بہتر فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو ان چیونٹیوں سے سیکھیے

،تصویر کا ذریعہPawich Sattalerd via Getty Images
- مصنف, صوفیا کوالیا
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
ہم انسان اپنی گہری سوچ اور تجزیے کی صلاحیت کے باعث خود کو اشرف المخلوقات کہلانا پسند کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری یہ ذہانت ہمیشہ ہمیں درست منزل تک نہیں پہنچاتی۔ ہم غلطیوں سے مبرا نہیں اور اکثر ایسے فیصلے کر بیٹھتے ہیں جو بعد میں غلط ثابت ہوتے ہیں۔
دوسری جانب، حشرات اپنے نہایت چھوٹے دماغوں کے باوجود فیصلہ سازی میں حیران کن دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ان کی مسئلہ حل کرنے کی بعض صلاحیتیں اس قدر مؤثر ہیں کہ سائنس دانوں اور انجینئروں نے انھیں انسانی صنعتوں میں فیصلہ سازی کے جدید الگورتھمز کی تیاری کے لیے نمونہ بنایا ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ دانش مندانہ فیصلے کرنے کے بارے میں ہم حشرات سے کون سے پانچ اہم سبق سیکھ سکتے ہیں۔
بہتری لانے والی چیونٹیاں
کسی کام کو انجام دینے کے بہترین طریقے کا انتخاب کرنا آسان نہیں ہوتا، خصوصاً ایسی دنیا میں جہاں ہر طرف بے شمار امکانات اور محرکات موجود ہوں۔ ماہرین اس صورتحال کو فیصلہ سازی کی الجھن سے تعبیر کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چیونٹیاں بھی اسی طرح کے مسئلے کا سامنا کرتی ہیں جب انھیں اجتماعی طور پر اپنی اگلی خوراک کی جگہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، مختلف انواع کی چیونٹیوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر حکمتِ عملی اپنا رکھی ہے۔
ابتدا میں چند چیونٹیاں اپنے بل کی محفوظ فضا چھوڑ کر قریبی علاقوں میں خوراک کی تلاش کے لیے نکلتی ہیں۔ یہ کھوجی چیونٹیاں کسی ایک سمت تک محدود نہیں رہتیں بلکہ بے ترتیب انداز میں مختلف راستوں کا جائزہ لیتی ہیں، تاکہ تمام ممکنہ مواقع کے متعلق معلوم ہو سکے۔
خوراک کی تلاش کے دوران چیونٹیاں زمین پر راستہ بتانے والی فیرومون یعنی ایک خاص خوشبو چھوڑتی جاتی ہیں۔ دوسری چیونٹیاں اس کیمیائی خوشبو کا پیچھا کرتے ہوئے اسی راستے تک پہنچ جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وقت گزرنے کے ساتھ یہ فیرومون مدھم پڑ جاتے ہیں، لیکن جن راستوں پر زیادہ چیونٹیاں آتی جاتی ہیں وہاں خوشبو نسبتاً مضبوط رہتی ہے۔ نتیجتاً دوسری چیونٹیاں انھی راستوں کو اختیار کرنے کا زیادہ رجحان رکھتی ہیں جن پر فیرومون کی خوشبو زیادہ نمایاں ہو، اور یوں پوری کالونی بتدریج بہترین خوراک کے مقام تک پہنچ جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہMuhammad Owais Khan via Getty Images
جو چیونٹیاں خوراک تک پہنچنے کا سب سے مؤثر راستہ دریافت کر لیتی ہیں، وہ خوراک لے کر نسبتاً تیزی سے واپس لوٹتی ہیں اور راستے میں دوبارہ اپنی مخصوص خوشبو کے نشانات چھوڑ جاتی ہیں، اس سے پہلے کہ پہلے سے موجود نشانات مکمل طور پر مٹ جائیں۔ یوں بعد میں خوراک کی تلاش میں نکلنے والی چیونٹیوں تک اس راستے کی معلومات بھی جلد پہنچ جاتی ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ چیونٹیاں اسی راستے کو اختیار کرنے لگتی ہیں۔ ان کے بار بار گزرنے سے خوشبو کے نشانات مزید گہرے اور نمایاں ہو جاتے ہیں، جبکہ کم استعمال ہونے والے راستوں کی خوشبو آہستہ آہستہ مدھم پڑ جاتی ہے۔
