ٹویوٹا کرولا کی ’فیس لفٹ‘ پر اٹھتے سوال: ’پاکستان میں نئی جنریشن کب آئے گی؟‘

    • مصنف, عبید ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ٹویوٹا کرولا وہ کار ہے جو کئی دہائیوں سے پاکستانی سڑکوں پر نظر آ رہی ہے مگر اب اس کے ایک نئے ماڈل پر صارفین کا ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

جب اس کی تشہیر کے لیے پاکستان میں ٹویوٹا کی گاڑیوں کو اسمبل کرنے والی کمپنی انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے سوشل میڈیا پر اس کے ڈیزائن میں کچھ تبدیلیوں اور خصوصیات میں اضافے کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا تو کئی لوگ یہ سوال پوچھتے نظر آئے کہ ’آخر پاکستان میں کرولا کی نئی جنریشن کب آئے گی؟‘

بی بی سی نے اس بارے میں آئی ایم سی سے رابطہ کیا اور نئی کرولا فیس لفٹ پر تنقید سے متعلق سوالات پوچھے۔ تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

یاد رہے کہ انڈس موٹر کمپنی نے پاکستان میں کرولا کی 11ویں جنریشن سنہ 2014 میں متعارف کرائی تھی۔ اس کے بعد گاڑی میں مختلف مواقع پر فیس لفٹ اور دوسری تبدیلیاں کی گئیں، لیکن بنیادی جنریشن وہی رہی۔

اب ایک بار پھر کرولا کا نیا فیس لفٹ سامنے آیا ہے جس میں گاڑی کے اگلے حصے، گرِل، لائٹس، بمپر، رِمز اور بعض دیگر فیچرز میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

آٹو سیکٹر کے ماہرین کی رائے ہے کہ پاکستان میں ٹویوٹا کرولا کے خریدار اسے ایک قابل اعتماد گاڑی سمجھتے ہیں جس کی مرمت اور دیکھ بھال کو نسبتاً آسان تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول شاید یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں نئی گاڑیوں اور نئے برانڈز کے باوجود کرولا نے پاکستان میں اپنی جگہ بڑی حد تک برقرار رکھی ہوئی ہے۔

ہم نے ان سوالوں کے جواب جاننے کی کوشش کی ہے کہ نئی چینی کمپنیوں سے بڑھتے مقابلے کے باوجود پاکستان میں ٹویوٹا کرولا کی نئی جنریشن کیوں متعارف نہیں کرائی جا سکی اور اس نئے فیس لفٹ میں کی گئی تبدیلیاں کیا صارفین کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہوں گی؟

ٹویوٹا کرولا میں نیا کیا ہے اور ’فیس لفٹ‘ سے کیا مراد ہے؟

پاکستان میں ٹویوٹا کرولا کا نیا فیس لفٹ دراصل 11 ویں جنریشن کا ہی ایک اور اپڈیٹ ہے، 12 ویں جنریشن نہیں۔ نئے فیس لفٹ میں سب سے بڑی تبدیلی گاڑی کے باہر موجود ہے جہاں فرنٹ پر نئی ایل ای ڈی ہیڈلائٹس، سلم اپر گرل اور نیا فرنٹ بمپر دیا گیا ہے، جبکہ پیچھے ٹیل لیمپس اور بمپر کو ری ڈیزائن کیا گیا ہے۔

آلٹس ایکس ویریئنٹ میں نئے ڈیزائن کے الائے وہیلز، ریموٹ کنٹرول اور آٹو ریٹریکٹ ایبل سائیڈ مررز ود ریورس لنک جیسے فیچرز بھی نمایاں کیے گئے ہیں۔

گاڑی کے اندرونی حصے میں بھی ٹویوٹا نے اسے زیادہ لگژری بنانے پر توجہ دی ہے۔ ٹاپ ویریئنٹ گرینڈی میں ڈارک چیسٹ نٹ رنگ کی سیٹس کے ساتھ بیج رنگ کی سلائی، بلیک اور چیسٹ نٹ رنگ کا ڈیش بورڈ، سافٹ ٹچ میٹیریل اور وارم سٹیل ایکسینٹس دیے گئے ہیں۔ 9 انچ کی سکرین پہلے کی طرح موجود ہے، تاہم اب اس میں وائرلیس ایپل کار پلے، وائرلیس اینڈرائیڈ آٹو اور بلوٹوتھ 5.0 کی سہولت ہے۔

اس کے علاوہ 4 پیناسونک سپیکرز اور پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والے مسافروں کے لیے یو ایس بی-سی پورٹ بھی دیا گیا ہے۔ سن روف اور سیکوینشل شفٹر سی وی ٹی-آئی بھی موجود ہیں۔

