محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر اور وزیرِ خارجہ سے ملاقاتیں، باب المندب کے قریب بحری جہاز پر حملے میں چھ افراد ہلاک

ایران کے دورے پر موجود پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔ دوسری جانب یمن کے کوسٹ گارڈز کے مطابق آبنائے باب المندب کے قریب ایک بحری جہاز پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے جن میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔

خلاصہ

  • پاکستانی فوج کا پنجگور میں کارروائی کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ
  • کار بم دھماکے میں لیبیا کی فوج کے انٹیلی جنس سربراہ ہلاک ہو گئے
  • پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات
  • باب المندب کے قریب بحری جہاز پر حملے میں عملے کے پاکستانی رکن سمیت دو افراد ہلاک
  • عمران خان سے ملاقات کے لیے دائر پٹیشنز سماعت کے لیے مقرر کرنے کی یقین دہانی پر احتجاج مؤخر کرتے ہیں: سلمان اکرم راجہ
  • راولپنڈی میں مال روڈ پر فائرنگ سے سکیورٹی اہلکار زخمی۔ ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق فائرنگ سکیورٹی فورسز کی پیٹرولنگ ٹیم پر کی گئی، جوابی فائرنگ میں حملہ آور ہلاک ہو گیا
  • وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص پاکستان تحریک انصاف کا کارکن تھا۔ تحریک انصاف نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے
  • شام کے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی گئی

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    12 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایرانی بندرگاہ کی جانب جانے والے بحری جہاز کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی بندرگاہ کی جانب جانے والے ایک بحری جہاز کو روک کر ناکارہ کر دیا ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ کا مزید کہنا ہے کہ پاناما کا پرچم بردار جہاز خلیج عمان سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    بیان کے مطابق، اس جہاز کا مقصد ایرانی بندرگاہ تک پہنچ کر امریکی بحری ناکہ بندی کو توڑنا تھا اور ’جب جہاز کے سویلین عملے نے امریکی افواج کی جانب سے بار بار دی جانے والی تنبیہات کو نظر انداز کیا، تو بحریہ کے ایک MH-60 ہیلی کاپٹر نے ’جہاز کے انجن روم پر دو ہیل فائر (Hellfire) میزائل داغے۔‘

    سینٹ کام نے کہا کہ ’یہ جہاز اب ایران کے راستے پر نہیں ہے۔‘

    سینٹ کام کے مطابق، منگل 11 اگست تک ’55 تجارتی جہازوں‘ کا رخ موڑا گیا ہے، تعاون نہ کرنے والے تین جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے اور دو جہازوں کی تلاشی لی گئی ہے۔

  3. امریکہ کی جانب سے ایران کی شرائط تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: محسن رضائی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہIran

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ’اگر آبنائے ہرمز سے گزرنے کے راستے کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاتا ہے، تو یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کی بندش کے معاملے سے الگ حیثیت رکھے گا۔‘

    محسن رضائی نے تہران میں چین کے سفیر سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکہ اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا اور ایران کی شرائط کو تسلیم نہیں کر لیتا۔‘

    میجر جنرل رضائی نے کہا: ’امریکہ کو جنگ ختم کرنی ہوگی، ایران کے منجمد اثاثے واپس کرنے ہوں گے اور لبنان و غزہ سمیت پورے خطے میں جنگ کا خاتمہ کرنا ہو گا۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ایران نے یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دی ہیں۔

  4. امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر بلوچستان کے ضلع سوراب میں رات کا کرفیو نافذ, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع سوراب میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ لسبیلہ کے بعض حصوں میں لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    سوراب کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق ضلع سوراب میں امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے 15 اگست تک رات کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ روزانہ رات آٹھ بجے سے صبح نو بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔

    ضلعی انتظامیہ نے تمام شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ اوقات میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں اور اپنے اہلخانہ کی حفاظت کے لیے جاری کردہ سیکیورٹی ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں۔

    اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اپنے کسی بھی ممکنہ نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ایک سینئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ لسبیلہ شہر کے بھی بعض حصوں میں لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    اس سے قبل ضلع قلات میں شام چھ بجے سے صبح 10 بجے جبکہ خضدار میں رات آٹھ بجے سے صبح 10بجے تک شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

  5. راولپنڈی واقعے میں ملوث شخص پی ٹی آئی کا رُکن رہا ہو گا، لیکن اسے کبھی کوئی عہدہ نہیں دیا گیا: معاون خصوصی اطلاعات خیبر پختونخوا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہShafi Jan

    خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ راولپنڈی واقعے میں ملوث شخص پاکستان تحریکِ انصاف کا کارکن رہا ہو گا، لیکن اسے کبھی کوئی عہدہ نہیں دیا گیا تھا۔

    جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے شخص کا تعلق ضلع خیبر سے ہے اور وہ ہمارے مقامی ایم پی اے عبدالغنی کے حلقے سے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک بہت بڑی پارٹی ہے اور اس کے لاکھوں کارکن ہیں، یہ بھی پی ٹی آئی کا کارکن رہا ہو گا۔ لیکن انھیں کوئی عہدہ یا ذمے داری نہیں دی گئی۔

    شفیع جان کا کہنا تھا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے کسی بھی اہلکار پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو پی ٹی آئی سے جوڑنا زیادتی ہے اور اس سارے واقعے کی سی سی ٹی فوٹیجز سامنے لائی جانی چاہییں۔

    واضح رہے کہ ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق منگل کو 11 بج کر 15 منٹ پر راولپنڈی مال روڈ پر ایک شخص نے پستول سے سکیورٹی فورسز کی پیٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا جبکہ حملہ آور جوابی فائرنگ میں ہلاک ہو گیا۔

    پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اپنے ویڈیو بیان میں یہ الزام لگایا تھا کہ سکیورٹی اہلکار پر فائرنگ کرنے والا شخص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کارکن تھا۔

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے فائرنگ کے واقعے پر عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق سامنے آنے سے قبل کسی سیاسی جماعت یا اس کے کارکنوں کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔

  6. آبنائے باب المندب میں کارگو جہاز پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یمن کے کوسٹ گارڈ حکام نے تصدیق کی ہے کہ باب المندب کے قریب ایک کارگو جہاز پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔

    کوسٹ گارڈ نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں نے کیا۔

    یہ حملے بحیرہ احمر کے دہانے پر تجارتی جہازوں کے خلاف ان مہلک کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں جو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے جاری ہیں۔

    یمنی حکومت سے منسلک اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کارگو جہاز کے عملے کے چار ارکان بھی شامل تھے۔

    رپورٹ کے مطابق، جہاز پر امدادی اور انخلا کی کارروائیاں کرنے کے لیے بھیجے گئے دستے کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

  7. محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر اور وزیرِ خارجہ سے ملاقاتیں

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہ@PressTV

    ایران کے دورے پر موجود پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔

    ایرانی میڈیا نے تاحال ان ملاقاتوں کی تفصیلات شیئر نہیں کیں۔

    محسن نقوی ایسے وقت میں تہران کا دورہ کر رہے ہیں جب آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    لیکن ایرانی حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ عمان کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے باوجود یہ ضروری نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز کھل جائے گی۔

  8. راولپنڈی فائرنگ: پاکستان تحریک انصاف کا عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

    پاکستان تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے راولپنڈی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق سامنے آنے سے قبل کسی سیاسی جماعت یا اس کے کارکنوں کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق آج دن 11 بج کر 15 منٹ پر راولپنڈی مال روڈ پر ایک شخص نے پستول سے سکیورٹی فورسز کی پیٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا جبکہ حملہ آور جوابی فائرنگ میں ہلاک ہو گیا۔

    پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اپنے ویڈیو بیان میں یہ الزام لگایا کہ سکیورٹی اہلکار پر فائرنگ کرنے والا شخص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کارکن تھا۔

