ایران بحری ناکہ بندی کے سبب تیل سے پیسے نہیں کما پا رہا، معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے: امریکی صدر کا دعویٰ

اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ایران کوئی معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کر دیا ہے اور اس کی ڈرون فیکٹریاں 82 فیصد اور میزائل فیکٹریاں 90 فیصد تک ختم ہو چکی ہیں۔

خلاصہ

  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے تاکہ وہ جوہری بم نہ حاصل کر سکے
  • فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کا کہنا ہے کہ ایران اس برس ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں 'شرکت کرے گا'، جو کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا جائے گا
  • بحری ناکہ بندی مسلط کرنے کی ہر کوشش کا مقدر ناکامی ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
  • عالمی منڈیوں میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی، پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں مندی، جبکہ ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی تیل کی فی بیرل قیمت 140 ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی
  • ایران جنگ کے پیدا کردہ توانائی بحران کے باوجود امریکی معیشت 'انتہائی مضبوط' ہے: چیئرمین مرکزی بینک
  • اسرائیل نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیا، 20 جہازوں پر سوار 175 کارکن حراست میں لے لیے گئے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    یکم مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. تہران میں فضائی دفاعی نظام نے چھوٹے ڈرونز کو نشانہ بنایا: ایرانی خبر ایجنسی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ جمعرات کے روز ایرانی فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت تہران کے بعض علاقوں میں چھوٹے اور جاسوس ڈرونز کا کو نشانہ بنایا ہے۔

    یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب شہر کے مغربی، وسطی اور جنوب مشرقی حصوں میں فضائی دفاعی فائر کی آوازیں سنی گئی تھیں۔

  3. متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کے ایران، لبنان اور عراق سفر پر پابندی عائد کر دی

    متحدہ عرب امارات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متحدہ عرب امارات نے’خطے میں موجودہ پیش رفت کی روشنی میں‘ اپنے شہریوں کے ایران، لبنان اور عراق کے سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان ممالک سے فوراً واپس آ جائیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. ایران فُٹبال ورلڈ کپ کے میچز امریکہ میں کھیلے گا: فیفا صدر

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کا کہنا ہے کہ ایران اس برس ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں ’شرکت کرے گا‘، جو کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا جائے گا۔

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے سبب ایرانی ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

    تاہم فیفا کے صدر کا کہنا ہے کہ ’ایران ضرور امریکہ میں کھیلے گا۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے، ہمیں متحد رہنا ہے۔ ہمیں لوگوں کو جوڑنا ہے۔‘

    کینیڈا میں منعقد ہونے والی فیفا کانگریس میں ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج سمیت دیگر حکام کو بھی شریک ہونا تھا، مگر 211 ممالک میں سے ایران ہی وہ واحد ملک تھا جس کے نمائندے وہاں موجود نہیں تھے۔

    ایران کی تسنیم ایجنسی نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ ان کا وفد کینیڈا میں امیگریشن حکام کے رویے کے سبب بارڈر کنٹرول سے ہی واپس لوٹ گیا تھا۔

    کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ایرانی وفد کے ملک میں داخلے کی اجازت کو ’منسوخ‘ کر دیا گیا تھا۔

    کہا جاتا ہے کہ ایرانی فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ تاج مہدی کے پاسدارانِ انقلاب سے تعلقات ہیں۔

    جمعرات کو صدر ٹرمپ سےجب ایران کے فُٹبال ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے حوالے سے پوچھا گیا، تو ان کا کہنا تھا کہ ’اگر جیانی کہتے ہیں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے خیال میں انھیں کھیلنے دینا چاہیے۔‘

  5. ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے، اس کی جوہری صلاحیت ختم کر دی: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے تاکہ وہ جوہری بم نہ حاصل کر سکے۔

    اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ایران کوئی معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کر دیا ہے اور اس کی ڈرون فیکٹریاں 82 فیصد اور میزائل فیکٹریاں 90 فیصد ختم ہو چکی ہیں۔

    ’ہم نے ان کے بہت سارے میزائل تباہ کر دیے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتے۔

