برطانوی یونیورسٹی کا پاکستان میں زرعی فضلے کو ایندھن میں بدلنے کا منصوبہ جو کسانوں کی آمدن بڑھا سکتا ہے

ڈاکٹر شاہد رسول (بائیں) اور ڈاکٹر جبران خالق (دائیں) اس منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہNorthumbria University

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر شاہد رسول اور ڈاکٹر جبران خالق اس منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں
    • مصنف, ہنّا مچل
    • عہدہ, نارتھ ایسٹ اینڈ کمبریا
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 3 منٹ

برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کے ماہرینِ تعلیم نے پاکستان میں ایسا پلانٹ تعمیر کرنے کے لیے فنڈنگ حاصل کر لی ہے جو زرعی فضلے کو صاف توانائی میں تبدیل کرے گا۔

نارتھمبریا یونیورسٹی کے سکول آف انجینئرنگ، فزکس اینڈ میتھمیٹکس کی قیادت میں چلنے والا یہ منصوبہ سیفر پلس کہلاتا ہے اور کپاس کی ٹہنیوں اور گنے کے فضلے کو ایندھن میں تبدیل کرتا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہر سال اس فضلے کی لاکھوں ٹن مقدار جلائی جاتی ہے، جو فضائی آلودگی اور موسمِ سرما کے دوران دھند اور سموگ میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ کی گرانٹ حاصل کرنے والے اس منصوبے کے تحت پنجاب میں خواتین کو زرعی فضلہ جمع کرنے اور فراہم کرنے کے عوض آمدن بھی دی جائے گی۔

اس منصوبے کے تحت کپاس اور گنے کے فضلے کو گرم کرنے کے ایک ایسے عمل سے گزارا جائے گا جسے ٹوریفیکشن کہا جاتا ہے۔ پھر اسے بائیو کول (حیاتیاتی کوئلہ) کے چھوٹے ٹھوس ٹکڑوں یا پیلٹس میں تبدیل کیا جائے گا۔

امکان ہے کہ یہ پیلٹس اینٹوں کے بھٹوں اور ٹیکسٹائل ملوں کے بوائلرز میں درآمدی کوئلے کی جگہ 40 سے 50 فیصد کم لاگت پر استعمال کیے جا سکیں گے۔

منصوبے کی قیادت کرنے والے ماہرینِ تعلیم میں سے ایک، ڈاکٹر جبران خالق نے کہا: ’پاکستان اپنی صنعتوں کو چلانے کے لیے ہر سال 2.5 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا کوئلہ درآمد کرتا ہے، جبکہ فصلوں کا دسیوں لاکھوں ٹن باقی ماندہ مواد کھیتوں میں جلا دیا جاتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی منڈی موجود نہیں۔‘

ڈاکٹر جبران خالق پاکستان کے شہر صالح پٹ میں منعقدہ ایک نمائشی تقریب میں۔
لیبارٹری کے ماحول میں سفید قمیص اور ذاتی حفاظتی ساز و سامان (PPE) پہنے ایک شخص سفید تھیلا تھامے ہوئے ہے، جبکہ ڈاکٹر خالق اس کے مندرجات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNorthumbria University

،تصویر کا کیپشنامید ہے کہ بائیو کول پیلٹس درآمدی کوئلے کی جگہ استعمال کیے جا سکیں گے

اس منصوبے کا مرکزی حصہ خواتین کی قیادت میں قائم ایک بائیوماس کوآپریٹو ہے جو یہ فضلہ فراہم کرے گا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یونیورسٹی کے مطابق جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں خواتین روزانہ تین سے چھ گھنٹے ایندھن کے لیے لکڑیاں جمع کرنے میں صرف کرتی ہیں اور اکثر خاندانی کھیتوں میں بغیر اجرت کے کام کرتی ہیں۔

اس کوآپریٹو کے ذریعے پلانٹ کے قریبی علاقوں میں واقع 120 سے زائد گھرانوں کو ایسے مواد کے بدلے باقاعدہ آمدنی حاصل ہو گی جسے ٹھکانے لگانے کے لیے کسان اس وقت ادائیگی کرتے ہیں۔

منصوبے میں تربیت کی کم از کم 60 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص کی گئی ہیں اور ادائیگیاں براہِ راست ان کے اپنے موبائل والٹس میں کی جائیں گی تاکہ وہ اپنی آمدنی پر آزادانہ اختیار رکھ سکیں۔

پاکستان کی تین ٹیکسٹائل کمپنیوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بائیو کول کو بوائلر کے ایندھن کے طور پر آزمائیں گی۔

ڈاکٹر خالق نے کہا: ’یہ بات اس منصوبے کو منفرد بناتی ہے کہ ہم کسی تجرباتی نوعیت کی تحقیق کی تجویز نہیں دے رہے بلکہ ایک فعال تجارتی سہولت تعمیر کر رہے ہیں اور تین ٹیکسٹائل ملیں پہلے ہی یہ ایندھن استعمال کرنے کی یقین دہانی کرا چکی ہیں۔‘

’یہ وہ مرحلہ ہے جو تحقیقی نتائج کو ایک قابلِ سرمایہ کاری اور قابلِ تقلید کاروبار میں تبدیل کرتا ہے، جسے پاکستان اپنا سکتا ہے اور وسیع پیمانے پر فروغ دے سکتا ہے۔‘