اس طرح نسبتاً مختصر اور بہتر راستے خود بخود مضبوط ہوتے جاتے ہیں اور کم مؤثر راستے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ آخرکار پوری کالونی اجتماعی طور پر خوراک تک پہنچنے کا سب سے مختصر اور مؤثر راستہ اختیار کر لیتی ہے، حالانکہ کسی ایک چیونٹی کو یہ علم نہیں ہوتا کہ بہترین راستہ کون سا ہے۔
بیلجیم کی یونیورسیٹی لیبر دے بروکسیل کی مصنوعی ذہانت لیبارٹری کے شریک ڈائریکٹر مارکو دوریگو کے مطابق اس نظام کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ مؤثر اجتماعی فیصلہ سازی کے لیے ہمیشہ کسی مرکزی کنٹرول کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ان کے بقول، ’چیونٹیاں محدود صلاحیتوں اور محدود معلومات رکھنے والی سادہ مخلوق ہیں، لیکن اجتماعی طور پر وہ ایسے پیچیدہ مسائل حل کر لیتی ہیں جن کے لیے حیرت انگیز ہم آہنگی درکار ہوتی ہے۔‘
چیونٹیوں کے اسی طرزِ عمل سے متاثر ہو کر ماہرین نے ’آنٹ کالونی آپٹیمائزیشن‘ نامی ایک الگورتھم تیار کیا، جو آج دنیا بھر میں شیڈولنگ، ٹیلی کمیونی کیشنز، نقل و حمل اور لاجسٹکس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
مثال کے طور پر ریلوے نظام کی منصوبہ بندی میں چیونٹیوں سے متاثر یہ الگورتھمز استعمال کیے گئے ہیں۔ اسی طرح مارکو دوریگو نے چیونٹیوں سے متاثر آنٹ نیٹ‘ (AntNet) نامی نظام تیار کیا، جو مواصلاتی نیٹ ورکس میں معلومات کو تیز ترین اور مؤثر ترین راستوں سے منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جمہوری انداز میں فیصلے کرنے والی شہد کی مکھیاں
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نئے چھتے کے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے میں شہد کی مکھیاں بھی ایک ایسی حکمتِ عملی اپناتی ہیں جو کئی اعتبار سے چیونٹیوں کے خوراک تلاش کرنے کے طریقے سے ملتی جلتی ہے۔
اس مقصد کے لیے چند متلاشی مکھیاں مختلف سمتوں میں اڑ کر ممکنہ مقامات کا جائزہ لیتی ہیں۔ چیونٹیوں کے برعکس، وہ راستے میں کوئی خوشبو دار نشان نہیں چھوڑتیں بلکہ چھتوں میں واپس آ کر اپنی دریافت کے بارے میں دوسری مکھیوں کو آگاہ کرتی ہیں۔
یہ مکھیاں اپنی ساتھیوں کے سامنے ایک خاص قسم کا رقص کرتی ہیں جسے ’ویگل ڈانس‘ کہا جاتا ہے۔ جسم کی مخصوص حرکات کے ذریعے وہ بتاتی ہیں کہ نئی جگہ کتنی محفوظ ہے، کتنی دور واقع ہے، کتنی کشادہ ہے اور چھتہ بنانے کے لیے کس حد تک موزوں ہے۔
جس قدر کوئی جگہ بہتر اور زیادہ مناسب ہوتی ہے، مکھی کا رقص بھی اتنا ہی پُرجوش اور طویل ہوتا ہے۔ اس رقص سے نہ صرف مقام کے معیار کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہاں پہنچنے کے لیے کس سمت میں اور کتنی دور پرواز کرنی ہو گی۔