    ایران کی بحری ناکہ بندی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’ان کی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ ہماری ناکہ بندی شاندار رہی ہے اور ایران اب تیل سے کوئی پیسے نہیں کما پا رہا۔‘

  6. پاکستانی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا

    پاکستانی حکومت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی حکومت نے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں چھ روپے 51 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

    اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 19 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

  7. ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی: 44 تجارتی جہازوں کو واپس مڑنے یا بندرگاہ لوٹنے کی ہدایت

    CENTCOM

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یو ایس ایس نیو اورلینز (ایل پی ڈی 18) پر سوار امریکی میرینز بحیرۂ عرب میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی کارروائیوں کے دوران پہرہ دے رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ آج تک 44 تجارتی جہازوں کو واپس مڑنے یا بندرگاہ لوٹنے کی ہدایت دی جا چکی ہے۔

  8. برطانیہ میں یہودیوں پر چاقو حملہ: وزیرِ اعظم سٹامر کا یہود مخالف تشدد روکنے کے لیے سخت قوانین متعارف کروانے کا اعلان

    برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی یہودی برادری کو کل ایک بار پھر ایک ’انتہائی قابلِ نفرت دہشت گردی کے حملے‘ کا سامنا کرنا پڑا، جب دو افراد پر صرف اس لیے چاقو سے حملہ کیا گیا ’کیونکہ وہ یہودی تھے۔‘

    برطانوی وزیرِ اعظم نے اس سے قبل گولڈرز گرین کا دورہ بھی کیا تھا۔ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہاں انھوں نے ایسی کارروائیوں کے خلاف ’ایکشن لینے کے عزم کا اظہار کیا تھا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی واحد حملہ نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی ایسے حملوں کا سلسلہ دیکھا گیا ہے۔‘

    وزیرِ اعظم سٹامر کا مزید کہنا تھا کہ یہود مخالف حملوں میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ یہودی لوگ اب ’اپنی شناخت ظاہر کرنے سے خوفزدہ ہیں‘، انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ یا یونیورسٹی جائیں یا نہ جائیں اور اپنے بچوں کو سکول بھیجیں یا نہیں اور اپنے ساتھیوں کو اپنی شناخت بتائیں یا نہیں۔

    ’برطانیہ میں کسی کو بھی اس طرح زندگی نہیں گزارنی چاہیے، مگر یہودی ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔‘

    برطانوی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت کمیونیٹز میں ’پولیس کی موجودگی واضح طور پر‘ بڑھائے گی، سکیورٹی فورسز پر زیادہ سرمایہ لگائے گی اور ایسے فلاحی اداروں کو بند کرنے کے لیے سخت قوانین متعارف کروائے گی، جو یہود مخالف انتہاپسندی کو فروغ دیتے ہیں۔

    وہ مزید کہتے ہیں کہ حکومت انصاف کے نظام کے ساتھ مل کر یہود مخالف حملوں کے مقدمات میں سزائیں سنانے کے عمل کو تیز کرے گی۔

    برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ اعظم سٹامر کے مطابق ان کی حکومت ’نفرت پھیلانے والوں کو‘ ملک میں داخل ہونے سے روکے گی اور انھیں یونیورسٹی کیمپسز، سڑکوں اور کمیونٹیز سے دور رکھا جائے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانوی حکومت عدلیہ کے ساتھ مل کر بھی کام کرے گی تاکہ یہود مخالف حملوں میں ملوث افراد کو جلد سزائیں سنائی جائیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت ’ایران جیسے ممالک کی جانب سے لاحق خطرے سے نمٹنے کے لیے مزید سخت قوانین‘ متعارف کروائے گی اور اس مقصد کے لیے قانون سازی کے عمل کو تیز کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

    اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چاقو حملہ میں ملوث ملزم 45 سالہ عیسیٰ سلیمان کو سنہ 2020 میں حکومت کے انسدادِ دہشتگردی کے پروگرام کی طرف بھیجا گیا تھا، برطانوی وزیرِ اعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ پروگرام برطانیہ میں لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر ہے یا نہیں؟

    اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم سٹامر کا کہنا تھا کہ حملے کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ’ابھی ہمارے پاس تمام حقائق موجود نہیں ہیں۔‘

  9. ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے 21 سالہ نوجوان کو سزائے موت دے دی گئی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہUGC

    ایران کی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ جنوری میں اصفہان میں احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے ایک 21 سالہ نوجوان کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

    21 سالہ نوجوان کی شناخت ساسان آزادوار جونغانی کے نام سے ہوئی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ رواں برس جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا مقصد حکومت کا ’تختہ اُلٹنا‘ تھا اور ساسان نے ’افسران کی ایک بس پر پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا تھا، جس سے گاڑی کی کھڑکیاں ٹوٹ گئی تھیں اور انھوں نے افسران پر بھی پتھر اور اینٹیں پھینکیں تھیں۔‘

    ساسان کو سزائے موت اصفہان کی عدالت نے سنائی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ نے اس سزا کی توثیق کی اور انھیں 10 مئی کو پھانسی دی گئی۔

    وکلا کی جانب سے چلائی جانے والی ویب سائٹ ددبان کے مطابق اگر نوجوان نے جرم کا اعتراف بھی کیا تھا تو تب بھی انھوں نے کسی ہتھیار کا استعمال نہیں کیا تھا اور انھیں دی گئی سزا کی نوعیت درست نہیں ہے۔

  10. امریکی فوجی قیادت ایران کے خلاف ’ممکنہ فوجی کارروائی کے منصوبے‘ پر صدر ٹرمپ کو بریفنگ دے گی

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت، بشمول سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر، جمعرات کو بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تفصیلات سے متعلق بریفنگ دے گی۔

    اہلکار کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین بھی اس بریفنگ میں شریک ہوں گے۔

    اہلکار نے زیرِ غور آنے والے آپشنز کی حد کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بریفنگ میں اس امر پر توجہ دیے جانے کی توقع ہے کہ ایران کو تنازع کے خاتمے پر مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہوں گے۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوز نے جمعرات کو پہلے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر ’مختصر اور طاقتور‘ فضائی حملوں کی ایک لہر شروع کرنے کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے، جس میں ممکنہ طور پر بنیادی ڈھانچے کے اہداف شامل ہوں گے، اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے ایک حصے پر قبضہ کر کے اسے تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کا ایک اور منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔

  11. ’ہم نے آپ کے اڈوں کا انجام دیکھا، ہم آپ کے طیارہ بردار جہازوں کی قسمت بھی دیکھیں گے‘ ایرانی ایرو سپیس کمانڈر

    @CENTCOM

    ،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM

    ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدران انقلاب کے ایرو سپیس کمانڈر نے امریکہ کو کہا ہے کہ ہم خطے میں آپ کے طیارہ بردار جہازوں کی قسمت دیکھیں گے۔

    پاسدران انقلاب ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید ماجد موسوی نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے خطے میں آپ کے اڈوں کا انجام دیکھا۔ ہم آپ کے طیارہ بردار جہازوں کی قسمت بھی دیکھیں گے۔‘

  12. فساد برپا کرنے والے غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانیوں کی تہہ کے سوا کچھ نہیں: مجتبیٰ خامنہ ای

    مجتبی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھ کر لالچ کی بنیاد پر فساد برپا کرنے والے غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانیوں کی تہہ کے سوا کہیں اور نہیں ہے۔

    یوم خلیج فارس کے موقع پر اپنے پیغام میں ایرانی رہنما کا کہنا تھا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا باب تحریر کیا جا رہا ہے۔

    ایرانی رہبر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ’خلیج فارس کا روشن مستقبل امریکہ سے پاک ہو گا۔‘

    مجتبی خامنہ ای نے کہا کہ اس خطے کے روشن مستقبل میں ’امریکہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا‘ اور یہ کہ آبنائے ہرمز کے ’نئے نظام‘ پر عملدرآمد سے تمام ممالک مستفید ہوں گے۔

