لائیو, غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے حملے، 34 افراد ہلاک: اسرائیل کا حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

اسرائیل نے غزہ اور لبنان پر حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں لبنان میں 31 اور غزہ میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

  • غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے حملے، 34 افراد ہلاک
  • اسرائیل کا غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
  • جنگ کے خاتمے کے لیے ’باوقار فریم ورک‘ کے حصول کے لیے تیار ہیں: ایرانی صدر
  • آبنائے ہرمز میں ’پراجیکٹ فریڈم‘ دوبارہ شروع کرنے کی خبریں غلط ہیں: سینٹکام
  • ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا: وزارت خارجہ

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کے فضائی حملے میں 31 افراد ہلاک ہوئے: لبنان

    اسرائیل کے لبنان پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ منگل کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 31 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

    جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے تاکہ حزب اللہ کو ’کچل دیا جائے‘۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ بدھ کی صبح لبنان سے ایک میزائل داغا گیا جو اسرائیل کے اندر داخل ہو کر ایک کھلے علاقے میں گرا۔ اس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے حزب اللہ کے 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا، جبکہ اس نے جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں کے رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اسرائیلی فوجی لبنان میں ان علاقوں سے بھی آگے بڑھ رہے ہیں جہاں وہ گذشتہ ماہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد تعینات تھے۔

  2. غزہ پر اسرائیلی حملوں میں تین افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    غزہ میں اسرائیلی حملے کے بعد ہونے والی تباہی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    مقامی امدادی کارکنوں اور عینی شاہدین کے مطابق غزہ شہر کے ایک مصروف ترین بازار میں واقع رہائشی عمارت پر اسرائیل کے فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم تین فلسطینی ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔

    اسرائیلی حملے میں غزہ شہر کے مرکز میں واقع الکیالی عمارت کی بالائی تین منزلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد عید الاضحیٰ سے قبل خریداری کے لیے آئی ہوئی تھی۔

    امدادی اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، لیکن شدید تباہی اور علاقے میں ہجوم کے باعث عمارت کی بالائی منزلوں تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ کم از کم پانچ میزائل تقریباً بیک وقت اور مختلف سمتوں سے عمارت پر آ گرے۔

    یہ غزہ پر اسرائیل کا تازہ ترین مہلک حملہ ہے۔

  3. اسرائیل کا غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں لکھا کہ محمد عودۃ 7 اکتوبر کے حملوں کے وقت حماس کی انٹیلیجنس کے سربراہ تھے اور انھیں عزالدین حداد کی موت کے بعد ایک ہفتے قبل ہی حماس کے عسکری ونگ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ محمد عودہ اسرائیلی شہریوں اور فوجی اہلکاروں کے ’قتل، اغوا اور انھیں زخمی‘ کرنے کے ذمہ دار تھے۔

    ’ہم ان تمام لوگوں کا پیچھا کرنا جاری رکھیں گے جنھوں نے 7 اکتوبر کے قتلِ عام میں حصہ لیا تھا۔ جلد یا بدیر اسرائیل ان سب تک پہنچے گا۔‘

    حماس نے تاحال محمد عودۃ کی موت کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

  4. جنگ کے خاتمے کے لیے ’باوقار فریم ورک‘ کے حصول کے لیے تیار ہیں: ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’باوقار فریم ورک‘ کے حصول کے لیے تیار ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق منگل کو قطر کے امیر تميم بن حمد بن خليفہ آل ثانی سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران صدر پزشکیان نے امن کے لیے دوحہ کے تعمیری کردار اور حمایت پر قطری امیر کا شکریہ ادا کیا۔

    ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران نے ہمیشہ سفارت کاری کے اصولوں اور معاہدوں کی روح کی پاسداری کی ہے۔‘

    ’اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرا فریق بھی اپنے قول و فعل دونوں سے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے۔‘

    ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے واضح راستہ فراہم کرنے کے لیے دستاویزات اور متون کو حتمی شکل دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔

  5. آبنائے ہرمز میں ’پراجیکٹ فریڈم‘ دوبارہ شروع کرنے کی خبریں غلط ہیں: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM/X

