لائیو, ایرانی صدر مسعود پزشکیان اسلام آباد میں، ٹرمپ نے ’دنیا کو پہلے سے محفوظ‘ قرار دے دیا
ایران کے صدر مسعود پزشکیان اپنے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ نورخان ایئر بیس پر ان کا استقبال صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کیا۔ اس موقع پر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی اسلام آباد میں موجود ہیں۔ دوسری جانب ایرانی صدر کی آمد کے تناظر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
خلاصہ
پاکستان کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر وزرا اسلام آباد پہنچ گئے
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی سوئٹزرلینڈ سے واپسی کے بعد عمان کے سلطان سے ملاقات
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو رویبو رواں ہفتے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے
سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے تکنیکی مذاکرات میں جوہری معاملات، معاشی پابندیوں اور تعمیر نو پر مذاکراتی گروپس قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے
امریکہ نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے 60 دن کا عارضی لائسنس جاری کر دیا
ایران امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے اعلامیے کے مطابق لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے سیل بنانے پر اتفاق ہوا
اسرائیل غزہ میں بچوں کو دانستہ نشانہ بنا کر نسل کشی کر رہا ہے: اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ
لائیو کوریج
مذاکرات میں ایران کی میزائل صلاحیتوں سے متعلق کوئی بات ہوئی نہ ہو سکتی ہے: اسماعیل بقائی
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سے ایک پریس کانفرنس کے دوران جب یہ سوال کیا گیا کہ آیا سوئٹزرلینڈ میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان حالیہ مذاکرات کے دوران ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتوں پر بات ہوئی، یا مستقبل میں ہو سکتی ہے، تو ترجمان نے جواب دیا کہ ’ہرگز نہیں۔‘
ترجمان کے مطابق ’ایران کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں کبھی بھی ہمارے مذاکرات کا حصہ نہیں رہی ہیں، اور نہ ہی یہ کسی فریق کے ساتھ آئندہ مذاکرات کا موضوع بنیں گی۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں یہ کہا تھا کہ مکمل جنگ بندی کے بعد اب ان مذاکرات کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان اگلے 60 دنوں میں جوہری اثاثوں، بیلسٹک میزائل اور منجمد اثاثوں پر بھی بات ہوگی اور پوری امید ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت ایک ایک بہت دیرپا معاہدے میں بدل جائے گی، جس سے دنیا میں امن قائم ہوگا۔
جون میں سونے کی قیمت میں تقریباً 40 ہزار روپے فی تولہ کمی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں جون کے مہینے کے دوران سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں فی تولہ سونا مجموعی طور پر تقریباً 40 ہزار روپے سستا ہو گیا۔
مئی کے اختتام پر سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 74 ہزار 862 روپے ریکارڈ کی گئی تھی، جو یکم جون کو کم ہو کر 4 لاکھ 71 ہزار 763 روپے تک آ گئی۔ ماہِ جون کے دوران قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا، تاہم مجموعی رجحان نیچے کی جانب رہا اور آج منگل کے روز فی تولہ قیمت کم ہو کر 4 لاکھ 32 ہزار 236 روپے ہوگئی۔
اعداد و شمار کے مطابق 3 جون کو سونے کی قیمت میں 8 ہزار 600 روپے، 6 جون کو 12 ہزار 486 روپے اور 10 جون کو 12 ہزار 627 روپے فی تولہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ بعد ازاں 15 جون کو 10 ہزار 800 روپے کا اضافہ ہوا، تاہم 19 جون کو دوبارہ 14 ہزار 900 روپے کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
منگل کے روز بھی سونے کی قیمت میں 10 ہزار 400 روپے فی تولہ کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ماہ کے آغاز کے مقابلے میں مجموعی کمی 39 ہزار 527 روپے تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 487 روپے سستی ہو کر 6 ہزار 664 روپے ہو گئی، جبکہ 10 گرام چاندی 438 روپے کی کمی کے بعد 5 ہزار 641 روپے کی سطح پر آ گئی۔
آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے اثرات مقامی سطح پر بھی مرتب ہوئے، جس کے باعث سونا اور چاندی دونوں سستے ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے ایران میں انٹرنیٹ ڈیوائسز سمگل کیں: سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشننفتالی بینیٹ کے مطابق ان ڈیوائسز کی فراہمی کا مقصد ایرانی مظاہرین کو باہمی رابطہ قائم رکھنے اور ممکنہ طور پر حکومت کے خلاف منظم ہونے میں مدد دینا تھا
سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے سٹارلنک کی انٹرنیٹ ڈیوائسز سمگل کیں، تاہم وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت اس منصوبے پر عملدرآمد میں ناکام رہی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، نفتالی بینیٹ، جو 2021 سے 2022 تک اسرائیل کے وزیرِ اعظم رہے، نے یروشلم میں جے این ایس انٹرنیشنل پالیسی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’ایران میں دسیوں ہزار سٹارلنک ڈیوائسز سمگل کرنے کے عمل کا آغاز کیا تھا، جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی تھیں۔‘
سٹارلنک، جو ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کی ملکیت ہے، سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرتا ہے۔ ایران اس سے قبل اسرائیل اور امریکہ پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ایسی ڈیوائسز سمگل کر کے اس کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگرچہ سٹارلنک کو ایران میں باضابطہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں، تاہم ایلون مسک ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ یہ سروس وہاں فعال ہے۔
نفتالی بینیٹ کے مطابق ان ڈیوائسز کی فراہمی کا مقصد ایرانی مظاہرین کو باہمی رابطہ قائم رکھنے اور ممکنہ طور پر حکومت کے خلاف منظم ہونے میں مدد دینا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے موجودہ اسرائیلی حکومت نے یہ عمل روک دیا، اور جب احتجاج شروع ہوا تو ضروری بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے نفتالی بینیٹ کے اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
آبنائے ہرمز سے ایک کروڑ 90 لاکھ بیرل تیل گزرا، قیمتیں نیچے آ رہی ہیں: امریکی صدر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز آبنائے ہرمز سے ایک کروڑ 90 لاکھ بیرل تیل گزرا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہے اور دنیا اب ایک محفوظ مقام ہے۔‘
خیال رہے آبنائے ہرمز امریکہ اور اسرائیل کی ایران جنگ کے سبب تقریباً تین ماہ تک بند ہونے کے بعد گذشتہ ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت کے بعد مکمل طور پر کھول دی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے اعلیٰ سطح کی جوہری نگرانی پر اتفاق کر لیا ہے اور آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے مستقبل میں طویل عرصے تک اعلیٰ ترین سطح کی جوہری نگرانی قبول کر لی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کا یہ اقدام ’جوہری شفافیت‘ کو یقینی بنائے گا۔ ان کے مطابق اگر ایران اس پر رضامند نہ ہوتا تو مذاکرات آگے نہ بڑھ پاتے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے ’بڑی رعایتوں‘ کے بعد امریکہ نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور مزید بحری ناکہ بندی نہیں کی جائے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری جہاز بدستور اپنی پوزیشنز پر موجود رہیں گے تاکہ ضرورت پڑنے پر ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی جا سکے، اگرچہ بظاہر اس کے امکانات کم ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کی جانے والی رقوم ایک ایسے ایسکرو اکاؤنٹ میں رکھی جائیں گی جو امریکہ کے کنٹرول میں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم صرف خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال ہو گی، اور یہ اشیا خصوصی طور پر امریکہ سے حاصل کی جائیں گی، جن میں مکئی، گندم اور سویابین شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایران کو ان اشیا کی فوری ضرورت ہے اور یہ ایک انسانی بحران کی صورتحال ہے، جس کے پیش نظر فوری مدد ضروری ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ مذاکرات اچھی طرح سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
مذاکرات میں ’انتہائی اچھی‘ پیش رفت، اثاثوں کے استعمال کا فیصلہ ایران خود کرے گا: ایرانی سفیر
ایران کے سفیر اور جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں اس کے مستقل نمائندے علی بحرینی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں ’انتہائی اچھی‘ پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ فریقین کے درمیان تکنیکی سطح پر بات چیت اب بھی جاری ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق، بحرینی نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ دنوں میں دو ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، جو ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے اور اس کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق معاملات کا جائزہ لیں گے۔
ایران اور امریکہ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کے دوران 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔
علی بحرینی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ان بیانات کو مسترد کر دیا، جن میں ایران کے منجمد اثاثوں کے استعمال کے طریقہ کار پر بات کی گئی تھی۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ اثاثے جاری ہونے کے بعد امریکہ اور قطر ان کے استعمال کی نگرانی کریں گے، اور یہ وسائل امریکی مکئی، سویا بین اور گندم جیسی اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اس پر ردِعمل دیتے ہوئے علی بحرینی نے واضح کیا کہ ’اثاثوں کے استعمال کا فیصلہ صرف ایران ہی کرے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ تہران، واشنگٹن اور دوحہ کے درمیان ان اثاثوں سے متعلق تکنیکی انتظامات ضروری ہیں، کیونکہ یہ اثاثے امریکہ نے منجمد کیے تھے اور ان میں سے کچھ قطر میں رکھے گئے ہیں۔ تاہم، ایران کسی دوسرے ملک کو ان وسائل کے استعمال سے متعلق فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
