لائیو, آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملوں کے بعد امریکہ کے ایران پر حملے، تہران کا ’فیصلہ کن اقدامات‘ کرنے کا اعلان

امریکہ نے ایران پر نئے حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جسے امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کی جانب سے تین تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کا جواب کہا جا رہا ہے۔ ایران نے امریکی حملوں کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا اور خبردار کیا کہ تہران ’فیصلہ کن اقدامات‘ کرے گا۔

خلاصہ

  • آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملوں کے بعد امریکہ کے ایران پر حملے
  • ایران میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی فوج
  • تہران 'فیصلہ کن اقدامات' کرے گا: نائب وزیر خارجہ ایران
  • برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا
  • مجھے یقین ہے ترکی بھی نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں: ٹرمپ
  • لا پتہ کارگو طیارے کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری، کراچی آنے والے پرواز پر پانچ افراد سوار تھے

لائیو کوریج

  1. ایران میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی فوج

    ایران پر امریکی حملے کا منظر

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے نئے سلسلے میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں سینٹ کام نے کہا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔

    سینٹ کام کے مطابق امریکی فورسز نے ایران کے فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی ریڈار تنصیبات، بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل نظام اور آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں موجود پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زیادہ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔

    بیان میں سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد بین الاقوامی تجارتی گزر گاہ سے ہونے والی تجارت پر حملے جاری رکھنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

    سینٹ کام کے مطابق ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملے کیے، جن میں مارشل آئی لینڈز کا پرچم بردار ایم/ٹی الرقایات، سعودی عرب کا پرچم بردار ایم/ٹی ودیان اور لائبیریا کا پرچم بردار ایم/ٹی سائپرس پراسپیرٹی شامل ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ ایرانی فورسز کی یہ بلا اشتعال جارحیت جنگ بندی کی واضح اور خطرناک خلاف ورزی ہے اور یہ بحری نقل و حرکت کی آزادی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

    سینٹ کام نے کہا کہ اگر معاہدے کی پاسداری نہ کی گئی یا اس پر عمل در آمد میں ناکامی ہوئی تو امریکی فورسز ایران کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے تعینات اور تیار ہیں۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملوں کو دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ تہران ’فیصلہ کن اقدامات‘ کرے گا۔

  2. آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملوں کے بعد امریکہ کے ایران پر حملے

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے ایران پر نئے حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جسے امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کی جانب سے تین تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کا جواب کہا جا رہا ہے۔

    منگل کے روز سینٹ کام نے کہا کہ اس نے یہ کارروائی اس لیے شروع کی ہے ’تاکہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بے گناہ افراد کے عملے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے اور ان پر حملے کرنے کی بھاری قیمت عائد کی جا سکے۔‘

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملوں کو دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا اور خبردار کیا کہ تہران ’فیصلہ کن اقدامات‘ کرے گا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے جزیرہ قشم، بندر عباس اور سیریک پر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ زخمی ہوئے تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔

    گذشتہ روز برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن (یو کے ایم ٹی او) نے 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب تین بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاع دی تھی۔

    تنظیم کے مطابق منگل کو ایک ٹینکر نے اطلاع دی کہ آبنائے ہرمز سے نکلتے وقت اسے نشانہ بنایا گیا، لیکن وہ اپنی اگلی بندرگاہ تک جانے میں کامیاب رہا، جبکہ ایک اور ٹینکر نے اطلاع دی کہ نشانہ بنائے جانے کے بعد اسے معمولی نقصان پہنچا۔

    اسی طرح ایک تیسرا تیل بردار جہاز عمان کے جزیرہ نما مسندم سے تقریباً 6 بحری میل کے فاصلے پر ایک نا معلوم شے کے حملے کی زد میں آیا۔

    نشانہ بنائے گئے دو جہازوں کا تعلق قطر اور سعودی عرب سے تھا اور انھوں نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا۔

    قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق آئل ٹینکر الرقایات پر حملے کی تمام تر ذمہ داری ایران پر ہے۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ قطر نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’فوری طور پر تمام ایسے اقدامات بند کرے جو علاقائی سلامتی کو کمزور کرتے ہیں‘ اور ’محدود مفادات کے حصول کے لیے عالمی توانائی کی رسد اور خطے کے ممالک کے وسائل کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے۔‘

    سوشل میڈیا پر ایک علیحدہ پوسٹ میں سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران نے سعودی ٹینکر ودیان کو آبنائے ہرمز عبور کرتے وقت نشانہ بنایا۔

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے قطر کے الزامات کو ’حسنِ ہمسائیگی کے اصول کے منافی‘ قرار دیا۔

    ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ جو تجارتی بحری جہاز ایران کے ساتھ طے شدہ راستوں کے بجائے دوسرے راستے استعمال کرتے ہیں یا اپنی نقل و حرکت کی نگرانی کے نظام میں رد و بدل کرتے ہیں، انھیں تصادم کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اس سے آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کی ایران کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔

    امریکہ نے ٹینکروں پر حملوں کو ’مکمل طور پر نا قابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نتائج ہوں گے۔

    منگل کی شب جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ امریکی حملے ’ایرانی حملوں کے جواب میں‘ کیے گئے۔

    اس نے کہا: ’ایران کی جارحیت بلا جواز، خطرناک اور جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی تھی۔‘

    حملوں سے پہلے، امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کے روز اس استثنیٰ کو منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت ایران پر عائد تیل فروخت کرنے کی پابندیوں میں عارضی نرمی کی گئی تھی۔

    گذشتہ ماہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    ایران کی وزارت خارجہ نے اس اقدام کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس سے امریکی حکومت کی ’بد نیتی، عدم تسلسل اور نا قابل اعتبار ہونے‘ کا ثبوت ملتا ہے۔

    اس نے مزید کہا کہ تہران ’ہر وہ اقدام کرے گا جسے وہ اپنے قومی مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھے۔‘

  3. لا پتہ کارگو طیارے کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری، کراچی آنے والی پرواز پر پانچ افراد سوار تھے

    شارجہ سے کراچی آنے والی کے ٹو ایئرویز کی کارگو پرواز لا پتہ

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    شارجہ سے کراچی آنے والی کے ٹو ایئرویز کی بوئنگ 737 کارگو پرواز لاپتہ ہو گئی ہے، جس میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔

    پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق پرواز نے مقامی وقت کے مطابق رات نو بج کر 18 منٹ پر نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی، جس کے بعد کراچی ایریا کنٹرول سینٹر (اے سی سی) نے فوری طور پر طیارے کی رہنمائی کی۔

    بیان کے مطابق رات نو بج کر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارہ تیزی سے نیچے آتا ہوا نظر آیا اور اس کا رخ اچانک تبدیل ہوتا دیکھا گیا، جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔

    پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق واقعے کے بعد ریسکیو کوآرڈی نیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا، جبکہ لا پتہ طیارے کی تلاش کے لیے پاکستانی بحریہ، فضائیہ اور دیگر اداروں کے تعاون سے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

  4. گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا

    برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب تین بحری جہازوں نے حملے کا نشانہ بننے کی اطلاع دی ہے۔

    اس برطانوی بحری ادارے کے مطابق، ان میں سے ایک قطر کا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والا جہاز تھا، جس پر ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔

    قطر نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے ابھی تک اس بارے میں کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    اسی دوران، ایک بہت بڑا خام تیل بردار جہاز (VLCC) بھی بحیرۂ عمان میں متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ خور فکّان سے 16 بحری میل مشرق میں حملے کا نشانہ بنا۔

    تیسرا تیل بردار جہاز عمان کے جزیرہ نما مسندم سے تقریباً 6 بحری میل کے فاصلے پر ایک نامعلوم شے کے حملے کی زد میں آیا۔

    ایران نے امریکہ کے ساتھ ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھے گا۔

  5. مجھے یقین ہے ترکی بھی نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں: ٹرمپ

    ٹرمپ اور طیب اردوغان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی جانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی میں ملک کے کردار کے بارے میں بات کی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ انقرہ ’ایران اور اس سے متعلق مسائل کو بخوبی جانتا ہے‘ انھوں نے مزید کہا کہ ترکی نے ایران کے معاملے میں ’بہت موثر‘ مدد فراہم کی ہے۔

    امریکی صدر نے ترکی کو ’بہت طاقتور فوجی ملک‘ قرار دیا اور اس ملک اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’وہ جنگ میں جا سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ شاید یہ میری وجہ سے تھا۔‘

    ٹرمپ نے ترکی اور امریکہ کے تعلقات کو ’زبردست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکی نے ایران کے ساتھ جنگ ​​ختم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔

    انھوں نے ایران کے ساتھ امریکی محاذ آرائی کے بارے میں کہا: ’یہ جنگ نہیں ہے، یہ ایک فوجی آپریشن ہے، یہ جوہری تخفیف ہے۔‘

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انقرہ اور واشنگٹن ایران کی جوہری صلاحیت کے بارے میں یکساں نظریہ رکھتے ہیں: ’میں نہیں سمجھتا کہ ترکی بھی یہ چاہتا ہے کہ وہ (ایران) جوہری ہتھیار رکھے۔ مجھے اس پر پورا یقین ہے۔‘

  6. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’امریکہ ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے جا رہا ہے‘
    • اٹلی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اسرائیل اور لبنان کی حکومت کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کی میزبانی کرے گا
    • مشرقی چین کی ایک عدالت نے ایک سابق سرکاری عہدیدار کو تقریباً 30 برس کے دوران دو اعشاریہ دو ارب یوان یعنی تقریباً 325 ملین امریکی ڈالر سے زائد رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت سنا دی ہے
    • سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات اور نیب کو نوٹس جاری کر دیے
    • بلوچستان کے ضلع زیارت میں مسلح افراد کا حملہ، نو پولیس اہلکار ہلاک
  7. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