افغانستان میں حجاب قوانین پر خواتین کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج، دو افراد ہلاک, فلورا ڈروری اور بی بی سی افغان سروس
عینی شاہدین اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی پولیس نے مغربی افغان شہر ہرات میں اسلامی لباس سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں خواتین کی حراست کے خلاف ہونے والے ایک احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے براہِ راست فائرنگ کی ہے۔
طبی عملے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ احتجاج کے دوران دو افراد ہلاک ہوئے، تاہم انھوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔ اس احتجاج میں شریک متعدد دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
مقامی طالبان حکام کی جانب سے مبینہ طور پر’غلط طریقے سے حجاب پہننے‘ والی خواتین کی گرفتاریوں کے چند دن بعد مرد اور خواتین دونوں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
ہرات میں پولیس نے ان اموات کی تردید کی ہے، تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کا نوٹس ضرور لیا گیا تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ افسران نے ’سکیورٹی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایکشن لیا۔‘
یہ واضح نہیں ہے کہ پولیس نے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کون سے طریقے استعمال کیے، تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے فائرنگ کی، لیکن بی بی سی کے براہِ راست سوال کرنے پر پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
مظاہرے میں شامل ایک شخص نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ’ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیوں، کوڑوں اور آتشیں اسلحے کا استعمال کیا۔ انہوں نے ہوا میں فائرنگ بھی کی۔‘
انھوں نے خبر رساں ادارے کو مزید بتایا کہ انھوں نے لوگوں کو زخمی ہوتے دیکھا اور ’لوگ شدید خوف زدہ ہیں۔‘
اے ایف پی نے ایک فوٹوگرافر کا بھی حوالہ دیا ہے، جنھوں نے کہا کہ انھوں نے سکیورٹی فورسز کو ’مظاہرین کو مارتے اور ہجوم کی طرف ہتھیار چلاتے ہوئے‘ دیکھا۔
فوٹوگرافر نے کہا ’جو میں نے خود دیکھا، اس کی بنیاد پر ایک بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔‘
بی بی سی ان بیانات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
آن لائن گردش کرنے والی ویڈیوز میں گولیوں کی آواز واضح طور پر سنی جا سکتی ہے، جبکہ خواتین کو ’انہیں مت مارو‘ چیختے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔
ہرات پولیس کمانڈ کے ترجمان سید مسعود حسینی نے کہا کہ مظاہرین نے ’ایسا رویہ اختیار کیا، جس سے عوامی نظم و ضبط میں خلل پڑا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ’حجاب کی پابندی سے متعلق مسائل کے نام پر احتجاج کر کے کشیدگی پیدا کرنے اور اسلامی حجاب، جسے ایک خدائی فریضہ سمجھا جاتا ہے، کی مخالفت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘
بی بی سی کی افغان سروس کے مطابق ایک ویڈیو میں کچھ مظاہرین کو ’تعلیم، کام، آزادی‘ کے نعرے لگاتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