آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران پر امریکی حملے میں چار افراد ہلاک، ایرانی فوج کا بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی فوج کی جانب سے مسلسل 13ویں روز ایران کے مختلف حصوں پر حملوں میں چار افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ڈرونز کے ذریعے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. بحرین میں خطرے کے سائرن اور دھماکے کی آوازیں

    بحرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجائے گئے تھے۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’خطرے کا سائرن بجا دیا گیا ہے۔ تمام شہریوں اور رہائشیوں سے درخواست ہے کہ پُرسکون رہیں اور قریب ترین محفوظ مقام پر چلے جائیں۔‘

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے بھی دھماکے کی آواز سننے کی خبر دی ہے۔

    اس سے قبل ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے خودکش ڈرونز کے ذریعے بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ اڈے پر امریکی فوج کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

  2. ایرانی فوج کا بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

    ایرانی فوج نے ’آپریشن تھنڈر‘ کے 24ویں مرحلے کے تحت جمعے کی صبح بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خودکش ڈرونز کے ذریعے بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ اڈے پر امریکی فوج کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق ان حملوں میں ایندھن کے ذخائر، فوجی ساز و سامان کے گودام، ذخیرہ کرنے کی شیڈز اور امریکی فوجیوں کی رہائشی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔

    ایرانی فوج کا مزید کہنا ہے کہ اس نے ڈرونز کے ذریعے اردن کے الازرق اڈے پر امریکی فوج کے زیر استعمال طیاروں کے ہینگرز، طیاروں کی دیکھ بھال کے مراکز اور فوجیوں کی رہائش کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے جائز اور قانونی مفادات کے خلاف کسی بھی اقدام کے نتیجے میں خطے کے دیگر ممالک کے سلامتی اور معاشی مفادات متاثر ہوں گے۔

  3. کسی ملک کے منجمد اثاثوں کو ہرجانے کی ادائیگیوں کے لیے استعمال کرنے سے خطرناک نظیر قائم ہو گی: ایران

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے اثاثے منجمد کر کے انھیں مستقبل میں کیے جانے والے غیر متعلقہ دعووں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنے سے ایک خطرناک نظیر قائم ہو گی۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ آج کے بعد سے جہازوں، ان کے سامانِ تجارت (کارگو) یا اس سے متعلق کسی بھی چیز کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا معاوضہ ایران کے ان فنڈز سے ادا کیا جائے گا جو امریکہ کے قبضے اور کنٹرول میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہرجانے بہت زیادہ بھی ہو سکتے ہیں لیکن ان کے خیال میں یہی صحیح قدم ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق امریکی صدر کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جو لوگ ان اقدامات کا خیر مقدم کر رہے ہیں یا اس سے فائدہ اٹھانے کے متعلق سوچ رہے ہیں، انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب حکومتیں دوسروں کی ملکیت ضبط کرنے کو معمول کا عمل بنا لیں تو پھر کوئی بھی جائیداد محفوظ نہیں رہے گی۔

  4. حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب چار روپے 40 پیسے اور تین روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت تین روپے 62 پیسے فی لٹر اضافے کے بعد 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    خیال رہے کہ کچھ برس پہلے تک پاکستان کی حکومت ماہانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین کرتی تھی، اس کے بعد یہ عمل 15 روز اور پھر سات روز پر منتقل کر دیا گیا اور گذشتہ ہفتے حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

    سوموار کے روز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ کی بنیاد پر تعین کے آغاز کے بعد سے اب تک ڈیزل کی قیمت میں 50 روپے سے زائد جبکہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 16 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

  5. پاکستان کے لیے خطرہ بننے والے شدت پسندوں کے ڈھانچے جہاں کہیں بھی ہوں، ختم کر دیے جائیں گے: فیلڈ مارشل عاصم منیر

    پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس عزہ کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے لیے خطرہ بننے والے شدت پسندوں کے ڈھانچے جہاں کہیں بھی ہوں، انھیں ختم کر دیا جائے گا۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ بات جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں 20 ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے ملاقات کے دوران کہی۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی حمایت کے ساتھ بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کو یقینی بنائیں گے۔

    انھوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ جہاں کہیں بھی دہشت گردوں کا بنیادی ڈھانچہ ملک اور اس کے عوام کے لیے خطرہ بنے گا، پاکستان اسے ختم کرنے کے لیے اپنے پختہ عزم پر قائم رہے گا۔

    آرمی چیف نے الزام لگایا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر مسلسل بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کی حمایت کے ساتھ ان مذموم عزائم کو مضبوط اور فیصلہ کن جواب دے کر ناکام بنائیں گی۔

  6. اب سے کسی بھی جہاز کو ہونے والے نقصان کا ہرجانہ ایرانی اثاثوں سے ادا کیا جائے گا: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اب سے کسی بھی جہاز پر حملے کی صورت میں ہونے والے نقصان کا کا ہرجانہ ایرانی اثاثوں سے ادا کیا جائے گا۔