علی بحرینی کے مطابق ایران کے منجمد اثاثے بنیادی طور پر تیل کی آمدنی اور مرکزی بینک کے وہ ذخائر ہیں، جو برسوں تک پابندیوں کے باعث بیرونِ ملک جمع ہوتے رہے ہیں۔
اسرائیل غزہ میں بچوں کو دانستہ نشانہ بنا کر نسل کشی کر رہا ہے: اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ
،تصویر کا ذریعہEPA
اقوامِ متحدہ کی طرف سے تشکیل دیے گئے تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا رہا ہے، جس کے باعث نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم جیسے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق ایسے ہی اقدامات مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی دیکھے گئے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر ایسے حملے کیے جن سے بڑی تعداد میں فلسطینی بچوں کی ہلاکت اور شدید جسمانی و ذہنی نقصان ہوا، اور یہ سلسلہ گذشتہ برس ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہا۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کارروائیاں ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کے مستقبل کو ان کے بچوں کو نشانہ بنا کر کمزور کرنا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2021 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل کے حوالے سے مبینہ بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری قائم کیا تھا۔
یہ تین رکنی ماہرین پر مشتمل پینل باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کی نمائندگی نہیں کرتا۔
دوسری جانب اسرائیل نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو بے بنیاد، جانبدار اور پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
یہ صورتحال 7 اکتوبر 2023 کے اس حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں حماس کی قیادت میں جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا گیا تھا اور تقریباً 1200 افراد ہلاک جبکہ 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں رہائشی عمارتیں، سکول اور پناہ گاہیں بھی نشانہ بنیں، جبکہ بچوں کو گرفتار کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور طبی سہولیات تک رسائی محدود کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاع کے تحت ہیں، جن کا مقصد حماس کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی رہائی ہے، اور وہ شہریوں کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات کر رہا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت عالمی عدالتِ انصاف میں بھی زیرِ سماعت ہے، تاہم اس کے حتمی فیصلے میں وقت لگ سکتا ہے۔
گذشتہ ستمبر میں کمیشن نے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی (جینوسائیڈ) کرنے کا الزام عائد کیا۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ معقول بنیادیں موجود ہیں کہ 1948 کے جینوسائیڈ کنونشن میں بیان کردہ پانچ میں سے چار اقدامات اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے ہیں۔ اسرائیل نے اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مسخ شدہ اور بے بنیاد قرار دیا۔
کمیشن اس سے قبل یہ نتیجہ بھی اخذ کر چکا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں نے جنگی جرائم اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، جبکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے بھی غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔
گذشتہ اکتوبر میں اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے تحت جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
اس کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے پر بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 1,020 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 265 بچے شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ چار فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
منگل کے روز کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی ’شدید پیمانے اور منظم نوعیت‘ جاری رہی، جس کے نتیجے میں فلسطینی بچوں کی ’بے مثال ہلاکتیں، زخمی ہونا اور ذہنی صدمات‘ سامنے آئے۔
کمیشن کے سربراہ انڈین قانون دان سرینیواسن مرلی دھر نے کہا کہ ’اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی بچوں کی ہلاکتیں اور شدید زخمی ہونا جاری ہے، اور اسرائیل جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی بچوں کو فراہم کیے جانے والے تحفظ کو نظر انداز کر رہا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ فلسطینی بچوں کا تحفظ، نگہداشت اور بقا فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت سے جدا نہیں ہے۔ بچوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل دراصل فلسطینی قوم کی بقا اور ان کے مستقبل کے تعین کی صلاحیت پر حملہ کر رہا ہے۔
