بالی وڈ کی معروف سیلیبریٹی منیجر کی پراسرار حالات میں موت کا مقدمہ چھ سال بعد دوبارہ کیوں کھولا گیا؟

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, ویمن افیئرز ایڈیٹر، انڈیا
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

چار جون 2020 کو جب کورونا وائرس کی مہلک لہر دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئی تھی، اُس وقت انڈیا کی معروف سیلیبریٹی منیجر دِشا سالیان نے اپنے والد ستیش سالیان سے درخواست کی کہ وہ پولیس ہیلپ لائن پر فون کر کے معلوم کریں کہ آیا اُن کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور سفر کرنا محفوظ ہے یا نہیں۔

وہ ایک اشتہار کی شوٹنگ کے لیے جانا چاہتی تھیں اور انھوں نے اپنے والدین کو اُس چیک کی تصویر بھی دکھائی تھی جو انھیں پیشگی معاوضے کے طور پر دیا گیا تھا۔

گھر سے نکلتے وقت دِشا سالیان نے اپنے والدین کو بتایا کہ وہ دو دن میں شوٹنگ کے بعد واپس آ جائیں گی۔

یہ آخری موقع تھا جب اُن کے والدین نے اپنی 28 سالہ بیٹی کو زندہ حالت میں دیکھا تھا۔

آٹھ اور نو جون 2020 کی درمیانی شب دشا کے والد ستیش سالیان کو پولیس کی جانب سے ایک ہسپتال بلایا گیا، جہاں انھیں بتایا گیا کہ اُن کی اکلوتی بیٹی دِشا سالیان مر چکی ہیں۔

پولیس کے مطابق دِشا سالیان کی موت ممبئی میں واقع ایک عمارت کی 12ویں منزل سے گرنے کے باعث ہوئی تھی۔

ہسپتال میں موجود دِشا کے دوستوں نے پولیس کو بتایا کہ دشا نے شراب پی رکھی تھی اور وہ حادثاتی طور پر 12ویں فلور سے نیچے گر گئیں۔

بعد میں پولیس نے تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ دِشا سالیان کی موت خودکشی کا واقعہ تھی۔

تاہم رواں ماہ کے اوائل میں بمبئی ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن‘ (سی بی آئی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ دِشا سالیان کی موت کے مقدمے کو دوبارہ کھولے اور اس کی ازسرِنو تحقیقات کرے۔

عدالت کا یہ حکم گذشتہ سال دِشا کے والد ستیش سالیان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے بعد سامنے آیا ہے۔ والد ستیش سالیان ابتدا ہی سے اس مؤقف پر قائم رہے ہیں کہ ان کی بیٹی کی موت نہ تو خودکشی تھی اور نہ ہی کوئی حادثہ۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ دِشا سالیان کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں انھیں قتل کیا گیا۔

حالیہ برسوں میں انڈیا میں دشا کی موت پر بہت بحث ہوتی رہی ہے اور اس کیس میں دشا کے اہلِخانہ کے الزامات نے اس معاملے کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔

اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ بعض سینیئر پولیس افسران نے مبینہ جرم میں ملوث کچھ وزرا اور بااثر سیاستدانوں کو بچانے کے لیے شواہد کو ضائع کیا اور خودکشی کی ایک جھوٹی کہانی گھڑی گئی۔

دو ستمبر کو جاری کیے گئے اپنے حکم میں بمبئی ہائیکورٹ کے جج سارنگ وی کوٹوال اور رنجیت سنگھ راجا بھونسلے نے پولیس کی تحقیقات پر سخت تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ چھ سال سے زائد عرصے پر محیط اور دو مراحل میں کی جانے والی تحقیقات میں ’انتہائی نمایاں تضادات‘ موجود ہیں۔

ججوں نے واضح کیا کہ وہ ’کوئی مختصر مقدمہ نہیں چلا رہے’، لیکن ان کے بقول ’پولیس کی جانب سے کی گئی تحقیقات جواب دینے کے بجائے مزید سوالات کھڑے کرتی ہیں۔‘

انھوں نے پولیس کارروائی میں ہونے والی غیر واضح تاخیر کی نشاندہی کی، یہ سوال اٹھایا کہ جس مقام پر لاش گری تھی وہاں خون کے نشانات کیوں نہیں ملے اور استفسار کیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج بعض زخم بظاہر بلندی سے گرنے کے واقعے سے مطابقت نہیں رکھتے۔

عدالت نے مزید لکھا کہ ’ہمارے لیے ان حقائق کو قبول کرنا مشکل ہے۔‘

عدالت کی جانب سے کی جانے والی سب سے اہم تنقید یہ تھی کہ پولیس نے اس معاملے کی تفتیش صرف مشکوک یا غیر فطری موت کے کیس کے طور پر کی اور اس کیس کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی، حالانکہ کسی قابلِ تعزیر جرم کی اطلاع موصول ہونے پر پولیس کے لیے ایسی رپورٹ درج کرنا قانونی تقاضا ہوتا ہے۔

ستیش سالیان کے الزامات فی الحال محض الزامات ہیں اور عدالتی یا تحقیقاتی سطح پر ابھی تک کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔

تاہم ان ہی الزامات کی بنیاد پر سی بی آئی نے نئی تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ ہفتے ستیش سالیان کی تحریری شکایت کی بنیاد پر ایک ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

بی بی سی نے اس ایف آئی آر کا جائزہ لیا ہے اور مقدمے سے متعلق عدالت کے حکمنامے کا بھی جائزہ لیا ہے۔

عدالتی حکم میں ستیش سالیان کے الزامات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ دِشا سالیان اپنی وفات کے وقت ’کوان انٹرٹینمنٹ‘ نامی کمپنی میں کام کر رہی تھیں اور بالی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی ٹیلنٹ منیجر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔

عدالتی دستاویز کے مطابق درخواست میں یہ الزام لگایا گیا کہ ’وہ کچھ بااثر افراد کی قابلِ اعتراض سرگرمیوں کے بارے میں جان گئی تھیں۔ انھوں نے یہ معلومات سشانت سنگھ راجپوت کو بھی فراہم کی تھیں، جنھوں نے اپنی سادہ لوحی میں یہ بات دوسروں تک پہنچا دی۔ بالآخر یہ معلومات اُن ہی افراد تک پہنچ گئیں جو اس کام میں ملوث تھے، جس کے بعد انھیں خاموش کروانے کے لیے قتل کر دیا گیا۔‘

دوسری جانب دِشا سالیان کی وفات پر سوشانت سنگھ راجپوت نے انسٹاگرام سٹوری کے ذریعے اظہارِ افسوس کیا تھا۔

انھوں نے لکھا تھا کہ ’یہ انتہائی دردناک خبر ہے۔ دِشا کے اہلِخانہ اور دوستوں سے میری تعزیت۔ خدا اُن کی روح کو سکون عطا کرے۔‘

ابتدائی دنوں میں دِشا سالیان کی موت پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی تھی، لیکن اس کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد سشانت سنگھ راجپوت بھی اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔

پولیس نے سشانت سنگھ راجپوت کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھے اور اس سلسلے میں علاج بھی کروا رہے تھے۔

تاہم چند ہفتوں بعد سشانت سنگھ کی دوست اور اداکارہ ریا چکرورتی کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب سشانت سنگھ راجپوت کے والد نے الزام عائد کیا کہ انھوں نے ان کے بیٹے کی خودکشی میں کردار ادا کیا تھا۔ سشانت سنگھ راجپوت کے والد نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ ان کا بیٹا کسی ذہنی صحت کے مسئلے کا شکار نہیں تھا۔

عوامی ردِعمل اور ہنگامے کے بعد سشانت سنگھ راجپوت کی موت کا مقدمہ بھی سی بی آئی کے سپرد کر دیا گیا۔

بعد ازاں سی بی آئی نے گذشتہ سال اپنی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے مقدمہ بند کر دیا اور کہا کہ راجپوت کی موت خودکشی کا نتیجہ تھی، جبکہ ریا چکرورتی یا ان کے خاندان کا اس واقعے میں کوئی کردار ثابت نہیں ہوا۔

تاہم ستیش سالیان کی جانب سے سی بی آئی میں درج کرائی گئی نئی ایف آئی آر میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ دِشا سالیان اور سشانت سنگھ راجپوت کی اموات آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔

دِشا سالیان کے والد کے مطابق دِشا نے اداکار سشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ ایک سابق وزیر اور بعض دیگر افراد سے متعلق مبینہ منشیات کی سمگلنگ، بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں ’قابلِ اعتراض اور مجرمانہ نوعیت کی معلومات‘ شیئر کی تھیں اور دونوں ان معاملات کو عوام کے سامنے لانے کے لیے ایک پریس کانفرنس کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

ان کے بقول ’اسے روکنے اور ملوث افراد کو بچانے کے لیے ایک منظم مجرمانہ سازش تیار کی گئی۔ متاثرہ خاتون کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا گیا اور پھر اسے قتل کر دیا گیا۔ بعد ازاں شواہد کو دبایا گیا یا ان میں ردوبدل کیا گیا اور جرائم کو چھپانے اور ملزمان کو بچانے کے لیے خودکشی کی ایک جھوٹی کہانی گھڑی گئی۔‘

یہ الزامات دِشا سالیان کے والد کی جانب سے عدالت میں دائر کی گئی درخواست کا حصہ ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے عدالتی سطح پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا اور متعلقہ فریقوں نے ماضی میں ایسے کئی الزامات کی تردید بھی کی ہے۔

عدالتی حکم میں واضح کیا گیا کہ ایف آئی آر کا اندراج بذاتِ خود کسی شخص کے قصوروار ہونے کا ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی اس کا مطلب ہے کہ عدالت نے کسی کے خلاف جرم ثابت مان لیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ کسی بھی فرد کو اُس وقت تک ملزم نہیں سمجھا جانا چاہیے جب تک تفتیشی افسر کو اس کے خلاف معقول شبہے کی بنیاد پیدا کرنے کے لیے کافی شواہد‘ نہ مل جائیں۔

تاہم چونکہ اس ایف آئی آر میں ریاست کے بعض اعلیٰ سیاستدانوں، پولیس افسران اور بالی ووڈ سے وابستہ شخصیات کے ناموں کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہ معاملہ انڈیا میں وسیع عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

اس کیس نے میڈیا میں نمایاں جگہ حاصل کی ہے، جہاں سیاسی اثر و رسوخ کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات، متعلقہ افراد کی جانب سے ان الزامات کی تردید، اور سیاسی انتقام کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

چھ برس سے اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی جدوجہد کرنے والے ستیش سالیان کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے دِشا سالیان کی موت کی نئی تحقیقات کا حکم دیے جانے کے بعد انھیں ’کچھ سکون‘ ملا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’دِشا بہت ذہین تھی۔ اس نے اپنی تعلیم میں عمدہ کارکردگی دکھائی اور مطالعے کا شوق رکھتی تھی۔ اس کا دل سونے جیسا تھا اور وہ دوسروں کی مدد کرنے والی لڑکی تھی۔ وہ ہماری اکلوتی اولاد تھی اور ہم سے بے حد محبت کرتی تھی۔‘

ستیش سالیان کے مطابق ان کی اہلیہ آج تک اپنی بیٹی کی المناک موت کو قبول نہیں کر سکیں اور شدید ذہنی دباؤ اور افسردگی کا شکار ہو گئی ہیں۔

انھوں نے کہا ’میں ان لوگوں کے لیے سزائے موت چاہتا ہوں جنھوں نے میری بیٹی کو نقصان پہنچایا۔ جنھوں نے اسے تکلیف دی، انھیں بھی ویسی ہی دردناک موت ملنی چاہیے۔ میرے نزدیک دِشا کے لیے انصاف کا مطلب یہی ہے۔‘