بیوی کی مرضی کے بغیر ظلم کے دعوے پر تنسیخِ نکاح کو خلع میں بدلنے سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ کیوں اہم ہے؟

خلع

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, آسیہ انصر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے گھریلو تنازعات کے سبب تنسیخ نکاح کے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ظلم کی بنیاد پر دائر کیس کو خلع میں تبدیل کرنا قانونی طور پر درست نہیں اور یہ کہ بیوی کی واضح رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جا سکتی۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک ازدواجی تنازع سے متعلق ایک تفصیلی فیصلے میں اس بات کی وضاحت کی ہے۔

یہ کیس سوات کی رہائشی خاتون کا اپنے شوہر کے ساتھ تنسیخ نکاح سے متعلق تھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس کیس کی مکمل روداد بیان کی گئی ہے۔ سوات کے اس جوڑے کی شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی تھی جس میں بوقت نکاح 30 تولہ سونا حق مہر مقرر کیا گیا تھا۔

تحریری فیصلے میں موجود تفصیلات کے مطابق خاتون نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا تھا کہ شادی کے فوراً بعد شوہر اور اس کے اہلخانہ انھیں جبر، تذلیل، ظلم اور ذہنی اذیت کا نشانہ بناتے رہے، جس سے اُن کی ازدواجی زندگی کا تسلسل ناممکن ہو گیا، اور پھر بلآخر انھیں بلاجواز گھر سے نکال دیا گیا اور اس دوران کفالت کی رقم بھی ادا نہیں کی گئی۔

تحریری فیصلے میں موجود تفصیل کے مطابق درخواست گزار خاتون نے ابتدا میں فیملی کورٹ (سوات) میں دعویٰ دائر کیا جس میں ظلم کی بنیاد پر تنسیخ نکاح، 30 تولہ سونا بطور حق مہر یا اس کی مالیت کی وصولی اور نان و نفقہ کی ادائیگی کی استدعا کی گئی تھی۔

فیملی کورٹ نے خاتون کی جانب سے عائد کردہ ظلم کا دعویٰ قبول نہیں کیا مگر خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کر نے کا حکم دیا۔ 30 تولہ حقِ مہر میں سے 10 تولہ ادا شدہ مانے گئے جبکہ باقی 20 تولہ خلع کے حصول کے عوض چھوڑ دیے گئے۔

درخواست گزار نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی، جبکہ شوہر نے بھی نکاح کے خاتمے اور نان و نفقہ کی ادائیگی سے متعلق فیصلے کو چیلنج کیا۔

اپیلیٹ عدالت نے دونوں اپیلیں مسترد کر کے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جبکہ بعدازاں ہائی کورٹ نے بھی اس ضمن میں دائر کردہ درخواستیں خارج کر دیں جس کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔

سپریم کورٹ نے اب اس کیس میں اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اگر بیوی نے ظلم کی بنیاد پر شادی ختم کرنے کا کیس دائر کیا ہو، تو اسے خلع میں تبدیل کرنا اُس کے مالی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے، لہٰذا عدالت بیوی کو یہ اختیار دے کہ وہ ظلم کا دعویٰ جاری رکھنا چاہتی ہے یا خلع قبول کرنا چاہتی ہے۔

سپریم کورٹ
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

24 مئی کو جاری کیے گئے سپریم کورٹ کے 12 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کیس میں شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی جبکہ آٹھ اکتوبر 2016 کو علیحدگی کا مقدمہ دائر کیا گیا۔

عدالت نے گھریلو تشدد کی تعریف کو وسیع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’جسمانی تشدد کے ساتھ ذہنی اذیت، تذلیل، دباؤ اور محرومی بھی اس میں شامل ہیں، ذہنی ظلم میں جذباتی اذیت، نظر انداز کرنا اور شدید ذہنی تکلیف دینا بھی شامل ہے۔‘