مکینیکل طور پر گاڑی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس میں پہلے کی طرح 1.6 لیٹر 1 زیڈ آر-ایف ای انجن 120 ہارس پاور اور 1.8 لیٹر 2 زیڈ آر-ایف ای انجن 138 ہارس پاور کے ساتھ 7 اسپیڈ سی وی ٹی میں دستیاب ہوں گے۔

یعنی اس فیس لفٹ میں زیادہ تر گاڑی کی شکل اور فیچرز کو بہتر بنایا گیا ہے، جبکہ دنیا میں دستیاب نئے ماڈل میں 12.9 انچ کی سکرین، ڈیجیٹل کلسٹر اور ٹویوٹا سیفٹی سینس جیسے مزید جدید فیچرز موجود ہیں۔

اب یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گاڑیوں میں فیس لفٹ سے مراد کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فیس لفٹ سے مراد کسی موجودہ گاڑی کے ماڈل میں کی جانے والی ایسی تبدیلیاں ہیں جن سے اس کی ظاہری شکل کو نیا اور جدید انداز دیا جاتا ہے۔ عام طور پر فیس لفٹ میں گاڑی کے اگلے اور پچھلے حصے، ہیڈلائٹس، گرِل، بمپرز، ٹیل لائٹس اور بعض اوقات الائے وہیلز کے ڈیزائن میں تبدیلی کی جاتی ہے۔

فیس لفٹ صرف گاڑی کی شکل تک محدود نہیں ہوتی۔ بعض اوقات کمپنی گاڑی کے اندرونی حصے میں بھی معمولی تبدیلیاں کرتی ہے، جیسے نیا انفوٹینمنٹ سسٹم، مختلف ڈیش بورڈ ڈیزائن، نئی سیٹ یا اضافی سہولیات۔ تاہم فیس لفٹ عموماً مکمل طور پر نئی گاڑی یا نئی جنریشن متعارف کرانے کے بجائے موجودہ ماڈل کو تازہ شکل دینے کے لیے کی جاتی ہے۔

سادہ الفاظ میں، اگر ایک گاڑی کئی سال سے مارکیٹ میں موجود ہو اور کمپنی اس کے بنیادی ڈیزائن اور ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی شکل، اندرونی حصے یا کچھ خصوصیات میں نمایاں بہتری کرے تو اسے ’فیس لفٹ ماڈل‘ کہا جاتا ہے۔

پاکستان میں ٹویوٹا کرولا کی جنریشن کتنی پرانی ہے؟

دنیا میں ٹویوٹا کرولا کی 12ویں جنریشن کئی سال سے دستیاب ہے۔ ٹویوٹا نے اسے عالمی سطح پر سنہ 2018 میں متعارف کرایا تھا، جبکہ پاکستان میں اب بھی 11ویں جنریشن کا ہی ماڈل موجود ہے۔

اس دوران پاکستان کی کار مارکیٹ بھی کافی بدل چکی ہے۔ پہلے جہاں چند روایتی برانڈز یعنی سوزوکی، ہونڈا اور ٹیوٹا کا غلبہ تھا، اب چینی کمپنیوں سمیت کئی نئے برانڈز مارکیٹ میں آ چکے ہیں۔

ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کے آپشنز بھی بڑھ رہے ہیں اور صارفین کے سامنے ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور فیچرز کے لحاظ سے پہلے سے کہیں زیادہ آپشنز موجود ہے۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ جب دنیا میں کرولا کی نئی جنریشن آ چکی ہے، پاکستان میں مقابلہ بڑھ رہا ہے اور صارفین کی توقعات بھی بدل رہی ہیں، تو انڈس موٹر کمپنی اب تک نئی جنریشن متعارف کیوں نہیں کر رہی؟

پاکستان میں گاڑیوں کے بارے میں سمجھ بوجھ رکھنے والے آٹو ایکسپرٹ نبیل علی کے مطابق ’ٹویوٹا کرولا کی 11ویں جنریشن 2014 میں پاکستان میں متعارف ہوئی، جس میں ایکس ایل آئی، جی ایل آئی، 1.6 لیٹر اور 1.8 لیٹر الٹس اور الٹس گرینڈے جیسے مختلف ویریئنٹس شامل تھے۔‘

ان کے مطابق کرولا میں وقتاً فوقتاً کئی تبدیلیاں کی گئیں، جن میں 2017 کا فیس لفٹ نمایاں تھا۔ اس میں فرنٹ گرِل، ہیڈلائٹس اور ٹیل لائٹس کے ڈیزائن کے ساتھ دیگر فیچرز میں بھی بہتری کی گئی۔ 2020 کے آس پاس 1.3 لیٹر ایکس ایل آئی اور جی ایل آئی ویریئنٹس ختم کر کے ان کی جگہ یارس متعارف کرائی گئی۔ تاہم دنیا میں اس وقت کرولا کی 12ویں جنریشن دستیاب ہے اور پاکستان میں 2014 کے بعد بنیادی طور پر نئی جنریشن کے بجائے فیس لفٹس اور ماڈل اپ ڈیٹس کی جاتی رہی ہیں۔