کمیشن کی نئی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں فلسطینی بچوں کو براہِ راست نشانہ بنایا، جس میں اہم اعضا پر فائرنگ، جیسے کواڈ کاپٹر ڈرونز اور سنائپرز کا استعمال، اور رہائشی عمارتوں، سکولوں اور بے گھر افراد کے کیمپوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے شامل ہیں جہاں بڑی تعداد میں بچے موجود تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے میں بھی فلسطینی بچوں کو اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے، جس کی قانونی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے میں بچوں، خصوصاً نوعمر لڑکوں کو ’گرفتار، تشدد کا نشانہ اور بدسلوکی‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ ’جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد‘ کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں، جو عموماً گرفتاری یا حراست کے دوران پیش آئے۔
غزہ میں نوزائیدہ اور بچوں کے ہسپتالوں پر اسرائیلی حملوں نے ’بچوں کی زندگی بچانے والی سہولیات کو منظم انداز میں تباہ کر دیا‘، جس سے ان کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔
رپورٹ اسرائیل پر یہ الزام بھی عائد کرتی ہے کہ اس نے بھوک کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کیا، اور انسانی امداد کی آمد پر پابندیوں کے باعث بچوں میں شدید غذائی قلت پیدا ہوئی، جس سے ان کی بقا کے بنیادی حالات متاثر ہوئے۔
مزید یہ کہ سکولوں پر حملے، بڑے پیمانے پر بے دخلی اور تعلیمی اداروں کی بندش کے ذریعے اسرائیلی حکام نے ’بچوں کی تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت کو منظم طریقے سے متاثر کیا‘، جس سے فلسطینی معاشرے کی فکری اور سماجی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن ایک ’بنیادی طور پر ناقص نظام‘ ہے جس کا مقصد سچائی کی تلاش کے بجائے اسرائیل کو نشانہ بنانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’یہ رپورٹ اسرائیلی بچوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہے جنھیں حماس نے قتل کیا، اغوا کیا اور نشانہ بنایا، جبکہ حماس کی جانب سے فلسطینی بچوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کرنے کے معاملے کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔‘
اسرائیل نے کمیشن پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس کے پاس اپنے دعوؤں کی تصدیق کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ موجود نہیں ہے۔
اسرائیلی قیادت مسلسل نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے، اور کہتی ہے کہ غزہ میں اس کی فوجی کارروائیاں اپنے دفاع، حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو ختم کرنے، اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کی جا رہی ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی افواج بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائی کرتی ہیں اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتی ہیں۔
اس وقت بین الاقوامی عدالتِ انصاف جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کردہ ایک مقدمہ سن رہی ہے، جس میں اسرائیلی افواج پر نسل کشی کا الزام ہے، تاہم اس فیصلے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اسرائیل نے اس مقدمے کو ’بالکل بے بنیاد‘ اور ’متعصب و جھوٹے دعوؤں‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اسلام آباد پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہ@IrnaEnglish
ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ پاکستانی حکام نے صدر کے صدر کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر سرکاری اور روایتی استقبالیہ دیا۔
صدر کے طیارے کی آمد کے موقع پر پاکستان ایئر فورس کے جنگی طیاروں نے فضا میں فلائی پاسٹ کر کے انھیں سلامی پیش کی، جبکہ ایران کے اعلیٰ سطح کے وفد کے اعزاز میں 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی، جو پاکستان کی جانب سے احترام اور خیرمقدم کی علامت ہے۔
،تصویر کا ذریعہ@IrnaEnglish
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی صدر مسعود پزشکیان کے سرکاری دورے کے موقع پر ہی پاکستانی دارالحکومت پہنچ چکے ہیں۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کا استقبال پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم، پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ پاکستانی حکام نے کیا۔
،تصویر کا ذریعہ@IrnaEnglish
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی صدر نے پاکستان روانگی سے قبل کہا کہ دورے کا مقصد نہ صرف پاکستان کو سراہنا ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لینا بھی ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر کی آمد کے تناظر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
سکیورٹی خدشات‘ پر کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں موبائل فون سروس معطل کر دی گئی ہے جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
کوئٹہ میں موبائل فون سروس کی بندش کا آغاز آج صبح چھ بجے سے ہوا۔
محکمہ داخلہ کے معاون بابر یوسفزئی کے مطابق موبائل سروس ساتویں محرم کے موقع پر سکیورٹی کے پیشِ نظر معطل کی گئی ہے۔
انھوں نے عوام سے اس صورتحال پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موبائل فون سروس رات تک معطل رہے گی۔
ایرانی وفد کی عمان کے سلطان سے ملاقات، آبنائے ہرمز کے انتظامات اور اس کی نگرانی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال
،تصویر کا ذریعہGhalibaf/ Telgram
ایران کے پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مسقط میں عمان کے سلطان ہيثم بن طارق آل سعید سے ملاقات کی۔
عباس عراقچی کے ٹیلیگرام پیج کے مطابق، اس ملاقات میں آبنائے ہرمز کے انتظامات اور اس کی نگرانی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس حوالے سے ملاقات کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں۔
عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، منگل کو ابتدائی ٹریڈنگ میں ایک فیصد سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
آج ابتدائی ٹریڈنگ میں برینٹ کروڈ کا ایک بیرل ایک ڈالر سے زیادہ گر کر 76.81 ڈالر فی بیرل پر آگیا، اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ کی قیمت 87 سینٹ کم ہوکر 72.99 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
امریکہ کی جانب سے ایران کو 60 دن کی پابندیوں میں چھوٹ دینے کے بعد پیر کو قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کو جنگ میں تباہ ہونے والی جوہری تنصیبات تک رسائی دینے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں: ایران
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو جنگ میں تباہ ہونے والی جوہری تنصیبات تک رسائی دینے کا کوئی منصوبہ زیر بحث نہیں ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’بنیادی طور پر، اس سلسلے میں کوئی پروٹوکول نہیں ہے۔ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے رکن کے طور پر، معاہدوں کی حفاظت کے لیے پرعزم ملک کے طور پر، ہم موجودہ طریقہ کار کو جاری رکھیں گے، اور میرے خیال میں موجودہ طریقہ کار بہت واضح ہے۔‘
انھوں نے سوئٹزرلینڈ میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے ساتھ کسی بھی ملاقات کو بھی مسترد کردیا۔
گذشتہ روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی واپسی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بد امنی کے دوران چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، 572 افراد کو گرفتار کیا گیا: آئی جی
پاکستان کے زیر
انتظام کشمیر میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت اعوان نے پریس
کانفرنس میں کہا ہے کہ بد امنی کے نتیجے میں پولیس کے چار اہلکار ہلاک ہوئے اور اس
میں ملوث 572 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری
مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو
جون سے احتجاج اور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔ جبکہ حکام نے اس گروپ پر بغاوت کا الزام
لگا کر اس پر پابندی لگا دی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔
روپوش رہنماؤں کے بارے میں معلومات دینے پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا
گیا ہے۔
اس سے پہلے
راولاکوٹ میں صورتحال
اُس وقت کشیدہ ہوئی تھی جب شاہ زیب نامی نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ راولاکوٹ
پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد کے خلاف درج کی، تاہم
مظاہرین کا الزام ہے کہ شاہ زیب پولیس کے ہاتھوں مارے گئے، جبکہ پولیس اس کی تردید
کرتی ہے۔
منگل کے روز پاکستان کے زیر انتظام
کشمیر کے دار الحکومت مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت اعوان کا کہنا
تھا کہ ’یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’لاش پر سیاست
کی گئی، اسے چوک میں رکھ کر مجمع لگایا گیا، لوگوں کو اکٹھا کر کے مشتعل کیا گیا۔‘
آئی جی کے
مطابق راولاکوٹ ہسپتال میں ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا گیا، پھر
سب انسپکٹر عنایت اور سپاہیوں فہیم اور فیصل کو قتل کر کے ان کی لاشوں کی بے حرمتی
کی گئی۔
پریس کانفرنس
میں انسپکٹر جنرل پولیس کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت اعوان نے بتایا کہ نو اور 12 تاریخ کو
سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی اور جب پولیس نے اسلحے سے بھری ایک گاڑی کو روکا
تو پولیس ملازمین پر تشدد کیا گیا۔
لیاقت اعوان کا
کہنا تھا کہ ’اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی جاوید کو روک کر ان کا شناختی کارڈ
چیک کر کے ان پر تشدد کیا گیا۔ ان کی دونوں ٹانگیں توڑ دی گئیں۔‘