    اس پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پی ٹی آئی نے کہا کہ واقعے کے فوراً بعد سیاسی الزامات عائد کرنا اور ’محض چند منٹوں کے اندر پریس کانفرنس کے ذریعے ایک مخصوص بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کرنا کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ تحریک انصاف ایک پُر امن، آئینی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعت ہے اور ’کسی بھی واقعے کو سیاسی مخالفین کے خلاف الزام تراشی، کردار کشی یا سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

    پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ ’واقعے کی مکمل تفصیلات، سی سی ٹی وی فوٹیج، دستیاب شواہد اور تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔‘

  9. پاکستانی فوج کا پنجگور میں کارروائی کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ

    پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے 10 اگست 2026 کو بلوچستان کے ضلع پنجگور میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن کے دوران پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق یہ کارروائی علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری انسدادِ دہشت گردی مہم کے تحت کی گئی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد (آئی ای ڈیز) کا ایک بڑا ذخیرہ بھی برآمد کر کے تباہ کر دیا۔

  10. کار بم دھماکے میں لیبیا کی فوج کے انٹیلی جنس سربراہ ہلاک

    فوزی منصوری

    ،تصویر کا ذریعہX/Libya National Army

    لیبیا کی فوج نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ کار بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ فوزی منصوری پیر کی رات ایک مسجد سے نکلتے ہوئے اپنی گاڑی کے ساتھ نصب بم پھٹنے سے ہلاک ہوئے۔

    یہ واقعہ مشرقی لیبیا کے شہر بن غازی میں پیش آیا۔

    سنہ 2011 میں سابق رہنما معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لیبیا خانہ جنگی اور سماجی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔

    لیبیا کی قومی فوج نے اپنے بیان میں منصوری کے قتل کو ’بزدلانہ اور مجرمانہ کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’شدت پسندی کے خلاف جنگ اور لیبیا میں استحکام اور امن کے قیام کی کوششیں‘ جاری رکھی جائیں گی۔

  11. پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے

    محسن نقوی، عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے لیے تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات ہوئی۔

    ارنا کا کہنا ہے کہ محسن نقوی اپنے دورے کے دوران ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی سے دو طرفہ تعلقات اور دونوں ممالک کی باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کریں گے۔

    ارنا نے ایرانی وزارتِ داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون سمیت مختلف مشترکہ موضوعات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

    دوسری جانب پاکستانی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ محسن نقوی پاکستانی حکومت کا پیغام لے کر تہران گئے ہیں اور یہ دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہے۔

  12. باب المندب کے قریب بحری جہاز پر حملے میں عملے کے پاکستانی رکن سمیت دو افراد ہلاک

    باب المندب

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    برطانوی بحری سلامتی کمپنی وینگارڈ نے کہا ہے کہ آبنائے باب المندب کے قریب اور یمن کے جنوبی ساحل کے نزدیک ایک بحری جہاز پر حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    وینگارڈ کمپنی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ’عملے کے دو ارکان، ایک پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری‘ شامل ہیں۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ حملے میں چار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہے۔

    کمپنی نے مزید کہا: ’حملے کے بعد جہاز کی مدد کے لیے یمنی بحریہ پہنچی، تاہم اس پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک اور شخص ہلاک یا زخمی ہو گیا۔‘

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بحری جہاز پر حملہ حوثیوں نے کیا۔

    اے ایف پی نے یمنی کوسٹ گارڈ کے ایک ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’بحیرہ احمر کے داخلی راستے پر اس جہاز کو ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے نشانہ بنایا۔‘

    ذریعے نے مزید کہا کہ ’ہم عملے کے دیگر ارکان کو بچانے میں کامیاب ہو گئے۔‘

    ایک اور ذریعے نے بھی اے ایف پی سے گفتگو میں اس واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ امدادی کارروائی کے دوران جہاز کو ایک اور حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

  13. عمران خان سے ملاقات کے لیے دائر پٹیشنز سماعت کے لیے مقرر کرنے کی یقین دہانی پر احتجاج مؤخر کرتے ہیں: سلمان اکرم راجہ

