جب بہادر شاہ ظفر نے مسلمان قصائیوں کے قتل کے بعد ذبیحے پر پابندی لگائی اور گائیوں کو قید کرنے کا حکم دیا

بہادر شاہ ظفر

،تصویر کا ذریعہPENGUIN BOOKS

    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی، محقق
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

پانچویں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے سب سے بڑے بیٹے دارا شکوہ مغلیہ تاریخ کو ’مجمع البحرین‘ یعنی دو سمندروں کے سنگم کی تاریخ قرار دیا کرتے تھے۔

اپنی کتاب ’دی گریٹ مغلز اینڈ دیئر انڈیا‘ میں مؤرخ ڈرک کولیئر لکھتے ہیں کہ دارا شکوہ یہ تشبیہ مغلیہ خاندان کے 1526 سے 1857 تک، یعنی تقریباً 330 برس تک، ہندوستان پر حکومت کے دوران میں ’اسلامی اور قدیم ہندو تہذیب کے اُس تقدیر ساز ملاپ‘ کے لیے استعمال کرتے تھے، جس نے برصغیر کی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کو نئی جہت عطا کی۔

وکٹر لائبرمَن کی تصنیف ’سٹرینج پیراللز‘ سے پتا چلتا ہے کہ تیسرے مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر نے بادشاہت کا ایک زیادہ جامع انداز اپنایا جوعالم گیر ہم آہنگی پر زور دیتا تھا اور جسے ’صلحِ کل‘' یعنی ’سب کے ساتھ امن‘ کے تصور میں سمویا گیا۔

’ان میں سے بہت سی پالیسیاں اکبر کے بیٹے نور الدین محمد جہانگیر (حکومت: 1605–1627) کے دور میں بھی جاری رہیں۔‘

لائبرمَن کے مطابق شاہ جہاں (1628–1658) اور خصوصاً چھٹے بادشاہ اورنگزیب عالم گیر (1658–1707) کے دور میں ایک قدامت پسند ردِعمل ضرور پیدا ہوا، لیکن اس کے باوجود عملی ضرورتیں بہت اہم رہیں۔

کنان گاہرانا نے اپنی کتاب ’رائٹ ٹو فریڈم آف رلیجن‘ میں لکھا ہے کہ مغل دور میں، بابرسے اورنگ زیب تک، گائے ذبح کرنے پر کسی نہ کسی قسم کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

’ایسا ہندو رعایا کی وفاداریاں جیتنے کے لیے کیا گیا۔‘

قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان کی ماہرآڈری ٹرشکے کے مطابق تاریخی ریکارڈ ظاہر کرتے ہیں کہ مغل حکمران سلطنت کے بعض مخصوص علاقوں میں محدود مدت کے لیے گائے اور دیگر جانوروں کے ذبیح پر پابندیاں عائد کرتے تھے۔

’جین اور برہمن دونوں مغل بادشاہوں کے پاس ایسی سیاسی رعایتوں کے حصول کے لیے جاتے تھے اور متعدد فرامین (شاہی احکامات) اور تاریخی متون آج بھی موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ ان کی درخواستیں منظور کی جاتی تھیں۔‘

’مثال کے طور پر جین مذہبی رہنماؤں نے مغل حکمرانوں سے پریوشن تہوار کے دوران جانوروں کے ذبح پر پابندی کے وعدے حاصل کیے۔

’اکبر نے اس حوالے سے 25 سال کے وقفے سے دو الگ الگ فرامین جاری کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ احکامات مستقل طور پر نافذ نہیں رہتے تھے۔‘

’جین اور برہمن دونوں کی تحریر کردہ سنسکرِت کتابوں میں متعدد مغل بادشاہوں کی گایوں کے تحفظ پر تعریف کی گئی ہے۔‘

ہربرٹ چارلس فینشا کی کتاب ’دہلی پاسٹ اینڈ پریزنٹ‘ کے مطابق 19ویں صدی کے اوائل تک مغلیہ سلطنت سکڑ کر صرف شہرِ دہلی اور اس کے گرد و نواح، یعنی پالم تک کے علاقے، تک محدود ہو چکی تھی۔

