’چار مردوں سے ملی، وہ سب فراڈ نکلے‘: ڈیٹنگ ایپس پر دھوکے باز مرد خواتین کو کیا کہانیاں سناتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہJulie Osgood
- مصنف, جونی ہمفریز
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
اپنے 40 سالہ ساتھی کو کورونا وائرس کے باعث کھونے کے چند سال بعد جولی اوسگڈ نے فیصلہ کیا کہ وہ جدید ڈیٹنگ کی دنیا کو آزمانا چاہتی ہیں۔
لیکن اس تجربے نے مڈلٹن سے تعلق رکھنے والی 60 سالہ خاتون کو ’تنہا رہنے‘ پر آمادہ کیا کیونکہ جن ’پہلے چار مردوں سے ان کی ملاقات ہوئی وہ سب فراڈ نکلے۔‘
جولی، جو 17 سال کی عمر سے اپنے ساتھی ٹونی ڈونوہیو کے ساتھ تھیں اور نومبر 2020 میں ان کی موت تک ان کے ساتھ رہیں، نے کہا کہ ڈیٹنگ ایپ پر رجسٹر ہونا ’ایک بہت بڑا قدم‘ تھا۔
انھوں نے بتایا کہ وہ دھوکے بازوں کے اصل عزائم کو نہ صرف سمجھ گئیں بلکہ انھیں کوئی رقم بھی نہیں دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں دوبارہ کبھی بھی کسی ڈیٹنگ ویب سائٹ پر نہیں جاؤں گی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ حقیقی لوگوں سے کہاں ملا جائے۔‘
’ملتا جلتا طریقۂ کار‘
جولی نے کہا کہ وہ اس لیے سامنے آ کر بات کرنا چاہتی ہیں تاکہ دوسروں کو اسی طرح کے فراڈ کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے اور ڈیٹنگ سائٹس پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ اس متعلق اقدامات اٹھائیں۔
بی بی سی کی طرف سے گذشتہ سال حاصل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایکشن فراڈ کو رپورٹ کیے گئے رومانوی فراڈ کے کیسز میں ضائع ہونے والی رقم 2024 میں 92 ملین پاؤنڈ سے تجاوز کر گئی تھی، جو اس سے ایک سال پہلے 82 ملین پاؤنڈ تھی۔
انھوں نے کہا کہ بی بی سی کے ساتھ شیئر کی گئی ان مردوں کی تصاویر میں واضح نشانیاں موجود تھیں کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے بنائی گئی تھیں، جیسے پس منظر میں متن کے حروف کا بکھرا ہونا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہJulie Osgood
انھوں نے کہا کہ ’وہ سب تقریباً ایک ہی جیسی کہانیوں سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ سب کے سب تنہا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، سوائے ایک کہ جس نے کہا وہ طلاق یافتہ ہیں، لیکن سب کے پاس نوعمر بیٹیاں ہوتی ہیں جو عموماً اپنی ماں کے ساتھ رہتی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’شروع میں سب کچھ معمول کے مطابق لگتا ہے، ایک یا دو ہفتے تک، لیکن پھر یا تو انھیں بزنس ٹرپ پر جانا پڑتا ہے، یا وہ وہاں جا کر اپنا بریف کیس کھو دیتے ہیں اور کسی چیز کے لیے مدد مانگتے ہیں۔‘
’انھیں کچھ مانگنے میں چند ہفتے لگتے ہیں۔‘
آن لائن ڈیٹنگ کے ابتدائی مایوس کن تجربے کے بعد جولی نے یہ سلسلہ چھوڑ دیا۔
تاہم گذشتہ سال دسمبر میں گھر کی تبدیلی اور چھوٹے بچوں کے بھی گھر چھوڑ دینے کے بعد انھوں نے ایک بار پھر کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں اکیلی ہو جاؤں گی اور میں ہمیشہ کے لیے اکیلی نہیں رہنا چاہتی۔‘
’میں نے سوچا کہ واحد راستہ ڈیٹنگ ویب سائٹ ہے، اس لیے ایک بار اور کوشش کرتی ہوں اور میں نے ایک مختلف ویب سائٹ ایک مہینے کے لیے جوائن کی تاکہ دیکھ سکوں کیا ہوتا ہے۔‘
’لو پھر سے وہی کچھ شروع ہو گیا‘
اس بار جولی نے 50 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے بنائی گئی ڈیٹنگ ایپ آور ٹائم (ہمارا وقت) پر رجسٹر کیا۔
جلد ہی ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی جس نے اپنا نام فرینک بتایا۔
اچھی جسمانی حالت اور ہلکے رنگ کے بالوں والے فرینک نے بتایا کہ وہ ایک آرکیٹیکٹ ہیں جو تین سال پہلے اپنے آبائی ملک فرانس سے برطانیہ آئے تھے۔