اس کے بعد مزید مکھیوں کو اس مقام کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ واپس آنے پر وہ بھی اپنے رقص کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتی ہیں۔ اگر انھیں وہ جگہ موزوں لگے تو وہ پہلے سے موجود رائے کی تائید کرتی ہیں، اور اگر کوئی بہتر متبادل مل جائے تو اس کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اس طرح مختلف مکھیوں کی آرا اور مشاہدات ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں، یہاں تک کہ پوری کالونی اتفاقِ رائے سے نئے گھونسلے کے لیے بہترین مقام کا انتخاب کر لیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
وقت کے ساتھ ایک پسندیدہ مقام فطری طور پر ابھر آتا ہے: دو درجن کے قریب مکھیاں ایک ہی جگہ کے حق میں مثبت رقص کے ساتھ واپس آتی ہیں۔
وہ ایک متفقہ حد تک پہنچ جاتی ہیں اور پھر اسی کے مطابق نقل مکانی کرتی ہیں، بالکل ایک انسانی جمہوریت کی طرح۔
غیر جانبدار ٹڈیاں
لوگوں کی رائے بدلنا آسان نہیں ہوتا، خصوصاً جب کوئی گروہ دو مختلف آرا میں بٹ چکا ہو۔ ایسی صورت حال میں بحث اکثر صحیح یا غلط کی سخت تقسیم اختیار کر لیتی ہے اور ہر فرد اپنے نقطۂ نظر پر مزید اڑ جاتا ہے۔
تاہم، ٹڈیوں پر ہونے والی ایک حالیہ تحقیق اس تعطل سے نکلنے کا ایک دلچسپ راستہ پیش کرتی ہے۔
مارچنگ ٹڈیاں اپنی زندگی کے اس مرحلے میں ہوتی ہیں جب وہ ابھی اڑنے کے قابل نہیں ہوتیں، اس لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ پیدل سفر کرتی ہیں۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ میں ریاضیاتی حیاتیات کے پروفیسر کرسچین ییٹس نے ان کے رویّے کا مطالعہ کرنے کے لیے ٹڈیوں کے غولوں کو ایک حلقہ نما احاطے میں رکھا تاکہ دیکھا جا سکے کہ وہ اجتماعی طور پر کس سمت بڑھنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔
مشاہدے سے پتا چلا کہ ٹڈیاں وقتاً فوقتاً مختصر وقفے کے بعد اپنی سمت تبدیل کر لیتی ہیں۔ مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ مختصر توقف ہی دراصل تبدیلی کی کنجی ہے۔ جب بڑی تعداد میں ٹڈیاں چلنا چھوڑ دیتی ہیں اور عارضی طور پر غیر جانبدار ہو جاتی ہیں تو پورے غول کے لیے ایک مشترکہ فیصلے سے نکل کر کسی نئے اتفاقِ رائے تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے۔
ییٹس نے اسی تصور کو جانچنے کے لیے 19 افراد پر مشتمل ایک انسانی تجربہ بھی کیا۔ اس میں شرکا کو ایکس یا وائے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے یا رائے دینے سے گریز کرنے کا اختیار دیا گیا۔
نتائج حیران کن طور پر ٹڈیوں جیسے ہی تھے۔ جب لوگوں کو غیر جانبدار رہنے کا موقع ملا وہ گروہ زیادہ تیزی اور آسانی سے کسی ایک متفقہ فیصلے یعنی ایکس یا وائے تک پہنچ گیا۔
کرسچین ییٹس کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑے اور انتہائی سرگرم گروہوں میں بے شمار چھوٹے چھوٹے اثرات ایک دوسرے کو متوازن کر دیتے ہیں، جس سے مجموعی سمت تبدیل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
لیکن جب کافی تعداد میں لوگ، چاہے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی، غیر جانبدار ہو جائیں تو فعال فیصلہ سازوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ ایسے میں کوئی معمولی سا نیا اثر، مثلاً کسی چھوٹے گروہ کی رائے میں تبدیلی، کوئی نئی معلومات یا چند افراد کا مؤقف بدل لینا، پورے گروہ کی سمت پر کہیں زیادہ اثر ڈال سکتا ہے۔
