    ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایک نیا نظام تشکیل دے رہا ہے، جسے عمان کے ساتھ مشاورت سے آگے بڑھایا جائے گا۔ تاہم تہران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے کی انتظامیہ گذشتہ جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔

    دوسری جانب، خطے کے ممالک کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بین الاقوامی قوانین کے مطابق بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنی چاہیے۔

    متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ’جارحیت کے ذریعے حقائق مسلط کرنا استحکام نہیں لاتا بلکہ مستقبل کے تنازعات کو جنم دیتا ہے، اور یہ بات آبنائے ہرمز کے معاملے میں بالکل درست ہے۔‘

    ادھر خلیج تعاون کونسل نے بحرین میں ہونے والے اجلاس میں، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے، آبنائے ہرمز کے بحران پر تفصیلی غور کیا۔

    مارکو روبیو نے اس موقع پر کہا کہ ’بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہوتیں۔ یہ ایک بنیادی عالمی اصول ہے، جس کے بغیر دنیا میں مکمل افراتفری پیدا ہو سکتی ہے۔‘

  6. لبنان اور اسرائیل مذاکرات کا آخری مرحلہ واشنگٹن میں شروع ہو گیا

    لبنان، اسرائیل اور امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا آخری دور واشنگٹن ڈی سی میں امریکی محکمہ خارجہ میں شروع ہو گیا ہے۔

    یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیل لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا یہ مذاکرات کوئی دیرپا سیاسی حل نکال سکیں گے یا نہیں۔

    امریکہ کے دباؤ پر لبنانی حکام نے اپریل میں واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کیے تھے۔ مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک ایک ’پختہ ارادے‘ کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

  7. امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بحرین میں پریس کانفرنس کے دوران کن اہم نکات پر بات کی؟

    امریکہ، ایران، خلیج

    ،تصویر کا ذریعہPOOL / AFP via Getty Images

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں پریس کانفرنس کے دوران مختلف علاقائی اور عالمی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    انھوں نے واضح کیا کہ امریکہ نے خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے لیے کسی تعمیرِ نو فنڈ پر کوئی بات چیت نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ خلیجی ممالک آبنائے ہرمز کے استعمال پر کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس یا فیس کے حق میں بالکل نہیں ہیں۔

    مارکو روبیو نے کہا کہ یورپ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ وہاں فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دینا امریکہ اور یورپ کے درمیان اتحاد کو کمزور کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران، امریکہ کے مقابلے میں یورپ کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

    ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ یہ معاہدہ کامیاب ہو اور اس کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا، تاہم وہ ’ہر قیمت پر معاہدہ‘ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    لبنان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ امریکہ وہاں ایک پُرامن مستقبل دیکھنا چاہتا ہے۔

  8. گذشتہ تین دنوں میں 1100 عملے سمیت 57 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے: اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی

    Strait of Harmuz

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے شائع کردہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ تین دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے کل 57 بحری جہاز عملے کے 1100 ارکان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرے۔

    آبنائے ہرمز میں پھنسے 11,000 سے زائد سمندری مسافروں کو نکالنے کے لیے پیر کو شروع ہونے والے اس منصوبے کے بارے میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کی طرف سے شائع ہونے والے یہ پہلے اعدادوشمار ہیں۔

    یہ بحری جہاز اور ان کے مسافر ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ اور آبنائے ہرمز میں ٹریفک پر پابندی کے بعد سے خطے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ ان ملاحوں کو نکالنے کا آپریشن خطے کے تمام ممالک اور امریکہ کے قریبی تعاون سے کیا جائے گا۔

    جمعرات 25 جون کی صبح شائع ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے 12 جہاز، بدھ کو 32 اور منگل کو 13 بحری جہاز گزرے۔

  9. بلوچستان کے سالانہ بجٹ میں غیرترقیاتی اخراجات میں نمایاں اضافہ، بعض محکمے مقررہ فنڈز بھی خرچ نہ کر سکے, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنصوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے ان اضافی اخراجات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ریڈ زون، وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ اور حساس سرکاری تنصیبات کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے، جس کے باعث اخراجات میں اضافہ ہوا

    بلوچستان حکومت کے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں بعض محکموں کے غیرترقیاتی اخراجات میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، جبکہ صوبے کے بیشتر محکمے سال کے آغاز میں مختص کی گئی رقم بھی مکمل طور پر خرچ نہ کر سکے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور آپریٹنگ (دفتری) اخراجات میں ریکارڈ کیا گیا۔

    وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ

    دستاویزات کے مطابق وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے اخراجات میں دو سو فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ مالی سال کے آغاز میں اس مد میں ایک ارب 31 کروڑ 47 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم سال کے اختتام تک یہ اخراجات بڑھ کر تقریباً چار ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔

    اس طرح مجموعی طور پر دو ارب 68 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا، جو شرح کے لحاظ سے دیگر محکموں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

    آپریٹنگ اخراجات میں تقریباً 12 ارب روپے کا اضافہ

    آپریٹنگ اخراجات، جن میں ایندھن، یوٹیلیٹی بلز اور دفتری سامان شامل ہیں، کے لیے 37 ارب 35 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ تاہم سال کے آخر تک یہ اخراجات بڑھ کر 49 ارب 31 کروڑ روپے تک پہنچ گئے، جو تقریباً 11 ارب 96 کروڑ روپے کے اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔

    یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات کے دعوے بھی کیے گئے تھے۔

    پی ڈی ایم اے کے اخراجات بھی دگنے سے زائد

    پی ڈی ایم اے کے لیے ابتدائی طور پر 10 ارب 37 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، مگر سال کے دوران اخراجات بڑھ کر 22 ارب 95 کروڑ روپے تک جا پہنچے۔

    یوں اس مد میں 12 ارب 58 کروڑ روپے کا اضافی خرچ کیا گیا، حالانکہ اس عرصے میں صوبے میں کوئی بڑی قدرتی آفت پیش نہیں آئی۔

    حکام کے مطابق اس دوران مستحق خاندانوں میں راشن کی تقسیم اور دیگر اقدامات بھی کیے گئے۔

    صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے ان اضافی اخراجات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ سازی کے وقت تمام غیر متوقع حالات کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہوتا۔

    ان کے مطابق امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ریڈ زون، وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ اور حساس سرکاری تنصیبات کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے، جس کے باعث اخراجات میں اضافہ ہوا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایندھن، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھی آپریٹنگ اخراجات بڑھے۔

    پی ڈی ایم اے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے دوران مستحق خاندانوں کے لیے خصوصی ریلیف پروگرام کے تحت بڑے پیمانے پر راشن کی تقسیم کی گئی، جس کے نتیجے میں اضافی رقم خرچ کرنا پڑی۔

    وزیر خزانہ کے مطابق یہ اضافہ کسی قدرتی آفت کے باعث نہیں بلکہ ایک سماجی فلاحی اقدام کا نتیجہ تھا۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت مالی نظم و ضبط، شفافیت اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کے اصولوں پر کاربند ہے۔

  10. انڈیا توانائی کے شعبے میں ایران کے ساتھ تعاون کے مواقع کا جائزہ لے رہا ہے: ہردیپ سنگھ پوری

    Iran, India

    ،تصویر کا ذریعہShana

    انڈیا کے پٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ انھوں نے نئی دہلی میں ایران کے وزیرِ پٹرولیم محسن پاکنزاد سے ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر غور کیا۔

    ہردیپ پوری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ انڈیا مکالمے، شراکت داری اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون کے ذریعے توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

    ایرانی وزارت تیل سے منسلک خبر رساں ایجنسی شانا نے رپورٹ کیا کہ ایران اور ہندوستان نے توانائی کے تعاون کو مضبوط بنانے اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔

    ایران کے وزیر تیل محسن پاکنزاد نے ہندوستان کی میزبانی میں برکس توانائی کے وزرا کے اجلاس کے موقع پر ہندوستان کے پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری سے ملاقات کی۔

    ایران اور امریکہ نے حال ہی میں ایک عبوری معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے بعد امریکہ نے ایرانی تیل اور گیس کی مصنوعات کی برآمد کے لیے ایک عارضی لائسنس جاری کر دیا ہے، جو تقریباً مزید دو ماہ کے لیے موزوں ہے۔

    ہندوستان پہلے ایرانی خام تیل کا بڑا خریدار تھا لیکن 2019 میں ایرانی تیل کی برآمدات کے خلاف امریکی پابندیوں کی واپسی کے بعد اس نے ملک سے تیل کی درآمد روک دی۔

