آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
قطر کی ایرانی پائلٹوں کی حراست کی تردید، ایران نے پانچ ماہ بعد رہائی کا مطالبہ کیوں کیا؟
قطر کی وزارت خارجہ نے ایران کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ تین ایرانی پائلٹوں کو ’گرفتار‘ یا ’یرغمال‘ بنایا گیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، اس نوعیت کے گمراہ کن بیانات حیران کن ہیں۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مارچ میں دو ایرانی لڑاکا طیاروں نے قطری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ ان کے مطابق، قطری حکام نے پائلٹوں سے رابطہ کرکے ان کے مقررہ راستے کی تصدیق کرنے کی کوشش کی، تاہم متعدد پیغامات کے باوجود کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد قطر نے اپنی خودمختاری اور سرزمین کے دفاع کے لیے بین الاقوامی قوانین اور قواعدِ جنگ کے مطابق کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دونوں طیارے مار گرائے گئے۔
ماجد الانصاری کے مطابق، قطری سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر تلاش کا آپریشن شروع کیا، تاہم اب تک صرف ایک پائلٹ کی باقیات ملی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ قطری حکومت اس معاملے میں ایرانی حکام سے رابطے میں ہے تاکہ ملنے والی باقیات متعلقہ حکام کے حوالے کی جا سکیں۔
قطر کا یہ ردعمل ایرانی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی گمشدہ افراد کی تلاش کمیٹی کے سربراہ محمد باقر زادہ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تین ایرانی پائلٹ قطر میں یرغمال بنا لیے گئے ہیں۔ انھوں نے بین الاقوامی کمیٹی آف ریڈ کراس سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ پائلٹوں کی صورت حال واضح کرنے میں مدد فراہم کرے۔
بریگیڈیئر جنرل محمد باقر زادہ نے بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی صدر ماریانا سپولیئرک کو لکھے گئے ایک خط میں، جسے ایرانی میڈیا نے شائع کیا، دعویٰ کیا ہے کہ دو ایرانی ایس یو-24 لڑاکا طیارے دو مارچ کو قطر میں ایک فوجی اڈے کے خلاف ’جنگی مشن‘ پر روانہ ہوئے تھے۔ ان کے مطابق، مشن سے واپسی کے دوران دونوں طیاروں کو فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا، جس کے بعد پائلٹوں نے طیاروں سے چھلانگ لگا دی۔
باقر زادہ کے مطابق، طیاروں میں سوار چار پائلٹوں میں سے ایک، ماجد کاظمی، کی لاش بعد ازاں ایران منتقل کی گئی اور انھیں 29 اگست کو شیراز میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ باقی تین پائلٹوں کو قطری افواج نے حراست میں لے لیا تھا۔
ایرانی عہدیدار نے جن پائلٹوں کے نام بتائے، ان میں جواد صالحی، عبدالمجید دشتیان اور عمران بہروشیان شامل ہیں۔ اس سے قبل بھی ایرانی حکام اور ذرائع ابلاغ ان تینوں پائلٹوں کی ’حیثیت اور مقام کا تعین کرنے کی کوششوں‘ کا ذکر کرتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریڈ کراس کو لکھے گئے خط میں باقر زادہ نے الزام عائد کیا کہ واقعے کو چھ ماہ گزرنے کے باوجود قطری حکومت نے ان پائلٹوں کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ طرزِ عمل جنگی قیدیوں کے حقوق سے متعلق جنیوا کنونشنز سمیت بین الاقوامی قوانین اور ضوابط سے متصادم ہے۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ متعدد سفارتی کوششوں کے باوجود پائلٹوں کے اہلِ خانہ کو ان سے ملاقات یا رابطے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اس سے قبل ایرانی فوج کا کہنا تھا کہ شیراز ایئر بیس سے اڑان بھرنے والے ان پائلٹوں نے قطر میں واقع ’امریکی فوجی اڈے کو بھاری نقصان‘ پہنچایا تھا، تاہم واپسی کے دوران ان کے طیارے دفاعی کارروائی کی زد میں آ گئے۔ تاہم قطر ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ اسے صرف ایک پائلٹ کی باقیات ملی ہیں، جبکہ دیگر پائلٹوں کے حوالے سے ایرانی مؤقف کی تائید کرنے والا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
ایران اور قطر کے تعلقات اب کیسے ہیں؟
جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی ایران نے بھی خطے میں امریکی مفادات کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ تہران کے ابتدائی اہداف میں قطر میں واقع امریکی فضائی اڈہ شامل تھا، جس کے بارے میں ایران کا مؤقف تھا کہ اس کے خلاف بعض حملوں کی منصوبہ بندی اور آغاز وہیں سے ہوا تھا۔
ایران نے بعد ازاں 12 روزہ جنگ کے دوران بھی قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس وقت کہا تھا کہ تہران نے جنگ سے قبل خطے کے ممالک کو آگاہ کر دیا تھا کہ اگر امریکہ نے ان کی فضائی حدود یا فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کیا تو ایسے مراکز کو جوابی حملوں میں نشانہ بنایا جائے گا۔