    سلمان اکرم راجہ

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ کے مطابق ’رجسٹرار سپریم کورٹ نے یقین دلایا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے دائر تمام پٹیشنز سماعت کے لیے مقرر کر دی جائیں گی۔‘

    تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید پارٹی کے قائد عمران خان کی طبعیت خراب ہے اور وہ مطالبہ کرتی ہے کہ ’عمران خان کے اہل خانہ کی موجودگی میں، ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں، بہترین ہسپتال سے ان کا علاج کرایا جائے۔‘

    یہ مطالبہ منوانے کے لیے تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ نے آج سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔

    تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گذشتہ روز کہا تھا: ’ہم چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان عمران خان کے اہل خانہ اور ڈاکٹروں کی ان سے ملاقات کے لیے حکم جاری کریں۔‘

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر منگل کے دن ملاقات نہ کرائی گئی تو جمعرات کو تمام اراکین پارلیمنٹ اڈیالہ جیل جائیں گے۔

    تاہم، آج سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی یقین دہانی کے بعد تحریک انصاف کی قیادت، اراکین پارلیمنٹ اور وکلا نے ’اجتماعی فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس احتجاج کو موخر کرتے ہیں۔‘

    گذشتہ روز سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ اگر جمعرات کے روز عمران خان سے ملاقات نہ کرائی گئی تو اسی رات 10 بجے پاکستان کے کئی علاقوں میں احتجاج شروع کر دیا جائے گا۔

    ان کے الفاظ تھے: ’پاکستان کے ہر چوک کو ڈی چوک بنا دیا جائے گا۔‘

    آج سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ 13 اگست (جمعرات) کی شام عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت کے لیے دعا کی جائے گی ’لیکن یہ دعا ہم علی الاعلان کریں گے، بند گھروں میں نہیں کریں گے بلکہ سڑکوں پر کریں گے۔‘

  14. راولپنڈی مال روڈ پر سکیورٹی اہلکار پر فائرنگ کرنے والا پی ٹی آئی کا کارکن ہے: وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا الزام

    راولپنڈی پولیس

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ترجمان راولپنڈی پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آج دن 11 بج کر 15 منٹ پر راولپنڈی مال روڈ پر ایک شخص نے پستول سے سکیورٹی فورسز کی پیٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا جبکہ حملہ آور جوابی فائرنگ میں ہلاک ہو گیا۔

    ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والے شخص کا نام محمد حسین ولد محمد باذ تھا، اور اس کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے تھا۔

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اپنے ویڈیو بیان میں یہ الزام لگایا کہ سکیورٹی اہلکار پر فائرنگ کرنے والا شخص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کارکن تھا۔

    انھوں نے کہا: ’پی ٹی آئی کے کارکن سے پارٹی کا جھنڈا اور دیگر دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں۔‘

    تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے تا حال اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  15. شام کے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی گئی

    بشار الاسد

    ،تصویر کا ذریعہAksonline ATPImages/Getty Images

    شام کی عدلیہ نے منگل کے روز سابق صدر بشار الاسد کو قتل، تشدد اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ ان خلاف ورزیوں کے سلسلے میں دیا گیا جو 2011 سے شروع ہونے والے تنازع کے دوران پیش آئیں۔

    عدالت نے مزید سات مفرور ملزمان کو بھی سزائے موت سنائی۔ ان میں سابق صدر کے بھائی ماہر الاسد، سابق وزیر دفاع فہد جاسم الفریج اور دیگر شامل ہیں۔ انھیں قتلِ عمد اور ایسے تشدد کا مجرم قرار دیا گیا جو موت کا سبب بنا۔

    یہ پہلا عدالتی فیصلہ ہے جو دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور ان کے اپنے خاندان اور قریبی ساتھیوں کے ہمراہ روس فرار ہونے کے بعد شام کے اندر ان کے خلاف سنایا گیا ہے۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شامی حکام رواں سال سابق حکومت سے وابستہ متعدد عہدے داروں کے خلاف مقدمات چلا رہے ہیں۔ بعض کے خلاف غیر حاضری میں اور بعض کے خلاف ان کی موجودگی میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد تنازع کے دوران ہونے والی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب کرنا ہے۔