کرسچین ییٹس کہتے ہیں، ’جب فعال ووٹ کم ہو جائیں تو ایک چھوٹا سا دھکا بھی فیصلہ سازی کے عمل پر نسبتاً زیادہ اثر ڈال سکتا ہے۔‘
آخرکار ٹڈیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ غیر جانبداری ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہی وقفہ لوگوں کو اپنے مؤقف پر دوبارہ غور کرنے اور نئے اتفاقِ رائے تک پہنچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
سادہ الفاظ میں، اگر آپ کسی جمود کا شکار صورتحال کو بدلنا چاہتے ہیں تو صرف غیر فیصلہ کن لوگوں کو منانے کی کوشش نہ کریں، بلکہ ایسا ماحول پیدا کریں جہاں زیادہ سے زیادہ لوگ وقتی طور پر اپنے تعصبات سے ہٹ کر غیر جانبدار انداز میں سوچ سکیں۔
کاکروچ جن کی اپنی اپنی شخصیت ہوتی ہے
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب کسی گروہ میں بہت سی بااثر اور پُراعتماد شخصیات موجود ہوں تو اتفاقِ رائے تک پہنچنا دشوار ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر فرد بحث کا رخ اپنی جانب موڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم کاکروچوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ مضبوط انفرادی شخصیات ہمیشہ رکاوٹ نہیں بنتیں۔
بعض حالات میں یہی شخصیات گروہ کو تیزی سے کسی فیصلے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSoumyabrata Roy/NurPhoto via Getty Images
کچھ کاکروچ فطرتاً زیادہ جری اور مہم جو ہوتے ہیں، جبکہ کچھ محتاط اور کم متحرک۔ اسی فرق کو سمجھنے کے لیے جاپان کی ٹوکیو میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر آئزک پلاناس سیتجا نے کمپیوٹر سمیولیشنز کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کاکروچ کس طرح کسی محفوظ جگہ، مثلاً فریج کے پیچھے کسی تاریک کونے، میں جمع ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے انھوں نے مختلف ماڈلز تیار کیے۔ ایک ماڈل میں تمام کاکروچوں کا رویہ یکساں رکھا گیا، دوسرے میں ان کے درمیان معمولی فرق شامل کیا گیا، جبکہ تیسرے میں شخصیتی تنوع کو نمایاں طور پر بڑھا دیا گیا۔
نتائج حیران کن تھے۔ جن ماڈلز میں تمام کاکروچ ایک ہی انداز میں برتاؤ کرتے تھے، وہ حقیقی دنیا میں ان کے اجتماعی فیصلوں کی درست عکاسی نہیں کر سکے۔ اس کے برعکس، وہ گروہ جن میں مزاج اور رویوں کا تنوع زیادہ تھا، نسبتاً تیزی سے اجتماعی فیصلے کرنے میں کامیاب رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایسے گروہوں میں باہمی تعامل اور معلومات کا تبادلہ زیادہ مؤثر انداز میں ہوتا تھا۔
پلاناس سیتجا کے بقول، ’میں اس نتیجے پر واقعی حیران ہوا۔ مجھے کسی حد تک ایک رجحان کی توقع تھی، لیکن اتنا واضح اور بار بار نظر آنے والا نمونہ ہرگز متوقع نہیں تھا۔‘
ان کے مطابق اگر کسی گروہ کے تمام افراد جری اور کھوج لگانے کے شوقین ہوں تو مناسب پناہ گاہ کا انتخاب مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ مسلسل حرکت میں رہتے ہیں اور کسی ایک جگہ پر ٹھہرنے میں ہچکچاہٹ دکھاتے ہیں۔
دوسری جانب، اگر گروہ میں زیادہ تر افراد محتاط یا شرمیلے ہوں تو وہ جلد کسی فیصلے پر پہنچ سکتے ہیں، لیکن اس بات کا خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ وہ کم معیار کی یا ناموزوں پناہ گاہ کا انتخاب کر بیٹھیں۔