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان میڈیا رپورٹس کو ’غلط‘ قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی رہنمائی یا معاونت کرنے کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں سینٹکام کا کہنا تھا کہ ’پراجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع نہیں کیا گیا ہے اور امریکی فورسز اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظتی رہنمائی نہیں کر رہیں۔‘

  6. ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا: وزارت خارجہ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر جنگ بندی کی ’واضح خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔

    منگل کو جاری کیے گئے ایک سرکاری بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے 8 اپریل 2026 کو اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد بھی اپنی ’غیر قانونی اور بلاجواز کارروائیاں‘ جاری رکھیں۔

    بیان میں خاص طور پر گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف مبینہ ’سمندری قزاقی‘ کی متعدد کارروائیوں کا حوالہ دیا گیا، جنھیں صوبہ ہرمزگان کے قریب جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان کی ثالثی میں سفارتی عمل جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں سے امریکی قیادت کے ’بدنیتی پر مبنی عزائم‘ نہ صرف ایران بلکہ خطے کے عوام اور عالمی برادری کے سامنے بھی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کا امریکہ کے بارے میں ’گہرا عدم اعتماد‘ اس کے سابقہ طرزِ عمل کے تناظر میں ’منطقی اور حقیقت پسندانہ‘ ہے، اور یہ کہ ایرانی موقف میدانِ جنگ، عوامی سطح اور سفارتی سطح، تینوں محاذوں پر اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

    ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 2(4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات عالمی قوانین اور جنگ بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ تہران نے ان واقعات کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کرنے کا اعلان بھی کیا۔

    ایران نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی ’جارحانہ اقدام‘ کو بلا جواب نہیں چھوڑے گا اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بھرپور اقدامات کرے گا۔

    تاہم اس حوالے سے امریکہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

  7. اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں تیزی، حزب اللہ کا مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں جبکہ حزب اللہ نے ’غیر ملکی سرپرستی‘ اور تقسیم کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع کے شہروں اور دیہاتوں میں اسرائیلی فضائی حملے شدت اختیار کر گئے، جب اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے تاکہ حزب اللہ کو ’کچل دیا جائے‘۔

    ان بیانات کے بعد بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی، کیونکہ لوگوں کو خدشہ تھا کہ ان علاقوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    حزب اللہ کے جنگجو مقبوضہ لبنانی علاقوں میں اسرائیلی افواج اور شمالی اسرائیل کے مقامات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جنھیں حزب اللہ لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کا ردعمل قرار دیتی ہے۔

    اپنی جانب سے، لبنانی حزب اللہ نے لبنانی آئین کے اجرا کی صد سالہ تقریب کے موقع پر طائف معاہدے کے بعد ترمیم شدہ آئین کو تنازعات کے حل اور ریاستی امور کے نظم و نسق کے لیے بنیادی حوالہ قرار دینے پر زور دیا۔

    لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جاری بیان میں جماعت نے ’تقسیم، وفاقیت اور آبادکاری‘ کے منصوبوں کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ یہ آئین کی روح اور لبنان کے اتحاد کے خلاف ہیں اور تنوع کو اختلاف اور تنازعے کا ذریعہ بناتے ہیں۔

    حزب اللہ کا کہنا تھا کہ فرقہ وارانہ نظام اب ایک مستحکم اور منصفانہ ریاست قائم کرنے کے قابل نہیں رہا، اور طائف معاہدے کی اصلاحات کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کیا، خاص طور پر سیاسی فرقہ واریت کے خاتمے اور ’شہری ریاست‘ کے قیام پر زور دیا۔

    جماعت نے مزید کہا کہ ’قابض کے خلاف مزاحمت‘ ایک جائز حق ہے جو لبنانی آئین اور عرب و بین الاقوامی قوانین کے تحت محفوظ ہے، اور اسرائیلی خطرے کے پیش نظر لبنان سے ’طاقت کے عناصر‘ کو ختم کرنا طائف معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

    اسرائیل، حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بیان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ’دشمنی، قبضے اور مسلسل خطرے‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کسی بھی قسم کے معمول کے تعلقات کو مسترد کیا گیا ہے۔