نبیل علی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں نئی گاڑیوں کی جانب لوگوں کا رجحان بڑھنے سے ٹویوٹا کی فروخت میں کمی آئی ہے، تاہم اب بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو ٹویوٹا کو اس کی ری سیل ویلیو کی وجہ سے ترجیح دیتا ہے۔‘

ٹاپ لائن سکیورٹیز کی سینیئر ریسرچ اینالسٹ میشہ سہیل کے مطابق پاکستان میں گاڑیوں کی مارکیٹ میں مقابلہ سخت ہو چکا ہے اور ٹویوٹا کو فیس لفٹ کے بجائے نئی جنریشن اور نئے ماڈلز متعارف کرانے چاہییں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ٹویوٹا کی فروخت میں کمی کی ایک وجہ پیٹرول گاڑیوں پر زیادہ انحصار بھی ہے، کیونکہ صارفین میں الیکٹرک گاڑیوں کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے۔‘

میشا سہیل کے مطابق ’حالیہ فیس لفٹ سے ٹویوٹا کی مجموعی فروخت میں بڑی بہتری کی توقع نہیں، تاہم ممکن ہے کہ نئی کرولا خریدنے کے خواہش مند صارفین کی وجہ سے ابتدائی ایک دو ماہ میں کمپنی کی فروخت میں کچھ اضافہ ہو۔‘

’ٹیوٹا کرولا کے چاہنے والوں میں کمی نہیں ہوئی ہے‘

پاکستان میں ٹویوٹا کرولا کی 11ویں جنریشن میں ایک اور فیس لفٹ سامنے آنے کے بعد انڈس موٹرز کو ہونے والی تنقید پر ہم نے کمپنی سے چند سوالات کے ذریعے اس کا مؤقف جاننے کی کوشش کی، تاہم کمپنی کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

آٹو انڈسٹری کے ماہر مشہود خان کا کہنا ہے کہ ’ٹویوٹا سمیت جاپانی گاڑیوں اور چینی و کورین گاڑیوں میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔‘ ان کے مطابق ’ٹویوٹا پاکستان میں گاڑیاں اسمبل کرتا ہے اور نئی گاڑی متعارف کرواتے وقت مقامی صنعت کو بھی مدِ نظر رکھتا ہے، جبکہ بعض چینی اور کورین کمپنیاں اپنی گاڑیاں یہاں فروخت کرتی ہیں اور اگر کوئی ماڈل کامیاب نہ ہو تو اسے ختم کر کے نیا ماڈل متعارف کرا دیتی ہیں۔‘

مشہود خان کے مطابق ’ٹویوٹا کے تقریباً 65 فیصد سپیئر پارٹس پاکستان میں تیار ہوتے ہیں، جس سے کمپنی کے ساتھ مقامی مارکیٹ کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ٹویوٹا کی پاکستان میں مضبوط موجودگی کی بڑی وجوہات میں اس کی سیلز، سروس اور سپیئر پارٹس کی دستیابی شامل ہیں۔‘

ان کے مطابق سپیئر پارٹس مقامی طور پر تیار ہونے کی وجہ سے ٹویوٹا کی مرمت کے اخراجات بھی چینی اور کورین گاڑیوں کے مقابلے میں کم ہیں، جن کے بہت سے پرزے دوسرے ملکوں سے درآمد کیے جاتے ہیں۔

مشہود خان کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں ایک طبقہ جدید گاڑیوں اور نئے فیچرز کی وجہ سے چینی اور دیگر برانڈز کی طرف جا رہا ہے، تاہم عام پاکستانی صارف اب بھی گاڑی خریدتے وقت اس کی ری سیل ویلیو کو اہمیت دیتا ہے۔ اسی وجہ سے ٹویوٹا، ہونڈا اور سوزوکی اب بھی پاکستانی مارکیٹ میں نمایاں ہیں۔‘

ٹاپ لائن سکیورٹیز کی سینیئر ریسرچ اینالسٹ میشہ سہیل مشہود خان کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق ٹویوٹا پر ہونے والی موجودہ تنقید کسی حد تک درست ہے کیونکہ پاکستان میں آنے والی نئی گاڑیوں میں ایسے جدید فیچرز موجود ہیں جن پر صارفین اب زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ جب گاڑی پر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ اس میں جدید سہولیات بھی موجود ہوں، جبکہ اس معاملے میں ٹویوٹا ابھی دیگر نئی گاڑیوں سے پیچھے دکھائی دیتا ہے۔‘