لائیو, جے ڈی وینس کا دورہِ پاکستان منسوخ: ٹرمپ کا مذاکرات کے کسی نتیجے پر پہنچنے تک جنگ بندی میں توسیع اور ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کو اس وقت تک روک دیے جائیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔‘ تاہم ایکس پر ہی جاری بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرنا جنگ کے مترادف ہے اور اسی طرح یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی ہے۔‘

خلاصہ

  • وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا امن مذاکرات کے سلسلے میں مجوزہ دورہِ پاکستان منسوخ کر دیا گیا ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
  • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع پر شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
  • پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے ایران کے جواب کا منتظر ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
  • صدر ٹرمپ کا ’اچھے اتحادی‘ امارات کی مالی مدد اور کرنسی کے تبادلے کا عندیہ

لائیو کوریج

  1. امریکی وزیرِ خزانہ کی ناکہ بندی پر وضاحت، نئی پابندیوں کی دھمکی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایرانی بندرگاہوں پر جاری بحری ناکہ بندی کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کی ہیں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’چند ہی دنوں میں ایران کے خارگ جزیرے پر واقع تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات مکمل طور پر بھر جائیں گی اور ایران کو نا چاہتے ہوئے بھی تیل کے کنویں بند کرنا پڑیں گے۔‘

    وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’ایران کی سمندری تجارت کو محدود کرنا براہِ راست ایرانی حکومت کی آمدنی کے بنیادی ذرائع کو نشانہ بنانا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ امریکی وزارت خزانہ معاشی دباؤ کے ذریعے تہران کے مالی وسائل پیدا کرنے، منتقل کرنے اور واپس لانے کی صلاحیت کو منظم انداز میں کمزور کرتی رہے گی۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ ’جو کوئی بھی خفیہ طور پر ایران کی تجارت پر امریکی پابندیوں کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرے گا اسے بھی سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

  2. اب امریکہ سے مذاکرات غیر معقول ہیں: ایرانی رکنِ پارلیمان, غنچہ حبیبزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کی پارلیمنٹ کے رکن محمود نبویان کا ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ ’اب کے بعد امریکہ کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر نقصان دہ اور غیر معقول ہیں۔‘

    واضح رہے کہ محمود نبویان اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کا حصہ تھے۔

    دوسری جانب ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر کوئی حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج ’پہلے سے طے شدہ اہداف کو نشانہ بنائیں گی اور امریکہ و اسرائیل کو مزید سخت سبق سکھائیں گی۔‘

    نبویان کی پوسٹ اور خاتم الانبیاء کے بیان دونوں میں جنگ بندی میں توسیع کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اگرچہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ میں سامنے آئے ہیں۔

    تاحال امریکی صدر کے جنگ بندی میں توسیع کے بیان کے بعد ایران کی وزارت خارجہ اس کے دیگر حکام، یا پارلیمنٹ کے سپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  3. امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہِ پاکستان منسوخ: وائٹ ہاؤس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا امن مذاکرات کے سلسلے میں مجوزہ دورہِ پاکستان منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    وینس اس ماہ دوسری مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کرنے والے تھے اور بدھ کے روز ان کی آمد متوقع تھی۔

    وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان اور امن مذاکرات سے متعلق تفصیلات وائٹ ہاؤس کی جانب سے ہی جاری کی جائیں گی۔

    امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان کی منسوخی کی یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کی پاکستانی درخواست منظور کر لی ہے۔

  4. جنگ بندی میں توسیع پر امریکی صدر کے شکر گزار ہیں: وزیراعظم شہباز شریف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع پر شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

    اب سے کُچھ دیر قبل ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وہ ذاتی حیثیت میں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ جنھوں نے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی پاکستانی درخواست کو قبول کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اعتماد اور بھروسے کی بنیاد پر پاکستان خطے میں جاری اس تنازع کے مذاکرات کی مدد سے حل کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔‘

    وزیر اعظم نے ایکس پر جاری بیان میں امید ظاہر کی کہ ’دونوں فریق جنگ بندی کی پابندی جاری رکھیں گے اور اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں ایک جامع امن معاہدہ طے پانے کی طرف بڑھیں گے، جس کا مقصد تنازع کا مستقل خاتمہ ہے۔‘

  5. عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار ہے تاہم فی الحال اس کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے کم ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سے متعلق مختلف پیش رفت کے باعث منگل کے روزتیل کی قیمتیں غیر یقینی کا شکار رہیں اور شدید نوعیت کا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

    ابتدائی طور پر برینٹ کروڈ کی قیمت میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر پہنچ گئی۔

    تاہم بعد ازاں صدر ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد قیمت دوبارہ کم ہو کر 98.97 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

    اس کے باوجود موجودہ قیمتیں منگل کے روز ابتدائی سطح سے اب بھی زیادہ ہیں اور فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 35 فیصد زیادہ ہیں۔

  6. امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر مزید مہلت حاصل کر لی, واشنگٹن سے بی بی سی نیوز کے نامہ نگار ڈینیئل بش کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق معاملے میں مزید مہلت لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    منگل ابر بدھ کی درمیانی شب ان کے اعلان کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے انھوں نے وہ ڈیڈ لائن مؤخر کر دی ہے جو انھوں نے تہران کو معاہدہ کرنے کے لیے دی تھی، بصورت دیگر بدھ کے روز جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

    جنگ بندی میں توسیع کے ذریعے ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف دوبارہ شدید فضائی حملے شروع کرنے کی اپنی دھمکی پر عمل نہیں کیا تاہم اس فیصلے نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں انھیں ایک بار پھر اسی فیصلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب یہ نہیں واضح کیا کہ نئی جنگ بندی کی مدت کتنی ہوگی، صرف یہ کہا کہ وہ ایران کو مزید وقت دے رہے ہیں تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’متحدہ تجویز‘ پیش کر سکے۔

    یہ دو ہفتوں میں دوسری بار ہے جب ٹرمپ نے جنگ میں اضافے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس تنازع کو ختم کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

  7. بریکنگ, ٹرمپ کا مذاکرات کے کسی نتیجے پر پہنچنے تک جنگ بندی میں توسیع اور ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کی حکومت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کو اس وقت تک روک دیے جائیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔‘

    امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ ’لہٰذا میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام پہلوؤں سے تیار اور مستعد رہا جائے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس لیے جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کی تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں۔‘

  8. جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں اسرائیل پر حملہ کیا گیا: حزب اللہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے منگل کی شام ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ’حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں مصروف ان کی فورسز پر متعدد راکٹ داغے۔‘

    اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ ’ان کی جانب سے جوابی کارروائی میں حزب اللہ کے لانچر کو نشانہ بنایا جہاں سے یہ راکٹ فائر کیے گئے تھے۔‘

    امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یحییل لائٹر نے کہا ہے کہ ’حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ان کے خلاف اپنا دفاع کریں گے جو نقصان پہنچانے، قتل کرنے اور امن کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

  9. جے ڈی وینس کے بعد سٹیور وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی وائٹ ہاؤس پہنچ گئے, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے صورتِ حال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔

    تقریباً 45 منٹ قبل صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر کو ٹی وی کیمروں نے وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔

    ان کی وائٹ ہاؤس قابلِ توجہ ہے۔ اس سے قبل ہمیں معلوم پڑا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس وائٹ ہاؤس میں اجلاس میں کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی تھی کہ وینس، وٹکوف اور کشنر تینوں کی ایران کے ساتھ ممکنہ بات چیت کے لیے اسلام آباد جانے والی ٹیم کا حصہ ہیں۔

    وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ کو بھی عمارت میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے جبکہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی وہاں موجود ہیں۔

    آج وائٹ ہاؤس اور نائب صدر کے دفتر کی جانب سے غیر معمولی طور پر خاموشی رہی ہے، نہ تو اس دورے کے حوالے سے کوئی واضح تصدیق سامنے آئی ہے اور نہ ہی اس بات کا کوئی باضابطہ اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ دورہ کب ہو گا—یا آیا ہو گا بھی یا نہیں۔

