ہنزہ کے ہوٹل میں نجی تقریب پر تنازع: ’سیل کرنے کے بعد پتا چلا وہاں کوئی منشیات نہیں‘

ہنزہ، فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ہوٹل میں ’ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی دیکھی گئی‘
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے زیرِ انتظام خطے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ میں انتظامیہ نے تسلیم کیا ہے کہ چند روز قبل منشیات کی مبینہ موجودگی کے شبے میں جس ہوٹل کو سیل کیا گیا تھا، وہاں اس نوعیت کی خلاف ورزی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں ’ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی دیکھی گئی ہے۔‘

یاد رہے کہ چھ اکتوبر کو ہنزہ کی ضلعی انتظامیہ نے علی آباد میں واقع اس ہوٹل کو یہ کہتے ہوئے سیل کیا تھا کہ ’ہوٹل میں ڈانس پارٹی کا اہتمام کیا گیا، جو کہ مقامی روایات، اقدار اور اجازت نامے کے منافی تھا۔‘

تاہم ہوٹل سیل کیے جانے کے دو روز بعد جاری کردہ ایک بیان میں ضلعی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ’انکوائری کے سلسلے میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے ہوٹل کا معائنہ کیا گیا۔ انکوائری کے دوران ہوٹل میں منشیات کے استعمال یا اس نوعیت کی کسی دوسری خلاف ورزی کے شواہد ثابت نہیں ہوئے۔‘

تاہم اس کے مطابق ’این او سی کے مطابق دیے گئے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی دیکھی گئی ہے۔‘

ہنزہ ہوٹل ایسوسی ایشن کے مطابق اب اس ہوٹل کو ڈی سیل کر دیا گیا ہے۔

ادھر ہوٹل انتظامیہ کے ایک رُکن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چھ اکتوبر کو اُن کے ہوٹل میں منعقد ہونے والی 40، 50 لوگوں کی نجی تقریب میں غیر ملکی سیاح بھی شریک تھے۔

اُن کے مطابق تقریب کی ویڈیوز بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے شیئر کی تھیں کہ اس تقریب میں منشیات کا استعمال ہوا، جو کہ درست نہیں۔

بی بی سی نے ضلعی انتظامیہ سے یہ پوچھا ہے کہ اس تقریب میں این او سی کی کون سی خلاف ورزی ہوئی تھی اور ہوٹل کو کس بنیاد پر سیل کیا گیا تھا؟ تاہم اب تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ہنزہ، ہوٹل سیل
،تصویر کا کیپشنہوٹل انتظامیہ کے مطابق ہنزہ کے اسسٹنٹ کمشنر ’ہوٹل آئے اور انھوں نے اس کے ایک مرکزی داخلی راستے پر سیل کرنے کے سٹیکرز آویزاں کر دیے‘

’سوشل میڈیا پر منشیات کے ذکر پر انتظامیہ حرکت میں آئی‘

ایمبیئنس ہوٹل اینڈ ریزورٹ ہنزہ کے جنرل منیجر ڈیب سعید کھوکھر کا کہنا تھا کہ چند گھنٹوں پر محیط یہ نجی تقریب ہوٹل کی چھت پر ہوئی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تقریب کے لیے ’تین اکتوبر کو انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت حاصل کی گئی تھی۔ یہ 40، 50 لوگوں کی ایک نجی تقریب تھی جو پاکستان کے مختلف شہروں سے اکٹھے ہوئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ مکمل طور پر نجی تقریب تھی جس میں عوام کو کوئی دعوت نہیں دی گئی تھی اور نہ ہی اس کی کوئی تشہیر کی گئی تھی۔ قریب کے ہمسائیوں کو بھی آگاہ کیا گیا تھا اور ان سے گزارش کی گئی تھی کہ اگر اس تقریب کے دوران ان کو کوئی تکلیف پہنچے تو وہ ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں، ان کی اس پریشانی کو فوراً رفع کیا جائے گا۔‘

ڈیب سعید کھوکھر کا کہنا تھا کہ یہ تقریب ’اچھی طرح سے ہوئی۔ اس میں کوئی بھی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ اس میں کچھ غیر ملکی بھی شامل تھے۔ ملکی قوانین کے مطابق اس میں کسی بھی منشیات کا استعمال نہیں ہوا تھا اور نہ ہی ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے اس کی کوئی اجازت دی گئی تھی۔ یہ چند گھنٹوں کی تقریب تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس تقریب کے بعد جب اس کے کچھ شرکا نے ’اپنے سوشل میڈیا پیجز پر اس کی ویڈیوز شیئر کیں تو کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس کو مختلف الفاظ کے ساتھ شیئر کرنا شروع کر دیا جس میں منشیات کا ذکر شامل تھا، جس پر انتظامیہ حرکت میں آئی۔‘

ڈیب سعید کھوکھر کا کہنا تھا کہ اس پر ’ہنزہ کے اسسٹنٹ کمشنر ہوٹل آئے اور انھوں نے اس کے ایک مرکزی داخلی راستے پر سیل کرنے کے سٹیکرز آویزاں کر دیے۔‘

’ہماری ڈپٹی کمشنر اور انتظامیہ کے لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں۔ جس کے بعد مختلف اداروں کے لوگوں نے ہوٹل کا دورہ کیا اور اپنی تحقیقات کیں، جس میں ان کو کسی قسم کے منشیات کے استعمال کے کوئی شواہد دستیاب نہیں ہوئے ہیں۔‘

ہنزہ، ہوٹل سیل
،تصویر کا کیپشنہوٹل ایسوسی ایشن کے مطابق اب ایمبیئنس ہوٹل کو ڈی سیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں

ہوٹل کو کیوں سیل کیا گیا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی بی سی نے ڈپٹی کمشنر ہنزہ اور اسسٹنٹ کمشنر ہنزہ کے ساتھ رابطہ قائم کیا مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ این او سی کی خلاف ورزی پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کچھ دنوں پہلے ایک نجی ہوٹل کو سیل کیا گیا تھا جس کے بعد معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ انکوائری کے سلسلے میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے ہوٹل کا معائنہ کیا گیا۔ انکوائری کے دوران ہوٹل میں منشیات کے استعمال یا اس نوعیت کی کسی دوسری خلاف ورزی کے شواہد ثابت نہیں ہوئے۔ ’تاہم این او سی کے مطابق دیے گئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی دیکھی گئی ہے۔‘

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک میٹنگ بلائی گئی جس میں ہوٹل ایسوسی ایشن، بازار ایسوسی ایشن اور متعلقہ ہوٹل انتظامیہ کے نمائندگان سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر اس امر پر خصوصی زور دیا گیا کہ آئندہ ہوٹل انتظامیہ مقامی ثقافت، روایات، اقدار اور معاشرتی حساسیت کو مکمل طور پر ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تمام ضوابط اور طے شدہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کو یقینی بنائے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ مقامی ثقافت اور معاشرتی اقدار کا تحفظ بھی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

اس سے پہلے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ڈپٹی کمشنر ہنزہ فیاض احمد کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر ہنزہ محمد عامر وڑائچ نے علی آباد میں نجی ہوٹل کو سیل کر دیا۔ علی آباد میں ایک نجی ہوٹل میں ڈانس پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا، جو کہ مقامی روایات، اقدار اور اجازت نامے کے منافی تھا۔ اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ ہنزہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ ہوٹل کو سیل کر دیا۔

ہنزہ
،تصویر کا کیپشنہنزہ ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر منظور حسین کا کہنا تھا کہ اس سال ہنزہ میں سیاحوں کی تعداد گذشتہ سال کی نسبت 50 فیصد کم تھی

’ہوٹل سیل کرنے کے بعد پتا چلا وہاں کوئی منشیات نہیں‘

ہنزہ ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر منظور حسین کا کہنا تھا کہ ہوٹل ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لیے بغیر اور پہلے مکمل تحقیقات کیے بغیر ہوٹل کو سیل نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہوٹل کو سیل کرنے کے بعد پتا چلا کہ وہاں کوئی منشیات استعمال نہیں ہوئی۔ این او سی کے مطابق چھ بجے تک ہوٹل کی چھت پر تقریب تھی جو اپنے وقت پر ختم ہو گئی تھی۔‘

منظور حسین کا کہنا تھا کہ ہنزہ میں سیاحت پہلے ہی ایک مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ’ہنزہ میں مجموعی طور پر چار سو کے لگ بھگ ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز ہیں۔۔۔ اس سال ہنزہ میں سیاحوں کی تعداد گذشتہ سال کی نسبت 50 فیصد کم تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ تقریب ’مکمل طور پر نجی تھی۔ اس میں سیاح شامل تھے جنھوں نے اپنی تفریح کے لیے تقریب رکھی تھی۔ اس میں اس طرح مداخلت اور ان کی جانب سے جو سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا، اس میں ایڈٹ کرنا اور پھر اس طرح کی پوسٹیں شیئر کرنا کسی بھی طور پر مناسب نہیں ہے۔‘

ہوٹل ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر ہنزہ کے دفتر میں ایک اجلاس کے دوران سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ان الزامات کا جائزہ لیا گیا جن میں بعض غیر مقامی شرکا کی جانب سے مبینہ طور پر منشیات کے استعمال کا ذکر کیا گیا تھا۔

’ڈپٹی کمشنر ہنزہ کی ہدایت پر محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کی ٹیم نے ایمبیئنس ہوٹل کا فیلڈ وزٹ کیا اور ہوٹل کی چھت، راہداریوں اور شرکا کی نقل و حرکت سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج کا تفصیلی جائزہ لیا۔‘

اس کے مطابق ’محکمہ ایکسائز کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کے جائزے کے دوران منشیات رکھنے، استعمال کرنے یا کسی شخص کے نشے کی حالت میں ہونے کے حوالے سے کوئی واضح یا حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ فوٹیج میں بھی کسی شریک کا ایسا مشتبہ رویہ نظر نہیں آیا جس سے مذکورہ الزام کی تصدیق ہو سکے۔‘

ہوٹل ایسوسی ایشن کے مطابق اسی بنیاد پر ایمبیئنس ہوٹل کو ڈی سیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔

اس کا کہنا ہے کہ ’معاملے کو قیاس آرائیوں کے بجائے حقائق، شواہد اور متعلقہ ادارے کی رپورٹ کی بنیاد پر حل کیا گیا۔ امید ہے کہ آئندہ بھی کسی بھی ادارے یا کاروباری شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنے سے قبل مکمل تحقیقات اور تصدیق کو ترجیح دی جائے گی۔‘