لائیو, تہران میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات تہران میں شروع ہو گئی ہیں۔ متعدد گاڑیاں سوگواروں کے ہجوم سے گزرتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں، اطلاعات کے مطابق ان گاڑیوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے تابوت موجود ہیں۔

خلاصہ

  • تہران میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز
  • آخری رسومات سات دنوں پر محیط ہوں گی
  • جنوبی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملہ، تین بچیاں ہلاک، چار افراد زخمی
  • صرف امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقت ور اتحادی نہیں ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا بھی ہے‘: بنیامین نیتن یاہو
  • امریکی شہر شکاگو میں لینڈنگ کے دوران طیارہ آتش بازی کی زد میں آ گیا
  • امریکہ نے بحیرۂ عرب میں لا پتہ نیوی اہلکار کی تلاش بند کر دی
  • ورلڈ کپ: انگلینڈ اور ناروے کوارٹر فائنل میں، میکسیکو اور برازیل ٹورنامنٹ سے باہر

لائیو کوریج

  1. تہران کی سڑکوں پر سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے کا سفر

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت ایک گاڑی میں لے جائے جا رہے ہیں۔ یہ گاڑی چاروں طرف سے کھلی ہے اور سوگوار اس میں رکھے تابوتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

    علی خامنہ ای کا جنازہ

    ،تصویر کا ذریعہAtta KENARE / AFP via Getty Images

    علی خامنہ ای کا جنازہ

    ،تصویر کا ذریعہWANA via Reuters

    علی خامنہ ای کا جنازہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  2. تہران میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات تہران میں شروع ہو گئی ہیں۔ اس موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

    متعدد گاڑیاں سوگواروں کے ہجوم سے گزرتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان گاڑیوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے تابوت موجود ہیں۔

    آخری رسومات سات دنوں پر محیط ہوں گی۔

    • تین تا چار جولائی: تہران کے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے آغاز
    • پانچ تا چھ جولائی: تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا
    • سات جولائی: خامنہ ای کی میت قم منتقل کی جائے گی، جمکران میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی
    • آٹھ جولائی: میت نجف، عراق منتقل کی جائے گی، جہاں روضۂ امام علی میں جلوس نکالا جائے گا، جس کے بعد کربلا میں آخری رسومات ادا کی جائیں گی
    • نو جولائی: مشہد میں روضۂ امام رضا پر تدفین
    علی خامنہ ای کی آخری رسومات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    علی خامنہ ای کی آخری رسومات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    علی خامنہ ای کی آخری رسومات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  3. امریکی شہر نیو یارک میں چھوٹے طیارے کی دریا میں ہنگامی لینڈنگ

    پانی میں ڈوبا طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے شہر نیو یارک میں ایک چھوٹے آبی طیارے (وہ ہوائی جہاز جو پانی میں اتر سکتا ہے) نے دریا میں ہنگامی لینڈنگ کی، جس کے بعد طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

    امریکی حکام کے مطابق اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے قریب مین ہیٹن میں ایک طیارے کے دریا میں گرنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا۔

    نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق حادثے کے بعد آبی طیارہ پانی میں عمودی حالت میں کھڑا تھا، جسے بعد ازاں کھینچ کر گھاٹ تک لے جایا گیا۔

    کوڈیاک 100 ماڈل کے طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد کو امدادی کارکنوں نے بحفاظت باہر نکال لیا۔ ان میں سے دو افراد کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں، تاہم انھوں نے طبی امداد لینے سے انکار کر دیا۔

    واقعے کی تحقیقات کرنے والی امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے کہا ہے کہ ہنگامی لینڈنگ کے دوران طیارے کے پروں کو سہارا دینے والا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔

  4. بلوچستان میں 130 پولیس اہلکاروں کے بین الاضلاعی تبادلے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خاران سے 130 پولیس اہلکاروں کا تبادلہ ضلع چاغی کر دیا گیا ہے۔

    ماضی میں بلوچستان میں کسی ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں پولیس اہلکاروں کی اتنی بڑی تعداد میں بیک وقت تبدیلی کی مثال نہیں ملتی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی تادیبی کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ سکیورٹی اور پیشہ ورانہ امور کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق پولیس اہلکاروں کا بین الاضلاعی تبادلہ ان کے تحفظ اور دہشت گردی کے واقعات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ہے۔