  10. اگر ہمسایہ ممالک سے حملہ ہوا تو مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداوار متاثر ہوگی: پاسدارانِ انقلاب

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایرو سپیس کمانڈر میجر جنرل مجید موسوی نے منگل کے روز ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک بیان میں ایران کے جنوبی ہمسایہ ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ان کی سرزمین یا تنصیبات ایران کے خلاف استعمال ہوئیں تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران کے جنوبی ہمسایہ ممالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ان کی سرزمین یا تنصیبات کو ایرانی قوم کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کیا گیا تو انھیں مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداوار بُری طرح متاثر ہوگی۔‘

    موسوی نے مزید کہا کہ ’اگر اب کے بعد دشمن نے ذرا سی بھی غلطی کی‘ اور ایران پر حملہ کیا تو ’جہاں آپ یعنی ایرانی عوام کہیں گے وہی ہمارا ہدف ہوگا۔‘

  11. تہران کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہے: اقوامِ متحدہ میں ایرانی سفیر, ندا توفیق، نیو یارک

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے کچھ دیر قبل مجھ سمیت چند صحافیوں کو بتایا ہے کہ تہران کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی یہ ہوتا ہے، مذاکرات کے اگلے دور کا انعقاد اسلام آباد میں ہو گا۔

    میں نے ان سے جے ڈی وینس کا دورہ ’موخر‘ کیے جانے کے متعلق سوال کیا، تاہم انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔ انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کی شرط یہ ہے کہ بات چیت کے دوبارہ آغاز سے پہلے امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ سیاسی حل چاہتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے، اور اگر وہ جنگ چاہتا ہے تو ایران اس کے لیے بھی تیار ہے۔

  12. بندرگاہوں کا محاصرہ کرنا جنگ کے مترادف اور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے: عباس عراقچی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرنا جنگ کے مترادف ہے اور اسی طرح یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔‘

    ایکس پر جاری ایک بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’کسی تجارتی جہاز پر حملہ کرنا اور اس کے عملے کو یرغمال بنانا اس سے بھی بڑی خلاف ورزی ہے۔‘

    اُن کا اپنے پیُام میں مزید کہنا تھا کہ ’ایران جانتا ہے کہ پابندیوں کو کیسے بے اثر کرنا ہے، اپنے مفادات کا کیسے دفاع کرنا ہے اور دباؤ کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔‘

    واضح رہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں شمولیت کے حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں ملا ہے۔

    تاہم دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان ایرانی حکام کی جانب سے تاحال جواب کا منتظر ہے۔‘

    ایکس پر اپنے پیغام میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’بطور ثالث پاکستان سفارتکاری اور بات چیت جاری رکھنے کے لیے ایرانیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔‘

  13. ایرانی مذاکرات کار رہبرِ اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق کام کر رہے ہیں: سینئر ایرانی عہدیدار, غنچہ حبیبزاد، بی بی سی فارسی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی حکومت کے سینئر عہدیدار الیاس حضراتی کا کہنا ہے کہ ’ایرانی مذاکرات کار ’اجتماعی طور پر فیصلے کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں‘ ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے تحت سر انجام دیتے ہیں۔‘

    مارچ کے اوائل میں اپنے والد کی جگہ یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای ابھی تک عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی حالیہ ویڈیوز یا تصاویر سامنے آئی ہیں۔

    اب تک صرف ایرانی ذرائع ابلاغ پر ان سے منسوب تحریری پیغامات ہی سامنے آئے ہیں۔

    ان تحریری پیغامات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے مذاکرات کا براہِ راست ذکر نہیں کیا البتہ بعض پیغامات میں انھوں نے امریکہ پر تنقید ضرور کی ہے۔

    ان سے منسوب 18 اپریل کو شائع ہونے والے ایک پیغام میں خامنہ ای نے ایرانی فوج کی تعریف کی کہ وہ ’کفر اور عالمی طاقتوں کی صفِ اوّل میں موجود دو افواج‘ یعنی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لڑ رہی ہے۔

    تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ ایران کے نمائندے اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

  14. ’جے ڈی وینس نہ تو اس وقت اسلام آباد روانہ ہو رہے ہیں اور نہ ہی ہوائی اڈے پر موجود ہیں‘, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    آج واشنگٹن میں ایک اور الجھن بھرا دن رہا۔ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی مذاکراتی ٹیم کے دیگر اراکین ایرانی مذاکراتکاروں کے ساتھ بات چیت کے لیے اسلام آباد کب روانہ ہوں گے اور آیا روانہ ہوں گے بھی یا نہیں۔

    تقریباً آدھے گھنٹے قبل نیو یارک ٹائمز نے صورتِ حال سے واقف ایک نامعلوم ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی مذاکراتی مؤقف پر کوئی جواب نہ دیے جانے کے بعد جے ڈی وینس کا دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔

    بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا مذاکراتی ٹیم کی اسلام آباد روانہ ہونے کی توقع ہے یا یہ دورہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    تاہم جو بات ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ جے ڈی وینس نہ تو اس وقت روانہ ہو رہے ہیں اور نہ ہی ہوائی اڈے پر موجود ہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ کے عملے نے متعدد خبر رساں اداروں کو اس کی تصدیق کی ہے کہ وینس اس وقت وائٹ ہاؤس میں پالیسی اجلاسوں میں شریک ہیں۔ باہر ٹی وی کے لیے لائیو رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے کچھ دیر قبل ان کے قافلے کو وائٹ ہاؤس پہنچتے ہوئے بھی دیکھا۔

    ادھر یہ بھی خاصی الجھن پائی جاتی ہے کہ جنگ بندی کس وقت ختم ہو گی۔ پاکستان نے آج کہا تھا کہ جنگ بندی کی میعاد پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ یہ اس سے تقریباً 24 گھنٹے بعد ختم ہو گی۔

    یہ واضح نہیں کہ آیا امریکہ نے جنگ بندی کے خاتمے کا کوئی مخصوص وقت مقرر کیا ہے یا نہیں، کیوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف اتنا کہا ہے کہ یہ بدھ کی شام ختم ہو گی۔

    یہ بھی ممکن ہے کہ جنگ بندی میں توسیع سے متعلق کوئی سرکاری اعلان ٹروتھ سوشل کے ذریعے سامنے آئے یا پھر ایران پر حملوں کی اطلاعات کے ساتھ اس بارے میں ہمیں پتا چلے۔

  15. حزب اللہ نے لبنان میں آئی ڈی ایف کے اہلکاروں پر راکٹ داغے: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں مصروف اس کی فورسز پر متعدد راکٹ داغے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے اُس مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے کہ جہاں سے آئی ڈی ایف کے اہلکاروں پر راکٹ داغے گئے تھے، جبکہ حزب اللہ کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    آئی ڈی ایف نے آج شام ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ’اُن کی افواج اور فضائیہ نے سوموار اور منگل کو لبنان کے علاقے القصیر میں دفاعی لائن عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ’شدت پسندوں‘ کو نشانہ بنایا اور انھیں ہلاک کر دیا جو ان کے بقول جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

    اس وقت اسرائیل اور لبنان کے درمیان حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین چھ ہفتوں کی جھڑپوں کے بعد دس روزہ جنگ بندی نافذ ہے۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق لبنانی اور اسرائیلی نمائندے جمعرات کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ملاقات کریں گے۔

  16. ایران-امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں، ریڈ زون کی بندش، اسلام آباد ہائیکورٹ بدھ کو بھی بند رہے گی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے دارالحکومت اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    گو کہ ابھی امریکہ اور ایران کا کوئی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا، تاہم بدھ کو مسلسل تیسرے روز وفاقی سیکریٹریٹ بند ہو گا اور ملازمین کو گھروں سے کام کی ہدایت کی گئی ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ بھی بدھ کو بند رہے گی اور جوڈیشل ورک نہیں ہو گا۔

    اس سے قبل منگل کی دوپہر اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مشترکہ گرینڈ کومبنگ سرچ آپریشنز کیے گئے۔

    شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر موثر چیکنگ کے لیے خصوصی چیکنگ پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں جبکہ تمام پیٹرولنگ یونٹس اورخصوصی سکواڈ شہر بھر میں گشت کر رہے ہیں۔

  17. امریکہ اور ایران کے درمیان جو تھوڑا بہت باہمی اعتماد تھا وہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ملاقات ہو بھی جاتی ہے تو دونوں ممالک کے درمیان جو تھوڑا بہت اعتماد پایا جاتا تھا اب وہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کا مقصد تھا کہ اس پر اتنا معاشی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ امریکہ کی شرطوں پر معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔

    لیکن اس کا الٹا ہی اثر پڑا۔ ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کے موقف میں مزید سختی آ گئی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ معاہدے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

    دو ہفتے کی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہو رہی ہے۔ صدر ترمپ کا کہنا ہے کہ اس میں توسیع کا امکان بہت کم ہے۔

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اشارہ دیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں ایران کے پاس جنگ کے لیے کچھ نئی حکمتِ عملی ہے۔

  18. امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کی میعاد کب ختم ہو رہی ہے اور اس کے بعد کیا ہو گا؟

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے آٹھ اپریل کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران دو ہفتے کے لیے جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں اور لبنان بھی اس میں شامل ہے۔

    شہباز شریف نے دونوں ممالک کے وفود کو اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دی تھی۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے جو 12 اپریل کی صبح تک جاری رہے، تاہم دونوں ممالک کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔

    اب مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے امریکہ نے اپنا وفد پاکستان بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے، لیکن ایران کی جانب سے تاحال کوئی بھی وفد اسلام آباد بھیجنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

    ایسے میں پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر لکھا ہے کہ جنگ بندی کی میعاد بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے اور اس سے قبل ایران کی جانب سے اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ بہت اہم ہو گا۔

    دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو بلوم برگ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ جنگ بندی بدھ کی شام ختم ہو جائے گی جس کے بعد ایران پر بمباری کی جائے گی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان بہت کم ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں ترمپ کا کہنا تھا کہ جب تک معاہدہ نہیں ہوتا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

    دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے پی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو گئی تو ’بہت سارے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔‘

    یاد رہے کہ رواں ماہ آٹھ تاریخ کو ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ہوئی تھی۔

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے پیر کو ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ٹرمپ ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم ان دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو قبول نہی کرتے اور گذشتہ دو ہفتوں میں ہم نے میدان جنگ میں نئے کارڈز سامنے لانے کی تیاری کی ہے۔

  19. ایران نے وفد اسلام آباد بھیجنے سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا: ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی, لیز ڈوسیٹ، بی بی سی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایرانی وفد کے اس ہفتے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے اسلام آباد کا سفر کرنے کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

    اُنھوں نے اپنی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’ہم نیک نیتی اور سنجیدگی کے احساس کے ساتھ اس گفت و شنید میں گئے تھے، لیکن ایک مذاکراتی فریق ہے جس میں سنجیدگی اور نیک نیتی کی کمی ہے، وہ بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہے ہیں اور جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘

    لیکن اسماعیل بقائی نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے کون سی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس پر مشاورت جاری ہے۔

    بی بی سی سمجھتا ہے کہ بدھ کو جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے سے پہلے مذاکرات کی بحالی کے لیے حالات پیدا کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

  20. پاکستان پہلی مرتبہ یہ تسلیم کر رہا ہے کہ گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے, غنچہ حبیب زادہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان جو ایک اہم ثالث ہے، اب کھلے عام تسلیم کر چکا ہے کہ گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایک اپ ڈیٹ میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ’ایرانی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے قائل کرنے کی مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں جاری ہیں۔‘

    یہ جاننے کے لیے کہ آیا ممکنہ امن مذاکرات ہوں گے یا نہیں، کئی دنوں کے انتظار کے بعد پاکستان کی طرف سے یہ پہلا باضابطہ اعتراف ہے کہ ایران کی شرکت کی ضمانت نہیں ہے۔