بلوچستان کے ضلع خاران سے 130 پولیس
اہلکاروں کا تبادلہ ضلع چاغی کر دیا گیا ہے۔
ماضی میں بلوچستان میں کسی ایک ضلع
سے دوسرے ضلع میں پولیس اہلکاروں کی اتنی بڑی تعداد میں بیک وقت تبدیلی کی مثال نہیں
ملتی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی تادیبی کارروائی کا نتیجہ نہیں
بلکہ سکیورٹی اور پیشہ ورانہ امور کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں محکمہ داخلہ و قبائلی
امور کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق پولیس اہلکاروں کا بین الاضلاعی
تبادلہ ان کے تحفظ اور دہشت گردی کے واقعات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ہے۔
بلوچستان میں پولیس اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر تبادلوں کا سلسلہ کب شروع
ہوا؟
رواں سال لیویز فورس کے پولیس میں
انضمام کے بعد بلوچستان میں اہلکاروں کے بڑے پیمانے پر بین الاضلاعی تبادلوں کا
سلسلہ شروع ہوا۔
ماضی میں صوبہ انتظامی طور پر اے اور
بی ایریاز میں تقسیم تھا۔ اے ایریاز شہری علاقوں پر مشتمل ہوتے تھے جہاں پولیس اپنے
فرائض انجام دیتی تھی جبکہ بی ایریاز کے نام سے 80 فیصد سے زیادہ علاقے لیویز فورس
کی عملداری میں تھے۔
ماضی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لیویز فورس کے علاقوں میں عام جرائم
کی شرح کم ہونے کے باوجود بلوچستان کی موجودہ حکومت نے لیویز فورس کو پولیس میں ضم
کیا۔
صوبائی حکومت نے لیویز فورس کے پولیس
میں انضمام کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچستان کو درپیش امن و
امان کے چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں
کا ایک ہی چین آف کمانڈ کے تحت کام کرنا ضروری ہے۔
بی بی سی سے گفتگو میں بابر یوسفزئی نے بتایا کہ بعض اوقات
جب کالعدم تنظیموں کے مسلح افراد پولیس چوکیوں یا تھانوں پر حملے کرتے ہیں تو
مقامی سطح پر رشتہ داری یا واقفیت کے باعث اہلکار ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں
کر پاتے۔
ان کے بقول حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ
اہلکار اپنے آبائی اضلاع سے باہر تعینات ہو کر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ دوسرے اضلاع میں
تعیناتی سے نہ صرف پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی بہتر ہو گی بلکہ اہلکاروں اور
ان کے اہل خانہ کو درپیش سکیورٹی خطرات میں بھی کمی آئے گی۔
ان
کا کہنا تھا کہ جب اہلکار اپنے آبائی ضلع کے بجائے کسی دوسرے ضلع میں تعینات ہوں
گے تو کالعدم تنظیموں کے کارکن ان کے اور ان کے خاندانوں کے بارے میں معلومات حاصل
نہیں کر پائیں گے۔