    اب تک بشار الاسد یا ان کے نمائندوں کی جانب سے فیصلے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    بشار الاسد اب بھی روس میں مقیم ہیں، جو شامی جنگ کے دوران ان کے نمایاں حامیوں میں شامل تھا، جس کے باعث سزا پر عمل در آمد عملی طور پر ان کی گرفتاری یا شام کے حوالے کیے جانے سے مشروط ہے۔

    شام کی نئی حکومت پہلے ہی ماسکو سے مطالبہ کر چکی ہے کہ الاسد کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے اس کے حوالے کیا جائے۔ دسمبر 2024 میں حزب اختلاف کے دھڑوں، جن کی قیادت اس وقت ہیئت تحریر الشام کر رہی تھی، نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا اور یوں شام میں بشار الاسد کے خاندان کی پانچ دہائیوں سے زائد پر محیط حکمرانی کا اختتام ہو گیا تھا۔

    بشار الاسد نے 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کے بعد شام کی صدارت سنبھالی تھی، جنھوں نے تقریباً تین دہائیوں تک ملک پر حکومت کی۔

    مارچ 2011 میں شام میں جمہوریت کے مطالبے پر مشتمل مظاہرے شروع ہوئے۔ ان کا آغاز ان بچوں کی گرفتاری کے بعد ہوا تھا جنھوں نے شہر کی دیواروں پر بشار الاسد کے خلاف نعرے لکھے تھے۔ یہ مظاہرے جاری رہے اور دیگر شہروں تک پھیل گئے، جہاں سیاسی اصلاحات اور اس وقت کے صدر کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔

    حکام نے ان احتجاجی مظاہروں کا جواب طاقت کے استعمال سے دیا، جبکہ بشار الاسد کی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ ’تخریب کاروں‘ اور بیرونی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کا سامنا کر رہی ہے۔

    چند ہی ماہ میں یہ احتجاج مسلح جھڑپوں میں بدل گیا، پھر ایک ایسی جنگ میں تبدیل ہو گیا جس میں مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں نے حصہ لیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں شامی افراد ہجرت اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے جبکہ لاکھوں ہلاک ہوئے۔

    تنازع کے برسوں کے دوران شام سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے قتل، تشدد، جبری گمشدگی، جنسی تشدد اور شہریوں پر حملوں سمیت وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی۔

    کمیشن نے متعدد رپورٹوں میں کہا کہ سرکاری افواج کی جانب سے کی جانے والی بعض خلاف ورزیاں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ کمیشن نے مسلح حزب اختلاف کے گروہوں اور جہادی تنظیموں پر بھی جنگی جرائم اور سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے۔

    بشار الاسد کی حکومت کو جنگ کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات کا بھی سامنا رہا، جن کی دمشق نے بارہا تردید کی۔

  16. تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے بڑھ گئی

    تیل کی قیمت

    ،تصویر کا ذریعہAl Drago/Getty Images

    ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کی امیدیں کم ہونے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

    گذشتہ ایک ہفتے کے دوران خام تیل کی قیمت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں وائٹ ہاؤس کے حوصلہ افزا بیانات کے باوجود، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران اس اہم آبی گزر گاہ کے مستقبل کے بارے میں معاہدے تک پہنچنے سے اب بھی دور ہیں۔

  17. روس کا شمالی کوریا سے فوجی اہلکار اور ہتھیار حاصل کرنا یوکرین نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ہے: زیلنسکی

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشنیوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ ’روس کی جانب سے شمالی کوریا سے فوجی اہلکار اور ہتھیار حاصل کرنا نہ صرف یوکرین بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔‘

    پیر کی شام ویڈیو خطاب میں زیلنسکی نے کہا کہ ’پہلی بار‘ روس کو یوکرین کے ساتھ جاری جنگ میں شمالی کوریا کی مدد کی ضرورت پڑ رہی ہے اور وہ تنہا جنگ جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یوکرین اور یورپ میں جتنے زیادہ شمالی کوریائی فوجی حملوں میں استعمال ہوں گے اور ان کے میزائل و فوجی جتنے زیادہ استعمال کیے جائیں گے، اتنا ہی روس اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے کے قابل ہوگا۔‘