    ان کا دعویٰ ہے کہ ’خلیج فارس میں عدم تحفظ کی بنیادی وجہ یہاں امریکی موجودگی ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی اڈے نہ تو خود کی اور نہ ہی خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

    مجتبی خامنہ نے یہ بھی کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر ’خلیج فارس کے خطے کو محفوظ بنائے گا اور دشمن کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کے استحصال کو ختم کرے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز کے ’نئے نظم و انتظام‘ کے قانونی قواعد اور ان کا نفاذ خطے کی تمام اقوام کے لیے آسائش اور ترقی لے کر آئیں گے۔‘

    مجتبیٰ خامنہ ای دو ماہ قبل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز اور اسلامی جمہوریہ کے رہبر اعلیٰ کے طور پر اپنی تقرری کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں اور نہ ہی اس کے بعد سے ان کی کوئی نئی ویڈیو یا تصاویر جاری کی گئی ہیں۔

    اس دوران ان سے منسوب کئی تحریری پیغامات ایرانی میڈیا میں شائع ہوئے ہیں اور مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ تازہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری ہے۔

  13. بحری ناکہ بندی مسلط کرنے کی ہر کوشش کا مقدر ناکامی ہے: مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکہ کی بحری ناکہ بندی خلیج میں بد امنی کو مزید بڑھائے گی اور اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔

    بی بی سی عربی کے مطابق جمعرات کو اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا: ’بحری ناکہ بندی مسلط کرنے یا بین الاقوامی قوانین سے متصادم کوئی بھی پابندیاں عائد کرنے کی ہر کوشش کا مقدر ناکامی ہے۔‘

    مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات ’نہ صرف علاقائی سلامتی کے فروغ میں ناکام رہیں گے بلکہ درحقیقت کشیدگی کا باعث بنیں گے اور خلیج میں استحکام کو نقصان پہنچائیں گے۔‘

  14. اسرائیل نے امداد لے کر غزہ جانے والے بحری قافلے میں شامل 175 کارکن حراست میں لے لیے

    غزہ کے لیے امداد لے جانے والا بحری قافلہ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیلی افواج نے غزہ کی جانب جانے والے امدادی قافلے کے 20 جہازوں پر سوار تقریباً 175 کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

    وزارت نے ایک بیان میں کہا: ’20 سے زائد کشتیوں پر سوار تقریباً 175 کارکن اب ’پرامن‘ طور پر اسرائیل کی طرف جا رہے ہیں۔‘

    فلسطین نواز کارکنوں پر مشتمل اس قافلے کے منتظمین اسرائیل کی جانب سے غزہ پر عائد محاصرے کو توڑنا اور وہاں امداد پہنچانا چاہتے تھے۔ اس سے قبل انھوں نے بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج نے ان کے بحری قافلے کو بین الاقوامی پانیوں میں یونان کے قریب روک لیا ہے۔

    اسرائیل مسلسل اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ غزہ کا محاصرہ کیے ہوئے ہے اور کہتا ہے کہ وہ انسانی امداد داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔

    تاحال کارکنوں کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

  15. اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں واٹر سٹیشن پر حملہ

    لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے باتولیہ شہر کے واٹر سٹیشن پر حملہ کیا ہے۔ نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ شہری اپنی پانی کی ضروریات کے لیے اسی سٹیشن پر انحصار کرتے تھے۔

    لبنان کے سرکاری میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے صور کے علاقے میں البیاض کے مقام پر ایک سیاحتی تفریحی مقام کو بھی نشانہ بنایا۔

  16. 126 ڈالر فی بیرل: تیل کی قیمت سنہ 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح پر

    آئل ریفائنری کی تصویر

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    تقریباً سات فیصد اضافے سے برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہے۔ یہ سنہ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔

    امریکہ اور ایران میں امن مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں، مرکزی بحری گزر گاہ آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہے اور اس وجہ سے رواں ہفتے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    امریکہ میں بھی خام تیل کی قیمت 2.3 فیصد اضافے سے تقریباً 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