فیصلے میں فیملی کورٹس کو ہدایت کی گئی کہ وہ سول مقدمات میں فوجداری معیارِ ثبوت لاگو کرنے سے گریز کریں اور گھریلو جھگڑوں میں حقائق، رویے اور حالات کو مدِنظر رکھ کر فیصلہ کریں۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قلیل مدت میں بھی ظلم ہو سکتا ہے اور ہر کیس اپنے حقائق پر منحصر ہو گا تاہم عدالت نے قرار دیا کہ بیوی ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی، اس لیے ذیلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے جاتے ہیں، تاہم شادی ابتدا میں ہی ختم ہو چکی تھی اور بیوی مسلسل علیحدگی پر قائم رہی۔

سپریم کورٹ نے خلع کا فیصلہ جزوی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس صرف خلع کے طریقہ کار اور مالی حقوق کے تعین کے لیے دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ فیملی کورٹ بیوی کا حتمی بیان ریکارڈ کر کے اس کی مرضی معلوم کرے گی، اگر بیوی خلع کا انتخاب کرے تو قانونی شرائط کے مطابق فیصلہ ہو گا، جبکہ اگر وہ ظلم کے دعوے پر قائم رہے تو کیس کا فیصلہ اُسی بنیاد پر کیا جائے گا۔

اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ کو مقدمہ 30 دن میں نمٹانے کی ہدایات کی ہے۔

تنسیخ نکاح کی درخواست میں ظلم کو بنیاد بنانا

ظلم کو بنیاد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یاد رہے کہ خلع کی صورت میں عمومی طور پر مالی حقوق، بشمول حق مہر، جزوی یا مکمل طور پر چھوڑنا پڑتا ہے جبکہ خلع ایک الگ راستہ ہے جو بیوی کے واضح اور رضاکارانہ انتخاب پر مبنی ہوتا ہے۔

کیا یہ اپنی نوعیت کا منفرد فیصلہ ہے اور اس میں علیحدگی یا تنسیخ نکاح کی خواہشمند خواتین کے لیے عدالت نے کس قدر رعایت فراہم کی ہے؟

بی بی سی کے اس سوال کے جواب میں ماہر قانون شرافت علی چوہدری ایڈوکیٹ نے بتایا کہ قانون کے مطابق خلع یا تنسیخ نکاح خاتون کا قانونی حق ہے، وہ جب چاہے وہ فائل کر سکتی ہے۔

ایڈوکیٹ شرافت علی کے مطابق ’ہمارے ہاں عموما 90 فیصد تنسیخ نکاح کی درخواست میں ظلم کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق باقی تمام صورتوں میں مکمل شواہد کے ساتھ ثابت کرنا ہوتا ہے جبکہ ظلم ایسی بنیاد ہے جس میں گراونڈ 'پیدا' کیا جا سکتا ہے۔ دو بندے آ کر گواہی دے دیتے ہیں کہ ہاں یہ لڑتے تھے اور ہم نے بھی دیکھا تھا تو یہ سب سے آسان بنیاد ہوتی ہے۔‘

ان کے مطابق خلع یا تنسیخ نکاح کے کیس کو قانونی طور پر عدالت چار ماہ میں فیصلہ سنانے کی پابند ہوتی ہے تاہم بعض اوقات اس میں زیادہ وقت بھی لگ جاتا ہے۔

'مصالحت کی کوشش عدالت کا پہلا کام

شرافت علی ایڈوکیٹ کے مطابق کیس فائل ہونے کے بعد عدالت کا پہلا کام مصالحت کا ہوتا ہے۔ مقدمہ دائر ہونے کے بعد عدالت سب سے پہلے مخالف فریق کو طلب کرتی ہے اور پھر دونوں کو آمنے سامنے بٹھاتی ہے اس کے لیے تاریخ مقرر کی جاتی ہے۔

ان کے مطابق ’مصالحت کی کوشش پر عدالت کا باقاعدہ فیصلہ آتا ہے۔ اگر مصالحت کامیاب ہوئی تو کیس ختم ہو جاتا ہے، اگر کامیاب نہ ہو سکی تو پھر کورٹ شواہد پیش کرنے کا حکم دیتی ہے اور کارروائی آگے بڑھتی ہے۔‘

ظلم کی بنیاد بنائے جانے والے کیس میں خاتون کو شواہد پیش کرنا ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں ذہنی و جسمانی تشدد کے نتیجے میں تنسیخ نکاح کے مقدمات نئی بات نہیں اور سپریم کورٹ اس سے قبل کئی کیسز میں شوہر اور سسرال کے ظلم و ستم اور ناروا سلوک کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کو درست قرار دے چکی ہے۔

دسمبر 2022 میں سپریم کورٹ نے تنسیخ نکاح سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ بیوی ذہنی یا جسمانی ظلم کی بنیاد پر شوہر سے تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کرنے کا حق رکھتی ہے۔

عدالت نے تشدد کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کو خلع کے ذریعے شادی کے خاتمے میں تبدیل کرنے کے اپیلیٹ کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فیملی کورٹ کے فیصلے کو بحال کیا تھا۔

جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کےاس فیصلے میں اسلامی قانون کا حوالہ دے کر کہا گیا تھا کہ ’اگر بیوی پر سسرال میں ظلم ہو رہا ہو اور وہ خاوند کے گھر میں غیر محفوظ ہو تو وہ تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔‘

یہ بھی یاد رہے کہ چند ماہ قبل پاکستان کی پارلیمان نے گھریلو تشدد کا بل یعنی ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026 بھی پاس کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں گھریلو رشتوں میں جڑے افراد کی 'مرضی کے خلاف ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے' یا 'بے بنیاد الزامات پر طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینے' جیسے اعمال قانوناً جرائم تصور کیے جائیں گے۔

ان کی سزا کم سے کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی صورت میں ہو سکتی ہے۔

شرافت علی کے مطابق ’ظلم کی بنیاد پر فیصلہ آتا ہے تو خاتون کو تمام حقوق میں سے کسی سے دستبرداری نہیں کرنا ہوتی۔ اس کے علاوہ کوئی اور وجہ ہو تو پھر عدالت نے فیصلہ دینا ہوتا ہے کہ 50 فیصد یا بعد فیصلوں میں 25 فیصد تک حق مہر چھوڑنا پڑتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’زیادہ تر عدالتی فیصلے کسی بھی خاتون کو اس کا حق چھوڑنے پر مجبور نہیں کرتے۔‘

انھوں نے بتایا کے تنسیخ نکاح اور خلع دونوں صورتوں میں شادی تو ختم ہونی ہے مگر دونوں کے قوانین الگ الگ ہیں۔ خلع اسلامی یا شریعت قوانین کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کو شریعہ لا سے ڈرائیو کیا جاتا ہے۔

’مسلم فیملی کا آرڈیننس 1961 کا جس کے رولز 1964 کے رولز میں مختلف اوقات میں ترامیم ہوئیں۔ یہ رولز خلع کو واضح کرتے ہیں۔ وہ خلع جب ہو گی تو خاتون 50 فیصد حق مہر چھوڑ دے گی۔ اس کے اوپر پھر کئی فیصلے ہیں جن کے اندر کسی میں 25 فیصد حق مہر کی دستبرداری بھی کی گئی، تاہم مستعمل پریکٹس 50 فیصد حق مہر کی رہی ہے۔‘

قانون میں خلع اور تنسیخ نکاح کے لیے اہم بنیادی نکات کیا ہیں؟

تنسیخ نکاح

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

یہ تو ہم نے جان لیا کہ کن صورتوں میں خواتین کو حق مہر سے دستبردار ہونا ہو گا اور کب وہ تنسیخ نکاح کے تحت مکمل مالی حقوق کی حقدار ہے۔