انھوں نے بتایا
کہ بد امنی کے نتیجے میں پولیس کے چار افراد ہلاک اور 97 زخمی ہو چکے ہیں۔ آئی جی
کا کہنا تھا کہ ’572 شرپسند گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ سابقہ مقدمات کو بھی بحال
کر دیا گیا ہے۔‘
لیاقت اعوان
نے سرکاری ملازمین کے اغوا، گاڑیوں پر گولیاں برسانے اور ہسپتالوں پر حملہ کرنے جیسے
واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کوئی ایجنڈا ہے جس پر چند مخصوص شر پسند کام
کر رہے ہیں۔‘
ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان، اسلام آباد میں سکیورٹی سخت
،ویڈیو کیپشنایرانی صدر کا دورۂ پاکستان، اسلام آباد میں سکیورٹی سخت
ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے تناظر میں اسلام آباد میں تیاریاں جاری ہیں جبکہ شہر بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
مزید تفصیلات اس رپورٹ میں۔۔۔
ایرانی صدر اسلام آباد کے لیے روانہ: ’دورے کا مقصد پاکستان کو سراہنا اور معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لینا ہے، مسعود پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان پاکستان کے دورے کے لیے تہران سے روانہ ہو چکے ہیں۔
ایران کے نیم سرکاری میڈیا ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے روانگی سے قبل پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی کوششیں ’قابل ذکر‘ تھیں۔
تسنیم کے مطابق ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ اس دورے کا مقصد نہ صرف پاکستان کے تعاون کی تعریف کرنا ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لینا بھی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تمام شقوں پر بین الاقوامی قوانین اور ایران کے جائز حقوق کے مطابق عمل کیا جائے۔
پزشکیان نے مزید کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد بہت سے علاقائی چیلنجز کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور ایک ایسے وقت میں زیادہ سے زیادہ استحکام پیدا کر سکتا ہے جب اسلامی ممالک کے خلاف اسرائیلی حملے اور فوجی جارحیت جاری ہے۔
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ دورے کے دوران بات چیت میں توجہ تجارت، معیشت، ثقافت، سلامتی، دفاع اور وسیع تر علاقائی امن و استحکام میں تعاون کو وسعت دینے پر مرکوز ہو گی۔
سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکہ مذاکرات: جوہری معاملات، معاشی پابندیوں اور تعمیر نو پر مذاکراتی گروپس قائم کرنے پر اتفاق
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ جاری تکنیکی مذاکرات میں فریقوں نے جوہری مسائل اور پابندیوں سے نمٹنے کے لیے ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کے روز اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد اعلیٰ ایرانی اور امریکی حکام سوئٹزرلینڈ سے روانہ ہو گئے تھے لیکن دونوں ملکوں کے وفود نے پیر کو تکنیکی سطح پر بات چیت جاری رکھی۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (IRNA) نے ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مذاکرات کاروں نے چار ورکنگ گروپس بنانے کا فیصلہ کیا جس میں ’پابندیوں میں نرمی، جوہری معاملات، اقتصادی تعمیر نو اور مانیٹرنگ اور نفاذ‘ شامل ہیں۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق یہ ورکنگ گروپس معاہدے کی تکنیکی تفصیلات پر عملدرآمد اور مختلف شعبوں میں جاری مذاکرات کے ذمہ دار ہوں گے۔
ایران کے نیم سرکاری میڈیا ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا ہے کہ ان ورکنگ گروپس کے علاوہ دو سیل بھی بنائیں جائیں گے۔
تسنیم کے مطابق ان میں سے ایک سیل مفاہمتی یادداشت کے رکن ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی بحفاظت نقل و حمل کے حوالے سے کام کرے گا جبکہ لبنان کے حوالے سے ایک علیحدہ سیل رکن ممالک، پاکستان اور قطر کے ساتھ تشکیل دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا تھا کہ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی ایرانی تکنیکی وفد کی سربراہی کریں گے۔
مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار متفقہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر منحصر ہو گا: ایرانی صدر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار متفقہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور ان کے درست نفاذ پر منحصر ہو گا۔
منگل کے روز پاکستان کے ایک روزہ دورے پر آنے سے قبل ایرانی صدر نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’متفقہ متن سے ہٹ کر بیانات مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کر سکتے۔‘
امریکہ سے زرعی سامان خریدنے کے پابند نہیں، ایران کے مرکزی بینک کا ٹرمپ کے بیان پر ردعمل
ایران کے مرکزی بینک کے گورنر نے کہا ہے کہ موجود معاہدے کے تحت ایران امریکہ سے زرعی سامان خریدنے کا پابند نہیں۔
ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالنصر ہمتی نے کہا کہ تاہم اگر امریکی قیمتیں اور معیار دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ موزوں ہیں تو امریکہ کے ساتھ تجارت میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
