پاکستان کے صوبہ خیبر
پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی
ٹارگٹ کلنگ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور صبح سے پشاور کو کراچی سے ملانے والی
شاہراہ انڈس ہائی وے پر احتجاج جاری ہے۔
گذشتہ روز سابق ویلج
کونسل ناظم اور جمیعت علمائے اسلام کے مقامی
رہنما گل زرین ٹھیکیدار اور مطیع اللہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس قتل
کے واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے
احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
آج صبح انڈس ہائی وے
پر تاجہ زئی کے مقام پر مظاہرین نے مقتولین کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد لاشوں کو
سڑک پر رکھ کر انڈس ہائی کو ہر قسم کی ٹریفک
کیلئے بند کردیا۔
اس بارے میں ضلعی پولیس
افسر نذیر خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس معاملے کی چھان بین
کر رہی ہے اور اس بارے میں تفصیلی رپورٹ بعد میں جاری کی جائے گی۔
اس کے علاوہ اس واقعے
کے متعلق بات کرنے کے لیے لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے رہنما خالد خان سے بھی رابطہ
کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
لکی مروت پولیس امن
کمیٹی کے ایک دوسرے رہنما یونس خان کا کہنا تھا کہ صورتحال جلد واضح ہو جائے گی۔
مظاہرے میں جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسجد محمود اور جماعت دوسرے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اسجد محمود کا کہنا تھا کہ ہمارے جن دو بندوں کو ہلاک کیا گیا، ان کے قاتل معلوم ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
ریجنل پولیس افسر بنوں رب نواز خان سے اس بارے میں رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس مظاہرین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کی مقامی قیادت نے اب سے کچھ دیر قبل پورے ضلع کی سڑکوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی قیادت کے مطابق خیبر پخونخوا کو پنجاب کے ضلع میانوالی سے ملانی والی شاہراہ کو درہ تنگ، بنوں جانے والی شاہرہ کو نورنگ اور ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی شاہراہ کو غزنی خیل کے مقام پر بند کر دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقے خاص طور پر صوبے جنوبی اضلاع سے پرتشدد واقعات تواتر سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔
پولیس پر حملے اور سرکاری اہلکاروں کے اغوا کے واقعات آئے روز پیش آ رہے ہیں۔ لکی مروت اور بنوں میں پولیس امن کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ مقامی شہری بھی شامل ہیں۔
بنوں اور لکی مروت کا شمار حالیہ مہینوں میں خیبر پختونخوا کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع ہوتا ہے جہاں شدت پسندوں کے حملوں اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مئی 2026 میں بنوں میں فتح خیل پولیس چوکی پر شدت پسندوں نے بارود سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی تھی۔ دھماکے اور بعد ازاں فائرنگ کے تبادلے میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ چوکی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
لکی مروت میں بھی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ مختلف حملوں میں پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ جوابی کارروائیوں اور آپریشنز میں متعدد شدت پسند مارے گئے ہیں۔