اب یہاں نطرڈالتے ہیں کہ قانون کی روشنی میں خلع اور تنسیخ نکاح کے لیے اہم بنیادی نکات کیا ہیں۔

ڈیزولوشن آف مسلم میرج ایکٹ (تنسیخ نکاح) 1939 کی سیکشن دو میں ایک لمبی فہرست موجود ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس صورت میں خاتون تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔

مسلم قانون کے تحت شادی شدہ عورت اپنے نکاح کے فسخ کی ڈگری حاصل کرنے کی حقدار ہو گی اگر شوہر نے مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعات کے برخلاف دوسری شادی کی ہو، شوہر کو سات سال یا اس سے زیادہ مدت کی قید کی سزا سنائی گئی ہو، شوہر نے بغیر معقول وجہ کے تین سال کی مدت تک اپنے ازدواجی فرائض ادا نہ کیے ہوں۔

اس کے علاوہ شوہر شادی کے وقت نامرد ہو، شوہر دو سال کی مدت تک دیوانہ رہا ہو یا جذام کا مریض ہو یا کسی شدید متعدی جنسی بیماری میں مبتلا ہو، شوہر اس کے ساتھ ظلم و ستم کا برتاؤ کرتا ہو۔ بدنام عورتوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہو یا بدنام زندگی گزارتا ہو وغیرہ وغیرہ۔۔۔

شرافت علی ایڈوکیٹ نے ان نکات کو واضح اور سادہ الفاظ میں سمجھایا کہ ’اس کے چند چیدہ چیدہ نکات کو سمجھنے کے لیے فرض کریں کسی شخص کو لمبی سزا ہو جائے تو اس کی بیوی اس کو بنیاد بنا کر تنسیخ نکاح کی درخواست کر سکتی ہے۔‘

’اگر کوئی شخص ایک سال سے بالکل لاپتا یا مکمل غائب ہے اور اس کے کسی جاننے والے کو اس کے بارے میں کوئی خیر خبر نہ ہو تو عورت شادی ختم کرنے کی درخواست دائر کر سکتی ہے۔‘

’تو یہ ایک لمبی فہرست ہے تو عدالت تمام حالات و واقعات کو دیکھ کر عدالت فیصلہ دیتی ہے۔

شرافت علی کے مطابق ’کورٹ نے یہاں تک بھی فیصلہ دیا ہوا ہے کہ اگر کوئی خاتون یہ بھی مجھے شوہر کی شکل ہی پسند نہیں تو خاتون کو ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انھی میں سے ایک وجہ ظلم بھی ہے جسے بنیاد بنا کر عورت خلع یا شادی ختم کرنے کا کیس دائر کر سکتی ہے۔ تاہم ظلم کو عدالت میں ثابت کرنا ہوتا ہے۔‘

’بظاہر مسئلہ 20 تولے سونے کا ہے‘

اس موجودہ کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں خاتون کا 30 تولے سونا حق مہرتھا اور ان کا مطالبہ 20 تولے سونا تھا جبکہ شادی ایک ماہ بھی نہیں چلی۔‘

ان کے مطابق ’خاتون نے اس میں ظلم کا دعویٰ کیا تھا جو عدالت نے نہیں مانا۔ نہ ضلعی عدالت نے نہ ہائی کورٹ اور نہ ہی سپریم کورٹ نے اس کو مانا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس میں نئی بات یہ کی کہ دیکھا جائے کہ خلع بنتا بھی ہے کہ نہیں تو خاتون نے خلع تو مانگا ہی نہیں بلکہ ظلم کے تحت شادی ختم ہونے کا مقدمہ کیا۔‘

شرافت علی کےمطابق ’خلع اور ڈیزولوشن آف میرج کے دو محتلف قانون ہیں اور ان کے استعمال میں فرق ہے۔ تنسیخ نکاح میں خاتون کا حق مہر اس کو پورا ملتا ہے اتاہم اس کیس میں وہ ظلم ثابت نہیں کر پائی۔ ‘