پلاناس سیتجا کہتے ہیں، ’باہمی تعاون اور رویوں کے تنوع کے درمیان درست توازن ہی دراصل اجتماعی ذہانت کو جنم دیتا ہے۔‘
ان کے خیال میں اگر اتنے چھوٹے اور سادہ جانوروں میں بھی انفرادی شخصیت اجتماعی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے تو زیادہ پیچیدہ سماجی ڈھانچے رکھنے والی انواع، خصوصاً انسانوں، میں اس کا اثر کہیں زیادہ گہرا ہو سکتا ہے۔
غور و فکر کرنے والی مکھیاں
بعض اوقات ہم اپنے اندر کے اشاروں اور احساسات کو نظر انداز کر کے ایسے فیصلے کر لیتے ہیں جو بظاہر تو منطقی لگتے ہیں، لیکن دل کی گہرائی میں ہمیں درست محسوس نہیں ہوتے۔ دوسری جانب، کبھی ہم اپنے یقین اور وجدان پر اتنا بھروسا کرتے ہیں کہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع ہی کھو دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فروٹ فلائیز، یعنی پھلوں پر پائی جانے والی چھوٹی مکھیاں، فیصلہ سازی کے حوالے سے ہمیں بہت کچھ سکھا سکتی ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مکھیاں بیرونی حالات اور اپنے اندرونی اشاروں، دونوں کو نہایت باریکی سے یکجا کر کے ہر قدم اٹھاتی ہیں۔
مثال کے طور پر، جب ان کے سامنے دو مختلف خوشبوؤں میں سے انتخاب ہو تو جوں جوں ان خوشبوؤں میں مماثلت بڑھتی ہے، ان کی ہچکچاہٹ بھی بڑھ جاتی ہے، جیسے وہ مختلف امکانات کا موازنہ کر رہی ہوں۔
اسی طرح اگر انھیں ایک ایسا لذیذ انعام پیش کیا جائے جس میں غذائیت نہ ہو اور دوسری طرف ایک غذائیت سے بھرپور لیکن قدرے ناگوار ذائقے والی خوراک ہو، تو وہ مجموعی فائدے کا اندازہ لگا کر اکثر غذائیت والی خوراک کا انتخاب کرتی ہیں، چاہے اس کا ذائقہ پسندیدہ نہ ہو۔

،تصویر کا ذریعہJoao Paulo Burini via Getty Images
وہ عام حالات میں ایک چھوٹے مگر محفوظ انعام کو کسی بڑے مگر غیر یقینی فائدے پر ترجیح دیتی ہیں۔ تاہم اگر وہ شدید بھوک یا دباؤ کا شکار ہوں تو ان کا رویہ بدل سکتا ہے اور وہ زیادہ خطرہ مول لینے پر آمادہ ہو سکتی ہیں۔
تجربات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب مکھیوں کو خوشگوار یا ناخوشگوار خوشبوؤں کے ساتھ انعامات کا تجربہ کرایا جاتا ہے تو صحت مند مکھیاں کسی مبہم خوشبو کے بارے میں زیادہ پرامید رویہ اختیار کرتی ہیں اور اس کے قریب جا کر جاننے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہاں کیا موجود ہے۔ اس کے برعکس دباؤ کا شکار مکھیاں عموماً محتاط رہتی ہیں اور خطرہ مول لینے سے گریز کرتی ہیں۔
انسانوں کی طرح ان مکھیوں کے فیصلے بھی ان کی اندرونی کیفیت سے متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا طرزِ عمل ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ ہمارے احساسات، تجربات اور سیکھے ہوئے اسباق ہمیشہ فیصلہ سازی میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ درحقیقت، اپنے بارے میں اور دوسروں کے بارے میں حاصل ہونے والے بے شمار چھوٹے چھوٹے مشاہدات اور تجربات مل کر ایک ایسی بصیرت پیدا کرتے ہیں جو اکثر بہتر فیصلے کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔



















