عمران خان کو شفا ہسپتال نہ لے جانے کا فیصلہ کیا حکومت کے لیے قانونی اور سیاسی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے؟

Imran Khan

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

سابق وزیر اعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے احکامات کے برخلاف شفا ہسپتال کے بجائے پمز ہسپتال کے جانے کے معاملے پر حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی میں بظاہر مزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اس پیش رفت کے ردعمل میں جہاں پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے کل (22 اگست) سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے تو وہیں 27 ستمبر کا احتجاج برقرار رکھتے ہوئے اپنی احتجاجی تحریک میں مزید تیزی لانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے حکومت پر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ محض ایک ڈھونگ تھا۔ عدالتی احکامات کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے جس کے خلاف ہم توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔ یہ سب اُن (حکومت) کے خوف کی عکاسی کرتا ہے۔‘

دوسری جانب جمعہ ہی کے روز وفاقی حکومت کی جانب سے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف دائر کردہ نظرثانی درخواست پر عائد اعتراضات دور کرنے کے بعد دوبارہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا گیا ہے۔

گذشتہ شب پیش آئے واقعے اور اس کے بعد سامنے آنے والے بیانات کی بنیاد پر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو شفا ہسپتال کے بجائے پمز لے جانے کے حکومتی فیصلے نے ناصرف قانونی سوالات کو جنم دیا ہے بلکہ پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ کیا ہے۔

صحافی و سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق ’عمران خان سے متعلق معاملات میں حکومت کے پاس مکمل اختیار دکھائی نہیں دیتا اور بظاہر اس معاملے میں اہم فیصلوں کے لیے وہ بارہا کسی اور جانب دیکھتی نظر آتی ہے۔‘ اُن کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے سے متعلق حکومتی رہنماؤں کے بیانات اور عملی اقدامات میں ہم آہنگی کا فقدان نظر آیا، اور حکومت کی حکمتِ عملی غیر مربوط محسوس ہوئی۔

ماجد نظامی کے بقول موجودہ صورتحال میں حکومت کا کردار ’پوسٹ آفس‘ سے زیادہ دکھائی نہیں دیتا، اس لیے اس سے فوری اور خودمختار ردِعمل کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی تھی۔

Imran Khan, Shifa Hospital

سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں کیا حکومت عمران خان کو کچھ دیر ہی کے لیے شفا ہسپتال منتقل کر کے قانونی معاملات میں کچھ رعایت حاصل کر سکتی تھی؟ اس پر ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ ’بظاہر حکومت اِس وقت فیس سیونگ کی خواہاں نہیں ہے، حالیہ عرصے میں متعدد مواقع پر حکومتی رویہ عدالتی فیصلوں کے احترام سے مطابقت رکھتا نظر نہیں آیا۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کے معاملے میں جہاں بظاہر ایک طرف عدالتیں اپنے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کرانے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتیں، وہیں حالیہ حکومتی اقدام سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ حکومت کو عدالتی احکامات کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔‘

تو کیا یہ معاملہ آگے چل کر حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے؟

ماجد نظامی کے مطابق بظاہر اس اقدام کے ردعمل میں حکومت کو کسی فوری خطرے کا سامنا نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں معاملات کسی کارروائی سے پہلے ہی نمٹا لیے گئے، ’اور اگر کسی کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا بھی تو اسے بچانے کے راستے نکال لیے گئے۔‘

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرا نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں معاملات کچھ بہتری کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اعتماد سازی کا عمل شروع ہو سکتا ہے، مگر اس پیش رفت کے باعث یہ صورتحال اچانک تعطل کا شکار ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان کو پمز ہسپتال کے جانے سے متعلق حکومت نے یہ مؤقف اپنایا ہے کہ ایسا پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے سکیورٹی کی صورتحال پیدا ہونے کے پیش نظر کیا گیا۔ ’اگر حکومت کا سکیورٹی سے متعلق مؤقف درست بھی مان لیا جائے تو عمران خان کو بعد ازاں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جا سکتا تھا۔ ڈاکٹر فیصل سلطان کو اپنے مریض تک رسائی نہ دینا غیرمعمولی اور غیرضروری اقدام ہے کیونکہ وہ سیاسی شخصیت نہیں بلکہ معالج ہیں۔‘

نسیم زہرا کا کہنا ہے کہ عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل نہ کرنے سے متعلق حکومت کے مؤقف اور زمینی حقائق میں تضاد نظر آتا ہے، جس کے باعث اب یہ معاملہ مزید متنازع ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس حکومتی اقدام کے باعث سیاسی درجہ حرارت کم ہونے اور اعتماد کی فضا بننے کی جو امید پیدا ہوئی تھی، وہ متاثر ہوئی ہے۔

دوسری جانب سینیئر صحافی حامد میر نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر عمران خان کی شفا ہسپتال منتقلی کی ہدایت دی تھی، اسی لیے ِاس سے ہٹ کر کیا گیا انتظام قانونی اور سیاسی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

حامد میر کے مطابق اس پیش رفت کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے اور تحریک انصاف کی 27 ستمبر کی احتجاجی کال کو اس تنازع کے بعد نئی تقویت مل سکتی ہے۔

تاہم نسیم زہرا اس سے مکمل اتفاق نہیں کرتیں اور اُن کے مطابق 27 ستمبر تک کافی وقت باقی ہے اور اس دورانیے میں سیاسی حالات میں کئی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ البتہ ان کی رائے میں حکومت نے اس معاملے کو غیرضروری طور پر متنازع بنا دیا ہے۔

حامد میر کا دعویٰ ہے کہ حکومتی حلقوں میں بھی اِس معاملے پر مختلف آرا موجود ہیں، ایک حلقہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کا حامی ہے، جبکہ دوسرا حلقہ عمران خان کو کسی قسم کی رعایت دینے کے حق میں نہیں ہے۔