ایسے میں 20ویں مغل حکمران بہادرشاہ ظفر 1837 میں اقتدارمیں آئے۔

Bahadur Shah Zafar

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اپنی کتاب ’دی لاسٹ مغل: دی فال آف ڈائنسٹی، دہلی،1857‘ میں ولیم ڈیلرمپل لکھتے ہیں کہ 1850کی دہائی تک بہادر شاہ ظفر کے پاس عملی طور پر روزمرہ اقتدار بہت کم رہ گیا تھا، سوائے اُس پراثر ہیبت اور وقار کے جو اب بھی مغلیہ خاندان سے وابستہ تھا، اور کئی لحاظ سے وہ ’شطرنج کے بادشاہ‘ بن کر رہ گئے تھے۔

پھر بھی تاریخ دان آر وی سمتھ کے مطابق 1857 سے قبل، اپنے عہدِ حکومت کے آخری برسوں میں، بہادر شاہ ظفر نے اپنے جدِ امجد اکبر اعظم کی روایت برقرار رکھتے ہوئے گائے ذبح کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

وہ لکھتے ہیں: ’ممکن ہے دیہات میں اس حکم کی خلاف ورزی ہوتی رہی ہو، مگر شہری علاقوں میں اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا سکے۔‘

اصل اقتدار تب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس تھا۔

انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا سے علم ہوتا ہے کہ برسوں سے انگریزوں کی سیاسی مداخلت، ظلم اور ریاستوں پر قبضے عوام کے غصے کو بڑھا رہے تھے اور لارڈ ڈلہوزی کی جانب سے اودھ کے الحاق نے اس ناراضی کو مزید شدید کر دیا۔

’سنہ 1857میں ہندوستان میں برطانوی اقتدار کے خلاف ایک عظیم بغاوت بھڑک اٹھی، جسے ہندوستان میں ’جنگِ آزادیِ اول‘ کہا جاتا ہے۔‘

’چنگاری اُس وقت بھڑکی جب نئی اینفیلڈ رائفل متعارف کرائی گئی۔ اس کے کارتوسوں کے بارے میں مشہور ہو گیا کہ اُن پر گائے اور سور کی چربی لگی ہے۔ سپاہیوں کو انھیں دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا، جو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے مذہبی عقائد کی توہین سمجھی گئی۔‘

’آخرکار میرٹھ میں ہندوستانی سپاہیوں نے بغاوت کر دی۔ جلد ہی یہ آگ دہلی، آگرہ، کانپور اور لکھنؤ تک پھیل گئی۔‘

ڈاکٹر تاراچند ’ہندوستان میں سپاہیوں کی تحریک آزادی کی تاریخ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’جنگ آزادی میں عام خیال کے برعکس اور حکمرانوں کی امیدوں اور توقعات کے خلاف مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر جنگ کی۔‘

Bahadur Shah Zafar

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈیلرمپل لکھتے ہیں کہ اگرچہ 11 مئی 1857 کو جب اکھڑ اور بے چین سپاہی اُن کے محل میں گھس آئے تو ظفر ابتدا میں سخت خوف زدہ ہو گئے تھے، لیکن بالآخر انہوں نے بغاوت کی حمایت پر آمادگی ظاہر کر دی کیونکہ اُن کے نزدیک اپنی عظیم سلطنت کو فنا ہونے سے بچانے کا یہی واحد راستہ تھا۔

’بقرعید قریب آ رہی تھی۔ دربار، جس نے ہمیشہ بھرپور کوشش کی تھی کہ شہر کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم نہ ہونے دیا جائے، شدید خوف زدہ تھا۔‘

ڈیلرمپل کے مطابق جان بوجھ کر ہندو جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

سید محمد باقر دہلوی جو مولوی محمد باقر کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، دلی کے صحافی تھے۔

’دی لاسٹ مغل‘ سے علم ہوتا ہے کہ مولوی محمد باقر نے لکھا: ’ٹونک سے آنے والے غازیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ عید کے دن جامع مسجد کے سامنے کھلے میدان میں گائے ذبح کی جائے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہندوؤں نے اس کی مخالفت کی تو وہ انہیں قتل کر دیں گے اور پھر ہندوؤں سے حساب چکتا کرنے کے بعد فرنگیوں پر حملہ کر کے انھیں تباہ کر دیں گے۔‘