  11. امریکی دعوے غلط ہیں کہ ایران اپنے غیرمنجمد شدہ اثاثے امریکی زرعی اجناس خریدنے پر خرچ کرے گا: باقر قالیباف

    ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنایران کے سپیکر محمد باقر قالیباف

    ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی دعوے غلط ہیں کہ ایران اپنے غیرمنجمد شدہ اثاثے امریکی زرعی اجناس خریدنے پر خرچ کرے گا۔

    قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’امریکہ غلط طور پر دعویٰ کرتا ہے کہ ہمارے غیرمنجمد اثاثے ان کی زرعی مصنوعات خریدنے پر استعمال ہوں گے۔۔۔‘

    انھوں نے طنزیہ انداز میں مزید لکھا کہ ’ہم صرف وہی فصل کاٹ رہے ہیں جو آپ نے بوئی ہے: دہائیوں پر محیط عدم اعتماد۔ یہ قدرتی، وافر اور مقامی پیداوار ہے۔ لیکن بظاہر امریکہ صرف جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویا بین، ٹوٹے ہوئے وعدے اور بے بنیاد باتیں ہی برآمد کرتا ہے۔‘

  12. ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت پر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ نے فون پر گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے حوالے سے دوطرفہ سطح پر مسلسل ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی نے خطے کی تازہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں آبنائے ہرمز میں بحری انتظامات اور 60 روزہ مدت کے لیے طے کیے گئے عارضی اقدامات شامل تھے۔

    یہ بات ایران کے وزیر خارجہ کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں بتائی گئی۔

  13. یورپ کی جانب سے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینا اتحاد کو نقصان پہنچا رہا ہے: روبیو

    بحرین میں جی سی سی حکام سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کی جانب سے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دینا، براعظم اور امریکہ کے درمیان اتحاد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران، امریکہ کی نسبت یورپ کے لیے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔

  14. خلیجی ممالک آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کے ٹول یا فیس کے حق میں نہیں ہیں: امریکی وزیر خارجہ

    Marco Rubio

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں جی سی سی کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ہماری ملاقات بہت مفید رہی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کے ٹول یا فیس کے حق میں بالکل نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ معادے میں خلیجی اتحادیوں کا تحفظ بھی شامل ہوگا۔

    واضح رہے کہ ایران سے جنگ بندی کے بعد یہ امریکی وزیر خارجہ کا خلیجی ممالک کا دورہ ہے، جہاں وہ خطے کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

    عمان کا امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کی حمایت کا اظہار

    عمان نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں امن کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں عمان نے ایک ساحلی ریاست کے طور پر اپنی ذمہ داری کا اعادہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت بحری سلامتی کے قیام کی حمایت کرتا رہے گا۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی راہداری فیس یا ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔

    یہ بیان آج بحرین میں خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والے مشترکہ وزارتی اجلاس کے دوران عمان کے وزیر خارجہ کی جانب سے دیا گیا۔

  15. عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر آ گئیں

    تیل کی قیمتوں میں کمی

    ،تصویر کا ذریعہThe Dallas Morning News via Getty Images

    اہم عالمی بحری راستے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت بحال ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں ایک بار پھر ایران جنگ سے پہلے والی سطح پر آ گئی ہیں۔

    عالمی معیار برینٹ کروڈ آئل کی قیمت عارضی طور پر 72.48 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے ایک دن پہلے کی سطح تھی۔ بعد ازاں یہ معمولی اضافے کے ساتھ 72.63 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    ایران کی جانب سے حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا گیا تھا، جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ یہ سمندری راستہ دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

    اب قیمتوں میں کمی اس وقت شروع ہوئی جب 17 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کے تحت تہران کے جوہری پروگرام اور جنگ کے خاتمے سے متعلق معاملات پر 60 دن تک مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

    گذشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ملاقاتوں کے بعد امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد کچھ پابندیاں نرم کر دیں، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    میرین انٹیلیجنس کمپنی کپلر کے مطابق حالیہ دنوں میں تیل، ایل این جی، کھاد اور دیگر سامان لے جانے والے متعدد جہاز اس راستے سے گزرے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، پیر کے بعد سے اب تک تقریباً 80 جہاز آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں، جبکہ جنگ سے پہلے یہ تعداد روزانہ 100 سے زیادہ ہوتی تھی۔ اس کے باوجود اب بھی سیکڑوں جہاز خلیج میں اپنی باری کے منتظر ہیں۔

    صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے امریکہ اور ایران نے ایک مشترکہ رابطہ نظام بھی قائم کیا ہے تاکہ کسی بھی غلط فہمی سے بچتے ہوئے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائی جا سکے۔ قطر اور پاکستان نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

    دریں اثنا، امریکہ کی بحریہ نے جہازوں کے لیے ایک محفوظ جنوبی راستہ فراہم کیا ہے، جبکہ کچھ جہاز ایرانی حکام کی اجازت سے شمالی گزرگاہ استعمال کر رہے ہیں۔

    پٹرول کی قیمتوں پر اثر

    جنگ کے آغاز پر پٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا، تاہم اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ یہ قیمتیں کتنی جلدی کم ہوتی ہیں۔

    امریکہ میں عام پٹرول کی اوسط قیمت اب تقریباً 3.93 ڈالر فی گیلن رہ گئی ہے، جو اپریل میں 4 ڈالر فی گیلن کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی، لیکن یہ اب بھی جنگ سے پہلے کی قیمتوں سے زیادہ ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑی آئل کمپنیوں جیسے شیل اور ایکسون موبل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود صارفین کو اس کا مکمل فائدہ منتقل نہیں کر رہیں۔

    دوسری جانب، آئل انڈسٹری کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمتیں خام تیل کی قیمتوں کے ساتھ فوری طور پر ہم آہنگ نہیں ہوتیں۔

    برطانیہ میں بھی توانائی کمپنیوں پر اسی نوعیت کے الزامات لگائے گئے، تاہم ریگولیٹر کے مطابق منافع کے مارجن میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا۔

  16. گذشتہ رات کا زلزلہ سنہ 1900 کے بعد وینزویلا میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ تھا: یو ایس جی ایس

    وینزویلا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق گذشتہ رات وینزویلا میں آنے والے زلزلوں میں سے ایک سنہ 1900 کے بعد ملک میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔

    گذشتہ رات آنے والے پہلے زلزلے کی شدت یو ایس جی ایس کے مطابق 7.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں آنے والے دوسرے زلزلے کی شدت 7.5 تھی۔

    ادارے کے زلزلوں کے ریکارڈ کے مطابق 29 اکتوبر 1900 کو وینزویلا کے ساحل کے قریب 7.7 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جسے سان نارسیسو زلزلہ کہا جاتا ہے۔

  17. اس وقت حکومت کی ترجیح ’جانیں بچانا‘ ہے: وینزویلا کی عبوری صدر

    وینزویلا

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کی حکومت کی ترجیح ’جانیں بچانا‘ ہے اور حکام منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

    روڈریگیز کا کہنا تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں امریکہ، ڈومینیکن ریپبلک، میکسیکو اور ایل سلواڈور سمیت دیگر ممالک سے امدادی کارکن پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اپنے گھر کھونے والوں کے لیے ہوٹلوں اور پناہ گاہوں کا انتظام موجود ہے، اور عوامی خدمات کے لیے تمام غیر ضروری سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔

    عبوری صدر کا کہنا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ کراکس کے شمال میں واقع ریاست لا گوائیرا متاثر ہے جہاں درجنوں عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں۔ انھوں نے اسے ’آفت زدہ علاقہ‘ قرار دیا ہے۔

    32 ہلاکتوں کی اطلاعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے عبوری صدر کا کہنا تھا کہ اس میں لا گوائیرا میں ہونے والi ممکنہ ہلاکتیں شامل نہیں۔

  18. رام مندر کے چڑھاوے اور چندے میں کرپشن کا معاملہ، تحقیقات کے لیے تین رکنی سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل, مہتاب عالم، بی بی سی اردو، دہلی

    رام مندر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں واقع رام مندر ایک بار پھر سے سرخیوں میں ہے۔ یہ وہی مندر اس ہی مقام پر واقع جہاں ایک زمانے میں بابری مسجد قائم تھی۔ نومبر 2019 میں انڈین سپریم کورٹ نے بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا حکم دیا تھا۔ جنوری 2024 میں اس کا افتتاح انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کیا تھا،

    تاہم اب رام مندر کے چڑھاوے اور چندے کی رقوم میں بدعنوانی کا معاملہ نیا نہیں تاہم حالیہ دنوں میں یہ معاملہ سیاسی بحث کا موضوع اس وقت بنا جب اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ ’رام مندر‘ کے چندے سے کروڑوں روپے غائب ہونے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