    حزب اللہ نے لبنان کو جارحیت اور بیرونی مداخلت سے بچانے اور ’خودمختاری، شراکت داری اور اصلاحات‘ کی بحالی کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ لبنان ’صرف متحد، خودمختار، آزاد اور قابض کے خلاف مزاحمت کرنے والا ہو کر ہی باقی رہ سکتا ہے۔‘

    اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح اعلان کیا کہ شمالی اسرائیل کے علاقے ساسا میں، جو لبنان کی سرحد کے قریب ہے، ’دشمن طیارے‘ کی ممکنہ دراندازی کے الرٹ سائرن بجائے گئے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے مشرقی لبنان کی وادیِ بقاع سمیت ملک بھر میں ’حزب اللہ کے ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنایا، جب کہ نیتن یاہو نے پیر کی رات خطاب میں کہا کہ اسرائیل ’حزب اللہ کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے‘ اور فوج کو اسے ’کاری ضرب‘ لگانے کی ہدایت دی ہے۔

    ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے پیر کے روز شمالی اسرائیل میں تین فوجی بیرکوں اور ایک فوجی مقام پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کیے گئے ہیں، جبکہ اسرائیل نے لبنان میں حملے مزید تیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    جماعت نے متعدد بیانات میں کم از کم چار ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں شمرا بیرک، شمالی اسرائیل کے دو شہروں میں واقع بیرکوں اور مصغاف عام کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

    لبنان اور اسرائیل نے اسی ماہ جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس دوران جھڑپیں جاری رہیں۔

    ابتدائی جنگ بندی کے بعد اب تک 10 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان میں اسی عرصے کے دوران شدید اسرائیلی گولہ باری میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد طبی عملے اور امدادی کارکنوں کی تھی۔

    اسرائیل نے اس کے جواب میں پورے لبنان میں فضائی مہم شروع کی اور پھر زمینی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 3,185 افراد ہلاک اور 9,633 زخمی ہوئے۔

  8. ہم جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف جوابی کارروائی کے حق کو جائز اور یقینی سمجھتے ہیں: پاسداران انقلاب

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف جوابی کارروائی کا حق ’جائز اور یقینی‘ سمجھتے ہیں۔

    پاسداران انقلاب کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی سینٹرل کمان نے اعلان کیا کہ اس نے گذشتہ رات جنوبی ایران میں دفاعی نوعیت کے حملے کیے۔

    پاسداران انقلاب کے بیان میں، ان حملوں کا براہِ راست ذکر کیے بغیر کہا گیا کہ امریکی فوج نے ’خطے میں اپنی مداخلت پسندانہ مہم جوئی اور جارحانہ رویے کو جاری رکھتے ہوئے خلیج فارس کے علاقے میں ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوئی‘، جس کے بعد پاسداران انقلاب کے دفاعی یونٹس نے ’محتاط انٹیلی جنس نگرانی کے بعد ایک MQ-9 ڈرون کی نشاندہی کر کے اسے مار گرایا۔‘

    پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ اس نے ایک RQ4 ڈرون اور ایک F-35 لڑاکا طیارے پر بھی فائرنگ کی، ’جس کے نتیجے میں وہ پسپا ہو کر علاقائی پانیوں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گئے۔‘ پاسداران نے ان حملوں کے وقت اور مقام کی وضاحت نہیں کی۔

    اس سے قبل امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے گذشتہ رات جنوبی ایران میں نئے حملے کیے، جن میں ایرانی میزائل سائٹس اور اُن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جو ’بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔‘

    امریکی سینٹرل کمان کے بیان کے مطابق یہ حملے اپنے دفاع میں کیے گئے اور ان کا مقصد ’ایرانی فورسز کی جانب سے درپیش خطرات سے امریکی افواج کا تحفظ‘ تھا۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے گذشتہ رات اطلاع دی کہ بندر عباس اور شہر کے ہوائی اڈے کے اطراف دھماکے کی آواز سنی گئی۔

    تیل کی قیمتیں، جو ایران اور امریکہ کے درمیان کامیاب مذاکرات کی امیدوں کے بعد نمایاں حد تک کم ہو گئی تھیں، اب دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔

    تاہم، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر نئے حملوں کے بعد کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔

  9. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