    بلوچستان میں پولیس اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر تبادلوں کا سلسلہ کب شروع ہوا؟

    رواں سال لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد بلوچستان میں اہلکاروں کے بڑے پیمانے پر بین الاضلاعی تبادلوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

    ماضی میں صوبہ انتظامی طور پر اے اور بی ایریاز میں تقسیم تھا۔ اے ایریاز شہری علاقوں پر مشتمل ہوتے تھے جہاں پولیس اپنے فرائض انجام دیتی تھی جبکہ بی ایریاز کے نام سے 80 فیصد سے زیادہ علاقے لیویز فورس کی عملداری میں تھے۔

    ماضی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لیویز فورس کے علاقوں میں عام جرائم کی شرح کم ہونے کے باوجود بلوچستان کی موجودہ حکومت نے لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا۔

    صوبائی حکومت نے لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچستان کو درپیش امن و امان کے چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا ایک ہی چین آف کمانڈ کے تحت کام کرنا ضروری ہے۔

    بی بی سی سے گفتگو میں بابر یوسفزئی نے بتایا کہ بعض اوقات جب کالعدم تنظیموں کے مسلح افراد پولیس چوکیوں یا تھانوں پر حملے کرتے ہیں تو مقامی سطح پر رشتہ داری یا واقفیت کے باعث اہلکار ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر پاتے۔

    ان کے بقول حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ اہلکار اپنے آبائی اضلاع سے باہر تعینات ہو کر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

    انھوں نے کہا کہ دوسرے اضلاع میں تعیناتی سے نہ صرف پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی بہتر ہو گی بلکہ اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو درپیش سکیورٹی خطرات میں بھی کمی آئے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب اہلکار اپنے آبائی ضلع کے بجائے کسی دوسرے ضلع میں تعینات ہوں گے تو کالعدم تنظیموں کے کارکن ان کے اور ان کے خاندانوں کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کر پائیں گے۔

  5. فٹبال ورلڈ کپ: انگلینڈ اور ناروے کوارٹر فائنل میں، میکسیکو اور برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے

    شائقین فٹبال میچ دیکھ رہے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہAlishia Abodunde/Getty Images

    فیفا فٹبال ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں انگلینڈ اور ناروے نے اہم فتوحات حاصل کرتے ہوئے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے، جبکہ میکسیکو اور پانچ بار کا عالمی چیمپیئن برازیل ایونٹ سے باہر ہو گئے۔

    انگلینڈ نے ایک سنسنی خیز مقابلے میں میکسیکو کو 3-2 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی۔

    اُدھر ناروے نے برازیل کو 2-1 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔

    اس طرح کینیڈا، میکسیکو اور برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں، جبکہ میزبان ممالک میں اب صرف امریکہ باقی رہ گیا ہے، جس کا مقابلہ سات جولائی کو بیلجیئم سے ہو گا۔

  6. سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پر پاکستانی حکام اور عوام کا شکریہ: ایران

    ایرانی رہبر اعلیٰ کی آخری رسومات میں شریک پاکستانی وفد

    ،تصویر کا ذریعہx.com/IranAmbPak

    پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر نے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں رضا امیری مقدم نے وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت ان تمام شخصیات کا شکریہ ادا کیا جو علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شریک ہوئے اور ’ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔‘

    انھوں نے لکھا: ’اس قدر ممتاز، اعلیٰ سطح اور بڑی تعداد پر مشتمل پاکستانی وفد کی موجودگی دونوں برادر ممالک کے درمیان پائیدار دوستی، باہمی احترام اور برادرانہ تعلقات کی گواہی ہے۔‘

  7. چھ تا 10 جولائی بارشوں کا امکان، پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق چھ جولائی سے کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، اسلام آباد، پوٹھوہار اور شمال مشرقی پنجاب میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    سات سے 10 جولائی کے دوران دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے بالائی ملحقہ علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے نے سات جولائی کو اسلام آباد، پوٹھوہار، کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، شمالی پنجاب اور شمالی بلوچستان میں بارشوں کی شدت میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ متوقع بارشوں کے باعث تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کی آمد میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ سات سے 10 جولائی کے دوران دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج میں بھی پانی کے بہاؤ میں معمولی اضافے کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں، تاہم پہاڑی ندی نالوں اور چھوٹے برساتی نالوں میں اچانک پانی کے بہاؤ میں مقامی سطح پر اضافہ ہو سکتا ہے۔

