پشین اور قلعہ عبداللہ میں دو پولیس تھانوں پر حملے، نامعلوم افراد اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فرار
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے اضلاع پشین اور قلعہ عبداللہ میں جمعرات کے روز نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کے دو تھانوں پر حملے کیے اور انھیں نقصان پہنچایا جبکہ وہاں موجود اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین کر لے گئے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ قلعہ عبداللہ میں حملہ گیلو کے علاقے میں کیا گیا۔
بی بی سی کی جانب سے بذریعہ فون رابطہ کرنے پر قلعہ عبداللہ میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدھ کے روز مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے گلستان کے سرحدی علاقے میں واقع گیلو پولیس چوکی پر حملہ کیا۔
ان کے مطابق حملہ آوروں نے پولیس تھانے کو گرا دیا جبکہ اس کے بعض حصوں کو نذر آتش بھی کیا۔
انھوں نے بتایا کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم حملہ آور تھانے سے دو ایس ایم جیز، ایک گاڑی اور موٹر سائیکل لے گئے۔
سینیئر پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ جب پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری حملہ آوروں کے خلاف کاروائی کے لیے پہنچی تو اس سے پہلے ہی وہ وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ جس علاقے میں یہ حملہ ہوا ہے وہ ضلع نوشکی کے سرحد کے قریب واقع ہے۔
اس ہی روز ایک اور حملے میں مسلح افراد نے ضلع پشین کے سرحدی علاقے دینار میں سلطان پولیس تھانے کو بھی نقصان پہنچایا۔
پشین میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد تھانے کو نقصان پہنچانے کے علاوہ اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین کر لے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ عید سے قبل اسی تھانے کی حدود سے نامعلوم مسلح افراد محکمہ حیوانات کے شیپ فارم سے 400 سے زائد بھیڑیں بھی چھین کر لے گئے تھے۔
یہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں پولیس کے تھانوں پر تیسرا حملہ تھا۔
اس سے قبل ضلع دُکی میں نرہن پولیس تھانے پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔
ایس پی دُکی منصور احمد بزدار نے بتایا کہ حملہ آوروں نے بھاری اسلحے سے تھانے پر حملہ کیا لیکن پولیس اہلکاروں کی بھرپور مزاحمت کی وجہ سے وہ تھانے میں داخل نہیں ہوسکے۔
انھوں نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران پولیس کا ایک جوان ہلاک اور ایک زخمی بھی ہوا ہے۔
ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔



