آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نامور بالی وڈ اداکار نانا پاٹیکر کے آخری لمحات پر ڈاکٹروں کا بیان، موت سے قبل کیا ہوا تھا؟
’ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں گے
بہاریں ہم کو ڈھونڈیں گی، نہ جانے ہم کہاں ہوں گے‘
فلم ’ترکیب‘ کا یہ مکالمہ اداکار نانا پاٹیکر کی پہچان بنا اور اپنے منفرد اندازِ اداکاری اور یادگار کرداروں کے ذریعے ناظرین کے دلوں میں گھر کرنے والے نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔
نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے بی بی سی مراٹھی کی معاون صحافی پراچی پرتیبھا شیریش سے بات کرتے ہوئے اپنے والد کی وفات کی تصدیق کی۔
انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق، نانا پاٹیکر کو جمعرات کی علی الصبح گوا میں واقع ان کی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑا اور انھیں اپارٹمنٹ میں بےہوش پائے جانے کے بعد گوا کے منی پال ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔
گوا کے منی پال ہسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق نانا پاٹیکر نے موت سے کچھ دیر قبل اپنے ایک دوست کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ خود کو ٹھیک محسوس نہیں کر رہے۔ اطلاع ملنے پر دوست صبح سویرے ان کی رہائش گاہ پہنچا تو وہ پسینے میں شرابور، بے ہوشی کی حالت میں فرش پر پڑے تھے۔
منی پال ہسپتال کے شعبۂ آنکولوجی کے سربراہ ڈاکٹر شیکھر سالونکھے کے مطابق ہسپتال کی ایمبولینس صبح چار بج کر 20 منٹ پر نانا پاٹیکر کے گھر پہنچی۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی ٹیم نے وہاں پہنچتے ہی فوری طور پر سی پی آر شروع کر دی کیونکہ وہ بے ہوش تھے۔
ڈاکٹروں کے مطابق نانا پاٹیکر کو صبح چار بج کر 30 منٹ پر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ راستے میں بھی سی پی آر کا عمل جاری رکھا گیا۔ تاہم ایک گھنٹے سے زیادہ کوششوں کے باوجود ان کی جان نہ بچائی جا سکی اور صبح پانچ بج کر 20 منٹ پر انھیں مردہ قرار دے دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر شیکھر نے بتایا کہ جب انھیں ہسپتال لایا گیا تو ان کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی اور طبی ٹیم کی مسلسل کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر یہی تاثر ہے کہ نانا پاٹیکر کی موت ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی واقع ہو چکی تھی، اسی لیے معاملے کو میڈیکو لیگل کیس کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے گوا میڈیکل کالج منتقل کر دیا گیا ہے اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے اہلِ خانہ کے حوالے کیا جائے گا۔
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نانا پاٹیکر کی وفات پر ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اُن چند اداکاروں میں سے تھے جن کی شدتِ جذبات، منفرد شخصیت اور سکرین پر موجودگی بے مثال تھی۔ انھوں نے ہر کردار میں غیر معمولی تنوع اور تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور ایسے کردار ادا کیے جو نسلوں تک یاد رکھے جائیں گے۔
مودی کے مطابق نانا پاٹیکر اپنی دوٹوک اور بے لاگ رائے کے باعث بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور وہ اپنے نظریات کے اظہار سے کبھی نہیں ہچکچاتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ہندی اور مراٹھی سینما کے لیے نانا پاٹیکر کی خدمات بےحد اہم ہیں۔ ان کی وفات نے ایک ایسا خلا چھوڑ دیا ہے جسے پُر کرنا مشکل ہو گا۔ میں ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور لاکھوں مداحوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔‘
بالی ووڈ اداکار رتیش دیش مکھ نے نانا پاٹیکر کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ الفاظ سے محروم ہیں اور ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ان کے دل پر بجلی گر گئی ہو۔
اپنے تعزیتی پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’نانا چلے گئے۔۔۔ صرف یہ ایک جملہ ہی میرے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے کے لیے کافی ہے۔‘
رتیش نے نانا پاٹیکر کو اداکاری کا ایک ایسا عظیم ستارہ قرار دیا جس کی فنکارانہ وسعت کی کوئی حد نہیں تھی۔ ان کے بقول نانا نے کبھی ہیرو، کبھی ولن اور کبھی مزاحیہ کرداروں کے ذریعے ناظرین کے دلوں میں ایسی جگہ بنائی جو ہمیشہ قائم رہے گی۔
انھوں نے کہا کہ نانا پاٹیکر صرف پردۂ سکرین کے ہیرو نہیں تھے بلکہ حقیقی زندگی میں بھی ایک غیر معمولی انسان تھے۔ رتیش دیش مکھ کے مطابق انھیں بلف ماسٹر اور ہاؤس فل 5 میں نانا پاٹیکر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، تاہم ان کے ساتھ کسی مراٹھی فلم میں کام کرنے کی خواہش ہمیشہ ادھوری رہے گی۔
اپنے پیغام کے اختتام پر انھوں نے نانا پاٹیکر کے اہلِ خانہ، دوستوں اور لاکھوں مداحوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’آپ کی باتیں، آپ کی حوصلہ افزائی، پیٹھ پر شاباشی کی وہ تھپکی اور دل کھول کر لگایا گیا قہقہہ، یہی میری اصل کمائی ہے۔ آج واقعی ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔‘
نانا پاٹیکر کی وفات پر سینئر صحافی راج دیپ سردیسائی نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ہے: ’ایک شاندار اداکار، لیکن اس سے بھی بڑھ کر ایک پیارے دوست، نانا پاٹیکر اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ کچھ دیر قبل گوا میں ان کی وفات ہو گئی۔‘
ان کے مطابق ’کل ہی ان سے بات ہوئی تھی۔ ان کے آخری الفاظ تھے: ’کالجی گھے راجا‘(اپنا خیال رکھنا، راجا)۔‘
راج دیپ سردیسائی نے مزید کہا کہ ’میں آپ کو پردے پر بھی اور پردے کے باہر بھی بہت یاد کروں گا، نانا صاحب۔ اچھے اور برے، ہر دور میں آپ ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے رہے۔‘
نانا پاٹیکر آخری بار وشال بھاردواج کی رومانوی ایکشن تھرلر فلم ’او رومیو‘ میں نظر آئے تھے۔
فروری 2026 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں پاٹیکر نے ممبئی انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ اسماعیل خان کا کردار ادا کیا تھا۔
انھوں نے انیل کپور کی فلم ’صوبیدار‘ میں بھی اداکاری کی تھی، جس کا پریمیئر مارچ 2026 میں پرائم ویڈیو پر ہوا تھا۔
اس سے قبل وہ ہاؤس فل فائیو (2025) اور ونواس (2024) میں بھی نظر آئے تھے۔
پاٹیکر نے 2026 میں پرکاش جھا کی سیاسی ڈرامہ سیریز ’سنکلپ‘ کے ذریعے او ٹی ٹی پر بھی ڈیبیو کیا تھا، جس میں انھوں نے ماٹ صاحب/کنہیا لال کا مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
نانا پاٹیکر کا فلمی سفر
نانا پاٹیکر ہندی اور مراٹھی سنیما کے سب سے معروف اداکاروں میں سے ایک تھے اور ان کا کیریئر کئی دہائیوں پر محیط تھا۔
ان کی اداکاری پرندا، پراہار: دی فائنل اٹیک، کرانتی ویر، اگنی ساکشی، خاموشی: دی میوزیکل، اب تک چھپن اور ویلکم جیسی فلموں میں بہت مقبول رہی۔
اداکاری کے علاوہ پاٹیکر نے پراہار: دی فائنل اٹیک کی ہدایت کاری بھی کی تھی۔
سنیما اور فنونِ لطیفہ کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں 2013 میں پدم شری سے نوازا گیا تھا۔
نانا پاٹیکر نے 1978 میں ریلیز ہونے والی فلم گمن سے بالی وڈ میں ڈیبیو کیا تھا۔
2000 کی دہائی کے آغاز میں ان کی اداکاری کو وسیع پیمانے پر سراہا گیا، خصوصاً شکتی: دی پاور (2002)، اب تک چھپن (2004)، اپہرن (2005) اور ٹیکسی نمبر 9211 (2006) میں۔
2007 میں ریلیز ہونے والی کامیڈی فلم ویلکم میں گینگسٹر ادے شیٹی کے کردار نے ناظرین کو خوب محظوظ کیا۔
انھوں نے اس کردار کو ویلکم بیک (2015) میں بھی دہرایا تھا۔
پاٹیکر نے کامیڈی تھرلر ہاؤس فل 5 میں بھی معاون کردار ادا کیا تھا۔
2010 میں وہ سیاسی تھرلر راج نیتی میں نظر آئے، جس کے لیے انھیں بہترین معاون اداکار کے زمرے میں پانچویں بار فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
اداکاری کے علاوہ پاٹیکر نے پلے بیک سنگنگ میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔
انھوں نے یشونت (1997)، وجود (1998) اور آنچ (2003) جیسی فلموں میں گلوکار کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
نانا پاٹیکر کا کیریئر چار دہائیوں پر محیط تھا جس دوران انھوں نے اداکاری، ہدایت کاری اور تھیٹر، تینوں شعبوں میں کام کیا۔