    حساس بالائی علاقوں میں سیلاب جبکہ شدید بارش کے دوران شہری علاقوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور سیلابی صورتحال کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    مزید برآں خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بھی ہے۔

  8. ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تہران اور قم میں خصوصی انتظامات

    علی خامنہ ای کی آخری رسومات

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی ادائیگی سرکاری طور پر پیر کے روز شروع ہو گی۔ اس کے لیے تہران اور قم میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    علی خامنہ ای اور امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہونے والے ان کے دیگر اہلِ خانہ کی نماز جنازہ اتوار کے روز تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ میں آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔

    آئندہ دنوں میں ایران اور عراق میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان رسومات میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔

    یہ رسومات نہایت منظم انداز میں ترتیب دی گئی ہیں اور سات دنوں پر محیط ہوں گی۔

    • تین تا چار جولائی: تہران کے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے آخری رسومات کا آغاز
    • پانچ تا چھ جولائی: تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا
    • سات جولائی: خامنہ ای کی میت قم منتقل کی جائے گی، جمکران میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی
    • آٹھ جولائی: میت نجف، عراق منتقل کی جائے گی، جہاں روضۂ امام علی میں جلوس نکالا جائے گا، جس کے بعد کربلا میں آخری رسومات ادا کی جائیں گی
    • نو جولائی: مشہد میں روضۂ امام رضا پر تدفین
  9. ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جنازے میں شریک نہ ہوئے

    مجتبیٰ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای، تہران کی مسجد میں اپنے والد کی نمازِ جنازہ کی پہلی صف میں موجود تھے۔ ان کے ساتھ صدر مسعود پزشکیان اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ احمد واحدی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ تاہم چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای غیر حاضر تھے۔

    اس غیر حاضری نے مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت سے متعلق ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے اُس فضائی حملے کے نتیجے میں زخمی ہیں، جس حملے میں ان کے والد ہلاک ہوئے تھے۔

    مارچ کے اوائل میں اپنی تقرری کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر حاضری کا ایک پس منظر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر انہیں بھی قتل کرنا چاہتا ہے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نازک جنگ بندی فی الحال برقرار ہے جبکہ مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ دونوں فریقوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  10. صرف امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقت ور اتحادی نہیں ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا بھی ہے‘: بنیامین نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقت ور اتحادی نہیں۔

    واضح رہے کہ امریکہ اور ایران میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد بعض اسرائیلی وزرا کی جانب سے امریکی انتظامیہ پر تنقید کی گئی تھی۔

    اس کا جواب دیتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا: ’اگر میں اسرائیلی کابینہ میں ہوتا تو پوری دُنیا میں اپنے واحد اور طاقت ور اتحادی (یعنی امریکہ) کو نشانہ نہ بناتا۔‘

    تنقید کرنے والے اسرائیلی وزرا کو مخاطب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا تھا کہ ’پچھلے تین ماہ کے دوران جن دفاعی ہتھیاروں نے آپ کے ملک کو بچایا، اُن میں سے دو تہائی امریکی تھے اور انھیں امریکی ہنرمندوں نے تیار کیا تھا اور امریکی ٹیکس دہندگان نے اس کے لیے ڈالرز دیے تھے۔‘

    امریکی ٹیلی وژن چینل فاکس نیوز کو ایک حالیہ انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ جب انھوں نے امریکی نائب صدر کا یہ بیان سنا تھا تو ان کا کیا ردعمل تھا؟

    جواب میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا: ’پہلی بات تو یہ ہے کہ میں جے ڈی وینس کی عزت کرتا ہوں، ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کی ہر بات سے اتفاق کروں۔‘

    بنیامین نیتن یاہو نے مزید کہا: ’مجھے اس بات کی نشاندہی کرنا ہو گی کہ ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ہمارے عظیم دوست ہیں اور میں اپنے اس مؤقف پر قائم ہوں۔ لیکن ہمارے دیگر دوست بھی ہیں، جیسے کہ ایک چھوٹا سا ملک جو انڈیا کہلاتا ہے۔ آپ جانتے ہیں اس کی آبادی 1.4 ارب ہے۔‘

    نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ انڈیا میں اسرائیل کو بہت زیادہ حمایت حاصل ہے۔

  11. امریکی شہر شکاگو میں لینڈنگ کے دوران طیارہ آتش بازی کی زد میں آ گیا, کواسی گیامفی اسیئیدو، نامہ نگار

    طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    امریکہ کے شہر شکاگو میں ڈیلٹا ایئر لائنز کا طیارہ لینڈنگ کے دوران آتش بازی کی زد میں آ گیا۔ طیارے میں 52 مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔

    ایئرلائن کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اٹلانٹا کے ہارٹس فیلڈ جیکسن ایئرپورٹ سے مڈوے انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والی پرواز ’اطلاعات کے مطابق لینڈنگ کے دوران آتش بازی کی زد میں آئی۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’پرواز بحفاظت لینڈ ہوئی اور گیٹ تک پہنچ گئی۔‘ کوئی زخمی نہیں ہوا اور اس واقعے کی اطلاع ہوا بازی کے حکام کو دے دی گئی ہے۔

    جس وقت یہ واقعہ ہوا اس وقت امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر آتش بازی کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔

    واقعے کی ریکارڈنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک پائلٹ نے فضائی ٹریفک کنٹرول کو بتایا: ’ہمارا طیارہ ابھی آتش بازی کی زد میں آیا ہے جس سے زوردار دھماکہ محسوس ہوا۔‘

    واقعے سے پہلے کنٹرولرز کو آتش بازی کی موجودگی کے بارے میں خبردار کرتے سنا جا سکتا ہے۔

    ایک فضائی ٹریفک کنٹرول اہلکار نے کہا: ’ڈیلٹا 1076! احتیاط کریں، لینڈنگ کے راستے کے قریب متعدد گھروں سے آتش بازی چلائی جا رہی ہے۔‘

    ایئر لائن کے مطابق، لینڈنگ کے بعد طیارے کا معائنہ کیا گیا اور اس میں کوئی نقصان نہیں پایا گیا۔

  12. امریکہ نے بحیرۂ عرب میں لا پتہ نیوی اہلکار کی تلاش بند کر دی

    ایم ایچ-60 ایس سی ہاک ہیلی کاپٹر

    ،تصویر کا ذریعہUS Army

    امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد لا پتہ ہونے والے امریکی بحریہ کے اہلکار کی تلاش کے لیے شروع کی گئی کارروائی بند کر دی ہے۔

    امریکی بحری افواج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے اتوار، پانچ جولائی، کو ایک بیان میں کہا: ’امریکی بحریہ اور فضائیہ کی جانب سے وسیع پیمانے پر کی گئی تلاش کے بعد اب یہ کارروائی ختم کر دی گئی ہے۔‘

    امریکی بحریہ کا یہ اہلکار یکم جولائی کو اس وقت لا پتہ ہوا جب ایم ایچ 60 ایس سی ہاک ہیلی کاپٹر کو بحیرۂ عرب میں ’ہنگامی لینڈنگ‘ کرنا پڑی۔

    اُس وقت ہیلی کاپٹر کے چار رکنی عملے میں شامل دیگر تین افراد کو بچا لیا گیا تھا اور انھیں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش پر منتقل کر دیا گیا تھا، جس سے یہ ہیلی کاپٹر وابستہ تھا۔

    امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ لا پتہ اہلکار کا نام اس وقت تک جاری نہیں کیا جائے گا جب تک اس کے قریبی رشتہ داروں کو مطلع نہ کر دیا جائے اور خاندان کو اطلاع دیے جانے کے بعد کم از کم 24 گھنٹے نہ گزر جائیں۔

  13. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران فائرنگ، ایک شخص ہلاک, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہFarhan Tariq

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ انٹیلی جنس بیورو کا ایک انسپکٹر زخمی ہو گیا ہے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہلکار ڈھڈیال شہر کی جانب مارچ کر رہے تھے کہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں روکا۔

    پولیس اہلکار کے بقول مظاہرین نے پولیس پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک انسپکٹر زخمی ہو گیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں مظاہرین میں شامل ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں. پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص نے ہی آئی بی کے افسر پر فائرنگ کی تھی۔

    اُنھوں نے کہا کہ ہوائی فائرنگ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں مظاہرین منتشر ہو گئے ہیں۔

    پولیس افسر کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے چار اہلکاروں کو راولا کوٹ میں کالعدم جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے اغوا کیا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ان پولیس اہلکاروں کو اس وقت اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا گیا جب وہ چھٹی سے واپس اپنی ڈیوٹی پر آرہے تھے۔

    مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق کالعدم جماعت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی احتجاج کی کال پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں 80 فیصد دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں۔

    اُن کے مطابق شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے تاہم مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ شہر میں مارکیٹیں کھلی ہیں اور معمولات زندگی معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔

  14. قطر اور ایران کے درمیان پانچ ماہ بعد سمندری تجارت بحال

    دوحہ میں ایران کے کمرشل اتاشی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سمندری تجارت ’تقریباً پانچ ماہ بعد‘ بحال کر دی گئی ہے۔ یہ خبر قطر کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کی جانب سے ملک میں جہاز رانی اور سمندری نقل و حمل کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔

    قطر میں ایران کے مشیر عباس عبدالخانی نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ’دوحہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کی مسلسل کوششوں اور قطری حکومت کے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے اور تعاون‘ کے نتیجے میں ’دیر‘ (Deir) اور ’الرویس‘ (Al Ruwais) کی بندرگاہوں کے درمیان سامان کی سمندری نقل و حمل دوبارہ شروع کی گئی۔

    اس سے قبل قطر کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے سوشل نیٹ ورک ’ایکس‘ پر ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ ’تمام اقسام کے بحری جہازوں اور کشتیوں‘ کی آمدورفت دوبارہ کھول دی گئی ہے اور اس بات پر زور دیا تھا کہ ’حفاظت اور سکیورٹی کے لیے ضروری آلات دستیاب ہیں۔‘

    ایک ہفتہ قبل قطری وزارتِ ٹرانسپورٹ نے تمام اقسام کی بحری کشتیوں اور جہازوں کے مالکان اور صارفین سے کہا تھا کہ وہ اگلے حکم تک ملک کی سمندری حدود میں کسی بھی قسم کی جہاز رانی یا سرگرمی سے گریز کریں۔

  15. یمن کی الحدیدہ بندرگاہ کے قریب ایک مال بردار جہاز پر حملے کی اطلاعات

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اسے یمنی بندرگاہ الحدیدہ کے قریب ایک کارگو جہاز پر حملے کی اطلاع ملی ہے۔

    برطانوی بحری ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق الحدیدہ کی بندرگاہ سے 30 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں ایک مال بردار جہاز نے مدد کی درخواست کرتے ہوئے پیغام پہنچایا کہ اسے نامعلوم حملہ آوروں نے نشانہ بنایا ہے۔

    تنظیم نے کہا کہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور کشتی چلانے والوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ احتیاط کے ساتھ آگے بڑھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔

    دریں اثنا، یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ کے جنوب میں حوثی فورسز کے حملے میں اس کے 14 فوجی مارے گئے۔

    یمنی حکومت کے ایک فوجی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت کی حامی فورسز نے سنیچر کے روز الحدیدہ کے جنوب میں واقع علاقے حیس پر حوثیوں کے حملے کو ’گھنٹوں کی لڑائی کے بعد‘ پسپا کر دیا۔

    انھوں نے بتایا کہ متعدد حوثی اہلکار بھی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، تاہم انھوں نے درست اعداد و شمار فراہم نہیں کیے ہیں۔

    یہ جھڑپیں ایران کے اتحادی حوثیوں کی جانب سے سعودی مفادات پر حملے کی دھمکی کے ایک دن بعد ہوئی ہیں۔

    حوثیوں نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے جو یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے، اس نے ایرانی طیارے کو یمن میں اترنے سے روکنے کی کوشش کی۔

    یمنی حکومت نے ایران پر اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

    یمن کی الحدیدہ بندرگاہ کے قریب ایک مال بردار جہاز پر حملے کی اطلاعات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  16. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی
    • علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای تہران کی مسجد میں اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں پہلی صف میں موجود تھے۔ تاہم، بی بی سی فارسی کے مطابق ان کے چوتھے بھائی یعنی ایران کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں موجود نہیں تھے
    • ہم نے ایران کی عسکری قوت کو تباہ کر دیا ہے: صدر ٹرمپ کا امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب
    • ’نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے‘: امریکی صدر ٹرمپ کا اسرائیلی وزیرِ اعظم سے تعلقات پر تبصرہ
    • چین میں ایران کے سفیر کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ’سروس فیس‘ وصول کرے گا، اس منصوبے کی امریکہ نے مخالفت کی ہے
  17. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