ایک بار پھر فرینک نے دعویٰ کیا کہ وہ طلاق یافتہ ہیں اور ان کی ایک نوعمر بیٹی ہے، لیکن وہ بظاہر حقیقی لگے، اور واٹس ایپ پر چند ہفتے بات کرنے کے بعد جولی نے سوچا کہ وہ ان سے ملنے کے لیے کہہ دیں تاکہ حقیقت کا پتا چل سکے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے سوچا، یہ ایک طریقہ ہے جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ حقیقی ہیں یا نہیں۔ اور اس نے کہا ’ہاں یہ بہت اچھا ہوگا‘ لیکن پھر تقریباً چار دن بعد اچانک اسے فرانس جانا پڑ گیا اور میں نے سوچا ’لو پھر سے وہی کچھ شروع ہو گیا۔‘
’اس نے مجھے جھوٹا کہا‘
اس بار جولی نے ساتھ کھیلنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ فرءنک کے اصل ارادے جان سکیں اور اس لیے بھی کہ ’اگر وہ مجھ سے بات کر رہا ہے تو کسی اور کے ساتھ نہیں کر رہا۔‘
جلد ہی ان کا مقصد واضح ہو گیا۔
اکاؤنٹ کے پیچھے موجود شخص نے اپنے مرحوم والد کی جائیداد سے متعلق عدالتی مقدمے کی کہانی گھڑنی شروع کی اور پھر دعویٰ کیا کہ فیصلہ اس کے خلاف آیا ہے اور اس کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔
جولی کو بھیجے گئے پیغامات میں فرینک نے کہا کہ یہ صورتحال ’مجھے ذہنی اور جذباتی طور پر تباہ کر رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جولی، جو اب بھی فرینک کے ساتھ بات کر رہی تھیں، نے کہا کہ وہ پیرس پہنچ کر 20,000 پاؤنڈ نقد ان کے حوالے کر سکتی ہیں، جو ان کے مطابق انھوں نے تعمیراتی کام کے لیے نکالے تھے۔
انھوں نے فرینگ کو اپنی پرواز کی تفصیلات بھیجیں لیکن جولی کبھی جہاز پر سوار نہیں ہوئیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ممکن ہے وہاں کوئی مجھے لوٹنے کے لیے انتظار کر رہا ہوتا۔‘
جولی نے دو گھنٹے تک دھوکہ باز کو الجھائے رکھا، پھر انھوں نے ہار مان لی۔ انھوں نے کہا کہ فرینک نے ان پر ’جھوٹ بولنے‘ کا الزام لگایا کہ وہ فرانس میں ہیں اور ان سے ان کا مقام اور ہوٹل کے کمرے کی تفصیلات پوچھیں۔
جولی نے بتایا کہ انھوں نے اس معاملے کی اطلاع گریٹر مانچسٹر پولیس کو دی، جن سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
اپنی کہانی شیئر کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے جولی نے کہا کہ ’مجھے غصہ ہے کیونکہ یہ چار بار ہوا ہے اور میں سوچتی ہوں ’بس مجھے کچھ سکون دو۔‘
’ظاہر ہے وہ یہ کسی اور کے ساتھ بھی کریں گے اور کوئی اتنا خوش قسمت نہیں ہوگا، اور بہت سا پیسہ کھو بیٹھے گا۔‘
جولی نے بعد میں اکاؤنٹ کی رپورٹ ’آورٹائم‘ کو بھی کی۔
آور ٹائم نے جولی کو بھیجے گئے اور بی بی سی کے ساتھ شیئر کی گئی ایک ای میل میں کہا ’ہمارے اراکین کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم تمام صارفین کے لیے ایک محفوظ اور دوستانہ ماحول فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
سروس نے اکاؤنٹ کے بارے میں مزید معلومات طلب کیں اور کہا کہ اگر پولیس کو مدد درکار ہوئی تو وہ ’ہر ممکن طریقے سے تحقیقات میں معاونت کریں گے‘۔
بی بی سی نے مزید تبصرے کے لیے آورٹائم سے رابطہ کیا۔ جولی نے کہا کہ اس تجربے نے ان کا اعتماد متاثر کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے اب ہار مان لی ہے، میں بس اکیلی ہی رہوں گی۔‘
’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں 54 سال کی عمر میں بیوہ ہو جاؤں گی، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرا ساتھی کووڈ سے فوت ہو جائے گا، انھیں تو زندگی میں کبھی زکام بھی نہیں ہوا، لیکن آپ جانتے ہیں، ایسا ہو جاتا ہے۔
’میں ابھی صرف 60 سال کی ہوں، اور میں کوئی بوڑھی 60 سالہ نہیں ہوں، اور ہمیشہ اکیلے رہنے کا خیال مجھے خوفزدہ کرتا ہے، لیکن کسی سے ملاقات کہاں ہوتی ہے؟ مجھے نہیں معلوم۔‘




