    اپنی سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا ہے کہ آج کے بعد سے جہازوں، ان کے سامانِ تجارت (کارگو) یا اس سے متعلق کسی بھی چیز کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا معاوضہ ایران کے ان فنڈز سے ادا کیا جائے گا جو امریکہ کے قبضے اور کنٹرول میں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق آئندہ اطلاع تک ہو گا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ہرجانے بہت زیادہ بھی ہو سکتے ہیں لیکن میرے خیال میں یہی صحیح قدم ہے۔

  7. امریکی حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک، سات زخمی

    جمعہ کے روز امریکی فوج کی جانب سے ایران کے مختلف حصوں پر مسلسل 13ویں رات حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق جمعہ کی صبح امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام کی جانب سے امریکی فضائی حملوں کے اختتام کے اعلان کے کچھ دیر بعد جنوبی ایرانی شہر اہواز کے حکام نے بتایا کہ ان حملوں میں چار افراد ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بندر عباس شہر پر امریکی میزائل حملوں کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    صوبۂ ہرمزگان کی ہلالِ احمر سوسائٹی کے سربراہ کے مطابق یہ دونوں افراد ’تپہ اللہ اکبر‘ نامی علاقے میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ایران کی وزارتِ صحت کے اطلاعاتی مرکز کے سربراہ حسین کرمان پور نے جمعرات کو بتایا تھا کہ امریکی فضائی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد سے 55 افراد ہلاک جبکہ 629 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

  8. امریکی فوج کا مسلس 13ویں رات ایران پر حملہ

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ اس نے مسلسل 13ویں رات ایران پر حملے کیے ہیں۔

    سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی فوج کے کمانڈ مراکز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کی تنصیبات اور ایرانی بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایران سے لاحق خطرے کو مزید کم کرنا ہے۔

    سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی حالیہ کارروائیوں کے باوجود آبنائے ہرمز جہاز رانی کے لیے کھلی ہوئی ہے اور امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ تجارتی جہاز بدستور آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزر رہے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق جمعہ کی صبح ایران کے جن علاقوں سے دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان میں بندر عباس، اہواز، امیدیہ، جاسک، قشم، اندیمشک، خرم آباد، خنداب، بروجرد، فیروزآباد، تفت اور نائین شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ مشرقی تہران سے فضائی دفاعی کارروائیوں کی بھی متعدد اطلاعات موصول ہوئیں۔

  9. ایرانی حملے علاقائی امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں: کویت

    کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران اور اس کے حمایت یافتہ عناصر کی جانب سے ملک کے خلاف جاری ’مجرمانہ جارحیت‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

    وزارت خارجہ کے مطابق جمعرات کو اس کے العبدلی بارڈر کو متعدد ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جو ریاستِ کویت کی ’خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ، اور بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی سنگین خلاف ورزی‘ ہے۔

    کویتی وزارت نے زور دیا کہ: ’ان بار بار ہونے والے حملوں کا تسلسل ایک خطرناک اشتعال انگیزی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، جو ایک منظم اور ناقابلِ جواز دشمنی پر مبنی طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔‘

  10. ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

    ان کے بقول ان میں ایسے حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں جو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران کیے گئے حملوں سے کہیں زیادہ بڑے ہوں۔

    امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کو دیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک ’بڑے حملے‘ کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ممکنہ کارروائی کے نتائج ہوں گے اور اسی لیے فیصلہ احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔

    دو امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اب تک ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی امریکی فوج کو اس حوالے سے کوئی نئے احکامات دیے گئے ہیں۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل فوری طور پر کسی نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے لیے امریکہ کو کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر اسرائیل حملوں میں شریک ہوا تو ایران کی جانب سے جوابی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت نے حالیہ سفارتی تجاویز قبول نہیں کیں اور ’ابھی انھیں کافی نقصان نہیں پہنچا۔‘

    یاد رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانا بنایا جس کے باعث عالمی تیل کی ترسیل کے ایک اور اہم راستے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر خبردار کیا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں دوبارہ جہازوں پر حملے کیے تو امریکہ اس کی ذمہ داری ایران پر عائد کرے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حوثی ایران کے حمایتی گروہ ہیں، اس لیے کسی بھی نئی کارروائی کی صورت میں ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  11. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ امریکہ نے ایران پر حملے کے لیے برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے پر موجود بی-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا، لندن کو خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی اڈہ ’جائز ہدف‘ ہوگا۔
    • عالمی منڈی میں ایک بار پھر تیل کی قیمتیں مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
    • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی میں عراق کے ممکنہ کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کافی ثالث موجود ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری سعودی عرب کی ابراہم اکارڈ میں شمولیت سے مشروط ہوگی۔
  12. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