(’دہلی اردو اخبار‘ کے یہ مدیر جنگِ آزادی 1857میں اپنی جان قربان کرنے والے پہلے صحافی قرار پائے۔ انھیں 16 ستمبر 1857 کو گرفتار کیا گیا اور دو دن بعد توپ سے اڑا دیا گیا۔)

ڈیلرمپل لکھتے ہیں کہ اس کے فوراً بعد 19 جولائی کو چند ہندو سپاہیوں نے گائے ذبح کرنے کے الزام میں پانچ مسلمان قصائیوں کے گلے کاٹ دیے۔

’ایک مکمل بحران، جو شہر کو، جس کی تقریباً آدھی آبادی ہندو تھی، تقسیم کر سکتا تھا، قریب دکھائی دینے لگا۔‘

اب ظفرنے غیر معمولی طور پر فیصلہ کن ردِعمل دیا۔

’جس دن قصائی قتل کیے گئے، اُسی دن ظفر نے گائے ذبح کرنے پر پابندی لگا دی، گائے کے گوشت کے استعمال کو ممنوع قرار دیا اور حکم دیا کہ جو کوئی گائے ذبح کرتے ہوئے پایا جائے اُسے توپ کے دہانے سے اڑا دیا جائے۔‘

’پولیس نے فوراً کارروائی کی، یہاں تک کہ ایک کباب فروش کو بھی گرفتار کرنے چلی گئی جو بیف کباب بھون رہا تھا۔

’ان میں سے ایک، حافظ عبدالرحمٰن، نے دربار کو لکھا کہ وہ قصائی نہیں ہے اور گائے ذبح کرنے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ مزید یہ کہ اُس نے کباب بیچنے کا کام صرف اس وقت شروع کیا تھا جب سپاہیوں کے ہنگاموں کے باعث اُس کا سابقہ کاروبار تباہ ہو گیا تھا۔‘

’تاہم اُسے رہا نہیں کیا گیا۔‘

Cow

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈیلرمپل لکھتے ہیں کہ اس کے بعد ظفر نے حکم جاری کیا کہ شہر کی تمام گایوں کا اندراج کیا جائے اور مختلف محلّوں کے چوکیداروں اور خاکروبوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہر اُس گھر کی اطلاع مقامی کوتوالی کو دیں جہاں گائے موجود ہو۔

’30 تاریخ کو کوتوال سعید مبارک شاہ کو حکم دیا گیا کہ پورے شہر میں اعلان کروا دیں کہ گائے ذبح کرنا مکمل طور پر ممنوع ہے کیونکہ اس سے ’غیر ضروری فساد پیدا ہوگا جو صرف دشمن کو مضبوط کرے گا‘ اور یہ کہ ’جو شخص بھی اس بارے میں سوچے گا یا حکومت کے حکم کی خلاف ورزی کرے گا، اُسے سخت سزا دی جائے گی۔‘

’مزید احکامات بھی جاری ہوئے، جن میں ایک عجیب حکم یہ تھا کہ تمام رجسٹر شدہ گایوں کو اب شہر کی مرکزی کوتوالی میں پناہ دی جائے۔‘

’ظفر کو شاید یہ معلوم نہ تھا یا وہ مجاہدین کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے، مگر وہ گایوں کو قید کرنے کا حکم دے بیٹھے۔ تاہم یہ حکم بہت مشکل ثابت ہوا۔‘

’سعید مبارک شاہ نے پریشانی کے عالم میں جواب لکھا کہ اگر تمام مسلمانوں کی گایوں کو جمع کیا گیا تو ان کی تعداد پانچ سو سے ایک ہزار تک پہنچ جائے گی۔‘

اس مقصد کے لیے چند دنوں کے لیے ایک بڑا میدان یا احاطہ درکار ہوگا، مگر ’یہ عاجز بندہ ایسی کسی جگہ سے واقف نہیں اور مالکان صرف شک اور پریشانی میں مبتلا ہوں گے۔‘

ڈیلرمپل کے مطابق چنانچہ یہ منصوبہ خاموشی سے ترک کر دیا گیا اور اس کے بجائے مویشی مالکان سے ضمانتی مچلکے لیے گئے کہ وہ اپنے جانور قربان نہیں کریں گے۔