    سابق وزیراعلیٰ نے عدالت سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

    اب بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے ایودھیا سے تعلق رکھنے والے سابق رکن اسمبلی پون پانڈے نے الزام لگایا ہے کہ ’یہ لوٹ کوئی نئی نہیں ہے۔ جب سے یہ ٹرسٹ (شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر) بنا ہے تب سے بدعنوانی چل رہی ہے۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے قبل ٹرسٹ کی زمین کا معاملے بھی سامنے آیا تھا۔

    دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ الزامات صرف مودی یا بی جے پی مخالف جماعتوں اور شخصیات کی طرف سے عائد نہیں کیے جا رہے ہیں۔

    مقامی بی جے پی رہنما رجنیش سنگھ نے بھی وزیر اعظم کو خط لکھ کر رام مندر کی تعمیر کے لیے جمع کی گئی چندے کی رقم میں غبن کے معاملے کی تحقیقات سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بجرنگ دل کے بانی صدر ونے کٹیار نے بھی چندہ کی رقم میں مبینہ گڑبڑی کو سنگین معاملہ قرار دیا ہے۔

    شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ میں سابق اکاؤنٹس انچارج مہی پال سنگھ کا الزام ہے کہ جب انھوں نے چڑھاوے کی رقم میں مبینہ کرپشن کی شکایت دفتر کی ہفتہ وار میٹنگ میں کی تو ان کی جگہ دوسرے اکاؤنٹس انچارج کو نوکری دے دی گئی ۔

    جب بی بی سی ہندی نے مہی پال سنگھ سے بات کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے اپنی جان کے خطرے ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

    دریں اثنا اتر ہردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے معاملے کی جانچ کے لیے تین رکنی سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔ شری رام جنم بھومی تھرتھ ٹرسٹ نے 14 جون کو چوری کی بات کو افواہ قرار دیتے ہوئے پورے معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی سے کرانے کی درخواست کی تھی۔

  19. قلات سے اغوا ہونے والے اے ایس ایف ڈپٹی ڈائریکٹر کی تشدد زدہ لاش کوئٹہ-کراچی شاہراہ کے قریب سے برآمد, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع قلات میں پولیس حکام نے ایئرپورٹ سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد وسیم کی تشدد زدہ لاش برآمد ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    محمد وسیم کو 20 مئی کو مسلح افراد نے ضلع قلات سے اغوا کیا تھا۔ بعد ازاں کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

    قلات پولیس کے سربراہ زاہد شاہ نے محمد وسیم کی تشدد زدہ لاش کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی لاش کوئٹہ-کراچی شاہراہ کے قریب ایک ویران علاقے میں پھینکی گئی تھی۔

    زاہد شاہ کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم اور دیگر قانونی تقاضے پورا کرنے کے بعد اے ایس ایف کے افسر کی لاش کو گذشتہ روز کراچی روانہ کردیا گیا تھا۔

    محمد وسیم افغانستان اور وزیرستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع ژوب میں واقع ایئرپورٹ پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

    وہ ژوب سے کوئٹہ پہنچے تھے جہاں سے وہ 20 مئی کو ایک پرائیویٹ گاڑی میں کراچی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

    انھیں قلات کے علاقے محمد تاوہ سے مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔

    قلات بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازا ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    قلات کا شمار بلوچستان کے شورش سے متاثرہ علاقوں میں ہوتا ہے۔

  20. امریکہ فوری طور پر ریسکیو ٹیمیں وینزویلا بھجوا رہا ہے، مارکو روبیو

    وینزویلا

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ فوری طور پر تلاش و بچاؤ کے کاموں میں حصہ لینے کے لیے ٹیمیں اور، طبی اور انسانی بنیادوں پر امداد وینزویلا بھجوا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں روبیو کا کہنا تھا کہ ’ہماری ہمدردیاں اُن تمام افراد کے ساتھ ہیں جنھوں نے (اس حادثے میں) اپنے پیارے کھوئے، جو زخمی ہوئے، اور وہ بہادر امدادی کارکن جو اس کے بعد سے مسلسل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔‘

    اس سے قبل اُن کے نائب کرسٹوفر لینڈاو نے کہا تھا کہ امریکہ وینزویلا کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور ’امداد کو متحرک کیا جا رہا ہے۔‘