  17. اسرائیل نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیا

    غزہ کے لیے امداد لے جانے والی کشتیوں کا قافلہ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    فلسطین کے حامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے امداد لے جانے والی کشتیوں کے ایک بحری قافلے کو بین الاقوامی پانیوں میں یونان کے قریب اسرائیلی فوج نے روک لیا ہے۔

    قافلے کے منتظمین نے اسے غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ یہ کشتیاں اسرائیلی محاصرے میں موجود غزہ سے سینکڑوں کلومیٹر دور تھیں۔

    ان کے مطابق اس قافلے کی 50 میں سے 11 کشتیوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ گذشتہ سال اکتوبر میں بھی اسی نوعیت کے ایک بحری قافلے کو اسرائیل نے روکا تھا اور سویڈن کی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت 450 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

    نقشے میں وہ جگہ جہاں غزہ کے لیے امداد لے جانے والی کشتیوں کا قافلہ روکا گیا

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

  18. اسرائیل کے شمال میں سائرن بج اٹھے

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایک میزائل کی نشاندہی کے بعد ملک کے شمالی علاقے زرعیت میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔

    زرعیت شمالی اسرائیل میں لبنان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

    اس سے قبل بھی اسرائیلی فوج نے بتایا تھا کہ جنوبی لبنان سے داغا گیا ایک میزائل روکا گیا۔ اسرائیل کے مطابق یہ میزائل اس علاقے کی جانب داغا گیا تھا جہاں فوجی اہلکار سرگرم تھے۔

    اسرائیلی فوج نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

  19. پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس میں چار ہزار پوائنٹس سے زیادہ کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں جمعرات کے روز مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور انڈیکس چار ہزار سے زیادہ پوائنٹس نیچے چلا گیا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز بھی انڈیکس میں 2588 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ جیو پولیٹیکل حالات ہیں جس کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں اور سٹاک مارکیٹ پر اس کا منفی اثر ہوا۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ روز کے بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی جس کا اثر دنیا میں تیل کی قیمتوں پر پڑا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز ایک بار پھر کہا تھا کہ ایران کے ساتھ اس وقت تک معاہدہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ جوہری ہتھیاروں سے دستبردار نہ ہو جائے۔ وہ معاہدہ ہونے تک ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اسی طرح آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد امریکہ کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔

    جبران سرفراز کے مطابق اس کا منفی اثر پاکستان سٹاک مارکیٹ پر بھی پڑا اور مارکیٹ میں رجحان منفی ہو گیا۔ انھوں نے بتایا کہ چونکہ آگے تین دن کا ویک اینڈ آ رہا ہے اور سرمایہ کار ان تین دنوں کی ممکنہ صورتحال کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں تو انھوں نے حصص فروخت کر دیے۔

  20. ایران جنگ کے پیدا کردہ توانائی بحران کے باوجود امریکی معیشت ’انتہائی مضبوط‘ ہے: چیئرمین مرکزی بینک

    امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول

    ،تصویر کا ذریعہAnna Moneymaker/Getty Images

    امریکی فیڈرل ریزرو (مرکزی بینک) کے چیئرمین جیروم پاول نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کے باوجود امریکی معیشت ’انتہائی مضبوط‘ ہے اور امکان ہے کہ اس سال دو فیصد سے زیادہ کی شرح سے ترقی کرتی رہے گی۔

    بدھ کے روز فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی آخری پریس کانفرنس کے دوران جیروم پاول نے کہا: ’ہماری معیشت کے تمام شعبے واقعی مضبوط ہیں۔ اس کی کچھ وجہ یہ ہے کہ صارفین اب بھی زیادہ خریداری کر رہے ہیں اور حالیہ اعداد و شمار مثبت ہیں۔‘

    معیشت کی مضبوطی کی وجوہات بتاتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز کی طلب بڑھتی جا رہی ہے اور کاروباری سرمایہ کاری کا بڑا حصہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی طرف جا رہا ہے۔‘

    امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کے مطابق ’اس بات پر یقین کرنے کی بھرپور وجوہات ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