عبدالنصر ہمتی نے یہ بھی کہا کہ ایران کی حالیہ زرعی خریداری میں امریکی اور یورپی یونین کی بڑی فرمیں معمول کے مطابق شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے جو منجمد اثاثے بحال کیے جا رہے ہیں، وہ انھیں امریکہ سے خوراک خریدنے کے لیے استعمال کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے پہلے دور کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے کچھ منجمد اثاثے جاری کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ رقم خوراک کی خریداری کے لیے استعمال کی جانی ہے اور یہ خصوصی طور پر امریکہ اور امریکی کسانوں سے خریدی جائے گی۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ تازہ ترین پیشرفت کے حصے کے طور پر امریکی کسانوں سے مکئی، سویابین اور دیگر زرعی مصنوعات خریدی جائیں گی۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے کسان بہت خوش ہیں۔ مجھے بہت سی کالیں موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس سے بہت خوش ہیں۔‘
ایران امریکہ بات چیت میں تین تکنیکی گروپس شامل ہیں: پاکستانی وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کی وجہ سے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں ناکام ہونے کے قریب پہنچ گئی تھیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ نے سوئس ریزورٹ میں ہونے والی امریکہ ایران تکنیکی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات کچھ دن پہلے بھی شروع ہو سکتے تھے لیکن لبنان پر اسرائیلی حملے کی وجہ سے سب کچھ رک گیا۔
العربیہ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جن معاملات پر بات چیت ہو گی ان میں ایران کے جوہری معاملات، اس پر پابندیوں اور منجمد اثاثوں اور لبنان پر توجہ مرکوز کرنے والے تین ورکنگ گروپس شامل ہیں۔
اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کاروں کو کچھ معاملات پر کام مکمل کرنے کے لیے 30 دن کا وقت دیا گیا ہے جبکہ وسیع تر معاہدے کو 60 دن کے اندر حتمی شکل دینے کی امید ہے۔
اسحاق ڈار نے پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو ان حالات میں واپس آنا چاہیے جو 28 فروری کو تنازعہ شروع ہونے سے پہلے موجود تھے۔
روس یوکرین تنازع: پاکستان کا فوری جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کی بحالی کا مطالبہ
پاکستان نے روس یوکرین کے تنازع کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یوکرین کے معاملے پر سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندے اور سفیر عثمان جدون نے افسوس کا اظہار کیا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مثبت پیشرفت نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے یہ تنازع مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق پاکستانی سفیر نے روشنی ڈالی کہ جنگ کی وجہ سے عام شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
بیان کے مطابق یوکرین تنازع کے حل کے لیے پاکستان نے کشیدگی میں فوری کمی اور تعمیری سفارت کاری پر زور دیا۔
پریس ریلیز کے مطابق پاکستان یوکرین تنازع کے پرامن حل کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور تمام فریقین کے جائز قومی سلامتی کے مفادات کو مدنظر رکھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
مارکو رویبو رواں ہفتے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے سیکرٹری خارجہ مارکو رویبو رواں ہفتے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ منگل سے جمعرات تک ان ممالک کا دورہ کریں گے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کو موقع ملے گا کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے ابتدائی معاہدے کے حوالے سے براہ راست اپنے خلیجی عرب اتحادیوں سے بات کر سکے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے سوموار کے روز بتایا کہ مارکو روبیو بحرین میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، عمان اور قطر پر مشتمل ہے۔
اگرچہ جی سی سی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں کی وسیع پیمانے پر حمایت کی لیکن پھر بھی مفاہمت کی یادداشت کی مخصوص شرائط پر تشویش پائی جاتی ہے۔
اس تشویش کا ایک نکتہ تہران کے لیے 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو کے فنڈ کا امکان ہے اور خلیجی رہنماؤں کا خیال ہے کہ ایران یہ فنڈ علاقائی پراکسی گروپوں کی مالی معاونت کرنے اور اپنی فوجی صلاحیت کے لیے استعمال کرے گا۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کی حالیہ جنگ کے دوران کئی خلیجی ممالک براہ راست ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے متاثر ہوئے۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، بحرین اور قطر ان سبھی ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے سکیورٹی ڈھانچے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