’آخرکار مفتی صدرالدین آزردہ کو مجاہدین کے ساتھ ثالثی کے لیے بھیجا گیا۔ یہ ایک نہایت دانشمندانہ انتخاب تھا، کیونکہ آزردہ دہلی کے سب سے زیادہ معزز مسلمان دانشور تھے۔ سید احمد خان کے مطابق ’عقل مندوں میں سب سے زیادہ عقل مند‘۔ دہلی کے شاعر صابر کے مطابق وہ ایسے شخص تھے جو ’افلاطون کے علم کو لات مار کر اور ارسطو کو کمال کی بلندی سے ذلت کی خاک میں ملا سکتے تھے۔‘

’مرزا غالب کے دوست ،آزردہ نہ صرف ظفر کے قریبی مشیر اور حلیف تھے بلکہ مجاہدین کے سربراہ مولوی سرفراز علی کے استاد اور سابق سرپرست بھی تھے۔ آخرکار، مولوی سرفراز اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ مجاہدین کو گائے ذبح کرنے اور عید پر بیف کھانے سے باز رکھیں۔‘

بقرعید پر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے ہندو جذبات کا احترام کرتے ہوئے گائے کے بجائے اونٹ کی قربانی دی۔

ظفر کی تمام احتیاطی تدابیر کی بدولت، یکم اگست کو عید پُرامن طریقے سے گزر گئی۔

Bahadur Shah Zafar and his wife

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈیلرمپل نے لکھا کہ انگریز، جو اپنے جاسوسوں کے ذریعے بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی سے آگاہ تھے اور ایک بڑے فرقہ وارانہ فساد کے شدت سے منتظر تھے، مایوس رہ گئے۔

مؤرخ رعنا صفوی لکھتی ہیں کہ کرنل کیتھ ینگ ہندوستانی فوج کے جج ایڈووکیٹ جنرل تھے اور دلی میں برطانوی فوج کے ساتھ تعینات تھے۔ وہ اپنی بیوی کو خطوط لکھتے تھے جن میں وہ بغاوت کی تفصیلات بیان کرتے تھے۔ ان کی بیوی شملہ میں محفوظ مقام پر مقیم تھیں۔ بعد ازاں یہ خطوط شائع بھی ہوئے۔

ان کا عنوان ’دہلی 1857: دا سیج، اسلٹ اینڈ کیپچر ایز گیون اِن ڈائری اینڈ کاریسپانڈینس آف دا لیٹ کرنل کیتھ ینگ‘ تھا۔

انتیس جولائی 1857 کو انھوں نے اپنی بیوی کو لکھا: ’ہڈسن نے بتایا کہ شہر سے ایک خط آیا ہے جو ان اختلافات کی تصدیق کرتا ہے جن کی خبریں پہلے بھی مل چکی تھیں، اور لگتا ہے کہ عید کے تہوار پر یہ معاملہ سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ بعض مسلمان جنونیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ حسبِ دستور جامع مسجد میں گائے ذبح کریں گے۔ امید ہے کہ وہ اپنے اس عزم پر مذہبی جوش کے ساتھ قائم رہیں گے اور پھر مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان یقینی طور پر فساد برپا ہو جائے گا۔‘

30 جولائی کو انھوں نے لکھا: ’کیمپ میں سب پُرسکون ہے، اور میرا خیال ہے — جیسا کہ ہم سب سمجھتے ہیں — کہ باغی آپس میں جھگڑ رہے ہیں اور دوبارہ ہم پر حملہ کرنے کے لیے متحد نہیں ہو پا رہے۔ ہمیں امید ہے کہ عید ان کے معاملات کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچا دے گی اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک بڑے فساد کا دن ثابت ہوگی۔‘

یہ دونوں خطوط واضح کرتے ہیں کہ پورا راج اس امید پر بیٹھا تھا کہ قربانی ہندو مسلم اتحاد کو توڑنے کا ذریعہ بنے گی۔

تاہم، بہادر شاہ ظفر کے مکمل پابندی کے احکامات نے ان تمام امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔

عید سے اگلے روز یعنی دو اگست کو کرنل نے اپنی بیوی کو لکھا: ’کل عید کے موقع پر شہر میں کسی بڑے فساد کی ہماری امیدیں بظاہر پوری نہیں ہوئیں۔ جبکہ منصوبہ یہ تھا کہ بادشاہ ہمارے کیمپ میں اپنی شام کی نماز ادا کرے!‘