10 ہزار روپے کا تنازع، 24 کروڑ کا نقصان: ٹیکسٹائل مارکیٹ میں آتشزدگی جسے پہلے ایک حادثہ سمجھا گیا

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈیا میں گجرات کے شہر سورت میں 8 ستمبر اور 9 ستمبر کی درمیانی شب ایک ٹیکسٹائل مارکیٹ کی چھٹی منزل پر اچانک آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پانے میں فائر بریگیڈ کو تقریباً 14 گھنٹے لگے۔

اس آتش زدگی کے نتیجے میں تقریباً 24 کروڑ روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا اور ابتدائی طور پر اسے ایک حادثہ تصور کیا گیا تھا، تاہم بعد کی تحقیقات نے ایک مختلف حقیقت آشکار کی۔

سورت کی ٹیکسٹائل مارکیٹوں میں آتش زدگی کے واقعات کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ وہاں بڑی مقدار میں آتش گیر کپڑے کے گٹھے ذخیرہ کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ابتدا میں اس واقعے کو بھی ایک حادثہ سمجھا گیا۔ تاہم پولیس کے مطابق یہ حادثہ نہیں بلکہ دانستہ طور پر لگائی گئی آگ تھی۔

تحقیقات کے دوران پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا تو انکشاف ہوا کہ ایک شخص کپڑوں پر آتش گیر مائع چھڑک کر انھیں آگ لگا رہا تھا۔

فوٹیج میں یہ بھی دیکھا گیا کہ واردات کے فوراً بعد وہ شخص موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم راجستھان اور اتر پردیش فرار ہو گیا تھا، لیکن تعاقب کے بعد اسے گرفتار کر لیا۔

ملزم کی شناخت سی سی ٹی وی تصاویر کی مدد سے ممکن ہوئی۔ پولیس کے مطابق ملزم ونود پنڈت ساولے مارکیٹ میں دکان نمبر 639 میں قائم جگدمبا ٹیکسٹائلز میں اکاؤنٹنٹ کے طور پر ملازم تھے اور انھیں 30 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔

ملازمت چھوڑنے کے بعد ان کا اپنے آجر، ہنومان پرساد، سے بقایا تنخواہ کے معاملے پر تنازع پیدا ہو گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آجر کی جانب سے 10 ہزار روپے واجب الادا تنخواہ ادا نہ کیے جانے پر دونوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے۔

تحقیقات کے مطابق ونود ساولے نے اپنے سابق آجر کو سبق سکھانے اور نقصان پہنچانے کی نیت سے آگ لگائی، لیکن آگ نے پھیل کر پوری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کا سامان تباہ ہو گیا۔

حادثہ سمجھے جانے والے کیس میں ملزم کیسے پکڑا گیا؟

سورت کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (کرائم) کرن راج واگیلا کے مطابق ملزم ونود پنڈت ساولے نے اپنے آجر سے بقایا تنخواہ نہ ملنے پر انتقاماً یہ آگ لگائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمت چھوڑنے کے باوجود ونود کے 10 ہزار روپے واجب الادا تھے، جن کی ادائیگی نہ ہونے پر اس نے اپنے آجر کو سبق سکھانے کا منصوبہ بنایا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے ڈنڈولی کے ایک پٹرول پمپ سے 150 روپے کا پٹرول خریدا اور شیام سانگنی ٹیکسٹائل کی دکان کے باہر رکھے کپڑوں کے پارسلوں پر چھڑک کر انھیں آگ لگا دی۔ واردات کے بعد وہ راجستھان میں کھاٹو شیام مندر اور پھر ایودھیا چلا گیا۔ بعد ازاں جب وہ سورت واپس آ رہا تھا تو پولیس نے اسے ڈنڈولی پارک کے قریب گرفتار کر لیا۔

تفتیش سے یہ بھی معلوم ہوا کہ واقعے کے روز رات تقریباً نو بجے وہ ٹیکسٹائل مارکیٹ پہنچا اور دکان بند ہونے تک پانچویں منزل پر موجود رہا۔ آجر کے چلے جانے کے بعد اس نے رات کی تاریکی میں آگ لگا دی۔ اگلے روز جب اس کی شناخت سامنے آنے لگی تو اس نے اپنا موبائل فون بند کر دیا اور فرار ہو گیا۔

دوسری جانب، آتش زدگی کے اگلے روز سورت میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر دھرمیش مستری نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کو رات 12 بج کر 50 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ چونکہ آگ عمارت کی بالائی منزل پر بھڑکی تھی، اس لیے شہر کے مختلف فائر سٹیشنوں سے اضافی فائر ٹینڈرز طلب کیے گئے۔

آگ پر قابو پانے میں 14 گھنٹوں سے زائد وقت لگا۔ اس دوران متاثرہ منزل پر موجود تمام دکانیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئیں، جبکہ پانچویں منزل پر واقع متعدد دیگر دکانوں کا سامان بھی تباہ ہو گیا۔

تحقیقات کے دوران پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا، جس میں ایک شخص چہرے پر رومال باندھے دکھائی دیا۔ فوٹیج میں وہ کپڑوں کے پارسلوں پر کوئی مائع چھڑکتا ہے اور پھر انھیں آگ لگا دیتا ہے۔ اسی شواہد کی بنیاد پر پولیس نے ابتدائی طور پر نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا، جس کے بعد تفتیش ملزم تک جا پہنچی۔

’آجر کی مسلسل ڈانٹ ڈپٹ سے تنگ تھا‘

پولیس کے مطابق ونود ساولے اپنے آجر کے رویے سے سخت نالاں تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ آجر اس کے تقریباً ہر کام میں نقص نکالتا اور اکثر اسے ڈانٹ ڈپٹ کا نشانہ بناتا تھا۔ اسی وجہ سے اس نے تقریباً ایک ماہ قبل ملازمت چھوڑ دی تھی۔ تاہم ملازمت چھوڑنے کے بعد بھی اس کی 10 ہزار روپے بقایا تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔

پولیس کے مطابق ونود نے اپنی واجب الادا رقم حاصل کرنے کے لیے متعدد بار فون پر رابطہ کیا اور آجر سے ذاتی طور پر بھی ملاقات کی، لیکن اسے مسلسل ٹالا جاتا رہا۔ بالآخر اس نے اپنے سابق آجر کو سبق سکھانے کی غرض سے دکان کے باہر رکھے کپڑوں کے گٹھوں کو آگ لگانے کا منصوبہ بنایا۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (کرائم) کرن راج واگیلا کے مطابق، ’کپڑوں کے گٹھوں کو آگ لگانے کے بعد ونود ساولے موٹر سائیکل پر موقع سے فرار ہو گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ملزم اپنے آبائی گاؤں جانے کے بجائے پہلے راجستھان اور پھر اتر پردیش کے شہر ایودھیا چلا گیا۔ بعد ازاں وہ اتوار کی رات سورت واپس آیا۔

ادھر پولیس مختلف زاویوں سے تفتیش جاری رکھے ہوئے تھی۔ اسی دوران خفیہ اطلاع ملنے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ونود ساولے کو سورت کے ڈنڈولی علاقے سے گرفتار کر لیا۔

اس معاملے میں ملزم ونود پنڈت ساولے کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم نہ ان سے اور نہ ہی ان کے اہل خانہ سے رابطہ ہو سکا۔