    زیلنسکی نے کہا کہ ’یہ صورتحال باقی دنیا کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔‘

    اپنے خطاب میں انھوں نے مغربی سائبیریا میں روس کے ایک پیٹرو کیمیکل پلانٹ پر گزشتہ روز کیے گئے یوکرینی فضائی حملے کو بھی یوکرینی فوج کی ’بہت اہم کامیابی‘ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ یوکرین کی جانب سے روس کے اندر مزید دور تک حملے کیے جائیں گے، جن کا مقصد روس اور روسی عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ ’امن ضروری ہے اور یوکرین کمزور نہیں۔‘

  18. کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد دیگر علاقوں میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے۔

    کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اتوار کے روز موبائل فون سروس کو بند کردیا گیا تھا۔

    بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے اس حوالے سے بتایا تھا کہ ’پاکستان کی یوم آزادی آنے والی ہے اور یہ پاکستانیوں کی خوشی کا بڑا موقع ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے دشمن اس موقع کو خراب کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے سکیورٹی کے اداروں کو اس حوالے سے شرپسندی کی اطلاع ملی بھی تھی، جس کے باعث لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے موبائل فون سروس کو بند کیا گیا تھا۔‘

    موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی بندش سے صارفین کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    تاہم منگل کی دوپہر کوئٹہ اور بلوچستان کے متعدد دیگر علاقوں میں موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس بھی بحال ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کوئٹہ اور پاکستان کے دیگر شہروں کے درمیان چلنے والی ٹرین جعفر ایکسپریس کی بھی آمدورفت منگل کے روز معطل رہی۔

    بلوچستان کے متعدد شہروں میں جہاں سکیورٹی کے انتظامات سخت ہیں وہاں بعض شہروں میں سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر بینک بھی بند ہیں۔

  19. اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان کے قصبے زوطر الشرقیہ پر گولہ باری

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان کے قصبے زوطر الشرقیہ پر وقفے وقفے سے توپ خانے سے گولہ باری جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ کئی علاقوں کی جانب بھاری مشین گنوں سے فائرنگ بھی کی گئی۔

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج ’یونیفل‘ نے بتایا ہے کہ جمعے سے اتوار کے درمیان اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 455 گولے فائر کیے اور لبنانی فضائی حدود کی 97 مرتبہ خلاف ورزی کی۔

    یونیفل کے مطابق یہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ہونے والی شدید ترین گولہ باری ہے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  20. مسعود پزشکیان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات حکومت کے لیے رہبرِ اعلیٰ کی حمایت کا اظہار ہے: فاطمہ مہاجرانی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ ’صدر مسعود پزشکیان کی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات اس بات کی علامت ہے کہ رہبرِ اعلیٰ حکومت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

    فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ’یہ ملاقات محض صدر کے استعفے سے متعلق افواہوں کا جواب نہیں بلکہ باہمی رابطے، اعتماد اور حمایت پر مبنی تعلقات کے تسلسل کا ایک اور ثبوت ہے۔‘

    ان کا اشارہ صدر مسعود پزشکیان کے استعفے سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کی تردید کی جانب تھا۔ بعد ازاں صدر پزشکیان اور آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ نے بھی ان خبروں کو جھوٹ اور افواہیں قرار دیا تھا۔

    ایرانی حکومت اور مجتبیٰ خامنہ ای کے درمیان سات گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کے مختلف سیاسی حلقے جنگ اور مذاکرات کے دوران صدر پزشکیان کی حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

    حکومتی ترجمان نے کہا کہ ’رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے صدر اور حکومت کی واضح حمایت مختلف مواقع پر سامنے آ چکی ہے۔‘

    فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ’ملک کے سیاسی ماحول میں تعمیری تنقید اور ایسے اقدامات کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے جو دراصل عوام میں عدم اعتماد اور سیاسی تقسیم پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔‘