یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
29 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور اس کی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ لازمی ہے۔‘ عراقی دارالحکومت بغداد کے سرکاری دورے کے دوران انھوں نے اس مؤقف پر زور دیا کہ خطے میں کسی بھی معاہدے کی کامیابی کے لیے یہ اقدامات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
29 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے اتوار کے روز کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی۔
پریس کانفرنس کے موقع پر پولیس کی نہ صرف بھاری نفری تعینات تھی بلکہ جیل کی ایک گاڑی بھی لائی گئی تھی۔
پریس کانفرنس کے بعد پی ٹی ایم کے رہنما زبیر شاہ کے علاوہ دو دیگر افراد محمد مری اور محمد اسماعیل مری کو گرفتار کرلیا گیا۔
ان کی گرفتاری کے خلاف نادیہ بلوچ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ’نہ ہمیں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے دی جا رہی بلکہ جو لوگ ہماری حمایت کرنے آتے ہیں یا پانی پلانے آتے ہیں ان کو بھی گرفتار کیا جارہا ہے۔‘
پریس کانفرنس میں علی احمد کرد ایڈووکیٹ کے علاوہ نیشنل پارٹی کے رہنما چنگیز حئی کرد، این ڈی ایم کے رہنما احمد جان کاکڑ، پی ٹی آئی کے رہنما عبدالحلیم ناصر کے علاوہ بی این پی کے رہنما موجود تھے۔
ان گرفتاریوں سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نادیہ بلوچ نے کہا کہ ’ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو انصاف، آئین اور قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر سزا دی گئی۔

انھوں نے حقوق انسانی کے ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے علاوہ اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ اس مبینہ غیر آئینی اور غیر قانونی عدالتی عمل کا نوٹس لیں۔
اس موقع پر علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے بھی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کے خلاف فیصلے کو انصاف کے تقاضوں کے خلاف قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ ایک طرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جارہا ہے دوسری جانب ان کو قانونی تقاضوں کے برعکس سزا دی جارہی ہے۔
ان کے بقول اس فیصلے سے دنیا میں پاکستان کے عدالتی نظام کا مذاق اڑایا جارہا ہے اس لیے اس فیصلے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہIRNA
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے دورے کے موقع پر وہاں کے وزیر اعظم علی فتح زیدی سے ملاقات کی ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق عراق کے وزیر اعظم سے ملاقات میں عباس عراقچی نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر بات کی اور ساتھ ہی عراق سمیت علاقائی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی زمین کو ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
انھوں نے ایران اور عراق کے درمیان تعاون جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
عراقی وزیر اعظم نے بھی جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کی حمایت کی اور کہا کہ عراق خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات کو اہم سمجھتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور اس کی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ لازمی ہے۔‘
عراقی دارالحکومت بغداد کے سرکاری دورے کے دوران انھوں نے اس مؤقف پر زور دیا کہ خطے میں کسی بھی معاہدے کی کامیابی کے لیے یہ اقدامات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی خبر رساں اداروں مہر نیوز اور ارنا کی جانب سے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اسماعیل بقائی نے بھی اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کو تمام ضروری اقدامات کرنے چاہییں تاکہ اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے۔‘
اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے مطابق اپنی اصولی پالیسیوں کے تحت لبنان کی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تمام لبنانی شہریوں کے وقار و سلامتی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔‘
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ’ایران کا ایک بنیادی مطالبہ اسرائیلی کارروائیوں کا لبنان میں خاتمہ اور ایران کے خلاف جاری جنگ کا بھی اختتام ہے، جس پر ایران مسلسل زور دیتا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق پر مکمل عمل درآمد، یعنی لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا خاتمہ اور تمام مقبوضہ لبنانی علاقوں سے افواج کا انخلا، خطے میں پائیدار استحکام کے لیے ضروری شرط ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہ@gidonsaar
اسرائیلی وزیر خارجہ گیدعون سار نے ایک بار پھر کہا ہے کہ لبنان میں ’امن اور سلامتی‘ کے حصول کے لیے حزب اللہ کا غیر مسلح ہونا لازمی شرط ہے۔
انھوں ایکس پر یہ بات جنوبی سوڈان کے ہم منصب جیمز پٹیا مورگن سے یروشلم میں ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل لبنان کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، جیسا کہ حالیہ ہفتے کے آخر میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔‘
یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں ایک ’مرحلہ وار عمل‘ کا ذکر کیا گیا ہے جس کے تحت لبنانی فوج کو ملک بھر میں مؤثر ریاستی اختیار حاصل ہوگا، تاہم اس کے لیے غیر ریاستی مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کی تصدیق ضروری ہوگی۔ اس سے مراد واضح طور پر حزب اللہ ہے، جس نے اس فریم ورک کو ’بے اثر اور غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ انھوں نے فوج کو جنوبی لبنان میں طویل قیام کی تیاری کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہIRNA
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز بغداد میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے علاقائی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق علی الزیدی نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عراق جنگوں کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے علاقائی استحکام کو ترجیح دینے کی حمایت کرتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ معاہدے پر بھی بات چیت کی گئی، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ اس کے علاوہ علاقائی و بین الاقوامی کوششوں پر بھی غور کیا گیا جن کا مقصد سلامتی کو فروغ دینا، قومی خودمختاری کا احترام اور ریاستوں کے اتحاد و علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنا ہے۔
عباس عراقچی نے اس موقع پر عراق کے لیے ایران کی حمایت کا اعادہ کیا اور دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مسلسل رابطے اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ اتوار کو ایرانی وزیر خارجہ بغداد پہنچے تھے جہاں انھوں نے عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین سے اپنی پہلی سرکاری ملاقات کی، اس کے بعد انھوں نے وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی شام میں قائم کیے گئے اپنے سکیورٹی زون میں کارروائی کے دوران متعدد ’مسلح شدت پسندوں‘ کو ہلاک کر دیا ہے۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بھی اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج دو افراد کی لاشیں اپنے ساتھ لے گئی ہے۔
شامی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی جنوبی شام کے صوبے قنیطرہ کے گاؤں ہدار میں کی گئی۔
یہ علاقہ شام کے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے بفر زون سے باہر واقع ہے، تاہم بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے اس علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے میں اس وقت تک موجود رہے گا جب تک اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کے لیے کسی بھی ممکنہ خطرے کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاس سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کایا کلاس نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے میں پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا، تاہم انھوں نے حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا۔
اسحاق ڈار نے اس موقع پر زور دیا کہ تمام فریقین کو جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے غیر مشروط انخلا کے لیے فوری طور پر ایک واضح ’ٹائم ٹیبل‘ یا وقت طے کیا جائے۔
اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے مطابق اپنی اصولی پالیسیوں کے تحت لبنان کی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تمام لبنانی شہریوں کے وقار و سلامتی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔‘
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ’ایران کا ایک بنیادی مطالبہ اسرائیلی کارروائیوں کا لبنان میں خاتمہ اور ایران کے خلاف جاری جنگ کا بھی اختتام ہے، جس پر ایران مسلسل زور دیتا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق پر مکمل عمل درآمد، یعنی لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا خاتمہ اور تمام مقبوضہ لبنانی علاقوں سے افواج کا انخلا، خطے میں پائیدار استحکام کے لیے ضروری شرط ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کے تحت واضح ذمہ داری قبول کی ہے، لہٰذا ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ امریکہ تمام ضروری اقدامات کرے تاکہ اسرائیل کو لبنان کے تمام علاقوں میں اپنی جارحیت اور فوجی کارروائیاں روکنے پر مجبور کیا جا سکے۔‘
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے اب سے کُچھ دیر قبل اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران اس کا ایک فوجی ہلاک ہوا، جبکہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم ایک لبنانی شہری کی بھی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کی اب اطلاعات سامنے آرہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کے مشرقی ساحلی شہر رأس تنورہ میں سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد سعودی شہری تھے۔
تاحال ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
دوسری جانب سعودی تیل کمپنی آرامکو نے جمعہ کے روز ایران کے ساتھ جنگ کے باعث چار ماہ کی بندش کے بعد رأس تنورہ آئل ٹرمینل پر خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج کی جانب سے اب سے کُچھ دیر قبل اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران اس کا ایک فوجی ہلاک ہوا، جبکہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم ایک لبنانی شہری کی بھی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کی اب اطلاعات سامنے آرہیں ہیں۔
یہ واقعات اسرائیل اور لبنان کے درمیان فریم ورک معاہدے پر دستخط کے دو روز بعد پیش آئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ایک عہدیدار نے کہا کہ کیپٹن ہازوت اس وقت ہلاک ہوئے کہ جب اسرائیلی فوجیوں کا جنوبی لبنان کے علاقے دیر السریان میں ایک ’مشکوک عمارت‘ میں داخل ہونے کے بعد حزب اللہ کے ایک جنگجو سے سامنا ہوا۔
بیان کے مطابق اس واقعے میں ایک اور اسرائیلی فوجی معمولی زخمی بھی ہوا۔ اسرائیلی فوج نے حملہ آور کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا اور علاقے میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔
ادھر اسرائیلی فوج نے ایک اور بیان میں کہا کہ انھوں نے جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے حزب اللہ کے جنگجوؤں کو ہلاک کیا اور ایک میزائل لانچنگ پلیٹ فارم تباہ کر دیا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان آویخائے ادرعی کے مطابق کارروائی کے دوران آر پی جی سے مسلح حزب اللہ ارکان کو نشانہ بنایا گیا، اس عمارت کو تباہ کیا گیا جہاں وہ موجود تھے، جبکہ ایک ایسا میزائل لانچر بھی تباہ کیا گیا جو اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
دوسری جانب لبنان کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ یہ حملے دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے ایک روز بعد کیے گئے۔
لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ایک اسرائیلی ڈرون نے جنوبی قصبے نبطیہ الفوقہ کو نشانہ بنایا، جبکہ اس کے کُچھ ہی دیر کے بعد علاقے میں مزید فضائی حملے کیے گئے، جن میں کم از کم دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس کے شمال مشرقی علاقے میں واقع قصبے ’ٹومبلین‘ میں سکائی ڈائیورز کو لے جانے والا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق حادثے میں پائلٹ سمیت تمام 10 مسافر ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں پانچ طالب علم اور پانچ تربیتی انسٹرکٹر شامل تھے۔
مقامی میڈیا کے مطابق طیارہ ایک پیراشوٹ ٹریننگ سکول کی ملکیت تھا، جس نے نانسی - ایسے ہوائی اڈے سے پرواز بھری تھی، تاہم کچھ ہی دیر بعد گر کر تباہ ہو گیا۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ’میورت - اے - موزیل‘ کے علاقے میں واقع ہوائی اڈے اور اس کے اطراف جانے سے گریز کریں تاکہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ نہ آئے۔
دوسری جانب فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے بتایا ہے کہ ملک کے وزیرِ داخلہ حادثے کی جگہ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں، جہاں وہ امدادی اور تفتیشی کارروائیوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ ان کا جائزہ بھی لیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران اُن کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا۔
یہ واقعہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کے خاتمے کے لیے معاہدہ طے پانے کے دو روز بعد پیش آیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’ہلاک ہونے والا فوجی اہلکار 21 سالہ کیپٹن ڈیوڈ ہازوت تھے، جو ایک فوجی پلاٹون کے کمانڈر تھے۔‘
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جنوبی لبنان کے علاقے ’دیر سریان‘ میں اسرائیلی فوج ایک ’مشکوک عمارت‘ میں داخل ہوئی، جہاں اسے حزب اللہ کے ایک رکن کا سامنا کرنا پڑا اور مقابلے کے دوران کیپٹن ڈیوڈ ہازوت ہلاک ہو گئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس واقعے میں ایک اور اسرائیلی فوجی بھی معمولی زخمی ہوا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے حملہ آور کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا اور علاقے میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔‘
دوسری جانب لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نے اس سے چند گھنٹے قبل جنوبی لبنان کے شہروں ’دیر السریان‘ اور ’الطیبہ‘ کے نواحی علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملے کی اطلاع دی تھی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مارچ کے آغاز سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ میں اب تک 38 اسرائیلی فوجی اور ایک شہری کنٹریکٹر ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہmarinetraffic
فرانسیسی شپنگ کمپنی سی ایم اے سی جی ایم کی ملکیت میں موجود بحری جہاز ’گیلاپاگوس‘ ایران کی جانب سے ’محفوظ‘ قرار دیے گئے سمندری راستے سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کر گیا ہے۔
جہاز نے گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی کے قریب سے اپنا سفر شروع کیا اور شپنگ ٹریکنگ ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہا۔
اب تک سامنے آنے والی تازہ تطلاعات کے مطابق اس وقت یہ جہاز عمان کے ساحل کے قریب تھا۔
سی ایم اے سی جی ایم نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ سفر خطے کی موجودہ پیچیدہ صورتحال میں ایک اہم پیش رفت کی علامت ہے، جہاں مسلسل احتیاط اور نگرانی کی ضرورت برقرار ہے۔‘
کمپنی نے اپنے بیان میں جہاز کے اختیار کردہ راستے یا حفاظتی انتظامات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ کمپنی کے مزید 10 بحری جہاز اب بھی خلیج فارس میں موجود ہیں۔
فرانس کے وزیرِ ٹرانسپورٹ فلپ تابارو نے ایکس پر اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ جہاز فرانسیسی پرچم تلے سفر کر رہا تھا اور اس پر متعدد فرانسیسی ملاح بھی سوار تھے۔‘
ادھر ایران کی جانب سے اپنی ساحلی پٹی کے قریب ایک مخصوص بحری راستہ مقرر کیے جانے کے علاوہ عمان نے بھی اپنے ساحل کے نزدیک ایک الگ سمندری راستے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم عمان کے اس اعلان کے بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ صرف ایران کی جانب سے مقرر کردہ راستہ ہی ’محفوظ‘ ہے اور اس کے علاوہ کسی دوسرے راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ساتھ مذاکرات کی عراقی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔
بغداد میں عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ’ہم فؤاد حسین کی اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں جس کے تحت خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک، ایران اور عراق کے درمیان چھ دو کے فارمولے کے تحت مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔‘
خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک میں سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور کویت شامل ہیں۔
اس موقع پر عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین نے کہا کہ ’عراق جنگ کا دائرہ خلیجی ممالک تک پھیلانے کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی ایران پر حملوں سے اتفاق کرتا ہے۔‘
عباس عراقچی نے بتایا کہ ’ان کے بغداد کے دورے کا بنیادی مقصد ایران کے خلاف ’جارحیت کی مذمت‘ اور حمایت پر عراقی حکومت کا شکریہ ادا کرنا تھا۔‘ انھوں نے ’ایرانی مؤقف کی حمایت پر عراقی عوام کو بھی سراہا۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’اس دورے کا ایک مقصد آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے انعقاد کے حوالے سے ضروری انتظامات اور رابطہ کاری بھی ہے۔‘ ان کے مطابق تعزیتی تقریبات بغداد، کاظمین، کربلا اور نجف میں بھی منعقد کیے جانے کا منصوبہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی قسم کی مداخلت خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بنے گی۔‘
بغداد کے دورے کے دوران اپنے عراقی ہم منصب فؤاد حسین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے مطابق ’آبنائے ہرمز آئندہ 30 دن کے اندر جنگ سے پہلے کی حالت میں بحال ہو جائے گی تاہم اس کا انتظام مکمل طور پر ایران کے اختیار میں ہوگا اور ان انتظامات پر عمل درآمد کی ذمہ داری صرف اسلامی جمہوریہ ایران پر عائد ہوگی۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ ’کسی بھی قسم کی مداخلت یا متوازی انتظامات قائم کرنے کی کوشش نہ صرف صورتحال کو مزید پیچیدہ بنائے گی بلکہ کشیدگی میں اضافہ اور اس اہم آبی گزرگاہ کی بحالی میں تاخیر کا باعث بھی بنے گی۔ گزشتہ دو راتوں کے دوران آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے تصادم اور واقعات اس کی واضح مثال ہیں۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ تین روز کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کم از کم دو بحری جہاز حملوں کا نشانہ بنے، جس کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پہلا بحری جہاز جمعرات کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد امریکہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں پر حملہ کیا۔ ایران نے جواب میں دعویٰ کیا کہ اس نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
ایران اور امریکہ دونوں ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
تاہم ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ ’امریکہ نے آبنائے ہرمز سے ’غیر مجاز راستے‘ سے گزرنے والے ایک بحری جہاز کو روکنے کی ایرانی کارروائی کو بہانہ بنا کر حملہ کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی وزارتِ خارجہ نے تازہ امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنی ’قومی خود مختاری کے دفاع‘ پر زور دیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملے مفاہمتی یادداشت کی ’واضح خلاف ورزی‘ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران قومی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر قائم رہے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنے وعدوں کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کرتا اور وعدوں کی خلاف ورزی اس حکومت کی فطرت کا حصہ ہے۔
کویت نے ملک کی خود مختاری کے خلاف ’ایرانی جارحیت‘ کی مذمت کی ہے۔
کویتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے کویت پر تازہ حملے ملک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی پاسدارنِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے پانچ ساحلی علاقوں پر حملے کے جواب میں کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسدارنِ انقلاب کے مطابق کویت کی علی السلم بیس میں میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔
بحرین نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کا روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
بحرینی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے اتوار کو ان خطرناک ایرانی حملوں میں استعمال ہونے والے متعدد پروجیکٹائلز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی فوج چوکس ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
چند گھنٹے قبل پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اس کی سرزمین پر امریکی حملوں کے جواب میں اس نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ بیس کے ساتھ ساتھ کویت میں امریکی علی السلم بیس کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف نئے حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے قوانین کی 'خلاف ورزی' اور 'مذہبی جذبات مجروح' کرنے پر جیو نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کرتے ہوئے نشریات بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
پیمرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جیو نیوز پر 10 محرم الحرام کو 'سفرِ عشق' نامی پروگرام میں ناقابل قبول مذہبی تصویر کشی کی گئی۔
پیمرا کے مطابق ایسی تصویر کشی قانون اور پیمرا کی کئی شقوں کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے اور ہونے کا خدشہ ہے جس کی بنیاد پر جیو نیوز کا لائسنس معطل کیا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مذہبی جذبات مجروح ہونے کے نتیجے میں اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان کے پیشِ نظر یہ احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔
پیمرا کے مطابق جیو نیوز پر یہ لازم تھا کہ مذہبی پروگرام نشر کرتے ہوئے، احتیاط سے کام لیا جائے اور ان کی اندرونی کمیٹی ایسے معاملات کو خود دیکھے جس میں وہ ناکام رہے۔
اس معاملے پر پیمرا کی شکایات کونسل بھی مزید کارروائی کے لیے سماعت کرے گی اور مزید ریگولیٹری ایکشن کی سفارشات مرتب کرے گی۔
پیمرا کے مطابق جیو نیوز کو یہ احکامات جاری کیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے ادارے کے اندر بھی انکوائری کرے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ایسی خلاف ورزی نہ ہو۔
جیو نیوز کی وضاحت اور غلطی کا اعتراف
اس معاملے پر جیوز نیوز نے اپنے نیوز بلیٹن میں اس معاملے میں وضاحت اور معذرت کی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ جیو نیوز 10 محرم کو نشر ہونے والے مواد سفر عشق کے حوالے سے غلطی کو تسلیم کرتا ہے۔ اس مواد میں عراق اور دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں محدود تعداد میں افراد کی جانب سے اختیار کی جانے والی بعض رسومات کی عکاسی کی گئی تھی۔
وضاحت میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ مواد محض اُن کی مقامی رسومات کی عکاسی کرتا تھا اور اس کا مقصد کسی وسیع تر مذہبی نقطہ نظر کی نمائندگی کرنا، اُس کی تائید کرنا یا اسے فروغ دینا نہیں تھا۔
جیو نیوز کے مطابق یہ مواد نہ تو جیو نیوز نے تیار کیا تھا اور نہ ہی اس کی اشاعت کسی ارادے یا مقصد کے تحت کی گئی تھی۔ ہم وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ جیو نیوز مسلم اُمہ کے وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ عقائد اور حساسیت کے احترام کی اپنی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے۔
ایسے مواد کی شمولیت ہمارے اداریاتی موقف یا ادارہ جاتی عقیدے کی عکاسی نہیں کرتی اور متعلقہ مواد کو فوری طور پر ہٹا دیا گیا اور ادارے نے فوری طور پر اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی ہے۔
جیو کی معذرت میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ردِعمل سے پہلے وضاحتیں اور معذرت نشر کی گئی تھیں، ہم کسی بھی تکلیف پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور مذہبی احترام کے اعلی ترین معیار کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