اسی تناظر میں ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ سال مارچ میں ایرانی ایس یو-24 لڑاکا طیاروں نے، ایران پر بیک وقت اسرائیلی اور امریکی حملوں کے آغاز کے دو روز بعد، قطر میں واقع ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا تھا اور وہاں ’بھاری نقصان‘ پہنچایا تھا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
12 روزہ جنگ سے قبل قطر کو خطے میں ایران کے قریب ترین شراکت داروں میں شمار کیا جاتا تھا اور وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم ثالث کا کردار بھی ادا کر رہا تھا۔ تاہم ایرانی میزائل حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں سرد مہری آ گئی اور بعد میں جاری رہنے والی کشیدگی کے دوران قطری قیادت نے ایران کے خلاف غیر معمولی حد تک سخت مؤقف اختیار کیا۔
جنگ کے دوران ایک انٹرویو میں قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایران کے حملوں کو قطر کے ساتھ ’خیانت‘ قرار دیا تھا، جو دوطرفہ تعلقات میں پیدا ہونے والی دراڑ کی عکاسی کرتا ہے۔
اس کے باوجود، قطر نے بعد ازاں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں دوبارہ متحرک کردار ادا کیا۔ اگرچہ دوحہ نے ابتدا میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں حصہ نہیں لے گا، تاہم بعد میں اس نے پاکستان کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں تعاون شروع کیا۔ انہی کوششوں کے تحت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل سے وابستہ محمد باقر قالیباف کی میزبانی بھی کی گئی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل: ’ایران یہ معاملہ اب کیوں اٹھا رہا ہے؟‘
ایلون مزراحی نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ تین پائلٹ کئی ماہ سے قطر اور امریکہ کی تحویل میں ہیں۔ ایران یہ معاملہ اب کیوں اٹھا رہا ہے؟ کیونکہ ایران کے قطر کے بارے میں ایک منصوبہ ہے، اور وہ قطر کو آئندہ مرحلے میں کشیدگی بڑھنے یا کسی طویل تنازع کی صورت میں ممکنہ انجام کے بارے میں اشارہ اور تنبیہ کر رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، قطر کا انجام پہلے ہی منصوبوں میں شامل ہے۔‘
لقا مکی نامی صارف نے لکھا کہ ایران کی جانب سے اپنے مبینہ لاپتا پائلٹوں کا معاملہ اب اٹھانے کا وقت کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ پانچ ماہ سے زیادہ پرانا بتایا جاتا ہے، اور اگر تہران کو واقعی اپنے پائلٹوں کے قطر میں قید ہونے کا شبہ تھا تو اسے یہ مسئلہ پہلے سفارتی ذرائع سے اٹھانا چاہیے تھا۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے قطری ہم منصب کے ساتھ ہونے والے متعدد رابطوں کے دوران اس موضوع پر بات کیوں نہیں کی۔ اسی طرح ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے دورۂ دوحہ کے دوران بھی اس معاملے کا عوامی سطح پر کوئی ذکر سامنے نہیں آیا۔
ان کی رائے میں ایران ماضی میں یہ مسئلہ اس لیے نہیں اٹھاتا رہا کیونکہ اس کے پاس ایسے شواہد موجود نہیں تھے جو یہ ثابت کر سکیں کہ پائلٹ قطر کی تحویل میں ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی حکام اس بات سے بھی آگاہ ہو سکتے ہیں کہ مذکورہ پائلٹوں کا انجام کیا ہوا، تاہم اس حوالے سے کوئی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
لقا مکی موجودہ تنازع کو ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بالواسطہ بات چیت اور قطر میں موجود منجمد ایرانی فنڈز کے معاملے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق مئی کے آخر میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ان فنڈز کی ممکنہ رہائی پر ابتدائی پیش رفت ہوئی تھی، تاہم بعد میں یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
ان کی رائے میں دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر مؤقف مختلف ہو سکتا ہے۔ ایران ماضی میں متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کے خلاف عائد پابندیوں اور علاقائی معاملات میں اس کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ تہران بعض اوقات علاقائی تنازعات میں دباؤ بڑھانے کے لیے سخت مؤقف اختیار کرتا ہے اور متنازع الزامات سامنے لاتا ہے۔ ان کے بقول حالیہ دعوے بھی اسی تناظر میں دیکھے جا رہے ہیں، اگرچہ ان کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
متعدد ایرانی صارفین نے کہا کہ معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کو فوری کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ متضاد دعووں کی تصدیق ہو سکے۔
کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر صرف ایک پائلٹ کی لاش ملی تھی تو باقی تین پائلٹوں کے بارے میں واضح معلومات کیوں نہیں دی جا رہیں۔